Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304 Raah E Yaar (Episode 19)
Rate this Novel
Raah E Yaar (Episode 19)
Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar
ایک ہفتے بعد ۔۔۔
کیسی ہیں آنٹی آپ ،،، گھر میں اکیلی ہیں کیا آپ، ، گھر میں منزہ کو دیکھنے کے لئے متلاشی نظریں دوڑاتا ہوا شاہ میر شائستہ کو کیوں روم اکیلے بیٹھے دیکھ پوچھ گیا تھا ۔
جی بیٹا اکیلی ہی ہوں ،، شاہ میر کو شائستہ بیگم کھل اٹھیں تھیں ۔
کیوں انکل کہاں ہیں آپ کی بیٹی اور مزمل وہ سب کہاں ہیں شائستہ بیگم کے سامنے بیٹھتا ہوا ان دونوں کے ساتھ منزہ کا بھی پوچھ گیا تھا جس کی خاطر وہ صبح شام چکر لگاتا تھا ۔
آپ کے انکل مارکیٹ گئے ہیں، منزہ اور مزمل یونیورسٹی گئے ہوئے ہیں، ، شاہ میر کو دیکھتی ہوئی وہ مسکرا کر بولیں تھیں ۔
اچھا ،،، جب منزہ یہاں آئی تھی اتفاق سے بھی منزہ اور شاہ میر کا سامنا نہیں ہوا تھا ۔ آج بھی وہ منزہ کو دیکھنے کی خاطر آیا تھا مگر یونی کا سن کر افسردہ ہوا تھا مگر چہرے پر تاثرات دیئے بنا وہ مسکرا رہا تھا ۔
یہ اس کی خاص عادت تھی کہ وہ کسی پر بھی اپنا حال ظاہر نہیں ہونے دیتا تھا ۔
آپ بور ہورہی تھیں ۔ ہمہم ہو تو رہی تھی پر اب تم آگئے ہو تو اب کیسی بوریت ، چند دنوں میں شاہ میر نے ان کے کے گھر اور دل میں کافی اچھی جگہ بنا گیا تھا اور یہ کرنا شاہ میر کے لیے کوئی مشکل امر نہیں تھا ۔
یہ تو آپ کا اپنا پن ہے آنٹی ،، آپ بھی چکر لگائیں نا ہماری طرف کبھی انکل تو آتے رہتے ہیں آپ ہی نہیں آئیں ،، وہ کہتا ساتھ دعوت دے گیا تھا ،
ضرور بیٹا، ،بنا شاہ میر کے چہرے پر سے نظر ہٹائے وہ مسکرا کر بول رہی تھیں ۔
میں چائے بنا کر لاتا ہوں تمہارے لیے ،، ان کے کہنے پر شاہمیر گردن کو جنبش دیتا مسکرایا تھا ۔
ایک یہ چائے افففففف یہ محبت بھی کیا کیا کرواتی ہے ، صدا کا چائے سے بھاگنے والا شاہ میر ہر روز شائستہ بیگم کے ہاتھ کی چائے پی پی کر تنگ آگیا تھا مگر ہائے اسے فرمانبرداری نبھانی تھی جو وہ ہر بار ہامی بھر دیتا تھا ۔
کافی کا نہیں پوچھ سکتیں آنٹی آپ ،، شائستہ بیگم کو کچھ کی سمت بڑھتے دیکھ شاہ میر نے سوچا تھا کہ اگلے ہی لمحے سوچ کر وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ان کے پیچھے گیا تھا ۔۔
آنٹی آج میں آپ کو اپنے ہاتھ کی کافی بنا کر پلاتا ہوں ۔
ارے بیٹا تم کیوں تکلیف کرتے ہو میں ہی کافی بنا کر لاتا ہوں تم بیٹھو ، وہ مسکرا کہتی ہوئی کچن کی سمت بڑھی تھی اور شاہ میر منزہ کے روم کی جانب دیکھتا ہوا دبے قدموں سے بڑھا تھا ۔
چند دن اور منزہ وقار پھر تم میری شاہ میر ہمدانی کی کہلاؤ گی ،، منزہ کی چیزوں کو چھوتا ہوا شاہ میر جذب کے عالم میں بولتا شائستہ بیگم کے قدموں کی آہٹ محسوس کرتا ہوا روم لاک کرتا ہوا باہر نکلا تھا ۔
