Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304 Raah E Yaar (Episode 3)
Rate this Novel
Raah E Yaar (Episode 3)
Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar
مل گئی فرصت گھر آنے کی ۔ پورچ ایریا میں گاڑی کھڑی کرتا ہوا وہ منہ ببل ڈالتا ہوا گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ اپنے ڈیڈ کی آواز پر اس کے قدم منجمند ہوئے تھے ۔
وہ ڈیڈ ۔ آنکھیں جو نشے کی وجہ سے سرخ ہوئیں تھیں اب تک سرخ تھی ۔
جو جہانزیب ہمدانی کی تیز نظروں سے چھپی نہیں تھی ۔
تمہاری آنکھیں سرخ کیوں ہورہی ہیں اتنی ۔ سخت گیر لہجے میں بولے تھے ۔
جس پر شاہ میر کے حلق خشک ہوا تھا ۔
کس نے بزنس مین کہہ دیا انہیں ، انہیں تو سی آئی ڈی آفیسر ہونا چاہیے ۔اپنے عنابی خشک لبوں کو تر کرتا ہوا اپنا سر کھجا کر رہ گیا تھا ۔
وہ ڈیڈ ۔
بتاؤ کیوں ہورہی ہیں تمہاری آنکھیں سرخ شراب پی کر آئے ہو ۔ شاہ میر کے بولنے سے پہلے ہی وہ بول اٹھے تھے ۔
پکے سی آئی ڈی ہیں اتنا کچھ کیا مگر پھر بھی پکڑ لیا ۔سر جھکائے گردن پر ہاتھ پھیرتا ہوا وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا ۔
جی ڈیڈ ۔وہ پھر ہلکی آواز میں بولنا شروع ہوا تھا کہ پھر سے جہانزیب ہمدانی بیچ میں بولے تھے ۔
ڈیڈ کے آگے بھی بولو گے ۔
یار ڈیڈ آپ بولنے دیں گے تو میں کچھ بولوں گا نا ۔دکھتی پیشانی پر ہاتھ رکھے وہ روانگی سے بولا تھا کہ کہیں وہ پھر سے اس کی بات نا کاٹ دیں ۔
اندر آنے دیں ۔آخر کو وہ بھی ان کا ہی بیٹا تھا زبان اور دماغ کا تیز ۔
ہاں تو میں نے کب روکا ہے تمہیں گھر میں آنے اور بولنے سے ۔ شاہ میر کو اندر آنے کا راستہ دیتے ہوئے جہانزیب ہمدانی دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر ایک سائیڈ پر کھڑے ہوئے تھے ۔
ڈیڈ میں اور فرحان ایک کلائینٹ کے ساتھ ہوٹل گئے تھے وہیں کچھ فرینڈز نے بھی ہمیں جوائن کرلیا تھوڑی پارٹی وغیرہ کی تو تھوڑی ،
مطلب تھوڑی سی ڈرنک کرلی اس وجہ سے آنکھیں سرخ ہورہی ہیں ۔ ہاتھ سے تھوڑی سی کا اشارہ کرتا ہوا وہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ باتوں کو گھما پھرا کر سچ بنا کر پیش کررہا تھا ۔
جس پر جہانزیب ہمدانی کو ذرا یقین نہیں آیا تھا ۔
سچ کہہ ہو ،شک بھری نظروں سے شاہ میر کو دیکھتے ہوئے انہیں اب بھی اس پر شک تھا ۔
جی ڈیڈ میں کیا آپ سے جھوٹ کہوں گا ۔ معصومیت سجائے وہ مبہم سا مسکرایا تھا ڈیڈ کی شاکی نظروں کو دیکھ کر ۔
مجھے یقین نہیں آرہا تم پر شاہ میر ۔
کیونکہ مجھے تم میں سے فرقان کے ہمدانی کی بو آرہی ہے ۔وہ اب بھی اسے شاکی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے تھے ۔
