375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 13)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

جس رنگ میں بھی دیکھوں اسے خوشنما لگے

ایک شخص دل کے آسمان پر قوس قزع سا لگے

آج صبح صبح ہی شاہ میر آفیس آگیا تھا وجہ صدیق صاحب سے ملاقات ٹھہری تھی ۔

اب بھی وہ صدیق صاحب کا ہی انتظار کررہا تھا کہ سیل فون میں موجود منزہ کی فوٹو دیکھ کر مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا تھا ۔

ٹک ٹک ٹک ،،،، آجائیں ۔ ناک ہوتے ڈور پر الرٹ ہوتا وہ اپنا سیل فون دراز میں ڈال کر اپنے کالر کی ان دیکھی شکن سیٹ کرتا ہوا آنے والے شخص سے واقف تھا ۔

ارے صدیق صاحب آپ آئیں ناں ۔لائیٹ براؤن کلر کا سوٹ کوٹ زیب تن کیے صدیق صاحب اپنے بھاری بھرکم وجود سمیت شاہ میر کے سامنے موجود تھے ۔

آپ کو اجازت طلب کرنے کی کیا ضرورت تھی صدیق صاحب آپ کا اپنا ہی آفیس ہے ۔شاہ میر کا اس طرح انہیں پرجوشی سے مخاطب کرنا صدیق صاحب کے اندر سرشاری پیدا کرگیا تھا ۔

یہ تو تمہارا اخلاق ہے شاہ میر بیٹا ورنہ کون ایسے غیروں کو اتنی عزت دیتا ہے ۔ چیئر پر بیٹھتے ہی وہ شاہ میر کا نیچے سے اوپر تک کا جائزہ لیتے ہوئے مسکرائے تھے ۔

سیاہ بال جو ہمیشہ کی طرح آج بھی اچھے سے سیٹ کیے گئے تھے جنہیں دیکھنے پر صاف پتا چل رہا تھا کہ سب سے زیادہ وقت انہیں بنانے میں صرف کیا گیا ہے سب سے بڑا بدلاؤ شاہ میر کی ڈریسنگ میں تھا جو آج اپنی ڈریسنگ کے برخلاف وائیٹ کاٹن کے بنا شکن زدہ سوٹ میں ملبوس انہیں کافی پسند آیا تھا ۔

یہ میری سب سے بڑی خوش قسمتی ہے کہ آپ مجھ سے ملاقات کرنا چاہتے تھے ۔ اپنی جگہ پر بیٹھتا ہوا شاہ میر اپنے مخصوص انداز میں بولتے ہوئے مسکرایا تھا ۔

ارے کہاں بیٹا یہ میری خوش قسمتی ہے کہ تم مان گئے مجھ سے ملنے کے لیے ۔ صدیق کا لہجہ ہی بتا رہا تھا کہ وہ اس وقت کس قدر خوش تھے ۔

کیا لیں گے ،، شاہ میر ان کے چہرے پر نظریں گاڑے ہوئے مخاطب ہوا تھا ۔

کچھ اچھا سا کھانے کے لیے منگوا لو ۔ صدیق صاحب کے بولنے پر وہ مسکراتا ہوا گردن کو ہلکی سی جنبش دے رہا تھا ۔

کھانے کا کہہ کر وہ ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھ کر ریلکس ہوکر بیٹھا تھا ۔

تو پھر میں ہماری ڈیل ڈن سمجھوں صدیق صاحب ۔ مسکراتے لب اور سنجیدگی سے ٹلی شاہ میر کی نظریں دیکھ صدیق صاحب مسکرائے تھے ۔

پہلے وجہ تو جان لو شاہ میر میرے یہاں آنے کی ۔ شاہ میر بھنویں سیکڑی تھی ۔

بولیں آپ کو سننے کے لیے ہی تو یہاں بیٹھا ہوں ۔ شاہ میر کا لہجہ اب بھی نہیں بدلا تھا ۔

ہماری ڈیل ایک شرط پر ڈن ہوگی شاہ میر ہمدانی ۔ لفظوں کو ترتیب دیتے ہوئے صدیق صاحب شاہ میر کی گہری ہوتی مسکراہٹ کو نا سمجھی میں دیکھ رہے تھے ۔

کیسی شرط ۔شاہ میر ہلکا سا ان کی طرف جھکا تھا ۔

بیچلر ہو تم اور مجھے تمہارے جیسے داماد کی ہی تلاش تھی ۔ ” فرقان بے غیرت تیری کالی زبان ہے “