*****
بڑے چکر لگ رہے ہیں شاہ میر کے آج کل وقار مرزا کے گھر کے ، آفیس جانے سے پہلے وہاں پر حاضری دی جارہی ہے ، آفیس سے آنے کے بعد بھی ،،، دادجی سے استفسار کرتی ہوئیں دادجی کے جھریوں زدہ چہرے پر نگاہیں جمائے ہوئیں تھیں ۔
کچھ جانتے ہیں آپ کہ کیا کچھڑی پک رہی ہے شاہ میر کے تیز دماغ میں ، دادجی کے خاموش رہنے پر وہ صاف صاف پوچھ گئیں تھیں ۔
مجھے کیا پتا یہ تو شاہ میر ہی بتا سکتا ہے کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ۔ کافی توقف بعد جواب دیتے ہوئے دادجی مکمل لاعلمی کا مظاہرہ کرگئے تھے ۔
شاہ میر کی کوئی بھی بات آج تک آپ سے چھپی ہے ، جب وہ کیڈیٹ کالج سے بھاگا تھا تو آپ کو بتا کر بھاگا تھا اور بات کرتے ہیں، بی جان چڑ کر بولی تھیں ۔
بڈھاپے میں بھی تم نہیں بدلی اعتبار ہی نہیں ہے اپنے مجازی خدا پر ، اپنے اسٹک سنبھالیں دادجی اپنی جان بچاتے وہاں سے گئے تھے ،
جبکہ بی جان منہ ہی منہ بڑبڑاتی ہوئی شاہ میر اور دادجی کے بیچ پکتی کھچڑی کو سوچ سوچ کر پریشان ہورہی تھیں ۔
****
شاہ میر بتاؤ گے کی آخر تم کر کیا رہے ہو ، کس لڑکی کے چکر میں ہو تم آج کل ،، دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے فرقان نے بڑے تحمل سے پوچھا تھا ۔
پہلی بات میں جس بھی لڑکی کے پیچھے بھاگ رہا ہوں تو تجھے نہیں بتاؤ گا یار کیونکہ میرا نہیں ہے خیال کسی بھی لڑکی کو ہمیں اس طرح سے ڈسکس کرنا چاہیے اپنی باتوں کے درمیان، ، شاہ میر کی بات فرقان خاموش ہوا تھا ۔
اور آج یا کل نہیں پورے ایک مہینے سے ہوں ،وہ واپس سے اس کا جواب میں ڈھٹائی سے دیتا مسکرایا تھا ۔
اف یار چل ایک مہینے سے پر ہے کون وہ جس کے پیچھے تو پاگل ہورہا ہے ہمدانی ، فرقان کے پوچھنے پر شاہ میر قہقہ لگارہا تھا جس پر فرقان کو غصہ آرہا تھا ۔
ہمدانی ،،، یار ایک منٹ میں ذرا کھل کر ہنس لوں ،، ہاتھ اسے اشارہ کرتا ہوا شاہ میر آفیس روم میں چکر کاٹتا ہوا خود پر ضبط کرتا ہوا طویل سانس لے رہا تھا ۔
کس نے کہا تجھے میں پاگل ہورہا ہوں ، سنجیدگی سے کہتا ہوا شاہ میر بات کی اختتام پر مسکرایا تھا ۔
تیری حرکتوں سے اندازہ لگایا ہے ، کیسے ، شاہ میر کی طرف سے سوال کیا گیا تھا ۔
ناں تو کلب آتا ہے ، کئی کئی دن تک آفیس نہیں آتا ہے تو ہر وقت فون کو دیکھتا رہتا ہے شاہ میر ،
ان سب سے تو مجھے پاگل لگتا ہے ہمدانی ،، منہ پر ہاتھ رکھے شاہ میر اسے بڑی سنجیدگی سے سن رہا تھا ۔
یہ پاگلوں والی حرکتیں ہیں ،، فرقان نے اثبات میں گردن ہلائی تھی ۔
تو پھر میں پاگل ہی ہوں جو تمہاری راہ میں آسانیاں پیدا کررہا ہو ،،
او بھائی کیسی آسانیاں ،، شاہ میر کی بات بیچ میں کاٹتا ہوا فرقان ہنسا تھا ۔
ایک مہینے سے کبری اور تمہیں ایک پروجیکٹ پر کام دے رہا ہوں، ہر میٹنگ دونوں کو ساتھ ساتھ بھیج رہا ہوں تاکہ تم دونوں کے بیچ انڈر اسٹینڈنگ اور بات پسندگی تک پہنچے ،، شاہ میر کے بولنے پر ومفرقان حیران رہا تھا ۔