آگئے تم شاہ میر ۔ ڈیڈ کے بولنے پر شاہ میر کے لب کچھ بولنے کے لیے وا ہوئے تھے کہ داجی کو دیکھ کر وہ لب سل گئے تھے ۔
سارے فساد اور اس کلاس کی جڑ آپ ہیں داجی ۔داجی کے ساتھ اچانک بغلگیر ہوتا ہوا وہ چبا کر بولا تھا ۔
جس پر داجی اپنا قہقہ ضبط کرگئے تھے ۔
برخوردار گھوڑے کے نال اور لگام دونوں پر تھوڑا سی کڑکی اور سختی بھی ضروری ہے ورنہ کب بدک کر ہاتھ سے نکل پتا نہیں چلتا ۔شاہ میر کی پیٹھ تھپکتے ہوئے وہ رازدانہ انداز میں بول رہے تھے ۔
ابا جان آپ تو اپنے پوتے سے ایسے مل رہے ہیں جیسے وہ صدیوں بعد گھر واپس آیا جنگ فتح کرکے ۔جہانزیب ہمدانی چبا کر بولے تھے ۔
دیکھ لیں داجی کتنی جلن ہوتی ہے آپ کے بیٹے کو ہماری محبت سے ۔شاہ میر شرارت سے گویا ہوا تھا ۔
جس پر داجی اپنے بیٹے کو دیکھ کر شاہ میر سے الگ ہوئے تھے ۔
ابا جان آپ کو نہیں پتا آپ کا یہ لاڈلا پوتا شراب پی کر آیا ہے آج پھر ۔
یار ڈیڈ تھوڑی سی پی تھی وہ بھی دوستوں کے اسرار پر ۔شاہ میر کے جھوٹ بولنے پر داجی نے اسےگھورتا تھا جس پر وہ خاموش ہوا تھا ۔
نہیں تم نے تو جیسے دوستوں کے ساتھ مل کے پی ہی نہیں جو بچے پر اتنی سختی کررہے ہو ۔
بچہ اتنی رات کو تھک ہار کر گھر آیا ہے بجائے اسے یہ کہنے کہ جاؤ بیٹا آرام کرو الٹا تم یہاں کمرہ عدالت کھول بیٹھے ہو ۔داجی کے انداز پر جہانزیب ہمدانی نے دنیا معصومیت چہرے پر سجائے سر جھکا کر کھڑے شاہ میر کو دیکھ رہے تھے ۔
جی ابا جان ۔شاہ میر کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی ڈیڈ کے بولنے پر ۔
جاتے ہوئے پہلے ارحم سے مل لینا کب سے تمہارا انتظار کرتا ہوا اب سویا ہے ۔جہانزیب ہمدانی کہہ کر جانے کے لیے بڑھے تھے ۔
کبری کے روم میں ہے کیا ارحم ،شاہ میر کے سوال پر وہ اثبات سر ہلا گئے تھے ۔
سوری پھر میں اس سے صبح مل لوں گا ۔اس نے فورا سے انکار کیا تھا ۔
کبری سے شادی کرلو شاہ میر ارحم اور پریشے کے سر پر باپ کا شفقت بھرا ہاتھ رکھ دو ۔
شاہ میر کو اپنے روم کی جانب بڑھتے دیکھ جہانزیب ہمدانی افسردگی سے پکار رہے تھے ۔
وہیں داجی نے اپنے بیٹے کی کم عقلی پر ماتھا پیٹا تھا
وہیں سیڑھیوں پر کھڑے شاہ میر نے لب آپس میں سختی سے پیوست کیے تھے ۔
ارحم اور پریشے مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہیں ڈیڈ ۔
رہی بات کبری کی تو وہ میری بھابھی اور میری بہن جیسی ہے جس وجہ سے میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں ۔شاہ میر سخت گیر لہجے میں بولتا ہوا جہانزیب ہمدانی کی طرف رخ موڑ گیا تھا ۔
میں ان کے سر پر بڑا بھائی بن کر تو ہاتھ رکھ سکتا مگر شادی یہ میرے اور کبری کے رشتے کی توہین ہوگی ڈیڈ ۔ روانگی سے کہتا ہوا وہ جہانزیب ہمدانی اور داجی کو شکوہ کن نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
