375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 11)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

کیا ہوا شاہ میر ۔ شاہ میر کی سرخ آنکھیں دیکھ فرقان نے فکر سے پوچھا تھا ۔

کچھ نہیں یارا بس تھوڑا سر میں درد ہورہا ہے ۔ جبراً مسکراہٹ لیے وہ ہنوز نظریں جھکائے ہوئے تھا ۔

ہمدانی یار جھوٹ نا بول ۔ فرقان سے آج تک کیا چھپا تھا جو آج وہ نا پہچانتا اپنے جگری دوست کی کیفیت ۔

کچھ بھی نہیں ہے یار ۔

تو کہہ رہا ہے تو مان لیتا ہوں کہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ چبا کر کہتے ہوئے فرقان کو دیکھ شاہ میر نے سختی سے لب بھینچے تھے ۔

اور ہاں میں میٹنگ اٹینڈ نہیں کرسکوں گا تم کبری کو اپنے ساتھ لے جانا ۔

سمجھدار ہے اگر اسے کچھ سمجھ میں نا آئے تو تم اسے گائیڈ کردینا ۔ فرقان کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا وہ خود پر بند باندھے مسکرایا تھا ۔

تو اچھے سے جانتا ہے ہمدانی یہ میٹنگ کتنی اہم ہے ہمارے لیے ۔

آج ہمارا مخالف سلیمان بزدار ہے اور تو ہمدانی میٹنگ میں جانے سے انکار کررہا ہے ۔ فرقان کی بات پر شاہ میر نے آنکھیں میچی تھیں ۔

میں وہاں ہوکر بھی میٹنگ میں موجود نہیں ہوپاؤں گا ۔

اور ویسے بھی تو ہے نا تو مجھے کسی چیز کی فکر نہیں ہے اور ہاں اگر تجھے میری ضرورت پڑے جو مجھے نہیں لگتا کہ تجھے میری ضرورت پڑے گی ۔

پھر بھی تو مجھے کال کرلینا ۔

میں چلتا ہوں اللہ حافظ ۔ منزہ کی فائل ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑے وہ جانے کے لیے بڑھا تھا ۔

فرقان کو غصہ تو بہت آرہا تھا مگر شاہ میر کی بکھری سی حالت دیکھ کر خاموش رہا تھا ۔

اپنا خیال رکھنا ہمدانی ۔ جاتے ہوئے شاہ میر کی پشت دیکھتا ہوا فرقان اسے جتا گیا تھا ۔

تو بھی پھر نائیٹ کلب میں ملتے ہیں ۔ گردن موڑ کر فرقان کو نم آنکھوں سے دیکھتا ہوا شاہ میر جیسے وہاں آیا تھا اس سے کئی زیادہ رفتار سے وہاں سے چلا بھی گیا تھا ۔

جاذب آرائیں نام ہے ۔ بڑے ضبط سے بتاتا ہوا بلیو ٹوتھ اتار کر پھینک کر شاہ میر نے گاڑی گھر کے راستے پر ڈال گیا تھا ۔

******

آنٹی کی طبعیت کیسی ہے اب ۔ جاذب کے ساتھ چلتی ہوئی منزہ نے بولنے میں پہل کی تھی ۔

ٹھیک ہیں اب پہلے سے ۔ منزہ کا سفری بیگ کندھے پر ڈالے جاذب مسکرا کر بول رہا تھا ۔

وہ مسکراہٹ جو ہمیشہ منزہ کی موجودگی میں اس کے چہرے پر سجی رہتی تھی ۔

سوری ۔ جاذب کے اچانک سوری کہنے پر منزہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا ۔

اس لیے کہ آپ کو کل انتظار کرنا پڑا میرا ۔ منزہ کی سوالیہ نظروں کو سمجھتا وہ جواب دے گیا تھا ۔

کوئی بات نہیں مجبوری تھی تمہاری بھی ۔ جتنے آرام سے وہ کہہ رہی تھی جاذب سن کر حیران رہ گیا تھا ۔

