375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 18)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

اپنی دھن میں رہتا ہوں

میں بھی تیرے جیسا ہوں

او پچھلی رت کے ساتھی

اب کے برس میں تنہا ہوں

تیری گلی میں سارا دن

دکھ کے کنکر چنتا ہوں

مجھ سے آنکھ ملائے کون

میں تیرا آئینہ ہوں

میرا دیا جلائے کون

میں ترا خالی کمرہ ہوں

تیرے سوا مجھے پہنے کون

میں ترے تن کا کپڑا ہوں

تو جیون کی بھری گلی

میں جنگل کا رستہ ہوں

آتی رت مجھے روئے گی

جاتی رت کا جھونکا ہوں

اپنی لہر ہے اپنا روگ

دریا ہوں اور پیاسا ہوں

فرقان تم یہاں اس وقت کیا کررہے ہو ، شاہ میر کی روٹین بدلنے کے ساتھ فرقان کی ٹائم روٹین میں بھی خاصا فرق آیا تھا ۔

آفیس کے بعد کبری کو چھوڑنے ہمدانی ولا جانا اور پھر وہاں سے سیدھا گھر ۔

رات کا ایک بجنے کو تھا اور وہ گارڈن میں ٹہل رہا تھا کہ اسٹڈی روم کی ونڈو بند کرتے ہوئے کاظمی صاحب نے اسے دیکھا تھا اور اب اس کے پیچھے کھڑے ہوئے فکر سے گویا ہوئے تھے ۔

کچھ نہیں ڈیڈ بس ایسے ہی ، وہ جو مسلسل خود کے اور کبری کے بارے میں سوچتا ہوا آج بھی اپنے دل پر ضبط کیے ہوئے تھا ۔

آفیس کی کوئی ٹینشن ہے ، انہوں نے پھر اس سے پوچھنا چاہا تھا جس پر وہ نفی میں گردن ہلاتا ہوا اپنے دونوں بازو سینے پر باندھے ہوئے ان کی سمت پیٹھ کیے کھڑا ہوا تھا ۔

پھر ،، فرقان نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی تھیں ۔

ڈیڈ ہم جس کی خواہش کرتے ہیں وہ ہمیں کیوں نہیں ملتا ، پرنم لہجے میں کہتا ہوا وہ ان کی سمت رخ کیے ہوئے تھا ۔

خواہش کرنا تو ویسے ہی منع کیا ہے اللہ تعالی نے ۔

کیونکہ زیادہ خواہشیں انسان کو باغی کرتی ہیں اور اپنے خدا سے دور کردیتی ہیں، کاظمی صاحب کے جواب پر وہ اپنی نم ہوتی آنکھوں کو ہری گھاس پر ٹکا گیا تھا ۔

پھر جو لاحاصل ہوتا ہے دل اس کی ہی چاہ کیوں کرتا ہے، مجرمانہ انداز میں بولتا ہوا کسی معصوم بچے کی طرح کاظمی صاحب کے سامنے آہستہ آہستہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کو بے قرار تھا ۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لاحاصل بھی ہمیں حاصل ہوجاتا ہے جب وہ خدا کن فرماتا ہے اپنے بندے کی نیت دیکھ کر ، فرقان کے ہاتھ پر دباؤ دیتے ہوئے وہ اسے سمجھنے کی سعی کررہے تھے ۔

ڈیڈ میری نیت کیسی ہے ۔ فرقان کی نم آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں ۔

یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کے بندے کی نیت کیسی ہے میں بھلا یہ کیسے جان سکتا ہوں ، ڈیڈ کے جواب پر لب دانتوں تلے دبا گیا تھا ۔

پر جانتے ہو فرقان کبھی کبھی اللہ اپنے کسی بندے کو بھی وصیلہ بنا کر بھیجتا ہے اپنے خاص بندوں کے لیے ،

خاص بندے ،، مطلب میں خاص نہیں ہوں ڈیڈ ،،، یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، فرقان کی گردن جھکی تھی ۔