کبری کو بھابھی کہہ کر کیوں نہیں پکارتے تم ۔ہمدانی صاحب کی بات پر شاہ میر نے کرب سے آنکھیں میچی تھیں ۔
وہیں داجی نے اپنے بیٹے کی سوچ پر تاسف سے گردن ہلائی تھی ۔
چھوٹی ہے وہ مجھ سے عمر میں اس لیے ڈیڈ ۔ضبط کرتا ہوا وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بول رہا تھا ۔
ہنہہ، وہ ہنکارا بھرتے خاموش ہوئے تھے ۔
خدا کے لیے دوبارہ اس چیپٹر کو مت کھولیں گا ڈیڈ ،ورنہ میں کبھی بھی کبری کو فیس نہیں کر پاؤں گا ،التجائی لہجہ اپناتا ہوا وہ ڈیڈ کے ساتھ کھڑے داجی کو بھی دیکھ رہا تھا ۔
داجی جو خاموش کھڑے دونوں کو سن رہے تھے ۔
گڈ نائیٹ، وہ کہتا ہوا جانے کے لیے مڑا تھا ۔
ابی آپ آگئے ۔شاہ میر کی آواز پر وہ نیند سے جاگ گیا فورا سے روم سے باہر آکر وہ شاہ میر کی پیٹھ دیکھ کر آنکھیں مسلتا ہوا بولا تھا ۔
ارحم کی معصوم آواز نے شاہ میر ہمدانی کے مضبوط قدم جکڑے تھے ۔
جی ابی کی جان ۔ ارحم کے لیے دونوں بانہیں وا کرتا ہوا شاہ میر مسکرا رہا تھا ۔
آپ نے وعدہ کیا تھا ابی کہ آپ مجھے اسٹوری سنائیں گے ۔دونوں بازوں سینے پر باندھ کر کھڑا ارحم شاہ میر پر اپنی ناراضگی سے جتا رہا تھا ۔
سوری ،کان پکڑ کر بولتا شاہ میر اگلے ہی لمحے میں ارحم کو اپنے چوڑے سینے میں بھینچ گیا تھا ۔
ارحم کے اور شاہ میر کے رشتے کو کسی اور نام کی ضرورت نہیں ہے جہانزیب ۔
یہ چاچو بھتیجا کے رشتے میں ہی ٹھیک ہیں ۔جہانزیب ہمدانی جو ان دونوں کو نآنکھوں سے دیکھ رہے تھے داجی کی بات پر وہ کہیں نا کہیں متفق ہوئے تھے ۔
ابی پتا ہے آپ کو مما نے مجھے سلا دیا تھا پر میں پھر اٹھا اور داجی کے پاس آگیا تھا ۔شاہ میر اسے گود میں لے کر کھڑا ہوا تھا ۔
مگر داجی نے بھی دکھا دیا مجھے ابی ۔ داجی کو دیکھتا ہوا ارحم انہیں مسکراتے دیکھ رخ موڑ گیا تھا ۔
اچھا داجی نے ۔ شاہ میر مزہ لینے انداز میں مسکرایا تھا ۔
انہوں نے مجھے سلا دیا ۔شاہ میر کی گردن میں دیئے وہ اس سے چپک گیا تھا ۔
کوئی بات نہیں ابی آگئے ہیں ناں تو ابی آپ کو اسٹوریز سنائیں گے ۔
کبری بھابھی بتا دیجئے گا کہ ارحم آج میرے پاس سوئے گا ۔مسکرا کر کہتا ہوا شاہ میر ڈیڈ کو اپنے روم میں جاتے دیکھ بولا تھا ۔
ایک نظر سیڑھیوں پر شاہ میر کو دیکھ کر وہ گئے تھے ۔
رکو برخوردار میری بات تو سنتے جاؤ ۔شاہ میر نے انہیں مسکرا کر دیکھا تھا ۔
میرا نیند کی دوا تو دیتے جاؤ ۔ ارحم کی وجہ سے وہ شراب کی کو اپنی دوا کا نام دے گئے تھے ۔
نگاہ کا چشمہ سیٹ کرتے ہوئے داجی نے اپنی روز کی ڈوز مانگی تھی ۔