منزہ ۔

ہمہم کیا ۔ جاذب کے پکارنے پر وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

کچھ نہیں پھر کبھی ۔ جاذب جو اسے اپنے دل کی بات آج کہنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر کنفیوز ہوتا ٹال گیا تھا ۔

ٹھیک ہے پھر کبھی سہی اوکے پھر ملتے ہیں ۔ منزہ نے مناسب نہیں سمجھا بات کو کھینچنا ۔

پیپرز کے بعد لے کر چلوں گا آپ کو امی سے ملوانے کے لیے۔ جاذب کی بات پر منزہ مسکرائی تھی ۔

کیوں نہیں ضرور ۔ عام سے لہجے میں کہتی ہوئی وہ دونوں ہاسٹل کے نیچے کھڑے ہوئے تھے ۔

خدا حافظ ۔

میرا بیگ تو دے دو پہلے ۔ مسکراہٹ ضبط کرتی منزہ کو دیکھ جاذب نے سر کھجایا تھا ۔

سوری ۔ بیگ منزہ کو دیتا ہوا شرمندہ ہوا تھا ۔

کوئی بات نہیں خدا حافظ ۔ بیگ لیتی ہوئی منزہ ہاسٹل کے داخلی دروازے کی دہلیز پار گئی تھی ۔

پتا نہیں آپ کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کبھی کر بھی پاؤ گا بھی یا نہیں ۔ منزہ کو جاتے دیکھ منزہ کے سامنے اپنی بند ہوتی زبان سے پریشان ہوا تھا۔

او میڈم کیا ہوا ہے اور تم ایسے اپنا ہاتھ کیوں پکڑے بیٹھی ہو ۔ ہاسٹل روم میں داخل ہوتے ہی اپنا بیگ ٹیبل پر رکھتی ہوئی منزہ نے حیرت سے پوچھا تھا۔

منزہ مجھ لگ رہا ہے میرا ہاتھ پر سویلنگ آگئی ہے ۔ اپنے ہاتھ کو دیکھتی ہوئی منزہ فکر سے بولی تھی ۔

کیا ہوا ہے کوئی چوٹ لگ گئی ہے کیا ہاتھ پر ۔ منزہ فورا سے اس کے پاس آئی تھی ۔

جھوٹی کہاں ہے سوجن اور چوٹ کہاں پر لگی ہے تمہیں ۔ منیبہ کے ہاتھ پر ذرا بھی خراش و سوجن نا دیکھ منزہ کرختگی سے بولی تھی ۔

یہ میں نے کب کہا کہ مجھے چوٹ لگی ہے ، بس ایک لمبے چوڑے ہینڈسم بندے نے کافی دیر تک پکڑے رکھا ہے میرا نازک سا ہاتھ ۔وہ صدمے میں تھی یا خوشی سے دوچار تھی منزہ اندازہ نہیں لگا سکی تھی ۔

منیبہ ۔ منزہ نے خاصا زور دے کر اس کا نام لیا تھا ۔

منزہ میری جان تو آگئی ۔ اسے اب ہوش آیا تھا ۔

تجھے پتا آج بہت ہی ہینڈسم بندے نے خود سے براہراست میرے یعنی منیبہ صفدر کی جانب دوستی ہاتھ بڑھایا ہے ۔

ہائے شکر کوئی تو ہوگا جاذب کے علاوہ میرا ہینڈسم دوست ۔

پتا ہے پہلے تو ڈر گئی تھی کہیں وہ بندہ میری اچھی خاصی سبکی نا کردے ۔

مگر منزہ اس نے تو میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا کر مجھے حیران ہی کردیا ۔ روانگی سے بولتی ہوئی منیبہ کو شاکی نظروں سے دیکھتی ہوئی منزہ اپنی پیشانی پکڑ کر بیٹھ گئی تھی ۔

منزہ تو سن رہی ہے نا ۔ منزہ کو نظریں جھکائے بیٹھے دیکھ منیبہ کی چلتی زبان کو بریک لگا تھا ۔

