375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 4)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

آنکھ کھل گئی آپ کی دادجی ۔ آذر کو یونی چھوڑ کر وہ آفیس جاتا ہوا دادجی کا نمبر ملا گیا تھا جو تین چار کال کرنے کے بعد پک کیا گیا تھا ۔

کال ملتے ہی شاہ میر طنز کیا تھا ۔

ارے کہاں برخوردار ابھی بھی مجھ پر تو نیند مہربان ہے ۔مضنوئی نیند میں ڈوبی آواز نکالتے ہوئے دادجی چائے کچھ دیر پہلے ہی چائے کے مزے لے کر فراغ ہوئے تھے کہ شاہ میر کی کالز پر وہ چونکا ہوکر بیڈ پر نیم دراز ہوئے تھے جیسے شاہ میر ان کے روم کے باہر ہی کھڑا ہو ۔

یار دادجی وہ دیسی شراب تھی ۔ اپنی پیشانی مسلتا ہوا وہ پریشانی سے بول رہا تھا ۔

اچھا پر میں نے تو وہ آدھی بوتل پی لی تھی ۔ دراز سے بھری ہوئی بوتل نکالتے ہوئے دادجی مسکرائے تھے ۔

جبکہ شاہ میر سوچ کر ہی پریشان ہورہا تھا ۔

یار دادجی آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے اتنا پینا ۔ صحت نا سہی یہ ہی سوچ لیا کریں کہ حرام ہے یہ ۔ کیوں خومخواہ بڑھاپے میں اپنی آخرت خراب کررہے ہیں میری وجہ سے ۔ پریشانی سے بولتے ہوئے شاہ میر کی آواز میں نمی کی گھلی تھی ۔

اس پر تم بھی تو عمل کرسکتے ہو نا برخوردار ۔ دادجی کی بات پر شاہ میر نے ضبط سے آنکھیں میچی تھیں ۔

جس بات سے وہ تین سال سے بھاگتا آیا تھا اس کا موقع آج اس نے خود دادجی کو دے دیا تھا ۔

تمہاری صحت کو توانائی بخشتی ہے کیا ریڈ وائن ،ووڈکا، ویسکی، یا سوڈ ان سب میں کون سی وائن تمہیں زیادہ صحت مند بناتی ہے ۔ شاہ میر کے لب آپس میں پیوست ہوئے تھے دادجی کے سوال پر ۔

شراب حرام تو تم پر بھی ہے شاہ میر ، آخرت تو تمہاری بھی خراب ہورہی ہے صرف میری ہی تھوڑی ہورہی ہے ۔شاہ میر کی خاموشی پر دادجی سنجیدگی سے بول رہے تھے ۔

میرا کیا ہے دادجی نا ہی میری اتنی عمر ہے جو میری صحت خراب ہوگی ۔ شاہ میر نم لہجہ لیے بولا تھا ۔

ایک نوجوان پوتا کھو چکا ہوں میں شاہ میر ۔

مجھ میں مزید ہمت نہیں ہے کہ تمہیں بھی پل پل مرتے دیکھوں ۔یہاں شاہ میر ہمدانی کی آنکھیں نم ہوئی تھیں شارق ہمدانی کو سوچ کر ۔

قابل رحم ہیں وہ دیوانے

جن کو حاصل نہیں ہیں ویرانے

ہم ہلاک ستم نہیں ہیں مہر

ہم کو مارا ہے لطف بیجا نے

جن کا عنوان بن گئی وہ نظر

کتنے رنگین ہیں وہ افسانے

میں تو اس زندگی سے روٹھا ہوں

آپ کیوں آ رہے ہیں سمجھانے

میری محرومیوں کا غم ہے انہیں

چھلک اٹھیں کہیں نہ پیمانے

کشتہ اعتماد ہیں ہم لوگ

ہم کو دھوکا دیا ہے دنیا نے

تلخ گو مخلصوں کی محفل میں

جون کس بات کا برا مانے

جس دن بھی اس بے وجہ زندگی کو جینے کی وجہ مل گئی اس دن میں کہہ دوں کہ شاہ میر ہمدانی بس اب اس کا سہارا لینا چھوڑ دے ۔