صدیق صاحب کو سنجیدگی سے سناتا ہوا وہ فرقان کی بات اس طرح پوری ہوتے دیکھ دل ہی دل میں مزید گالیوں سے نواز رہا تھا ۔

ہمیشہ سے خواہش تھی میری ایک ایسا داماد ملے مجھے جو بزنس بھی اچھے جانتا ہوں اور میری اکلوتی بیٹی کے معیار پر بھی پورا اترے تم میں وہ سب خوبیاں ہیں جو مجھے اپنے داماد میں چاہیے تھی ۔

شاہ میر کے ایک ساتھ سارے طوطے اڑے تھے ۔مگر خود پر کمال کا ضبط کیے وہ مسکرا رہا تھا جیسے اتنی بڑی کوئی بات ہوئی ہی نا ہو ۔

پوچھو گے نہیں میں نے اپنی یہ دیرینہ خواہش تمہارے آگے ہی کیوں رکھی ۔ شاہ میر کو خاموشی سے خود کو سنتے دیکھ ان کی ڈھارس بندھی تھی ۔

آپ ہی بتادیں صدیق صاحب ۔ کس ضبط سے شاہ میر نے کہا تھا یہ شاہ میر ہمدانی کے سوا کوئی نہیں جان سکتا تھا ۔

کیونکہ میں پہلے تمہاری رائے جاننا چاہتا ہوں یہ رہی میری بیٹی کی راعنہ کی تصویر ہے دیکھ لوں اور اس میں فون نمبر کے ساتھ ٹوئیٹر ،ایف بی ،انسٹا ، سنیک،ٹک ٹاک آئی ڈیئز ہیں اور بھی بہت سی ہیں جو میں بتانا بھول گیا ہوں اس میں لکھا ہوا ہے سب ۔ شاہ میر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں اور لب سیل گئے تھے ۔

اگر تمہیں کوئی اعتراض نا ہو تو اپنی فیملی کو میرے گھر بھیج دینا ۔ شاہ میر کا زندگی میں پہلی حلق خشک ہوا تھا ۔

یہ کیسا باپ ہے ۔ حیرانگی سے سوچتا ہوا ٹیبل پر رکھا خاکی لفافہ دیکھ رہا تھا ۔

ویسے اگر منزہ نا ہوتی بیچ میں تو شاید نمبر ٹرائی کرلیتا ۔کرلیتا ہوں ۔

نہیں یار موٹے صدیق اور اس کی بیٹی کے بیچ پھنس گیا تو توبہ استغفار ۔ لب دبائے وہ سوچ کر ہی توبہ کرگیا تھا ۔

صدیق صاحب ٹیبل پر رکھے کھانے کی سمت بڑھے اور بیٹھتے ہی کھانے کے مزے اڑانے لگے تھے بنا شاہ میر کو بلائے ۔

جبکہ شاہ میر پرسوچ انداز میں انہیں کھانا کھاتے دیکھ رہا تھا ۔

کچھ توقف صدیق صاحب کھانے سے فارغ ہوکر واپس سے چیئر پر بیٹھ گئے تھے پورے کیبن میں خاموشی کا راج تھا کہ زمین پر سوئی پھینکوں تو اس کی بھی آواز آسانی سے سن سکتے تھے ۔

ایک کافی میرے لیے بھی ۔شاہ میر اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنے لیے بلیک کافی بنانے لگا تھا جب صدیق صاحب کی پکار پر مسکرا کر ان کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔

جی ضرور ۔ اپنے اور صدیق صاحب کے لیے کافی بنا کر لاتا ہوا شاہ میر انہیں مگ دے کر خود گلاس ونڈو کے پاس آکر رکا تھا ۔

اپنے ذہن میں چلتی سوچوں کو بریک لگاتا ہوا وہ شرارت سے مسکرایا تھا ۔

آپ کو یہ کس نے کہا کہ میں بیچلر ہوں ۔شاہ میر کے سوال کافی کی سیپ لیتے صدیق صاحب نا سمجھی میں اسے دیکھ رہے تھے ۔

جو مگ لبوں سے لگائے ونڈو سے باہر دکھتے مناظر کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔

کیا مطلب ہر جگہ یہ ہی لکھا ہوا ہے تمہارے بارے میں کہ تم بیچلر ہو ۔وہ صدمے سے چلا بھی نہیں پائے تھے ۔

ایم میرڈ صدیق صاحب ۔ شاہ میر کے بتانے پر وہ چونکتے تھے ۔

کیااااااا ۔

جی میں شادی شدہ ہوں ۔ تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتا شاہ میر ان کی سمت مڑا تھا ۔

چند ماہ پہلے ہی میں نے نکاح کیا ہے ۔

جھوٹ مت بولو شاہ میر ۔ صدیق صاحب کے پراعتماد لہجے پر شاہ میر مسکرایا تھا ۔

جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے صدیق صاحب ۔

ایسا کیسے ہوسکتا ہے تمہاری فیملی کو ہی نہیں پتا تمہاری شادی کا ۔ شاہ میر نے اپنی آئبرو رب کی تھی ۔

کیونکہ میں نے اپنی فیملی سے چھپ کر نکاح کیا ہے ۔ وہ جھوٹ کو سچ بنا کر بولتا ہوا وہ ذرا نہیں ڈگمگایا تھا ۔

کیوں ۔

کیونکہ ڈیڈ نہیں مان رہے تھے پر اب مان گئے ہیں ایک مہینے تک پوری دنیا کے سامنے اپنی شادی کا اعتراف کرنے کا ارادہ ہے میرا ۔ نظریں جھکائے وہ کان کھجاتا ہوا کہہ کر پچھتایا تھا ۔

اب کہاں سے کرتا شادی ایک مہینے میں کے اندر اندر ۔

میں آپ کو کسی بھی دُوکھے میں نہیں رکھنا چاہتا تھا صدیق ۔ صدیق صاحب مسکرائے تھے شاہ میر کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر ۔

جتنے تم دکھنے میں خوبصورت اور باوقار ہو اتنے ہی اندر سے ہو ۔

بہت خوشی ہوئی تم سے مل کر شاہ میر ہمدانی اور افسوس بھی میں نے آنے میں دیر کردی ۔ صدیق صاحب کے لہجے میں درد صاف عیاں تھا جس پر شاہ میر شرمندہ ہوا تھا مگر وہ منزہ کی جگہ کسی کو سوچنا بھی اب گناہ سمجھنے لگا تھا ۔

بے فکر رہو ڈیل تمہاری ہی ہے کل ہی ڈن کردیتا اگر یہ سب پتا ہوتا تو اللہ تمہیں اور تمہاری مسسز کو ہمیشہ خوش رکھے ۔ دیکھاؤ گے نہیں مجھے اپنی مسسز ۔ شاہ میر ان کی ڈیل ڈن کرنے والی بات سے زیادہ ان کی دعاؤں پر خوش ہورہا تھا ۔

ضرور انکل ۔ شاہ میر دراز سے سیل فون نکالتا ہوا پرجوش ہوا تھا ۔

یہ میری ہونے والی مسسز ۔

ہونے والی ،،،،، ہاں دنیا کے سامنے ابھی نہیں بنی نا ۔ منزہ کو اپنا کہتا ہوا وہ جس قدر خوش تھا یہ صدیق صاحب دیکھ کر افسردہ ہوئے تھے ۔

بہت پیاری اللہ پاک تم دونوں کو ایک ساتھ خوش و آباد رکھے ۔

آمین ۔۔۔ بس اللہ پاک ان کی دعا سن لیں اور منزہ کو میرا صرف میرا بنا دیں ۔ شاہ میر دل ہی دل میں دعا گو ہوا تھا ۔

دعا کرنا تم میری راعنہ کو تم جیسا ہی ہمسفر ملے ۔ وہ مسکراتے ہوئے وہاں سے افسردگی سے گئے تھے ۔

مبارک ہو میری جان فرقان ڈیل ڈن جلدی سے آفیس پہنچ بہت ضروری بات بھی بتانی ہے تجھے ۔خوشی سے چہکتا ہوا شاہ میر آج پھر فرقان کی نیند میں خلل ڈال گیا تھا ۔

آرہا ہوں ۔ نیند سے بوجھل آواز میں جواب دیتا ہوا فون رکھ گیا تھا ۔

یقین تھا ہمدانی تو ڈیل ڈن کروا کر ہی رہے گا ۔ کنفرٹ سائیڈ پر پھینکتا ہوا مسکرایا تھا ۔