تجھے اور تیری بے تکی باتوں کو ہی سن رہی ہوں ۔

حد کرتی ہو منیبہ تم میں سمجھی پتا نہیں کیا ہوگیا ۔

پتا نہیں کیا چیز ہو ۔۔منیبہ کی باتیں اسے ناگوار گزری تھی ۔

منیبہ لب دبائے سب خاموشی سے سن رہی تھی ۔

تم بلکل ایمیچور حرکتیں کرتی ہو منیبہ ،

کبھی چھوٹی سی بات پر ڈرا دیتی ہو کبھی بڑی سے بڑی باتیں مذاق میں ٹال دیتی ہو اور کبھی تو ایسی حرکتیں کرتی ہو جو میں کبھی اپنے تصور میں بھی نہیں سوچ سکتی ۔

سر پکڑے وہ نجانے کیوں اس پر آج بھڑک رہی تھی ۔

اس لیے کہ اسے اس کے منہ سے اس ہینڈسم بندے کا ذکر اچھا نہیں لگا تھا ۔

نکال لی اپنی بھڑاس یا اور باقی ہے ابھی ۔ منزہ کو خاموش دیکھ منیبہ نے افسردگی سے پوچھا تھا ۔

سوری منیبہ میں نے زیادہ ہی غصہ کردیا جو مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا پر غلطی تمہاری ہی تھی اگر کوئی ہینڈسم ہے تو کیا تم کسی سے بھی دوستی کرلو گی ۔

یہ ٹھیک نہیں ہے منیبہ پتا نہیں کیسی فطرت کا مالک ہوگا اور تم نے اس بنا سوچے سمجھے دوستی کرلی ۔منزہ کی اپنے لیے فکر دیکھ منیبہ اس کے برابر می آکر بیٹھی تھی ۔

تجھے لگتا ہے منیبہ صفدر کسی بھی ایسے ویسے سے دوستی کرلے گی ۔ منزہ نے نا سمجھی میں دیکھا تھا اسے ۔

ہماری یونی کے سب لائق فائق اسٹوڈنٹس میں سے ایک ہے آذر ہمدانی اور ہینڈسم بھی ۔آخر میں وہ پھر وہ واپس اپنی ٹون میں آئی تھی ۔

آذر ہمدانی ناں ۔ منزہ نے تصدیق چاہی تھی ۔

یس میڈم آذر ہمدانی ۔ منیبہ نے اسے اپنی اور آذر کی ہوئی حادثاتی ملاقات کا بتاتی ہوئی منیبہ چہک رہی تھی ۔

کل تمہیں بھی ملواؤں گی پر ظاہر نا کرنا اس پر کہ میں اس کے ساتھ دوستی ہونے پر خوش ہوں ۔

ساری دنیا بدل سکتی ہے سوائے تمہارے ۔

اس میں کوئی شک ۔ منیبہ کے جواب پر مسکراتی ہوئی منزہ اپنے بجتے فون کی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔

ہیلو ، ہیلو کون ہے ۔ منزہ کو فقط مقابل کی چلتی سانسوں کی ہلکی سی ردھم سنائی دی تھی اور مقابل کی جانب سے کال کٹ بھی کردی گئی تھی ۔

کون تھا ۔ منیبہ نے پوچھا تھا ۔

شاید غلطی سے لگ گئی ہوگی کال جب ہی بنا کچھ بولے کال کٹ کردی ۔فون کو دیکھتی ہوئی وہ خود ہی اخذ کرگئی تھی ۔

*****

میں متفق ہوں تیری تمام باتوں سے

بہرحال یوں دل توڑا نہیں کرتے

اور عشق ایک شخص سے حلال ہے

ہر ایک سے تھوڑا تھوڑا نہیں کرتے

منزہ کی آواز سن کر ہی شاہ میر نے کالکٹ کردی تھی ۔

آخر وہ کال کیوں کٹ نا کرتا اس کے اور منزہ کے درمیان تعلق ہی کیا تھا۔

اور جو تعلق بنانے کا شاہ میر ارادہ رکھتا تھا وہ تو کسی طور اسے ممکن ہوتا دکھ نہیں رہا تھا ۔