وہ خدا جس دن میری سننے لگ جائے گا ناں اس دن میں خدا کے حضور میں سر جھکا کر روتے ہوئے پیش ہوجاؤں گا دادجی ۔ بنا ڈرائیور کی فکر کیے ہوئے وہ اپنی نم آنکھوں کو بے دردی سے صاف کررہا تھا ۔

پھر دیر کس بات کی ہے خود کو راہ یار پر ڈال دو ۔ دادجی کی بات پر اس کی بھنویں سکڑی تھی ۔

کیا مطلب دادجی ۔

بھئی کوئی لڑکی وڑکی دیکھو ، عشق کی پینگیں لڑاؤں کسی کے ساتھ پھر ہم بات آگے بڑھائیں گے ۔

ہمدانی یہ ہی تو عمر ہے تمہاری عشق معاشقے کرنے کی ورنہ میری طرح ساری عمر پچھتاؤ گے ۔

جیسے میں پچھتاتا ہوں تمہاری بی جان کو دیکھ کر ۔ آخر میں دادجی کے لہجے میں شرارت گھلی تھی ۔

واہ دادجی میں عشق معاشقے کرنے لگ گیا نا تو خاندان بھر میں آپ کا اور میرا نام روشن ہوجائے گا ۔ شاہ میر کہتا ہوا قہقہ لگا گیا تھا ۔

جس پر ڈرائیور نے میرر سے اسے اس طرح ہنستے ہوئے پہلی بار دیکھ کر حیران ہوا تھا ۔

ہوجائے خاندان بھر میں نام روشن کم از کم اس شراب سے تو تمہارا پیچھا چھوٹ جائے گا ۔ شراب کی بوتل اٹھا کر دادجی باتھروم میں گئے تھے ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ بہا دی گئی تھی مگر آج ایک امید جاگی تھی جس پر دادجی پر امید تھے ۔

یار دادجی کوئی لڑکی ان آنکھوں کو بہائے تو سہی پھر ہی کوئی محبت کا سین چلے گا ناں ۔شعات سے بھرپور سنجیدگی لیے وہ مسکرایا تھا ۔

کلب میں کوئی دیکھ لو ۔انہوں نے رائے دی تھی ۔

یار دادجی وہاں تو فقط غم بھولانے کے لیے جاتا ہوں لڑکیاں تاڑنے نہیں ۔

اور ویسے بھی کلب والی لڑکیاں کبھی بیوی نہیں بن سکتی دادجی ۔ شاہ میر کی بات پر دادجی اپنا تیز دماغ دوڑانے لگے تھے ۔

کوئی تو پسند آئے گی ۔

آخر شاہ میر تم ہو تو میرے ہی پوتے جب مجھے اپنی جوانی میں جلدی سے کوئی لڑکی پسند نہیں آتی تھی تو تمہیں کیا خاک آئے گی ۔ دادجی کی بات لب دبائے مسکرایا تھا ۔

کیونکہ دادجی کی بات میں دم تھا ۔

کرتے ہیں آپ کی بات پر غوردادجی بس آپ دعا کیجئے گا کہ ان آنکھوں کو کوئی بہا جائے اور سیدھا دل میں اتر جائے ۔

انشاءاللہ برخوردار نیت صاف ہو تو منزل آسانی سے ملتی ہے ۔ تم بس میری پوتا بہو ڈھونڈو باقی سب کچھ تمہارا دادجی سنبھال لے گا ۔ دادجی کی بات پر وہ مسکراتا ہوا اثبات میں گردن ہلا گیا تھا ۔

میں پھر بات کرتا ہوں تم سے تمہاری بی جان کو دیکھ لوں ذرا ہے کہاں صبح سے میری بوڑھیاں ۔روم سے باہر نکلتے ہوئے دادجی سنجیدگی سے بولے تھے ۔

جائیں ڈھونڈیں اپنی بوڑھیاں اور میری بی جان کو ۔ شرارت سے کہتا ہوا شاہ میر کال کٹ کر گیا تھا ۔

*****

مما ڈیڈ واپس کب آئیں گے ۔ ارحم کے سوال پر کبری چونک اٹھی تھی ۔

مجھے ڈیڈ کی بہت یاد آتی ہے رات میں ابی کے سوتے ہوئے بھی مجھے ڈیڈ بہت یاد آرہے تھے مما ۔