****

کہاں جارہی ہیں بنا مجھ سے ملے ۔ آذر کلاس میں جاتی ہوئی منیبہ کی راہ میں حائل ہوا تھا ۔

آپ سے مل کر کلاس لینی ہوگی مجھے ۔ آذر کو دیکھتے ہی منیبہ کی عقل سوگئی تھی ۔

بلکل آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ جیسے ہی یونی میں انٹر کریں ویسے ہی مجھ سے ملیں ۔ منیبہ کے خوبصورت چہرے کو دیکھتا ہوا ممسکراہٹ دبائے ہوئے تھا ۔

اوکے اب میں بھی آؤں تو پہلے آپ سے ہی ملوں گی اب میں جاؤں لیٹ ہورہی ہے مجھے کلاس لینی ہے ۔

جی جی ضرور میں نے کب روکا ہے مگر کلاس لے کر مجھے کینٹین میں ملنا اوکے میں ویٹ کررہا ہوں تمہارا وہاں ۔ گردن ہلا کر جاتی ہوئی منیبہ کو دیکھتا ہوا عقب سے آتی آواز پر مڑا تھا ۔

یہاں کیا کررہے ہو مسٹر پڑھاکو ۔ ٹائیٹ جینز پر ڈھیلی سی شرٹ پہنے ہوئے وہ نازک سی لڑکی مسکرائی تھی جس پر وہ لب دبائے آگے چلنے لگا تھا ۔

او ہیلو مسٹر کچھ پوچھا ہے تم سے ۔ وہ اس کے پیچھے لپکی تھی ۔

اور مس میں تمہیں بتانے کا ارادہ نہیں رکھتا ۔وہ بھی اس کی ہی ٹون میں بولا تھا ۔

ٹھیک میں کبری آپی کو بتادوں گی کہ ان کے دیور صاحب آج کل کسی پیاری سی لڑکی کے چکر میں ہیں ۔بنا بنا کر بولتی ہوئی وہ آذر کے قدم جکڑ گئی تھی ۔

ابھی کچھ نہیں بتانے والی تم کبری بھابھی کو ۔ آذر اس کی سمت مڑتا ہوا تنبیہ کرگیا تھا ۔

وہ کیا ہے ناں مسٹر آذر ہمدانی میری زبان پھسلنے میں دیر نہیں لگتی ۔اب آذر اس کے پیچھے تھا اور وہ آگے چلتی ہوئی چہکی تھی ۔

شیزا یار بات تو سنو ۔

سب سن لیا ہے میں نے کینٹین میں آئے گی وہ پھر مجھ سے ملوا دینا پھر سوچو گی آپی کو بتانا ہے یا نہیں ۔آذر بڑی بری طرح پھنسا تھا ۔

پیشانی مسلتا ہوا اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا وہ اسے سب کے ساتھ ہائے ہیلو کرتے ہوئے دیکھ پیچھے گردن موڑ کر منیبہ کی کلاس کو دیکھ کر کینٹین کی جانب بڑھا تھا ۔

******

جاذب تم بہت چھٹی کرنے نہیں لگ گئے آج کل ۔ منیبہ جو کلاس میں انٹر کرتے ہی جاذب پر چڑھ دوڑی تھی ۔

تمہارا اثر ہوگیا مجھ پر بھی ۔شانے اچکاتا ہوا وہ منیبہ کی گھورنے پر لب دبا گیا تھا ۔

میرا اثر پڑ ہی نا جائے تم ۔ ہاتھ ہلاتی ہوئی وہ لڑکے کو تیار ہوئی تھی ۔

جبکہ منزہ خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ کر مزے لے رہی تھی ۔

تم پر تو منزہ کا اثر پڑنا چاہیے مجھ سے زیادہ تو تم منزہ کے ساتھ ہوتے ہو اس کا اثر تو تم پر پڑا نہیں میرا پڑے گا ۔ چڑ کر بولتی ہوئی وہ منزہ کے برابر میں آکر بیٹھی تھی ۔

یااللہ تیرا شکر ہے کہ مجھ پر منیبہ صفدر کا سایہ نہیں پڑا ورنہ میں تو ہر کلاس مس کردیتا ۔ دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے وہ کلاس مین موجود سب اسٹوڈنٹس کو خود کی جانب متوجہ کرگیا تھا ۔