آپ نے میری شکایت کی ہے ڈیڈ سے اس کے باوجود بھی آپ مجھ سے ڈوز کی امید رکھ رہے ہیں داجی ۔آنکھوں میں شرارت لیے داجی کے لٹکے منہ کو دیکھ خوش ہوا تھا ۔
یار شاہ میر یہ ٹھیک نہیں کررہے تم ۔وہ دوستانہ لہجہ اپنا گئے تھے ۔
جو آپ نے کیا وہ ٹھیک تھا ۔وہ بھی ان کا ہی پوتا تھا ۔
برخوردار داجی ہیں ہم تمہارے ۔ وہ روادار لہجے میں بولے تھے ۔
میں بھی آپ کا پوتا ہوں داجی آج بنا ڈوز کے سوئیں آپ ۔ ارحم کی پیٹھ سہلاتا ہوا شاہ میر اپنا قہقہ ضبط کیے ہوئے تھا ۔
یار کھانسی تنگ کرے گی مجھے پھر وہ تمہاری بوڑھی دادی پریشان ہوجائے گی ۔ بی جان کا حوالہ دیتے ہوئے وہ شاہ میر کو بڑے معصوم لگے تھے ۔
میری بلا سے یہ آپ کا اور بی جان کا مسئلہ ہے میرا نہیں ۔ شاہ میر بھی آج اذلی ڈھیٹ بنا ہوا تھا ۔
نیند نہیں آئے گی ۔داجی بیچارگی سے بولے تھے ۔
جس پر بالآخر شاہ میر کو ترس آیا تھا ۔
پنک کشن کے نیچے رکھی ہے ۔ داجی کے چہرہ کھل اٹھا تھا شاہ میر کے بتانے پر ۔
کیا چیز رکھی ہے ابی ۔ارحم جو کب سے داجی اور اس کی باتیں سن رہا تھا فورا سے پوچھ گیا تھا ۔
داجی کی دوا میری جان ۔ارحم کی پیٹھ تھپکتے ہوئے شاہ میر نے داجی کو دیکھا تھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے ۔
تنگ کررہا تھا آپ کو اور پلیز تھوڑی ہی لیجئے گا ۔
میں کوئی بوڑھا ہوں جو مجھے ہدایت دے رہے ہو ۔ہر بار کی طرح آج بھی وہ خود جوان کہہ رہے تھے ۔
نہیں بوڑھا تو میں آپ تو ارحم سے تین سال ہی بڑے ہیں ۔ طنز کرتا شاہ میر اپنے روم کی سمت بڑھ گیا تھا ۔
اللہ پاک میرے بچے کو یوں ہی ہنستا مسکراتا رکھے ۔ اسے جاتے دیکھ داجی نے دل سے دعا کی تھی ۔
*****
ندا ! ارحم کو لے آؤ ذرا شاہ میر کے روم سے لیٹ ہورہی ہے اسے اسکول کے لیے ۔پریشے کے پیچھے بھاگتی ہوئی کبری مصروف انداز میں بولی تھی ۔
اوکے میم ۔ کبری اور پریشے کو مسکرا کر دیکھتی ہوئی ندا وہاں سے گئی تھی ۔
تین سالہ پریشے کے بال بنوانے کے بجائے کمرے میں کبری کی دوڑ لگوا رہی تھی ۔
پریشے مما تھک گئی ہے بی بی ۔ بلیو کلر کی فیری فراک میں گول مٹول سی پریشے اپنی مما کو تھکتے دیکھ ٹک کر بیٹھی تھی ۔
مما، کبری کے چہرے کو اپنے ننھے ہاتھوں میں لیے ننھی پریشے نے لاڈ سے پکارا تھا ۔
جی مما کی جان ۔ پیار لٹاتی کبری نے چٹا چٹ اس کے گال چومے تھے ۔
جس پر پریشے کبری کے ساتھ لگ گئی تھی ۔
زندگی کتنی مشکل ہوتی اگر تم دونوں میری زندگی میں نا ہوتے تو ۔پریشے کو گود میں لیے وہ روم سے باہر آئی تھی ۔
روم سے باہر آتے ہی وہ سمرین ہمدانی سے ہوا تھا جو اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح مسکرائی تھیں ۔
پریشے میرا بچہ دادو کی جان، کبری کی گود سے پریشے کو لیتی ہوئی سمرین ہمدانی اسے پی آر کرنے لگی تھی ۔