اب بھی میں پاگل ہوں، شاہ میر نے سوال کیا تھا۔
نہیں وہ ،، اب چھوڑ ان سب خاور خان کے ساتھ میٹنگ ہے کبری اور اگر تم چاہو تو اس کے ساتھ چلے جانا ،،، لہجے میں مضنوئی ناراضگی لیے شاہ میر جانے کے لیے تھا کہ اچانک سے فرقان اس کے گلے لگا تھا ۔
آئی لوو یو ہمدانی میرے جگر ،، شاہ میر نے اپنا قہقہ دبا گیا تھا ۔
چھوڑ اور جا دیر ہورہی ہے ۔ فرقان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ شاہ میر مسکرایا تھا اپنے اتنے دنوں کی کوشش پر ،
کبری کا خیال رکھنا ، خود سے زیادہ رکھو گا تو بے فکر رہے، ، شاہ میر کو کہتا ہوا فرقان وہاں سے گیا تھا ۔
*****
آذر تم ناراض ہو مجھ سے ،، منبیہ کے سوال پر آذر نے اسے بہت غور سے دیکھا تھا ۔
ہمہم تھوڑا سا، ،
وجہ جان سکتی ہوں، منبیہ نے پوچھا تھا ۔
وجہ یہ ہے کہ تم مجھے بتا کر نہیں گئیں وہ سب تو ٹھیک تھا مگر تم نے تو مجھے کال تک نہیں کی ، شکوہ کرتا آخر اپنے دل کی کیفیت سے انجان تو نہیں تھا پھر بھی انجان بن گیا تھا ۔
تو پھر تم کرلیتے ،، کتنی ہی بار دونوں کی طرف سے کال کرنے کی چاہ دل میں اٹھی تھی مگر دونوں ہی عجیب سے احساس کی وجہ سے رک گئے تھے ۔
اچھا نہیں لگتا ناں ،، ہے ناں یہ ہی سوچ کر میں نے بھی نہیں کیا ،، حد درجہ معصومیت لیے منیبہ اسے اپنے دل کے بے حد قریب محسوس ہوئی تھی ۔
چلو آج دونوں ایک دوسرے سے وعدہ کرتے ہیں ،، کیسا وعدہ ،، ہری گھاس پر چلتے ہوئے منبیہ نے اپنے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے آذر کو دیکھ کر نا سمجھی میں بولی تھی ۔
کہ ہم دونوں کو ایک کو کال کیا کریں گے اور تم مجھے کبھی بھی نہیں بھولو گی ،، لہجے میں انجانہ ڈر لیے وہ منیبہ کو ساکت کرگیا تھا ۔
نہیں بھولوں گی تمہیں پر یہ سب اچانک سے کیوں بول رہے ہو ، آذر کے چہرے پر مسکراہٹ رینگی تھی ۔
اگر میں یہ کہوں کہ آج لاسٹ ڈے ہے یونی میں اور پھر کبھی میں تم سے یونی میں نہیں مل سکوں گا ، آذر کے کہنے کی دیر تھی کہ منبیہ کا کھلتا چہرہ مرجھایا تھا ۔
پر تمہیں میں اپنی زندگی میں ہمیشہ دیکھنا چاہتا ہوں تمہارا ساتھ چاہتا ہوں منیبہ ،، آذر کے الفاظ منیبہ کو اسٹل کرگئے تھے جس پر وہ اسے یک ٹک تکتی رہ گئی تھی ۔
رہو گی میری زندگی میں ہمیشہ ،،، آذر جو سوال اس سے کررہا تھا یہ تو اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کبھی اس سے ایسا سوال بھی کرسکتا ہے ،
بولو منیبہ بنو گی میری زندگی کا حصہ ،، اپنے سانس کرتے محسوس کرتی ہوئی منیبہ مثبت میں گردن ہلاتی ہوئی اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ گئی تھی ۔
“ایک وعدہ دے مجھے تو ساتھ نبھانے کا
اور میں عمر گزار دوں تیرے نام پر “
تھینک یو ،، پرجوشی سے کہتا ہوا آذر منیبہ کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرگیا تھا ۔