منزہ اسے چپ کروالو ورنہ ۔ منزہ کو خاموش بیٹھے دیکھ وہ افسردگی سے بولی تھی ۔

میں کیا کرسکتی ہوں ۔ منزہ نے شانے اچکائے تھے ۔

ورنہ کیا ۔ جاذب بھی آج اسے تپانے کے پیچھے تھا ۔

ورنہ میں ۔

ورنہ تم ۔

منزہ چپ کرواؤ اسے ۔ منیبہ کی بھرائی آواز پر جاذب مسکرایا تھا۔

پلیزززز جاذب ۔ منیبہ کی رونی شکل دیکھ منزہ نے جاذب کو گھورا تھا ۔

وہ یوں ہی تھی حساس بات بہ بات رو دینے والی جس کی عادت سے منزہ اچھے سے واقف تھی ۔

سوری یار تم بہت پڑھاکو ہو سب سے پہلے کلاس میں آتی ہو سب سے زیادہ ہوشیار ہو تم منزہ سے بھی زیادہ ۔وہ اب اسے آگ کررہا تھا ۔

منزہ ۔ اوکے سوری ۔کان پکڑتا ہوا جاذب منیبہ کی جانب دیکھ کر مسکرایا تھا جو منہ بنائے ہوئے اسے گھور رہی تھی ۔

اب بس بھی سوری کرتا رہا ہوں تمہیں ۔ منیبہ کے گھورنے پر جاذب نے اس کی ناک دبائی تھی ۔

اٹس اوکے ۔ شان بے نیازی سے کہتی ہوئی منزہ کو مسکرانے پر اکسا گئی تھی ۔

*****

کس لڑکی کو سوچ کر مسکرایا جارہا تھا اکیلے میں ۔

کوئی لڑکی نہیں ہے تیری ہونے والی بھابھی ہے ۔

کیا کہا دوبارہ کہنا ۔فرقان کو اپنے سننے پر شک گزرا تھا ۔

کیا کہا تو نے ،،،، کچھ بھی تو نہیں یہ بتا کبری چلی گئی گھر ۔ وہ فورا سے بات بدل گیا تھا ۔

ہاں انکل کے ساتھ گئیں ہیں ۔ فرقان کا دھیان بٹتے دیکھ شاہ میر نے سکھ کا سانس بھرا تھا ۔

یہ بتا صدیق صاحب سے ایسی کیا باتیں تیری ۔فرقان نے استفسار کیا تھا ۔

گاڑی میں بتاتا ہوں چل ۔ فرقان گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے شاہ میر کے پیچھے ہوا تھا ۔

ڈرائیوو کرتا ہوا شاہ میر ساتھ ہی صدیق صاحب سے ہوئی گفتگو میں سے منزہ والا قصہ چھوڑ کر سب فرقان کو گوش گزار کرتے ہوئے شاہ میر اور فرقان کا یکجا قہقہ گاڑی میں گونجا تھا ۔

تو بڑا استاد ہے شاہ میر ۔ فرقان نے اس کے شانے پر ہاتھ مارا تھا ۔

اس میں کوئی شک ۔ شاہ میر نے بڑی خوشی سے داد وصول کی تھی ۔

آج بھی وہ آفیس کے بعد ان دونوں کی گاڑی کا بریک نائیٹ کلب کے پارکنگ ایریا میں لگا تھا ۔

شاہ میر سر آج آپ گائیں گے پلیزززززززز۔

پلیز سر ،، دونوں ہی آج کلب میں بیٹھے ہوئے گہری سوچ میں کھوئے سوفٹ ڈرنک کے مزے لے رہے تھے ۔

شیور ،، مینجر کے بے حد اسرار کرنے پر شاہ میر ڈانس فلور کی سائیڈ پر رکھی چیئر کی جانب بڑھا تھا ۔

اس کے بیٹھنے کی ہی دیر تھی کہ اس کے سامنے مائک لاکر رکھ دیا گیا تھا اور پیچھے کھڑا ہوا ایک قابل میوزک بینڈ شاہ میر کو آج اتنے دنوں بعد سننے کے لیے بے قرار تھے ۔

شاہ میر کو مسکرا کر دیکھتا ہوا فرقان اس کے کھوئے کھوئے سے انداز کو خاصا نوٹس میں لیے ہوئے تھا ۔

