375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 10)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

کہاں تھے آپ ، دادجی کو آتے دیکھ بی جان نے مشکوک لہجے میں پوچھا تھا ۔

جس پر ان کے ساتھ کھڑی ندا لب دبائے مسکرائی تھی ۔

بڑھاپے میں بھی شک ہے اس بوڑھیا کو مجھ پر ، بی جان کے مشکوک لہجے پر برا سا منہ بناتے ہوئے دادجی تاسف سے بڑبڑائے تھے ۔

جب اعمال ہی ایسے ہونگے تو دوسروں کو شک تو ہوگا ہی ۔ بی جان کے پر یقین لہجے ہر دادجی کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں ۔

پارک گیا تھا واک کرنے اگر یہ عشق معاشقے کرنے ہوتے تو تم سے اپنی قسمت تھوڑی پھوٹنے دیتا ۔ بی جان کو سائیڈ کرتے ہوئے دادجی اندر جاتے ہوئے چبا کر بولے تھے ۔

میری قسمت تو جیسے چمک اٹھی تھی نا تم جیسے ٹھرکی کرنل سے شادی کرکے ۔

جو سال میں ایک آدھ بار اپنا چہرہ دیکھا کر سرحد پر چلا جاتا تھا ۔

بی جان کا وہی پرانا شکوہ دادجی کو ماتھا پیٹنے پر اکسا رہا تھا ۔

خدا کی ناشکری بندی ! دادجی نے گہرے ضبط سے بی جان کو دیکھ کر کہا تھا ۔

لو جی دیکھو ذرا خدا کے نیک ، شریف اور حاجی بندے کو ۔

تمسخر سے کہیں ہوئیں بی جان مسکراہٹ ضبط کرتی ندا کے شانے پر ہلکی سی چت لگاتی ہوئی شرارت سے بولیں تھیں ۔

اچھے سے جانتی تھیں دادجی کی برداشت کا معدہ سست پڑرہا ہے ۔

ان سے زیادہ کوئی شریف مرد ہوسکتا ہے بھلا جو اپنی خالہ ،پھوپھی، چچا اور تایا ابا کے داماد بننے کے خواہ تھے ۔

دادجی کے ضبط سے سرخ ہوئے سفید و گلابی چہرے کو دیکھ کر بی جان مزے لیتی ہوئی بول رہی تھیں ۔

برے نصیب میرے جو تمہارے ساتھ پھوٹ گئے ۔

ورنہ کہاں رخسانہ کہاں تم ۔ (رخسانہ چپکو)

کہاں وہ راحیلہ کہاں تم ،

(راحیلہ چغل باز پتا نہیں کیوں یاد دلاتی ہیں )

کہاں چچا زاد کوثر اور کہاں تم ۔

( شیطان بھی پناہ مانگے اس کوثر سے تو )

اور تایا ابا کی دل پزیر ہائے کیا یاد دلا دیا تم نے ۔

(ایک نمبر کی دھوکے باز اور گھمنڈی عورت )

ارے بھئی تمہارا اور اس کا تو کوئی میل ہی نہیں وہ آسماں کی حور اور تم کہاں بھٹکی ہوئی روح ۔

ہنہہہ۔ بی جان کو چڑاتے ہوئے دادجی دل ہی دل میں ان سب کو سوچ کر کوفت محسوس کررہے تھے ۔

وہیں بی جان غصے سے سرخ انگارہ ہوئی تھیں یہ سوچ کر کہ ان شاہ سلطان آج تک اپنی محبوباؤں کو یاد کرتے سرد آہ بھر رہے ہیں ۔

ہاں تو کرلیتے نا ان میں سے کسی ایک سے شادی میری کیوں زندگی تباہ و برباد کے ۔پل بھر میں بی جان کا لہجہ نم ہوا تھا ۔

ہونی تھی سو ہوگئی اب کیا کرسکتے ہیں ۔ شانے اچکاتا ہوئے دادجی سکون سے صوفے پر بیٹھے تھے ۔

اچھے بھلے رشتوں کو میرے ابا نے لات مار کر آپ جیسے سے مجھے باندھ دیا جو عمر کے آخری حصے میں بھی اپنی محبوباؤں کو نہیں بھولے ۔ آنکھیں پر لگے نگاہ کے چشمے کو اتارتی ہوئی وہ اپنی نم آنکھیں صاف کرتی ہوئی دادجی کے برابر میں آکر بیٹھی تھیں ۔