آپ ڈیڈ سے کہیں ناں کہ میں انہیں بہت یاد کرتا ہوں اس لیے آجائیں واپس ۔ معصومیت سے بولتے ہوئے ارحم کو سن کر کبری کی زبان جیسے تلوے سے چپک گئی تھی ۔

مما بتائیں ناں آپ ڈیڈ سے کہیں گی ناں کہ وہ ہمارے پاس واپس آجائیں ۔کبری کو بازوں سے ہلاتے ہوئے وہ ضدی لہجے میں بول رہا تھا ۔

ارحم اسکول آگیا ہے باہر آؤ ۔ہر بار کی طرح آج بھی وہ بات ٹال گئی تھی ۔

ہم اس بارے میں پھر بات کریں گے ۔ کبری کو غصے سے دیکھتا ہوا وہ اسکول کے گیٹ کی طرف بھاگا تھا ۔

ایم سوری ارحم ۔ نم لہجے میں بولتی ہوئی اسے بھاگتے ہوئے دیکھ رہی تھی جب تک اس کی آنکھوں سے وہ اوجھل نہیں ہوا تھا ۔

ذہن میں ارحم کی چلتی باتوں سے افسردہ ہوتی ہوئی کبری کا دل ہر کام اچاٹ گیا تھا ۔

کبری ۔اپنے روم میں جاتی ہوئی کبری مما کی آواز پر رکی تھی ۔

جی مما ۔

کچھ دیر کے لیے ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ پھر اپنے روم میں چلی جانا ۔ کبری جب سے ارحم کو اسکول چھوڑ کر آئی تھی جب سے بجھی بجھی سی لگ رہی تھی جو سمرین اور بی جان نے بخوبی نوٹ کیا تھا ۔

جی مما ۔ دھیمہ لہجہ جو ہمیشہ کبری کو پروقار بنتا تھا ۔

کیا ہوا ہے کبری میں نے دیکھا ہے جب سے تم ارحم کو اسکول چھوڑ کر آئی ہو جب سے بجھی بجھی سی لگ رہی ہو ۔ اپنے ہاتھوں کی خالی لکیروں کو دیکھتی ہوئی کبری تلخ مسکرائی تھی ۔

بی جان میری زندگی میں رونق باقی رہی ہی کب ہے ۔ بی جان سے بات کرتے ہوئے اس کا لہجہ خود بخود نم ہوا تھا ۔

ایسے نہیں بولتے کبری بچے ۔ بی جان فورا سے اسے ٹوک گئیں تھیں ۔

ایم سوری بی جان ۔لب دبائے وہ اپنی آنسو روک رہی تھی نجانے بہنے کو تیار تھے ۔

کیا بات ہوئی کبری ۔سمرین ہمدانی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا ۔

مما ارحم نے آج پھر وہی سوال پوچھا ہے اس کے ڈیڈ کیوں نہیں ملنے آتے اس سے ۔ آنسو ٹوٹ کر اس کے گلابی رخسار پر بہہ نکلا تھا ۔

کیا جواب دوں مما پر اب مجھے لگتا ہے کہ وقت آگیا ہے اسے بتانے کا اسے کہ اس کے ڈیڈ اب کبھی واپس نہیں آئیں گے ہمارے پاس کیونکہ وہ ہمیں چھوڑ کر اتنی دور جاچکے ہیں جہاں سے آج تک کوئی بھی واپس نہیں آسکتا ۔ سمرین ہمدانی کے شانے پر سر رکھ کر وہ اپنا ضبط کھو گئی تھی ۔

اسے یوں روتے دیکھ سمرین ہمدانی اور بی جان کی آنکھوں سے بھی شارق کی یاد میں آنسو بہنا شروع ہوئے تھے ۔

حوصلہ رکھو کبری اگر تم ہی ہمت ہار جاؤ گی تو ارحم اور پریشے اور ہمیں کون سنبھالے گا ۔بی جان کی بھرائی آواز پر اس کی نم آنکھیں اٹھی تھی ۔

