Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304 Raah E Yaar (Episode 6)
Rate this Novel
Raah E Yaar (Episode 6)
Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar
ماں میری وائیٹ ٹی شرٹ نہیں مل رہی کہاں رکھ دی ہے آپ نے ! مزمل جو ٹی شرٹ ڈھونڈنے کے چکر میں پورا کمرہ بکھر کر اب اپنی ماں کو آواز دے رہا تھا ۔
یہ کیا حال بنا دیا ہے کمرہ کا مزمل ۔ شائستہ بیگم جو اپنے سارے کام بیچ میں چھوڑ کر مزمل کی ایک آواز پر دوڑی چلیں آئیں تھیں مگر کمرہ کی حالت دیکھ کر ایک ہاتھ سے سر پکڑ کر صدمے سے بولیں تھیں ۔
یار ماں میری ٹی شرٹ نہیں مل رہی تھی بس اس چکر میں ۔ سر کھجاتے ہوئے مزمل نے پورے کمرے کا جائزہ لے کر شرمندگی سے کہا تھا ۔
میں نہیں صرف کرنے والی تمہارا کمرہ خود کرو گے اب تم ۔ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے وہ غصے سے چبا کر بولیں تھیں ۔
جس پر مزمل شرمندہ ہوتا ہوا سر جھکائے ہوئے تھا ۔
اتنے بڑے ہو گئے ہو تم مزمل ،
بڑے بڑے بچوں کو پڑھاتے ہو انہیں یہ درس سے دیتے ہو کیسے کمرہ بکھرا جاتا ، کیسے اپنی بوڑھی ماں کو پریشان کیا جاتا ہے ۔ گال پر ہاتھ رکھے ہوئے مزمل خاموشی سے اپنی ماں کو سن رہا تھا جن کا غصہ سوا نیزے پر تھا ۔
منزہ تمہارے حصہ کی ساری ڈانٹ میرے نصیب میں لکھ دی گئی ہے ۔
یااللہ جلد از جلد منزہ کے پیپرز کروادیں اور میری بہن کے نصیب میں یہ ساری ڈانٹ واپس سے لکھ دیں اور مجھے آزاد کردے پہلے کی طرح ۔ منزہ کو ٹیکسٹ میسج کرتا ہوا وہ ساتھ میں سیڈ ایموجی بھی ایڈ کرگیا تھا ۔
منزہ کالنگ دیکھ وہ فورا سے پہلے اٹینڈ کرگیا تھا ۔
اللہ معاف کرے آپ سے بھائی ، منزہ کو کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا ۔
ویسے کیسی فیلنگ آرہی ہے مما سے ڈانٹ سنتے ہوئے مجھے تو رونا آتا تھا ۔ اپنا درد بتاتی ہوئی وہ قہقہ لگا گئی تھی ۔
بلکل تمہاری جیسی فیلنگ آرہی ہے جیسے میں نوجوان لڑکا نہیں کوئی نازک صنف معصوم سی لڑکی ہوں جو ماں کی باتیں سن کر مجھے بھی رونا آرہا ہے ۔ رازدانہ انداز میں بولتا ہوا وہ مسلسل ماں کو بولتے ہوئے خاموشی سے سن کر رہا تھا ۔
مزمل کی افسردگی سے بھری آواز پر منزہ قہقہ لگا گئی تھی ۔
اب پتا چلا بچو کیسے ہم لڑکیاں پوری کی پوری قوالیاں سنتی ہیں ۔ مزے لیتی ہوئی وہ چہک کر بولی تھی ۔
اللہ پاک تمہاری جیسی نکمی ،ہڈحرام اولاد میرے دشمن کو بھی نا دے ۔ بولنے کے ساتھ وہ مسلسل شرٹ ڈھونڈتی ہوئی اپنی بھڑاس نکال رہی تھیں ۔
آمین ۔۔ منزہ بھرپور قہقہ لگانے کے ساتھ بولی تھی ۔