****
پہلی ملاقات سے لے کر کچھ بھی تو نہیں بدلا آپ میں ، بدلا ہے تو صرف یہ کہ آپ کے دو بچے ہیں ،، پھر بھی میری محبت عشق بن گئی ہے جسے ارحم اور پریشے آپ سے بھی زیادہ عزیز ہیں،، اپنے کام میں مصروف کبری کو دیکھتا ہوا فرقان دل ہی دل میں شاہ میر خود کو شکر گزار محسوس کررہا تھا جو اس کا ساتھ بنا کسی غرض کے دے رہا تھا ۔
کیا ہوا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں، مسلسل خود پر ٹکی فرقان کی نظروں سے خائف ہوتی کبری آخر پوچھ ہی گئی تھی ۔
ہاں جی وہ کبری جی سلیمان بزدار کی کوئی کال آئی تھی آپ کے پاس ،،،
شاہ میر کے کہنے پر ہی فرقان اور کبری میٹنگ کے لیے کافی دیر پہلے ہی ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔
فرقان جو کبری کے سامنے والی چیئر پر بیٹھا ہوا ویٹرز کو دیکھتا ہوا اکتاہٹ کا شکار ہورہا تھا ۔
نہیں تو پر آنی تھی کیا ،،،، فرقان کے سوال پر کبری نے سوال کیا تھا ۔
نہیں ایسے ہی پوچھ رہا تھا ،، فرقان کے جواب پر کبری کی نظریں واپس لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے بیٹھے گئی تھی ۔
کبری جی ،،، فرقان جو اس کے ساتھ بیٹھا ہوا بور ہورہا تھا جب ہی اسے کسی نا کسی طرح پکار رہا تھا ۔
آپ کو جو بھی پوچھنا ہے ابھی پوچھ لیں ،، لیپ ٹاپ بند کرتی ہوئی وہ تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئی تھی ۔
وہ کبری جی میں بور ہورہا ہوں تو اس لیے آپ کو بار بار تنگ کررہا تھا تاکہ آپ کچھ بات تو کریں مجھ سے ۔ کہتا ہوا فرقان سر کھجاتا ہوا لب بھینچے مسکرایا تھا ۔
اسے اس طرح دیکھ کبری پہلی بار قہقہ لگا گئی تھی ۔
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ ساری باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو
فرض کرو تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پہ بھاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو
دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو کون دل کی جانے ‘ہو’
بستی بستی صحرا صحرا لاکھوں کریں دوانے ‘ہو’
جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں
کاسہ لئے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں
شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں
بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں
ان میں سُچے موتے بھی ہیں ان میں کنکر پتھر بھی
ان میں اتھلے پانی بھی ہیں ان میں گہرے ساگر بھی
گوری دیکھ کے آگے بڑھنا سب کا جھوٹا سچا ‘ہو’
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچا ‘ہو’
( ابن انشا )
تو آپ پہلے کہتے ناں کہ آپ بور ہورہے ہیں ،، کبری کو ہنستے دیکھ فرقان کھویا ہوا ہوش میں آیا تھا ۔
ویسے بور کیوں ہورہے ہیں آپ یہ فائل رکھی ہے ناں اسے دیکھ لیں ،، کبری کے مشورے پر لب تر کرتا ہوا گردن ہلاتا فائل کھولنے لگا تھا ۔