کتنا حوصلہ رکھو بی جان ہر پل اپنے دل پر بڑا سا پتھر رکھتی ہوں مگر شارق کی یاد پھر میرے دل و دماغ پر حاوی ہوجاتی ہے ۔مجرمانہ انداز میں بولتی ہوئی وہ بے بس تھی اپنی دل کے ہاتھوں ۔

کبری بچے ۔ بی جان نے اسے جگہ سے اٹھتے دیکھ پکارا تھا ۔

بی جان میں تھوڑی دیر اکیلے رہنا چاہتی ہوں بہتر محسوس کروں گی ۔ وہ کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی ۔

یااللہ اس بچی کے حال پر رحم فرما ۔

آمین ۔ کبری کو جاتے دیکھ بی جان اپنے آنسوؤں پونچتی ہوئی بولی تھیں ۔

*****

کیا ہوا ۔سیٹ سے ٹیک لگائے ہوا شاہ میر نے اچانک سے بریک لگانے پر استفسار کیا تھا ۔

سوری سر وہ سگنل کی وجہ سے اچانک بریک لگانی پڑی ۔ڈرائیور نے گھبرائی ہوئی آواز میں جواب دیا تھا ۔

تم نے پہلے نہیں دیکھا تھا ۔۔شاہ میر بھڑک اٹھا تھا ڈرائیور کی غلطی پر ۔

ایم سوری سر وہ ۔ڈرائیور کے منمنائے پر شاہ میر کا غصہ بڑھا تھا مگر تھوڑے ہی فاصلے پر کھڑی بلیک کلر کے سادے سے سوٹ میں ملبوس لڑکی پر رکی تھی ۔

جو بس اسٹاپ پر کھڑے ہونے کے باوجود بھی متلاشی نظریں ادھر ادھر دوڑا رہی تھی ۔

گاڑی سائیڈ پر لو ۔نظریں ہنوز اس لڑکی پر ٹکائے وہ ڈرائیور سے مخاطب ہوا تھا

جی سر ۔

جو کہا ہے وہ کرو ۔حیرانگی سے گاڑی سائیڈ پر کرتا ہوا ڈرائیور اپنے لیے دل ہی دل میں دعا گو تھا ۔

خود کی مسلسل نظروں سے پریشان ہوتی لڑکی کو دیکھ کرشاہ میر کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ رینگی تھی ۔

*****

کہاں مر گئی ہو تم ۔ وہ ویسے خود پر کسی کی نظروں سے خائف ہورہی تھی اوپر سے بس بھی آکر جاچکی تھی ۔ بس کے جاتے ہی منزہ نے اسے کال کی تھی جو نجانے اسے یہاں چھوڑ کر خود کہاں چلی گئی تھی۔

یار بس آرہی ہوں ۔ منزہ کے غصے سے منیبہ ڈری تھی ۔

تمہارے بس آرہی ہوں کے چکر میں بس نکل گئی ہے ہماری ۔منزہ غصے بھڑکی ہوئی تھی۔

کیاااااا ۔ منیبہ کی صدمے سے بھری چیخ پر منزہ اپنے کان پر سے فون دور کرگئی تھی۔

اب کیا ہوگا منزہ ۔ منیبہ نے بیچارگی سے پوچھا تھا۔

کیا ہونا تم آؤ پھر کیب لیں گے اور کیا ۔ حال بتاتی ہوئی منزہ خود بھی پریشان کھڑی تھی۔

منزہ کے چہرے کے اترتے چڑھتے رنگوں کو دلچسپی سے دیکھتا ہوا شاہ میر اس کے آنکھوں کے نیچے پسینے سے پھیلے ہوئے کاجل کو بغور دیکھتا ہوا مسکرا رہا تھا ۔

اتنی جلدی دادجی کی دعا قبول کرلی میری تو سنتے بھی نہیں ہیں آپ ۔دل میں خدا سے مخاطب وہ شکوہ کرگیا تھا ۔

یہ جو بلیک کلر کی ڈریس میں میڈم کھڑی ہیں انہیں لفٹ کی آفر کرنی تمہیں جاکر ۔شاہ میر کی بات پر ڈرائیور نے فورا سے اس لڑکی کو دیکھا تھا جو کسی کی راہ دیکھ رہی تھی ۔