جس پر پریشے کے قہقہے ہمدانی ولا میں گونجے تھے ۔
کبری ارحم کہاں ہے ۔ سمرین ہمدانی نے ارحم کو کبری کے ساتھ نا پاکر استفسار کیا تھا ۔
آج وہ شاہ میر کے ساتھ سویا ہے مما، کچن کی جانب بڑھتی ہوئی لائیٹ پنک کلر سادہ سے شلوار قمیض کےساتھ سر ہر سلیقے سے لیا ہوا لائیٹ پنک کلر کا ڈوپٹہ جو اس کی صاف رنگت خوب جچ رہا تھا ۔ میک اپ سے پاک چہرے لیے کبری ہمیشہ کی طرح آج بھی پرکشش لگ رہی تھی ۔
اچھا ۔ سمرین ہمدانی مسکرائی تھیں ۔
مما آپ بریک فاسٹ میں کیا لیں گی ۔وہ کچن میں جاتے ہوئے پوچھنا نہیں بھولی تھی ۔
تم یہ سب رہنے دو ندا دیکھ لے گی ۔
بس ارحم کا بریک فاسٹ تیار کردو ویسے ہی بہت لیٹ ہوگئی ہے آج ۔کبری مثبت میں گردن ہلا کر کچن میں گئی تھی ۔
وہیں سمرین ہمدانی پریشے کو لے کاؤچ پر بیٹھی تھیں ۔
*****
منیبہ یار اٹھ جاؤ دیر ہورہی ہے اسائنمنٹ سبمینٹ بھی کروانے ہیں ۔
اگر تم دو منٹ کے اندر اندر نہیں اٹھی ناں تو میں آج اکیلی جاذب سے ملنے چلی جاؤں گی ۔
منزہ جو اسے کئی بار اٹھا چکی تھی اب تھک ہار کر آخری حربہ آزما گئی تھی ۔
میں اٹھ گئی ہوں سمجھی تم ۔جو کارآمد ثثابت ہوا تھا ۔
منزہ اسے بیڈ سے چھلانگ لگا کر اترتے دیکھ مسکرائی تھی ۔
کچھ دیر بعد شیشے کے سامنے کھڑی منیبہ کو بلش آن لگاتے دیکھ منزہ چونکی تھی ۔
یہ اتنا میک اپ کس خوشی میں کررہی ہو ۔
جاذب سے میں ملنے جارہی ہو یا تم ۔حیرت سے پوچھتی ہوئی منزہ کو منیبہ نے گھورا تھا ۔
کیا پتا مجھے میرا سلمان خان مل جائے ۔دونوں ہاتھ باندھے ہوئے وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی تھی جس پر منزہ قہقہ لگا گئی تھی ۔
مل ہی نا جائے تمہیں پاکستان میں سلمان خان ۔اسائنمنٹ اٹھاتی ہوئی وہ اپنے ہینڈ بیگ میں اپنا سیل فون رکھ رہی تھی ۔
تم تو جب بھی دینا بد دعا ہی دینا ۔خود پر جائزانہ نظر ڈالتی ہوئی منیبہ شیشے کے سامنے سے ہٹی تھی ۔
یار منزہ تم بھی کوئی لپ اسٹک ،کاجل وغیرہ لگا لو آخر کو پہلی بار جاذب کے ساتھ ڈیٹ پر جارہی ہو ۔منزہ کے عام سے حلیے کو نظر میں رکھتی ہوئی وہ فکر اور شرارت سے بولی تھی ۔
ڈیٹ پر نہیں جارہی بس اپنے دوست سے ملنے جارہی ہوں ۔منزہ کا عام سا انداز دیکھ منیبہ حیران ہوئی تھی ۔
چلیں ۔۔منزہ جانے کے لیے بڑی تھی ۔
پہلے یہ لگا لو ۔بلکل لائٹ کلر ہے ۔منزہ نے نفی میں گردن ہلائی تھی ۔
پلیززززز منزہ ورنہ میں ابھی منہ دھو کر آرہی ہوں ۔
اچھا کرو ۔منیبہ کو باتھروم میں جاتے دیکھ منزہ نے چار رونا چار ہامی بھری تھی ۔
اب ٹھیک ہے اب چلتے ہیں ۔منزہ نے کہ اسٹک اسے تھماتے ہوئے کہا تھا ۔
اتنی ہلکی ۔منیبہ نے کو افسوس ہوا تھا اس کے لپ اسٹک لگانے پر ۔