آج شاہ میر ہمدانی کے خوبصورت نقوش پر افسردگی کا راج تھا شرارت اور چہکاہٹ تو کہیں کھو سی گئی تھی ۔

اسلام وعلیکم سر ۔ گارڈز کے سلام پر وہ فقط گردن کو خم کرگیا تھا ۔

سر آج اتنے اداس ۔ شاہ میر جو ہمیشہ ہی پرجوشی سے سلام کے جواب کے ساتھ گارڈز کا حال چال ضرور دریافت کرتا تھا مگر آج تو بول کر بھی سلام کا جواب نہیں دیا گیا تھا شاہ میر کی طرف سے ۔

مردہ قدموں سے گھر کے اندر جاتا ہوا شاہ میر ٹھٹھکا تھا گارڈن کی سائیڈ پر جلتی آگ کو دیکھ کر زیادہ حیران تو وہ ندا کے ساتھ کھڑے ارحم کو دیکھ کر ہوا تھا جو جلتی آگ کو دیکھ مسکرا رہا تھا ۔

وہیں تھوڑے سے فاصلے پر کھڑی میڈ اور ان کی گود میں روتی ہوئی پریشے کو دیکھ رہا تھا جو روتی ہوئی جلتی ہوئی آگ کی جانب اشارہ کررہی تھی ۔

پری اب آپ صرف میرے ساتھ کھیلو گی اس ٹیڈی بیئر کے ساتھ آپ کبھی نہیں کھیلو گی ۔ میڈ سے پریشے کو لیتا ہوا ارحم لڑکھڑایا تھا ۔

تیدی ۔ جبکہ پریشے ارحم کی گود سے اتر کر ہری گھاس پر بیٹھ گئی تھی ۔

مطلب صاف تھا کہ وہ اپنے بھائی سے ناراض ہے ۔

دیکھو پری وہ ٹیڈی بیئر گندا تھا اور اس کی وجہ سے آپ میرے ساتھ نہیں کھیل رہی تھی ۔ پریشے کے آنسو صاف کرتے ارحم نے معصومیت سے کہا تھا ۔

وہیں شاہ میر نا سمجھی میں کھڑا ہوا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔

پریشے کی ننھے ہاتھوں سے مار کھاتا ہوا ارحم مسکرا رہا تھا ۔

مگر اگلے ہی لمحے شاہ میر حیران ہوا پریشے کو ارحم کے گلے لگے دیکھ ۔

بھیا آپ سے سب سے زیادہ پیار کرتے ہی پری ۔ پریشے کی ٹیل پونی سیٹ کرتا ہوا ارحم مسکرا کر بولا تھا جس پر پریشے قہقہ لگاتی ہوئی ارحم کی انگلی پکڑ کر کھڑی ہوئی تھی ۔

کیا ہورہا تھا یہاں ۔ شاہ میر نے دونوں کھڑے ہوتے دیکھ پوچھا تھا ۔

ابی ۔ شاہ میر کو دیکھتے ہی ارحم کے ساتھ پریشے بھی اس کی ٹانگوں سے لپٹی تھی ۔

یس ابی کی جان ۔ پریشے کو گود میں اٹھاتا وہ ارحم کے بال بکھر گیا تھا جس پر ارحم کا منہ بنا تھا ۔اسے کہاں پسند تھا کہ کوئی اس کے بالوں کو ہاتھ بھی لگائے مگر آج اس کے بال بگاڑنے والا کوئی اور نہیں اس کا جان عزیز ابی تھا ۔

سوری میری جان ۔ ارحم کا منہ بنے دیکھ پریشے کے پھولے ہوئے گالوں کو چوم رہا تھا ۔

یاں(یہاں) پریشے کبھی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر شاہ میر کو بوسہ دینے کا کہتی تو کبھی اپنی ناک پر ایسے کرتی ہوئی وہ شاہ میر کی چوڑی پیشانی پر اپنے ننھے لبوں سے بوسہ دے گئی تھی ۔