کس کی خواہش کی ہے تم نے، فرقان کی جھکی گردن مزید جھکی تھی ۔

اس کی ہے جو کبھی مجھے مل نہیں سکتی ، آٹھ سال کی محبت آج وہ اپنے ڈیڈ پر ظاہر کرنے کو تیار تھا ۔ آج وہ خود کے دل کی خواہش پر ضبط کھو گیا تھا ۔

کون ہے ، فرقان کی حالت دیکھ وہ بے چین ہوئے تھے ۔

کبری جی ،،، شاہ میر کی بھابھی ،، وہ چونکے تھے ۔

جی ،، غلط نا ہونے کے باوجود بھی وہ شرمندہ ہوا تھا بتاتے ہوئے ۔

تم کیا بول رہے ہو تم جانتے بھی ہو ، جی ڈیڈ میں اچھے سے جانتا بھی ہوں اور سمجھتا بھی ہوں جب ہی تو اپنے دل پر قابو کیے اتنے سال گزار دیئے، بادلوں کی چادر میں چھپے چاند کو تلاش کرتا ہوا آسمان پر اپنی خالی نظریں ٹکائے ہوئے تھا ۔

سال کھل کر بتاؤ مجھے، کاظمی صاحب کے سختی سے پوچھنے پر وہ خشک لب تر کرتا ہوا خود کو بولنے کی خاطر تیار کرگیا تھا ۔

میں نے کبری کو آٹھ سال پہلے جمال انکل کے گھر ہوئی پارٹی میں دیکھا تھا ڈیڈ ہر اس وقت مجھے یہ نہیں ریلائز نہیں ہوا تھا کہ مجھے کبری اچھی لگی ہے ،

مگر وقت گزرتا رہا اور بار بار کہیں نا کہیں وہ دکھتی رہیں اور کب اس دل کی خواہش بن پتا ہی نہیں چلا،

جب دل کو سمجھا جب وقت اور حالات رہے مانند ہاتھوں سے پھسل گئے اور میری قسمت دوکھا کھاگئی ، اور میں فقط اپنے خالی ہاتھ دیکھتا رہ گیا ڈیڈ ،بے بسی سے کہتا ہوا وہ بول رہا تھا اور کاظمی صاحب اسے سنتے ہوئے پاس رکھی چئیر پر بیٹھے تھے ۔

یار بس تھوڑی دیر میں پہنچتا ہوں میں جمال انکل کے گھر پر ہوں ، فری ہوکر آتا ہوں ، جمال صاحب کے گھر منعقد ہوئی پارٹی میں موجود وہ اکتاہٹ کا شکار ہورہا تھا کہ شاہ میر کی آتی کال اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی ۔

کیسی پارٹی ہے جو تو مجھ سے ملنے نہیں آسکتا فرقان، شاہ میر چڑا تھا ۔

یار جمال انکل کے بیٹے کے اچھے گریڈ کی خوشی میں پارٹی منائی جارہی ہے ، جمال صاحب کے چہرے کی خوشی دیکھ وہ ایک سائیڈ پر کھڑا ہوا بڑبڑایا تھا ۔

ہمارے ڈیڈز نے تو کبھی نہیں رکھی پارٹیز ۔ شاہ میر کے شکوے ہر فرقان قہقہ لگا گیا تھا ۔

کوئی نہیں تو جب کرنل بن کر آئے گا ناں پھر دیکھنا انکل اتنی پارٹی کا اعلان کریں گے کہ تو سوچ بھی نہیں سکے گا ۔

ہائےےےےے بن ہی نا جاؤں میں کہیں کرنل جو ان کے حال ہیں، ہاسٹل کے ٹیلی فون کے ریسور کان پر لگائے ہوئے شاہ میر ٹیبل پر بیٹھا تھا ۔

اپنا نام لیتے ہوئے تجھے شرم آرہی ہے ،

شرم اور شاہ میر میں یہ ممکن نہیں میری جان ،

تیرا کوئی حال نہیں ہمدانی ،، شاہ میر چاہ کر بھی قہقہ نہیں لگا سکا تھا باہر کھڑے آفیسر کو دیکھ کر ۔

اس میں کوئی شک نہیں میں تجھ سے کل بات کروں گا یا ہوسکے تو تو ملنے آجا مجھ سے ،، شاہ میر نے کہا تھا ۔