ہاں تو ۔ منزہ نے نا سمجھی میں اسے دیکھا تھا ۔
یہ ان خالی آنکھوں میں بھر لو ۔ غصے سے کاجل منزہ کے ہاتھ پر رکھتی ہوئی وہ اپنا ہینڈ بیگ اٹھنے لگی تھی ۔
یہ تو میں بھول ہی گئی تھی ۔اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں کاجل لگاتی ہوئی وہ منہ بنائے کھڑی منیبہ جو میک اپ کے بعد اور بھی پیاری لگ رہی تھی اسے دیکھ کر منزہ مسکرائی تھی ۔
چلیں ۔منزہ کے پیچھے منیبہ بھی روم سے نکلی تھی ۔
*****
گڈ مارننگ مما ۔ارحم نہیں دکھ رہا اسے اسکول ڈراپ کرنے جانا تھا مجھے اور نا ہی کبری بھابھی ۔آذر جو آج ذرا لیٹ ہوگیا تھا اٹھنے میں ارحم اور کبری کو ڈائنگ ٹیبل پر نا پاکر پریشان ہوا تھا ۔
ارحم کو اسکول چھوڑنے آج کبری خود چلی گئی ہے ۔ سمرین ہمدانی کے لہجے میں ناراضگی صاف عیاں تھی آذر کے دیر سے اٹھنے کی وجہ سے ۔
تم یونی جانے کی تیاری کرو ۔آذر کے رف حلیے کو دیکھ سمرین ہمدانی نے غصے سے کہا تھا ۔
گڈ مارننگ بی جان ۔ندا کا ہاتھ پکڑے آتی بی جان کو دیکھ آذر پرجوشی سے بولا تھا ۔
گڈ مارننگ میرے شہزادے ۔بی جان کا ہاتھ پکڑ اپنے ساتھ بیٹھتا ہوا آذر مسکرایا تھا ۔
اور بھائی بہو بیگم میرے شہزادے پر غصے کش لیے ہورہی ہیں ۔بی جان نے آتے ہی سمرین ہمدانی کی کلاس لی تھی آخر کو انہوں نے ان کے چہرے ہوتے کو جو ڈانٹا تھا ۔
آپ شہزادہ آج پھر لیٹ اٹھا ہے جس کی وجہ سے کبری گئی ہے ڈرائیور کے ساتھ ارحم کو چھوڑنے ۔اب بھی ناراضگی سے بول رہی تھیں ۔
تو کیا ہوا بچی ہے وہ بھی چلو کسی بہانے تو گھر سے باہر جاتی ہے ورنہ شارق کے جانے بعد بیچاری نے خود کو قید کرلیا ہے ۔ شارق کے ذکر پر بی جان کے لہجے میں افسردگی گھلی تھی ۔
وہیں آذر اور سمرین ہمدانی بھی افسردگی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔
شارق کا ذکر انہیں آج بھی افسردہ کردیتا تھا۔
گڈ مارننگ ایوری ون ،شاہ میر کی خوشگوار آواز نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔
ارے واہ بی جان بڑی ہاٹ لگ رہی ہیں آج آپ ریڈ کلر میں ۔ریڈ کلر کی بنارسی ساڑھی پہنے بی جان اس عمر میں اپنی مثال آپ لگ رہی تھیں ۔
بی جان کی پیشانی پر بوسہ دیتا ہوا وہ شرارت سے بولا تھا۔
ارے کہاں ہاٹ جو میں پہلے ہوا کرتی تھی ۔
خدا غارت کرے تمہارے داجی کو انہوں نے میری ساری خوبصورتی اپنی خدمتیں کروا کروا کر ختم کردی اب تو فقط جھریاں اور یہ سفید بال رہ گئے ہیں ۔ افسوس سے کہتی ہوئی بی جان ان تینوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئیں تھیں ۔
کہیں نہیں بی جان مجھے تو آپ اب ہاٹ لگتی ہیں ۔شاہ میر کے بال بکھرتی ہوئی بی جان کے جھریوں زدہ چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی ۔