ابھی سر ۔نا سمجھی میں سوال کرتا ہوا ڈرائیور گردن موڑ کر شاہ میر کو دیکھ رہا تھا جو اس لڑکی کو دیکھنے میں مگن تھا ۔

نہیں میرے مرنے کے بعد ۔ جلے کٹے انداز میں بولتا ہوا شاہ میر نے ڈرائیور کو غصے سے گھورا تھا ۔

بلکہ رکو ۔ گاڑی سے ڈرائیور کو اترتے دیکھ شاہ میر نے کچھ سوچ کر اسے روکا تھا ۔

جی سر ۔ ڈرائیور حیرت سے شاہ میر کو دیکھ رہا تھا جس کا انداز آج اسے نجانے کیوں حیران کررہا تھا ۔

تم کار ریوس کرکے ان کے پاس لے جاؤ اور جہاں انہیں جانا ہے وہاں ڈراپ کرنا ہے تمہیں ۔ شاہ میر کار سے نکلا تھا ۔

پر سر آپ کیسے جائیں گے آفیس ۔ ڈرائیور کے لہجے میں اپنے لیے فکر دیکھ شاہ میر نے آبرو ریس کی تھی ۔

تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میڈم کو ذرا علم نہیں ہونا چاہیے کہ تم یہاں پر ہی کھڑے تھے ۔

اور ہاں واپسی پر مجھے میڈم کی ساری ڈیٹیل چاہیے میری ٹیبل پر ۔

گھر کے ایڈریس سے لے کر سیل فون نمبر تک کی ساری ڈیٹیل چاہیے انڈر اسٹینڈ ۔ ایک لفظ پر زور دیتا ہوا وہ سنجیدگی سے مخاطب تھا ۔

اوکے سر ۔ کار اسٹارٹ کرتا ہوا ڈرائیور شاہ میر کے حکم پر لبیک کرتا وہاں سے گیا تھا ۔

وہیں شاہ میر روڈ کراس کرتا ہوا بنا منزہ کو دیکھے اس کے بلکل قریب سے گزرا تھا ۔

ڈسکسٹنگ ۔ شاہ میر کے پاس سے گزرتی لڑکی کا سبز آنچل نے اس کے چہرے پر سلامی پیش کی تھی ۔جس سے وہ سخت بدمزہ ہوتا ہوا ناک کی سیدھ میں وہاں سے گزر گیا تھا ۔

کیسا آدمی ہے دیکھنا تک گوارا نہیں کیا بدتمیز ۔ ہوا میں اپنا سبز آنچل لہرا کر اس کے سامنے سے گزرتی ہوئی منیبہ نے اسے اپنی سمت متوجہ کرنا چاہا تھا ۔

اب بھی کیوں آئی۔ منزہ غصے سے بولی تھی ۔

منزہ غصے کم کرو ویسے ہی مجھے بہت غصہ آرہا ہے ۔منیبہ نے جاتے ہوئے شاہ میر کی پیٹھ دیکھ کر کہا تھا ۔

اچھا محترمہ میں نے دیکھی ہے تمہاری حرکت ۔ منزہ جو منیبہ کی گئی حرکت دیکھ چکی تھی فورا سے چڑ کر بولی تھی ۔

ہاں تو ہینڈسم بندہ تھا سوچا میرے ایسے کرنے سے مجھے دیکھا گا اور پہلی ہی نظر میں مجھ پر مر مٹے گا ۔

مگر مرے گا تو بعد میں دیکھا بھی نہیں مجھے اس نے ۔ ناگواریت سے بولتی ہوئی منہ لٹکا گئی تھی ۔

تمہاری اس حرکت پر اس شخص نے تمہیں دیکھا یا نہیں مگر بہت سے لوگوں کی نظریں اٹھی ہونگی جو تمہارے حق میں بہتر نہیں ہے ۔ منزہ کو اس کا اس طرح سے اس شخص کو اپنی طرف متوجہ کرنا برا لگا تھا ۔

افففف یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا ۔ اپنی بیوقوفی پر اسے پچھتاوا ہوا تھا ۔