پوری کوشش کروں گا ،، شاہ میر سے بات کرکے فرقان کاظمی صاحب کے پاس جانے لگا تھا کہ نظریں سامنے کھڑی وائیٹ کلر کے لانگ کامدار فراک میں نک سک سی تیار کھڑی معصوم سی کبری پر ٹہر گئی تھیں جنہیں وہ چاہ کر بھی ہٹا نہیں پا رہا تھا ۔

فرقان بیٹا ادھر آؤ ،، کاظمی صاحب کے پکارنے پر ہوش میں آتا ہوا اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوا ان سمت بڑھا تھا ۔

پوری پارٹی میں کبری فرقان کی بھٹکتی ہوئی نگاہوں کا مرکز بنی ہوئی تھی ۔

****

کیا کہہ رہے ہو ،، نیند سے بیدار ہوتا شاہ میر اپنا سر پکڑتے بھڑکا تھا ۔

یس سر میڈم کی آج ہاسٹل میں آخری رات ہے کل وہ یہاں سے چلی جائیں گی ۔، شاہ میر کا غصے اور کچی نیند سے اٹھنے کے باعث سر دکھ رہا تھا اور اوپر سے یہ فکر کہ منزہ اس کی پہنچ سے دور نا ہوجائے ۔

فون رکھووووو ،،،،

وقت آگیا ہے منزہ اب ۔۔ فون بیڈ پر پھینکتا ہوا پل بھر میں فیصلہ کرتا ہوا وہ اٹھ کر کبرڈ سے پیپرز نکالتا ہوا مسکرایا تھا ۔

کککککوننن ہے وہاں ۔ڈر سے کانپتی آواز میں بولتی ہوئی وہ ہلتے ہوئے پردوں سے خوفزدہ ہورہی تھی ۔

میں نے پوچھا کون ہے وہاں ۔۔ پردے پر ابھرتا سایہ نمودار ہوا تھا اس کے پکارنے پر ۔

ڈر سے لرزتی ہوئی وہ دونوں آنکھیں خوف سے میچے وہ ونڈو کی جانب بڑھ رہی تھی ۔

جنننن تو نہیں ہے نہیں جن کا سایہ تھوڑی ہوگا ۔ ونڈو کی جانب دیکھتی ہوئی وہ ڈر سے بڑبڑائی تھی ۔

ہمت باندھتی ہوئی وہ ونڈو کے پاس آکر رکی تھی ۔

کہ اچانک سے سامنے کھڑے دراز قد کے حامل شخص کو دیکھ کر اس کی آواز حلق میں پھنسی تھی ۔

کوننننننن ۔ منزہ کی بچی کچی آواز بھی وہ اپنے بھاری ہاتھ سے دبا گیا تھا ۔

ششش۔ آواز بھی نا نکلے تمہاری ۔ منہ پر انگلی رکھے وہ آنکھوں میں سرخ ڈورے لیے جبڑے بھینچے ہوئے غرلایا تھا ۔

پیچھے ہو پیچھے ،،شاہ میر کی دبی آواز میں کہتا ہوا آگے کی سمت بڑھا تھا ۔

یہ غلط کررہے ہیں آپ ۔ شاہ میر کے ہاتھ ہٹانے پر اس سے دور ہوتی سرخ آنکھوں میں ڈر لیے وہ غرلائی تھی ۔

کیا صحیح ہے کیا غلط ہے یہ تو میں نے اپنے ٹیچر سے بھی اچھے نہیں سیکھا بہتر ہے تم بھی کوشش مت کرو مجھے صحیح غلط کا فرق بتانے کی ۔ ہاتھ میں پکڑی ریوالور کو دیکھتا ہوا وہ جذبات سے عاری لہجے میں بولتا ہوا اسے مزید حواس باختہ کرگیا تھا ۔

جو پہلے ہی اس کے ڈر سے کافی فاصلے پر سمٹ کر فرش پر بیٹھی ہوئی تھی ۔

کیا ہوا ڈر کیوں رہی ہو مجھ سے اس طرح جیسے میں انسان نہیں کوئی آدم خور ہوں ،، اس کی سمت قدم بڑھاتا ہوا منزہ کے خوفزدہ چہرے کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔

ددددوررر، ،، رہوووو، شاہ میر کے اپنی طرف بڑھتے قدم اسے مزید خوفزدہ کررہے تھے ۔

سنا نہیں دور رہو ،، وہ حلق کے بل چلائی تھی ۔

اب ممکن تم سے دور رہنا ،، خمارزدہ لہجے میں کہتا ہوا شاہ میر فرش پر بیٹھی ہوئی منزہ کے مقابل آکر زانوں کے بل بیٹھ گیا تھا ۔

یہ غلط کررہے ہو تم ایسے زبردستی محبت نہیں کروائی جاسکتی ،، اسے سمجھانے کی ادنی سی کوشش کررہی تھی جس کے دماغ پر محبت کا ان دیکھا بھوت سوار تھا ۔

اپنے لبوں پر ریوالور رکھے وہ منزہ کے خوف سے لرزتے وجود کو بڑی دلچسپی سے دیکھتا ہوا خاموش بیٹھا ہوا تھا ۔

اس جاذب آرائیں سے محبت کرتی ہو تم ۔ شاہ میر کے اچانک سے پوچھے گئے سوال پر وہ نفی میں گردن ہلا گئی تھی ۔

مطلب وہ تم سے محبت کرتا ہے تم نہیں کرتی۔ نفی میں گردن ہلاتی ہوئی شاہ میر کی مسکراہٹ کو دیکھ دنگ رہ گئی تھی ۔

مجھے نہیں پتا، ،، بھرائی آواز میں جواب دے گئی تھی ۔

پھر اس کے گھر والوں سے کیوں ملنے ملانے کی باتیں کیوں ہورہی ہیں ۔

اسے کچھ مت کرنا ،،، منزہ کے اس طرح منت کرنے پر شاہ میر کا دل مٹھی میں آیا تھا ۔

اتنی فکر ،،اتنی پروا، ، یہ محبت نہیں ہے تو کیا ہے منزہ ،،،، بھاری روبدار آواز میں اپنے دل میں اٹھتی درد کی ٹھیسوں پر قابو پاتا ہوا وہ خود پر کمال کا ضبط کیے ہوئے تھا ۔

ہم عزت کرتے ہیں ایک دوسرے کی ۔ آنکھوں میں خوف لیے وہ بے خوف لہجے میں بولی تھی ۔

عزت ،،،، قہقہ لگاتا ہوا وہ کوئی دیوانہ لگ رہا تھا ۔

اس عزت کی میری زندگی اور میری شخصیت میں کوئی جگہ نہیں ہے منزہ وقار ،،اور اس کی عادت تم بھی ڈال لو تو بہتر رہے گا تمہارے لیے ۔ سرخ متورم آنکھیں لیے وہ شاہ میر کو نا سمجھی میں بنا پلکیں جھپکائے دیکھ رہی تھی ۔

یہ پیپر سائن کرو ۔ اپنی جیکٹ سے پیپرز نکالتا ہوا وہ منزہ کے سامنے بڑھاتا ہوا سنجیدگی سے بول رہا تھا ۔

کککوننن سے پیپر ہیں یہ ،، لڑکھڑاتے لہجے میں پوچھتی ہوئی وہ پیپرز دیکھ کر گھبرائی تھی ۔

اگر میں یہ کہوں کہ نکاح کے پیپر ہیں یہ تو ،، منزہ کے چہرے کے قریب چہرہ کیے وہ چہرے پر بلا کی سنجیدگی طاری کیے ہوئے تھا ۔

جس سے منزہ اسٹل ہوئی تھی ۔

ڈر گئیں تم ، ،، منزہ کے ساکت چہرے کو دیکھ کر وہ قہقہ لگا گیا تھا ۔

ویسے ڈرنا بھی چاہیے تمہیں کیونکہ یہ نکاح کے پیپرز ہی ہیں ،، منزہ کے چہرے کے رنگ فق ہوئے تھے ۔

مممی،،مممیں نہیں کروں گی یہ سائن ۔۔

نہیں کرو گی پیپر سائن ،،،، منزہ کے انکار پر قہقہ لگاتا شاہ میر اگلے ہی لمحے میں چہرے پر سنجیدگی آنکھوں میں غصے کے سرخ دوڑے لیے ریوالور اس تھوڑی کے نیچے رکھ کر اس کے آنسوؤں سے بھیگے چہرے کو تھوڑا اوپر کرگیا تھا ۔