کلب کی تمام لائٹس کچھ پل کے لیے آف کردی گئی تھی ۔ جس سے کلب میں سحر انگیز سکوت طاری ہوا تھا ہلکے سے میوزک کی آواز کلب کے چاروں اطراف میں گونجتی ہوئی کلب میں موجود سب نفسوں کو اپنے سحر میں جکڑ رہی تھی ان سب میں فرقان کا شمار سب سے پہلے ہوا تھا ۔

آنکھیں بند کرتے ہی شاہ میر کی آنکھوں کے سامنے منزہ کا عکس پوری تاب سے جگمگایا تھا ۔

منزہ کے عکس کو خود کے اردگرد محسوس کرتا ہوا شاہ میر اپنی آنکھیں کھولنے سے انکاری ہوتا گنگنانے لگا تھا ۔

وہ گانا جو اس وقت منزہ کو سوچ کر اس کے ذہن میں آیا تھا ۔

دل آج کل میری سنتا نہیں

دل آج کل پاس رہتا نہیں

خود پر ہیڈ لائٹ کی تیز روشنی پر بھی وہ آنکھیں بند کیے ہوئے مسکراتا ہوا گانے میں مگن تھا۔

یہ تجھ سے ہی ملنے کو چاہے

یہ تیری ہی کرتا ہے باتیں

شاہ میر گہری ہوتی مسکراہٹ میں کئیوں کے دلوں پر ایک ساتھ وار کیا تھا ۔

میوزک اور شاہ میر کی خوبصورت آواز پر خودبخود اٹھتے قدم ان سب کو ڈانس فلور پر رقص کرنے کے لیے اکسا گئے تھے ۔

کیا تم ہو کیا تم ہو وہی

کیا تم ہو کیا تم ہو وہی

دل آج کل میری سنتا نہیں دل آج کل

دل آج کل میری سنتا نہیں دل آج کل

لائیٹ میوزک انجوائے کرتا شاہ میر سب سے بےخبر منزہ کو سوچ کر ہی خود سے غافل ہونے لگا تھا ۔

وہیں فرقان شاہ میر کے پہلی بار اس طرح خود میں مگن ہوکر گانے پر سوچ میں پڑا تھا ۔

تیری آنکھوں کے رستے یہ چلے جاتا

جو بلاؤں میں کبھی لوٹ آتا نہیں

منزہ سے ہوئی پہلی ملاقات سے لے کر اب تک کی اپنی کالز کو سوچ کر اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی مسکراتی ہوئی ریڈیش براؤن آنکھیں وا ہوئی تھیں ۔

بے خبر یہ زمانے سے ٹکراتا ہے بے دھڑک

مجھ سے کہتا ہے میں ہوں یوں ہی

مائک ہاتھ میں لیے وہ ڈانس فلور کے بیچوں بیچ آ کھڑا ہوا جہاں نشے میں دھت ایک دوسرے کی بانہوں میں جھولتے لڑکے لڑکیاں اس کی خوبصورت آواز میں مدہوش ہوئے ہوئے تھے ۔

یہ تجھ سے ہی مل کے ہوا ہے

جو تیری نظر نے چھوا ہے

کیا تم ہو کیا تم ہو وہی

کیا تم ہو کیا تم ہو وہی

دل آج کل میری سنتا نہیں دل آج کل

دل آج کل میری سنتا نہیں دل آج کل

سب کے بیچ سے نکلتا ہوا وہ شاہ میر کلب کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔

شاہ میر کی آواز کا سحر ٹوٹا تھا میوزک بینڈ کے تمام ممبر آنکھیں پھاڑے شاہ میر کو اپنے اردگرد نا پاکر حیران ہوئے تھے ۔

کچھ دیر پہلے تو اس کی آواز کلبمیں گونج رہی تھی مگر اب اچانک سے وہ خود ہی منظر سے غائب تھا ۔

کمینہ کہاں مر گیا مجھے چھوڑ ۔ اپنے ڈرائیور کو کال کرتا ہوا فرقان شاہ میر کی حرکت پر شدید برہم ہوا تھا ۔

ہے ہنر ایک نیا اس کو تجھ سے ملا

مسکرا کے یہ ملتا ہے سب سے ابھی

آدھی راتوں میں مجھ کو یہ دیتا اٹھا

مجھ سے پوچھے یہ راتیں کیوں کٹتے نہیں

گرلز ہاسٹل کے نیچے کھڑا وہ دونوں بازوں سینے پر باندھے ہوئے بس منزہ کی ہلکی سی جھلک دیکھنے کا خواہ تھا ۔