میری شہزادی ، میری بچی ، ابی کی جان ۔ پریشے کو اوپر کی طرف اچھلتا ہوا شاہ میر اپنی پہلے والی ساری ٹینشن بھول گیا تھا ۔

میری باری کب آئے گی ۔ارحم جو کافی دیر سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا آخر کار بول اٹھا تھا ۔

جیلسی بوائے ۔شاہ میر نے ارحم نے محبت سے دیکھا تھا ۔

ندا آپ پریشے کو چینج کروا کر کچن میں لے آئیں گا اور مجھے آج کچن میں اسٹاف کا کوئی بھی میمبر نا دکھے ۔پریشے کو ندا کے حوالے کرتا ہوا شاہ میر ارحم کو گود میں اٹھا گیا تھا ۔

ابی مما کہاں ۔ شاہ میر کی گود میں آتے ہی ارحم نے سوال کیا تھا ۔

جب سے وہ اسکول سے آیا تھا جب سے ہی کبری اسے نہیں دِکھی تھی ۔

کیوں مما کی یاد آرہی ہے آپ کو ۔شاہ میر نے بتانے کے بجائے سوال کیا تھا ۔

یاد بھی آرہی ہے اور ماں کے ہاتھ کا پاستا کھانے کا دل بھی کر رہاہے ۔ چہرے پر بلا کی معصومیت لیے بول رہا تھا ۔

آج ابی کی جگہ مما آفیس میں کام کررہی ہیں اور ابی مما کی جگہ آج آپ کے لیے پاستا بنائے گے ۔

سچی ۔ یس مائے سن ۔ ارحم کی حیرت زدہ چیک پر شاہ میر کی مسکراہٹ جاندار ہوئی تھی ۔

چلیں ۔ یس ابی ۔ آئی لوو یو یو آر دا بیسٹ ۔ شاہ میر کی ہلکی بڑھی شیو پر لب رکھتا ہوا چبھن محسوس کرتا فورا سے پیچھے ہوا تھا ۔

ابی آپ شیوو کرلیں ۔ ارحم نے ناگواریت سے ہلکی بڑھی شیوو کو دیکھ کر کہا تھا ۔

جو حکم میرا بچہ ۔ ارحم کو گود میں لیے شاہ میر کچھ کی سمت بڑھا تھا ۔

سلام دادجی یہ ہماری مس ورلڈ کہاں ۔ لیونگ روم نیوز دیکھتے دادجی کو سلام کہتا وہ ساتھ ہی بی جان کا پوچھ گیا تھا ۔

بوڑھی ہوگئی ہے تمہاری مس ورلڈ آرام کر رہی ہے ۔ دیوار میں نسب ایل ای ڈی میں چلتی خبروں پر نظریں جمائے دادجی مصروف انداز میں بولے تھے ۔

شاہ میر مسکراتا ہوا کچن میں داخل ہوا تھا ۔

ارحم کو سلیپ پر بیٹھاتا ہوا اپنی ریسٹ واچ ،اپنا والٹ اور اپنا سیل فون ارحم کو پکڑاتا ہوا خود ہاتھ دھونے لگا تھا ۔

ابی آپ کیا بناؤ گے ۔ ارحم کے سوال پر شاہ میر سوچنے لگا تھا ۔

ہم پاستا اور کافی بنائے گیے ۔ ایپرن باندھتا ہوا شاہ میر سامان نکالنے لگا تھا ۔

کافی کے ساتھ مینگو ملک شیک ۔ ارحم کی فرمائش پر شاہ میر نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا ۔

ابی آپ کے فون پر کال آرہی ہے ۔ شاہ میر کے فون پر آتی کال دیکھ ارحم نے اسے پکارا تھا ۔

کس کی ہے ۔ فریزر میں منہ دیئے شاہ میر نے پوچھا تھا ۔

*****