پلیزززز مجھے بخش دیں ،، ریوالور کے بڑھتے زور سے خوفزدہ ہوتی ہوئی وہ شاہ میر کی غصے سے سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی منت سماجت پر اترتی تھی مگر شاہ میر کسی بھی منت سماجت سننے کے موڈ میں نہیں لگ رہا تھا اسے ۔

بخش تو رہا ہوں تمہارے جاذب کو اور اس کی جان کو ، اور کیا کروں کیسے بخشوں تمہیں ،،

ہاں تمہاری مما ، بابا اور وہ کیا نام ہے تمہارے بھائی کا ،،،،،

ہاں مزمل ان سب کو بخش دیا تمہارے لیے ،،،ویسے اس ہی شہر میں شفٹ ہوگئے ہیں ناں اب تو تمہاری فیملی اور تمہاری یہاں اس ہاسٹل میں آخری رات ہے جب ہی تو آیا ہوں یہاں یہ پیپر لے کر ۔

اب اچھی بچی کی طرح فٹا فٹ سائن کردو ، پل بھر میں بدلتے شاہ میر کے سرد گرم لہجے سے اپنی قسمت پر ماتم کناں تھی ۔

اگر اس بات کی ٹینشن ہے کہ تمہارے ہاتھوں پر مہندی نہیں لگی میرے نام کی یا مایوں میں بیٹھی بنا دلہن بنے نکاح ہورہا ہے تو بے فکر رہو اتنی دھوم دھام سے ہماری شادی ہوگی نا سب دیکھیں گے بس یہ پیپر سائن کردو اس کے بعد سب ٹھیک کردو گا میں ،، دیوانہ وار کہتا وہ ریوالور کو اب منزہ کے رخسار پر پھیرتا ہوا لب دبائے ہوئے تھا ۔

کرب سے آنکھیں میچے وہ اپنے رخسار پر ریوالور محسوس کرتی ہوئی اپنی بے بسی پر کر لائی تھی ۔

منزززززہ ۔۔۔ خاصا زور دیتا ہوا بولا تھا ۔

منزہ سنا نہیں تم نے میں نے کیا کہا ابھی تم سے تمہاری فیملی اس ہی شہر میں شفٹ ہوگئی ہے پر میں انہیں کچھ نہیں کروں آئی سوئیر ،،

اپنی چلتی سانسوں کی قسم کھاتا ہوا شاہ میر سچ بول رہا تھا ۔

آنکھیں میچے منزہ کی نفی میں ہلتی گردن کو دیکھ وہ ضبط سے لب بھینچ گیا تھا ۔

تم مجھ سے التجا کررہی ہو نا کہ میں یہ سب نا کروں ہیں ناں ، شاہ میر کی بات پر منزہ کی فورا سے آنکھیں کھلی تھیں ۔

میں تم سے التجا کرتا ہوں پلیز یہ پیپر سائن کردو، یہ دیکھو ہاتھ جوڑتا ہوں تمہارے آگے ، دونوں جڑے ہاتھوں کے بیچ میں ریوالور پر منزہ کی نگاہیں ٹکی تھیں ۔

اگر نہیں تو یہ لو ختم کردو مجھے کیونکہ تمہارے انکار سے تو ویسے ہی مر رہا ہوں ،مار دو مجھے ،، شاہ میر کے انداز پر منزہ کی متورم آنکھوں میں حیرت گھلی تھی اس کے بدلتے رنگ سے ۔

تم سائن نہیں کرو گی، منزہ نے نفی میں گردن ہلائی تھی ۔

ٹھیک ہے میں مر جاتا ہوں ، اپنی کنپٹی پر ریوالور رکھتا ہوا وہ اپنی آنکھیں بند کرگیا تھا ۔