ارے بیگم صاحبہ آپ رونے لگ گئیں ۔ بی جان کے شانوں کے گرد ہاتھ پھیلاتے ہوے دادجی فکر مندی سے گویا ہوئے تھے ۔

ان کا مذاق آج کچھ زیادہ ہی بھاری پڑگیا تھا ۔

ہاتھ مت لگائیں شاہ سلطان مجھے ۔ ندا ان دونوں کئ نوک جھونک سے مزے لیتی ہوئی اب پریشان ہوئی تھی ۔

ندا بیٹا ۔ بی جان کو روتے دیکھ دادجی حیران کھڑی کو پکارنے لگے تھے ۔

جی سر ۔ سر جھکائے وہ آگے بڑھی تھی ۔

ذرا دو کپ چائے کے کچھ کھانے کو لے آؤ ۔ ندا کو کھڑے دیکھ دادجی فورا سے اسے جانے کا کہتے ہوئے روتی ہوئی بی جان کی سمت متوجہ ہوئے تھے ۔

ارے بیگم میں تو مذاق کررہا تھا آپ سے بھلا میں کوئی پاگل ہوں جو اپنی گلاب جیسی بیگم کے آگے ان چڑیلوں کو ترجیح دوں گا ۔ بی جان نے انہیں خفگی سے دیکھا تھا جو مسکرا رہے تھے ۔

رہنے دیں رہنے دیں شاہ سلطان اس عمر میں میں آپ کی باتوں میں نہیں آنے والی ۔ بی جان کے بولنے پر دادجی کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔

اگر ان سے شادی کرنی ہوتی تو آج میں آپ کے ساتھ اتنی عمرتھوڑی گزارتا ۔

ارے روبینہ بیگم آپ ہی میری دشمن ہیں اور آپ ہی میری زندگی کی وہ پہلی عورت ہیں جسے میں نے اپنی ماں کے بعد سب سے زیادہ چاہا ہے ۔ بی جان کا جھریوں زدہ ہاتھ تھامے دادجی مسکرائے تھے ۔

آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے اب جب میں پر دادا بن بھی گیا ہوں روبینہ ۔ دادجی قہقہ لگا گئے تھے ۔

بی جان کے شکی انداز پر ۔ جس پر بی جان نے اپنے آنسو صاف کیے تھے ۔

ساری عمر تمہارے ساتھ گزار دی ہے بیگم پھر بھی تمہارا شک وہیں مرغ کی ایک ٹانگ ۔ بی جان دل ہی دل ہمیشہ کی طرح آج خود ہوئیں تھیں دادجی کی صفائیوں سے ۔

بس اللہ پاک میرے جیسی قسمت میرے کسی بیٹے اور پوتے کی نا بنائے ۔ دادجی کی بات پر بی جان نے انہیں خفگی سے گھورا تھا ۔

میرے پوتے ایسے کام تھوڑی نا کریں گے جس کی وجہ سے ان کی بیوی ان پر شک کریں ۔ اب بھی بی جان کو دادجی کی بات پر یقین نہیں آیا تھا جس پر دادجی ہمیشہ کی طرح آج بھی تاسف سے گردن ہلا کر کر مسکرا رہے تھے ۔

******

یہ لڑکا کون تھا رئیس ۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی شاہ میر نے رئیس سے پوچھا تھا ۔

مجھے بتایا کیوں نہیں اس لڑکے کے بارے میں ۔

یہ وہی ہیں سر جن کے بارے میں آپ کو بتا رہا تھا مگر آپ نے نہیں سنا تھا ۔ شاہ میر نے غصے سے اپنی پیشانی مسلی تھی ۔

میں نے پوچھا ہے یہ لڑکا کون تھا ۔ شاہ میر کے سخت گیر لہجے پر رئیس کا حلق خشک ہوا تھا ۔

سر یہ جاذب آرائیں ہیں میڈم کے بیسٹ فرینڈ ۔ ڈگمگاتے لہجے میں بولتا ہوا رئیس آخر میں لب دبا گیا تھا ۔