یہاں آئے ہیں تو ہم کچھ آرڈر کرسکتے ہیں ، پچھلے ایک گھنٹے سے ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے ہونے والی میٹنگ کی تیاری کررہے تھے ، سوائے کافی کے دونوں نے کچھ بھی آرڈر نہیں کیا تھا جب ہی کبری نے اس سے پوچھا تھا ۔
ہاں کیوں نہیں آپ آرڈر کرلیں اپنے کچھ ،، اور آپ کے لیے
جو آپ کو اچھا لگے آپ آرڈر کرلیں ،،،، کبری کے پوچھنے پر فرقان سرشار ہوا تھا ۔
ہمہم ٹھیک ہے پھر میں جو بھی آرڈر کروں گی وہی کھانا پڑے گا ۔ کبری نے اس سے پھر سے پوچھا تھا ۔
جی آپ آرڈر کرلیں ،، حیرانگی سے فرقان کو مسکراتے دیکھ وہ ویٹر کو بلا گئی تھی ۔
*****
کدھر ہو تم برخوردار ! دادجی کی کال دیکھ شاہ میر مسکرایا تھا ۔
کیوں کیا ہوا میرے کرائم پارٹنر، ، دادجی اپنے اردگرد نظریں دوڑاتے ہوئے شاہ میر کے خوشگوار موڈ پر مسکرائے تھے ۔
ہوا یہ ہے کہ آپ کی بی جان کو آپ پر اور مجھ پر شک ہوگیا ہے ، لفظوں پر زور دیتے ہوئے دادجی اپنے روم کا ڈور لاک کرتے ہوئے بیڈ پر نیم دراز ہوئے تھے ۔
مطلب وقت آگیا ہے دادجی آگ لگانے کا ،، شاہ میر سیدھا ہوا تھا ۔
کیسی آگ برخوردار، ،
یہ ہی کہ شاہ میر ہمدانی شادی کرنا چاہتا ہے پھر دیکھیں کیسے آگ لگتی ہے ،
سچ کہوں دادجی مجھے بس جلد از جلد گھوڑی چڑھنا ہے اب کیسے کریں میری شادی کروادیں،،، دادجی مسکرائے تھے شاہ میر کے بے چہرے پن پر ۔
ہوجائے گا ناں دادجی، ، بلکل کیوں نہیں ہوگا تم سمجھو کہ ہوگیا ۔ بس تم یہ بتاؤ کہ وقار کے گھر کب جانا کل صبح یا شام ،،، دادجی کے پریقین لہجے پر شاہ میر کی بھنویں سیکڑی تھیں ۔
یار دادجی امید نا دیں بس کام کریں،،، شاہ میر کے کہنے پر دادجی قہقہ لگا گئے تھے ۔
برخوردار سمجھو کہ ہوگیا تمہاری زبان میں آگ تھوڑی دیر تک لگانے والا ہوں میں تم بس گھر آنے کی تیاری پکڑوں شام کی چائے وقار مرزا کی طرف ہی پیئے گے ۔ کہتے ہوئے دادجی شاہ میر کو ساکت چھوڑ کال کاٹتے ہی روم سے باہر نکلے تھے آگ لگانے کی خاطر ،،
*****
شاہ میر ہمدانی،،،،، مما میرے پیچھے سے کوئی گھر پر آیا تھا میرا مطلب تھا کوئی گیسٹ آئے تھے ،،
اپنے روم میں انٹر ہوتے ہی منزہ کے نتھنوں سے شاہ میر کے محسور کن کلون کی خوشبو ٹکرائی تھی جسے وہ فورا سے ہی پہچان گئ تھی ۔
جس پر منزہ بیگ بیڈ پر پھیکنے کے انداز سے رکھتی ہوئی فورا سے کچن میں کھڑی شائستہ بیگم کے پاس آئی تھی ۔
ہمارے گھر کون آنے لگا منزہ ،، شاہ میر کے ساتھ پی گئی کافی کے برتن صاف کرتیں ہوئیں وہ مسکرائی تھیں ۔
جی ،،،، منزہ کے اترے ہوئے چہرے کو وقار صاحب نے بڑے غور سے دیکھا تھا ۔
تم فریش ہوجاؤ منزہ مزمل بھی آنے والا ہے پھر ساتھ میں کھانا کھاتے ہیں ،،
جی مما ،، منزہ کہہ کر اپنے روم کی جانب بڑھی تھی اس کے پیچھے ہی وقار صاحب بھی اس کے پیچھے گئے تھے ۔
منزہ کیا ہوا ہے بیٹا آپ اتنی اداس کیوں رہنے لگ گئی ہیں، پچھلے ایک ہفتے سے منزہ گھر آنے کے باوجود بھی اس رات کو نہیں بھولی تھی ۔