ہر دم بھرتی سانسوں میں چلتا تیرا نام ہے

آج اس قصے کو اپنی موت سے تمام کرتے ہیں ۔۔۔

پاگل ہوگئے ہیں کیا آپ، کنپٹی پر رکھی ریوالور کو دیکھ کے دم خشک ہوئے تھے ۔

پاگل ،،، قہقہ لگاتا ہوا وہ منزہ کو دیکھ کر لب دبا گیا تھا ۔

دیوانہ ہوگیا دیوانہ ،، ، پر کوئی بات نہیں تم خوش رہنا بس ایک آخری خواہش پوری کردینا میری ،، آنسوؤں سے بھری آنکھوں میں سوال ابھرا تھا ۔

بس میری قبر پر ہر زور پھول ڈالنے ضرور آنا اور اپنا بہت سارا خیال رکھنا خدا حافظ ، ریوالور پر زور دیتا ہوا منزہ کے بے داغ رخساروں پر آنسوؤں کے نشان دیکھ آنکھیں بند کرگیا تھا ۔

نیینہیں نہیں میں کروں گی سائن شاہ میر پلیز یہ نیچے کرلیں ،، دماغ میں بازگشت کرتی شاہ میر کی باتوں سے وہ ہامی بھر گئی تھی ۔

نہیں منزہ میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتا ، بے ساختہ ہی منزہ نے اسے شکوہ کن نظروں سے دیکھا تھا ۔

جو دل ہی دل میں شکرانے ادا کرتا وہ ڈرامائی انداز میں واپس سے ریوالور پر دباؤ بڑھا گیا ۔

میں کوئی جبران یا تم سے ڈر کر اس پیپر پر سائن نہیں کررہی ہوں سو پلیز نیچے کرو اسے ،

سچ میں دل سے کررہی ہو ان پیپرز پر سائن ۔۔ شاہ میر کے پوچھنے پر ہاں کرتی ہوئی فرش پر پڑے پیپرز کی جانب بڑھی تھی ۔

پین کہاں ہے ۔ منزہ کے پکارنے پر ہوش میں آتا شاہ میر سائیڈ پاکٹ سے پین نکال کر اس کی جانب بڑھا گیا تھا ۔

آنکھوں کے سامنے اپنے بابا کا عکس لہراتے دیکھ وہ لزرتا ہاتھوں سے پیپر سائن کرتی ہوئی اپنے سامنے بیٹھے اس سنگدل شخص کو دیکھ کر سرد آہ بھر کر رہ گئی تھی ۔

ہوگئے ہیں سائن یہ پیپرز اب آپ جاسکتے ہیں یہاں سے میں کوئی تماشہ نہیں چاہتی ، منزہ کے دو ٹوک لہجے کو شاہ میر سمجھنے سے قاصر تھا ۔

منزہ ،، شاہ میر کے پکارنے پر کرب سے آنکھیں میچتی ہوئی اپنی پل بھر میں بدلتی دنیا پر ماتم کرنے کا حق بھی کھو گئی تھی ۔

پلیزززززز شاہ میر ہمدانی جائیں یہاں سے ،، شاہ میر کی سمت پیٹھ کیے وہ خود پر سے ضبط کھو رہی تھی ۔

اپنا خیال رکھنا ،،، شرمندگی کے حصار میں بندھتا ہوا شاہ میر جہاں سے آیا تھا اس ہی جانب بڑھا تھا ۔

انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی

تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

کون سیاہی گھول رہا تھا وقت کے بہتے دریا میں

میں نے آنکھ جھکی دیکھی ہے آج کسی ہرجائی کی

ٹوٹ گئے سیال نگینے پھوٹ بہے رخساروں پر

دیکھو میرا ساتھ نہ دینا بات ہے یہ رسوائی کی

وصل کی رات نہ جانے کیوں اصرار تھا ان کو جانے پر

وقت سے پہلے ڈوب گئے تاروں نے بڑی دانائی کی

اڑتے اڑتے آس کا پنچھی دور افق میں ڈوب گیا

روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی

شاہ میر کے جاتے ہی گھٹنوں میں سر دیئے وہ اپنے ضبط کردہ آنسوؤں پر سے بند کھول گئی تھی ۔

وہیں نیچے گاڑی میں بیٹھتے ہی پرسکون سانس بھرتا ہوا شاہ میر مسکرایا تھا اپنی کامیابی پر ۔

*****