بیسٹ فرینڈ ہے یا کچھ اور ۔ رئیس کا ڈگمگاتا لہجے سے شاہ میر کو گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی کچھ بھی غلط نا سننے کی چاہ لیے وہ خود پر کمال کا ضبط کیے ہوئے تھا ۔

سر میڈم اور جاذب سر ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور پیپرز کے بعد اپنی پسندگی کو مضبوط رشتے میں باندھنے کے خواہ ہیں ۔

وہ بھی پسند کرتی ہیں ۔ شاہ میر کی آواز کسی گہری کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔

جی سر ۔۔

اوکے تم جاؤ فلحال یہاں سے ۔ کار ہمدانی کنسٹرکشن کے پارکنگ ایریا میں پارک کرکے رئیس وہاں سے جاچکا تھا ۔

رئیس کے جاتے ہی اپنے حلق میں اٹکے سانسوں کو تیزی سے باہر نکالتے ہوئے شاہ میر کے دماغ کی نسیں پھٹنے کو تھیں یہ سوچ کر کہ وہ جس لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا تھا وہ کسی اور کی چاہ رکھتی تھی یہ سوچ کر ہی اس کے دل میں درد کی لہر دوڑ گئی تھی ۔

عجیب سنساہٹ اس کے روم رقم میں اٹھ رہی تھی ۔

مجھے محبت بھی اس لڑکی سے جو پہلے ہی کسی اور شخص کی محبت میں مبتلا ہے ۔

واہ شاہ میر ہمدانی واہ

کیا جھنڈا گاڑا ہے تیری قسمت نے تیری زندگی میں ،

کیا مذاق کیا ہے تیری قسمت نے دا گریٹ بیچلر شاہ میر ہمدانی تیرے ساتھ ۔ وہ اپنی ہی بے بسی پر ماتم کرتا ہوا دیوانہ وار سرد قہقہہ لگا گیا تھا ۔

لعنت ہے تیری زندگی پر شاہ میر کتنی لڑکیاں تھی تیرے سامنے اور کتنیوں کے دل بڑی بے رحمی سے توڑے تو نے ۔بے دردی سے بالوں کو نوچتا ہوا زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی پر اٹھی اپنی نگاہ پر پچھتایا تھا ۔

یہ آنکھیں کسی اور کو کیوں نا دیکھ سکی دیکھا بھی تو ایسی لڑکی کو دیکھا جس کے دل پہلے ہی کوئی اور شخص براجمان ہے تیرے لیے محبت تو شاید ہی کبھی اس کے دل میں آئے ۔درد سے پھٹتے سر کو دونوں ہاتھوں میں پکڑتا ہوا سختی سے لبوں بھینچے ہوئے تھا ۔

پہلی بار کسی سے پیچھے رہنا درد وہ شاہ میر ہمدانی نے بخوبی محسوس کررہا تھا جو آج تک کسی سے پیچھے نہیں رہا تھا ہمیشہ جیتنے والا شاہ میر آج اپنی پسند کردہ لڑکی کی نظروں ذرا معنی نہیں رکھتا تھا ۔

رکھتا بھی کیسے وہ تو کسی اور شخص کی گمراہی کے خواب نجانے کتنے عرصے سے دیکھ رہی ہے ۔

نہیں میں شاہ میر ہمدانی کسی کی زندگی میں ان چاہا نہیں بن سکتا ۔

میں کسی سے اس کی محبت نہیں چھین سکتا میں خود غرض نہیں ہوں پر میں ہوں خود غرض ۔ وہ خود کی بات کی نفی کرتا ہوا عجیب الجھن کا شکار ہورہا تھا ۔

پر منزہ کے معملے میں خود غرض نہیں بن سکتا اسے حق ہے اپنی زندگی کے فیصلے لینے کا ۔

میں کون ہوں اس کی زندگی کوئی بھی تو نہیں ۔میری ذات ہے ہی کیا اس کی نظر میں اور میں نے دو بار ہی تو دیکھا ہے اسے ۔

مجھے اسے بھولنے میں ٹائم تھوڑی لگے گا ۔

ہذیانی انداز میں طویل سانس بھرتا ہوا شاہ میر دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے اپنے بکھرتے حال پر قابو پانے کی کوشش کررہا تھا ۔