اب بھی منزہ کو کسی گہری سوچ میں کھوئے دیکھ وقار صاحب فکر سے گویا ہوئے تھے ۔
کچھ بھی نہیں بابا بس ایسے ہی ، بنا نظریں ملائے وہ شاہ میر کی اس رات کی حرکت کی وجہ سے وقار صاحب کے سامنے شرمندگی محسوس کررہی تھی ۔
کوئی بات ہے بیٹا جو آپ اپنے بابا سے کہہ نہیں پارہی ہیں، منزہ کو اپنے پاس بیٹھاتے ہوئے وقار صاحب اس کے اداس چہرے کو دیکھ رہے تھے جہاں برسوں کا کرب صاف عیاں ہورہا تھا ۔
بابا آپ کو مجھ پر اعتبار ہے ناں، وقار صاحب کو دیکھتے ہوئے وہ بھرائی آواز میں بولی تھی ۔
خود سے زیادہ پر یہ سوال اس طرح اچانک کیوں ،،
ایسے ہی بابا ،،،
وقار صاحب کے جواب پر ان کے سینے پر سر رکھتی ہوئی وہ اپنے ضبط کردہ آنسوؤں کو رہائی دے گئی تھی ۔
منزہ بابا کی جان کیا ہواہے بیٹا، ، منزہ کو روتے دیکھ وہ پریشان ہوئے تھے ۔
ایسے ہی بابا، ان سے الگ ہوتی ہوئی وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہلکا سا مسکرائی تھی ۔
میری بہادر بیٹی، ، جی بہادر تو میں ہوں ۔۔ منزہ کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے مسکرا رہے تھے ۔
تم نے مجھ سے میرا سیلف کانفیڈنس چھین کیا ہے مجھ سے میرے بابا سے نظریں ملانے کا حق تک چھین لیا ہے تم نے شاہ میر ہمدانی ۔
میری خوشیاں میرا سکون تک چھین لیا ہے اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا تمہیں اوران ہی میں ،،، آنسو پیتی ہوئی وہ اپنے بابا کے سینے پر سر رکھے ہوئی پرسکون ہوگئی تھی ۔
*****
یہ فائل یہاں رکھو اور بلیک کافی لے کر آؤ میرے لیے ، لیپ ٹاپ پر نظریں گاڑے وہ بنا لڑکے کو دیکھے ہی حکم صادر کرگیا تھا ۔
جی سر ،، اپنے خوبرو باس کو کام میں مصروف دیکھ وہ مسکراتا ہوا باہر گیا تھا ۔کچھ ہی منٹوں بعد اپنے باس سے اجازت لے کر اندر داخل ہوتا ہوا وہ اپنے باس کے سر پر آکر رکا تھا ۔
سر آپ کی کافی ،، لڑکے کی آواز پر مسکرا کر اسے دیکھتا ہوا شاہ میر کپ پکڑ گیا تھا ۔
سر یہ فائل تھی ،،، یار کسی کام کی کافی نہیں ہے یہ ایک کام کرو اور جاکر چائے لے آؤ ،،
ارے چھوڑو تم یہ سب تم بھی کیا سوچتے ہوگے کہ سر نے مجھے اپنا ملازم بنا لیا ہے میں یہ کافی ہی پی لوں گا ، برا سا منہ بنائے ہوا شاہ میر کپ کو لبوں سے لگا گیا تھا ۔
اٹس اوکے سر بلکہ مجھے تو آپ کا کام کرنا اچھا لگتا ہے ۔۔،
ابھی وہ لڑکا چیئر پر بیٹھا بھی نہیں تھا کہ اس نے پھر سے حکم صادر کردیا تھا جس پر وہ مسکرا کر اٹھتا ہوا شاہ میر کی گہری مسکراہٹ کو تشکرانہ انداز سمجھتا وہاں سے گیا تھا ۔
سنو ،،، پیچھے سے پکارا گیا تھا ۔
جی سر ،،،،،، چائے گرم ہونی چاہیے، ،، کہونیاں ٹیبل پر رکھے اپنے دونوں ہاتھ آپس میں الجھا کر تھوڑی کے نیچے رکھ کر بیٹھا ہوا شاہ میر مسکرا کر بولا تھا ۔
جس پر وہ لڑکا گردن ہلاتا وہاں سے گیا تھا ۔
******