اب کیا پچھتانا جو کرنا تھا تم کرچکی ہو ۔ منزہ نے اپنے شانے اچکائے تھے ۔

اچھا ناں سوری ویسے ہی مجھے برا فیل ہورہا ہے ۔منزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہوئی وہ افسردگی سے بولی تھی ۔

ہمہم ویسے کس لیے گئی تھیں تم مجھے یہاں چھوڑ کر ۔ منزہ کو تفتیش ہوئی تھی ۔

جاذب سے بات کرنے اس کی مما کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی ہے اس وجہ سے وہ نہیں آپایا تم سے ملنے ۔روانگی سے بولتی ہوئی منیبہ ساتھ ساتھ منزہ کے پریشان تاثرات دیکھ رہی تھی ۔

کہ اچانک سے وائیٹ کلر کی کار ان کے پاس آکر رکی تھی ۔

میڈم آپ لوگ بس کا انتظار کررہی ہیں کیا ۔ گاڑی کا شیشہ نیچے کرکے ڈرائیور نے منزہ سے پوچھا تھا ۔

جس پر اسے جواب منیبہ کی طرف سے ملا تھا ۔

جی پر آپ کو کیسے پتا ۔ جواب کے ساتھ منیبہ سوال پوچھ گئی تھی ۔

میڈم وہ بس اب نہیں آئے گی ۔ ڈرائیور نے بہانا گھڑا تھا ۔

کیوں بھائی ۔ منزہ پریشان ہوتی ہوئی کار کے پاس آئی تھی ۔

وہ میڈم شاید اچانک سے بسوں کی ہڑتال ہوگئی ہے اس لیے آپ لوگ یہاں سے جلدی سے جائیں کب وہ لوگ یہاں دھوا بول دیں کچھ خبر نہیں ہے ۔ بڑی فکرمندانہ انداز میں بولتا ہوا ڈرائیور بہترین اداکاری کا مظاہرہ کررہا تھا ۔

ایسے لڑکیوں کو قائل کررہا ہے جیسے نجانے کتنی لڑکیوں کو میری کار میں لفٹ دی ہو ۔جس پر کیفے میں بیٹھا ہوا شاہ میر پر سوچ انداز میں اسے داد دے گیا تھا ۔

ایسی بات ہے کیا بھائی مطلب آپ سچ بول رہے ہیں ناں ۔ منزہ سوچ کر ہی گھبرائی تھی ۔

جی میڈم ۔ بولتے ہوئے ڈرائیور نے سر ہلایا تھا ۔

منیبہ اب کیا ہوگا ہم ہاسٹل کیسے جائیں گے ۔ منزہ اور دونوں یقین کرگئی تھی ڈرائیور کی بات پر ،کرتی بھی کیوں نا وہ سب بیان ہی ایسے کررہا تھا جیسے سچ میں ہڑتال ہوئی ہو ۔

کرنا کیا ہے یہ بندہ شریف لگ رہا ہے اس کے ساتھ چلتے ہیں ویسے بھی پندرہ سے بیس منٹ کا سفر تو ہے یہان سے ہاسٹل کا ۔منیبہ نے تجویز دی تھی ۔

اوکے میدم اب میں چلتا ہوں میرے سر میرا ویٹ کررہے ہونگے آپ پلیز یہاں سے جائیں یہاں کھڑے رہنا آپ دونوں کے لیے سیوو نہیں ہے ۔ منیبہ کی سرگوشی سنتا ہوا وہ فورا سے پہلے بولا تھا ۔

ارے بھائی رکیں جب نے آپ نے ہمیں اتنا بتایا ہے تو پلیز ایک اور فیور کردیں ۔ منیبہ نے بڑی ہی عاجزی سے بول رہی تھی ۔

پر میڈم میرے سر آفیس میں ویٹ کررہے ہیں میرا ۔ دل میں شکر ادا کرتا ہوا وہ فرضی بہانا بنا رہا تھا ۔

پلیز بھائی ۔ منزہ کے کہنے پر وہ اثبات میں گردن ہلا گیا تھا ۔

آجائیں میں ڈراپ کردیتا ہوں آپ دونوں کو ۔ منزہ کو گاڑی میں بیٹھتے دیکھ شاہ میر فاتح انداز میں مسکرایا تھا ۔

*****