کچھ توقف بعد گہری سانیس لیتا ہوا وہ خود کو پر سکون کرنے کی کوشش میں کافی حد کامیاب ٹھہرا تھا ۔

آنکھیں بند کیے ہوئے شاہ میر نے منزہ کا عکس اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر فورا سے آنکھیں کھولی تھیں ۔

دو دن کی محبت تیرے دماغ پر حاوی نہیں ہوسکتی شاہ میر ۔

یہ منزہ وقار ہے کون کوئی بھی تو نہیں ۔ حتمی فیصلہ کرتا ہوا وہ کار سے نکلا تھا ۔

دماغ دل کو پیروں تلے کچل گیا تھا ۔

اور شاہ میر ہمدانی اپنے آفیس کی جانب قدم بڑھا گیا تھا ۔

*****

مما آپ کیوں اپنی انرجی ویسٹ کرتی ہیں مجھے ایک ہی بات بول بول کر ۔ اکتاہٹ زدہ لہجے میں بولتی ہوئی اپنے کیبن میں کھڑی کبری جہاں تھوڑی دیر پہلے ہی فرقان اسے چھوڑ کر گیا تھا ۔

کبری شاہ میر سے بہتر ارحم اور پریشے کو ڈیڈ اور تمہیں شوہر کوئی اور نہیں مل سکتا یہ تم اچھے سے جانتی ہو ۔ الماس ہاشمی آج پھر اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کررہی تھیں ۔

مما پلیز میرا برین واش کرنے سے بہتر ہے آپ عالیہ کو دیکھیں جسے اس وقت آپ کی اٹیشن کی زیادہ ضرورت ہے ۔ ہر بار کی طرح وہ افسردہ ہوئی تھی شاہ میر اور اپنی شادی کا سن کر ۔

الماس ہاشمی اکیلی تو نہیں تھیں جو اسے شاہ میر سے شادی کرنے کی تجویز کررہی تھیں ۔

ہمدانی فیملی میں سوائے دادجی اور شاہ میر کے سب ہی اس شادی سے رضامند تھے ۔

کبری میری جان تم اکیلی نہیں ہو تمہارے ساتھ پریشے اور ارحم بھی ہیں جنہیں شاہ میر سے زیادہ پیار کوئی اور نہیں دے سکتا ۔ اس بات سے خود کبری بھی قائل تھی ۔

مما پلیز۔

کبری ساری عمر یوں اکیلے نہیں گزر سکتی میری جان ۔الماس ہاشمی کی بھرائی آواز سن کر کبری کی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔

مجھے نہیں معلوم کہ جس راہ پر میں چل رہی ہوں اس کی کوئی منزل ہے بھی یا نہیں

یا پھر میں یوں ہی عمر بھر ان انجان راہوں کی کٹھن مسافت میں بھٹکتی ہی رہوں گی ۔

یا پھر ان مجھے اس دھوپ کے سفر میں کوئی چھاؤں کا مسافر مل جائے گا جو اس کڑی دھوپ میں میرے لیے چھاؤں اور میرے بچوں کے لیے چھاؤں بن کر آئے گا ۔ افسردہ لہجے میں امید کا ننھا سا چراغ جلائے کھڑی کبری سامنے سے گزرتے شاہ میر کو دیکھ کر سرد آہ بھر کے رہ گئی تھی ۔

میں سے آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں ۔ فون کے کرتی ہوئی وہ شاہ میر کو جاتے دیکھ رہی تھی ۔

لمبے لمبے ڈھانگ بھرتا ہوا بنا کسی کو دیکھے بس ناک کی سیدھ میں چلتے ہوئے شاہ میر کا اسٹاپ اس کے کیبن میں لگا تھا۔

کہاں گئی منزل کی فائل ۔ ٹیبل پر رکھی فائلز میں سے جلدبازی میں منزل کی فائل ڈھونڈتا ہوا وہ بڑابڑ رہا تھا ۔

اف ۔ منزل کی فائل ملنے پر پرسکون سانس لیتا ہوا وہ اچانک کیبن میں داخل ہوتے فرقان کو دیکھ کر نظریں چرا گیا تھا ۔

ہمدانی تو ٹھیک ہے نا ۔شاہ میر کا نظریں چڑھانا فرقان نے بخوبی نوٹ کیا تھا ۔۔

*****