یہ تجھ سے ہی ملنے کو چاہے

یہ تیری ہی کرتا ہے باتیں

کیا تم ہو کیا تم ہو وہی

کیا تم ہو کیا تم ہو وہی

دل آج کل میری سنتا نہیں دل آج کل

دل آج کل میری سنتا نہیں دل آج کل

سیل فون پاکٹ سے نکالتا ہوا وہ منزہ کا نمبر ڈائل کرگیا تھا ۔

کیا ہے ۔ رات کے بارہ بجے کے درمیان منزہ اپنے رنگ کرتے فون سے کوفت محسوس کرتی ہوئی بڑبڑا کر اٹھی تھی ۔

کیا ہے بھائی کیوں اتنی رات کو کال کرکے پریشان کررہے ہیں آپ ۔ لمبی گھنی پلکیں بند آنکھوں سے چپکی ہوئی تھیں جنہیں منزہ نے کھولنا نہیں چاہا تھا ۔

اگر آنکھیں کھول دیتی تو اس کی نیند اڑ جاتی پھر وہ باقی کی رات جاگ کر گزارتی ۔

وہیں فون پر موجود شاہ میر نے لب بھینچے تھے بھائی سن کر ۔

بھائی مما ٹھیک ہیں نا ۔ آنکھیں پٹ سے کھولتی وہ سامنے سے جواب نا پاکر فکر سے گویا تھی ۔

مگر اب بھی اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔

دیتا تو جب جاتا جب فون پر مزمل ہوتا ۔

بھائی پاپا ٹھیک ہیں ۔ وہ مزید فکر سے پوچھا رہی تھی ۔

میں کوئی آپ کا بھائی نہیں ہوں ۔ مقابل کی آواز سن کر فون کان سے ہٹاتی ہوئی منزہ چونکی تھی ۔

پھرررر کون ہیں ۔ وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی ۔

آواز سننے کا دل کررہا تھا دل تو دیکھنے کا بھی کررہا تھا مگر آواز پر گزارا کررہا ہوں آج ۔ وہ روانگی سے کہتا ہوا کال کٹ کرگیا تھا ۔

کچھ دیر پہلے تک فون سے آتی شناسائی آواز کو پہچاننے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ فون کٹ کردیا گیا تھا ۔

اب ساری رات سوچنا میڈم کون تھا ۔ مسکرا کر سوچتا ہوا وہ فورا سے وہاں سے نکلا تھا ۔

کون ہوسکتا ہے ۔ کال پر کال کرتی ہوئی وہ ہلکان ہوئی تھی مسلسل بند جاتے نمبر سے ۔

دونوں ہاتھوں میں سر تھامے سوچنے لگی تھی اور نیند اس کی آنکھوں سے کئی میلوں دور جاکر سو گئی تھی ۔

*****

آنکھ کھلتے ہی منزہ کو میسج کرکے فون سے سیم نکال کے اپنے والٹ میں رکھتا ہوا وہ ڈریسنگ روم سے اپنے کپڑے لیے باتھروم کی سمت بڑھا تھا ۔

کیسا ہے وقاص ۔ صبح تیار ہوکر اس نے پہلی کال اپنے یونی کے فرینڈ کو ملائی تھی جو پہلی رنگ پر اٹینڈ کرلی گئی تھی ۔

شاہ میر ۔،،

ہمہم پہچان لیا ۔ خود پر کلون کی بارش کرتا ہوا وہ مسکرایا تھا ۔

تجھے کیسا نا پہچانتا تو کوئی بھولنے والی چیز تھوڑی ہے ۔ اتنے سالوں بعد شاہ میر کی کال نے اسے سرشار کیا تھا ۔

کوئی کام تھا مجھ سے ۔ شاہ میر بنا مقصد اسے کال کرنے سے رہا جب ہی وہ پوچھ بیٹھا تھا ۔

ہاں ایک کام تھا یار تجھ سے ۔ شاہ میر اسے کال کرنے کے مقصد پر آیا تھا ۔

یار تو حکم کر بس ،،،، حکم نہیں عرض ہے یار مل کر بات کرتے ہیں ۔وقاص کو ایڈریس بتاتا ہوا شاہ میر اپنے روم سے نکلا تھا ۔

******