شاہ میر کو دیکھ تینوں کے چہروں پر مضنوئی مسکراہٹ کا خول چڑھا تھا جو سیکنڈ کا مہمان تھا۔شارق کے جانے کے بعد شاہ میر ان سب کو اداس رہنے ہی کب دیتا تھا۔
اووو اوو مسسز جہانزیب ہمدانی آج تو آپ قہر ڈھارہی ہیں ۔ویسے ڈیڈ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا کہیں ۔ایک آنکھ دبائے وہ راز دانہ انداز میں پوچھ رہا تھا ۔
شاہ میر کے بولنے پر آذر ایک ہاتھ سے اپنا چہرہ چھپائے ہوئے تھا ۔
اووو اوو مسسز جہانزیب بلش کررہی ہیں ۔
بدتمیز بیٹا ۔شاہ میر کے شانے پر ہلکی سی چت لگاتی ہوئی وہ شرمائی تھیں ۔
آئی لوو یو مما ۔سمرین کی زانوں پر سر رکھتا ہوا شاہ میر آنکھیں بند کیے ہوئے تھا ۔
اور تم جا کرتیار ہو میرے ساتھ چلنا ہے تمہیں ۔شاہ میر آنکھیں بند کیے آذر سے کہہ رہا تھا جو بی جان کے ساتھ کسی بات پر مسکرا رہا تھا ۔
مگر شاہ میر کی بات پر حیران ہوا تھا ۔
آپ میرے ساتھ جائیں گے ۔
نہیں میرا بھوت ۔شاہ میر کہتا ہوا کھڑا ہوا تھا ۔
مما ندا کو کہہ کر میرا بریک فاسٹ تیار کروادیں ۔
اور تم اب تک کھڑے ہو جاؤ جاکر تیار ہو ۔شاہ میر کے کہتے ہی آذر اپنے روم کی جانب دوڑ لگا گیا تھا ۔
یہ دادجی اب تک سوئے ہوئے ہیں ۔جاتے ہوئے شاہ میر نے استفسار کیا تھا ۔
بڑی ہی گہری نیند سوئے ہوئے ہیں تمہارے دادجی ۔
افففف یار دادجی میری وجہ سے کیوں خود کی صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔شاہ میر پریشانی سے مسلتا ہوا اپنا کمرے میں گیا تھا ۔
******
کیا ہوا ہے ایسے بھڑکے ہوئے شعلوں کی طرح کیوں بنی ہوئی آرہی ہو تم ۔ منزہ کو کیفے سے پیر پٹخ کر آتے دیکھ منیبہ حیران ہوئی تھی ۔
کیا ہوا ہے ۔منیبہ کو فکر ہوئی تھی ۔
کیا ہوا جاذب نے کچھ کہا کیا ۔فکرمندانہ لہجے میں پوچھتی ہوئی وہ منزہ غصے سے چہرے کو دیکھ کر پریشان ہوئی تھی ۔
نام بھی مت لو اس کمینے کا مجھے بلا کر خود آیا بھی نہیں ہے کمینہ ۔غصے میں بولتی ہوئی منزہ رونے کو تیار تھی ۔
کوئی بات نہیںہے شاید بزی ہو ۔ جواز پیش کرتی ہوئی منیبہ اس وقت منزہ کو زہر سے کم نہیں لگی تھی ۔
اچھا میں پانی لے کر آتی ہوں تم یہاں پر ہی رکنا ۔
جلدی آنا ۔۔بس اسٹاپ پر کھڑے رہنے کا کہتی ہوئی خود منیبہ وہاں سے گئی تھی ۔
کافی دیر سے منیبہ کے آنے کی راہ دیکھتی ہوئی منزہ بس کے تھوڑی اور نا آنے کی دعا کررہی تھی ۔
ذرا سا بھی نہیں دیں گے کسی کو
تیرے بارے میں خود غرضی کریں گے
مسلسل خود پر کسی کی نظروں کی تپیش محسوس کرتی ہوئی منزہ چاروں اطراف نظریں دوڑا رہی تھی مگر کسی کو بھی خود پر متوجہ نا پاکر بھی پرسکون نہیں ہوئی تھی ۔
منزہ کی متلاشی نظروں کو دیکھ کر وہ زندگی سے بھرپور مسکرایا تھا ۔
*****