ہوجائیں ایک بار تمہارے پیپر پھر دیکھتا ہوا تمہیں اس طرح میری بے بسی پر ہنستے ہوئے ۔ چور لہجے میں بولتا ہوا شائستہ بیگم کے خاموش ہونے کا انتظار کررہا تھا جو آج کی تاریخ میں ناممکن سا لگ رہا تھا ۔
بے فکر رہیں میں آپ کی طرح تنگ نہیں آتی مما سے ۔
اووووووریئلی ، شرارت پر آمادہ مزمل کھینچ کر بولا تھا ۔
جی یسسسسسسس ،وہ بھی اس کی بہن تھی اس سے چار ہاتھ آگے ۔
یہ لوں یہ رہی تمہاری شرٹ ۔ ایک جگہ پر چیزیں رکھنے کی عادت ڈال لو مزمل آئندہ سے میں نہیں ڈھونڈنے والی تمہاری چھوٹی موٹی چیزیں ۔
بیڈ پر بیٹھے ہوئے مزمل کی جانب شرٹ اچھالتی ہوئی وہ بکھرے ہوئے کپڑے سمیٹنے لگی تھیں ۔
فائنلی مل گئی ۔مزمل صد شکر کرتا ہوا منزہ کو خوشخبری سناتا ہوا پرسکون ہوا تھا ۔
یہ کش سے باتیں کررہے ہو تم مزمل ۔ خاموش ہونے پر مما کے کان کھڑے ہوئے تھے ۔
منزہ سے ۔ فورا سے جواب دیتا ہوا فون انہیں تھا کر خود باتھروم میں بند ہوا تھا ۔
ہاں محترمہ کب آرہی ہو ۔ مما کے طنزیہ انداز پر وہ لب دانتوں تلے دبا گئی تھی ۔
بس انشاءاللہ کل آپ کے پاس ہوں گی ۔ لب دبائے وہ سنجیدگی سے بولی تھی ۔
تم سچ کہہ رہی ہو نا منزہ ۔ انہیں شک گزرا تھا ۔
جی مما ۔ مسکرا کر کہتی ہوئی وہ ان کے شک کو اچھے سے سمجھتی تھی ۔
چلو پھر ٹھیک آجاؤ خیر سے بہت دن ہوگئے ہیں تمہیں دیکھے ہوئے ۔ نم لہجے میں بولتے سن منزہ بھی افسردہ ہوئی تھی ۔
اچھا یہ چھوڑیں بابا تو آپ کا خیال رکھ رہے ہیں ناں ۔ان کا ذہن دوسری جانب ڈالنے میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوئی تھی ۔
*****
وقار مرزا، وقار مرزا ، وقار مرزا،
اووواووواوووو ،،،،،،،،
واہ شاہ میر ہمدانی واہ بنا کھیلے تو سیکسر لگا دیا اگر کھیلے گا تو تو چار چاند لگا دے گراؤنڈ میں ۔
اپنے فرضی کالر جھاڑتا ہوا وہ چیئر پر شرارت سے جھول رہا تھا ۔
آپ تو وہی وقار مرزا ہیں جس کی برانڈ نیو کار کا شیشہ توڑا تھا ۔
شاہ میر یہ تو وہی انکل مرزا نکلے ۔
لو جی پرانے تعلقات نکل گئے ان کے ساتھ تو میرے ۔ خود سے بولتا ہوا شاہ میر کچھ عرصہ پہلے کی اپنی شرارت یاد کرتا ہوا وہ پرجوش ہوا تھا ۔
بڑے معصوم انسان ہیں آپ تو انکل ، وقار مرزا کی فوٹو دیکھتا ہوا وہ تاسف سے مسکرایا تھا ۔
ارے یار یہ گاڑی کس نے پارک کی ہے یہاں ، ڈھیلی سی بلیک شرٹ کے ساتھ بلیک کلر کا ہی ٹراؤزر پہنے ہوا سترہ سالہ شاہ میر جو اپنے فرینڈز کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا کہ فلڈینگ کے دوران وہ اپنے پیچھے کھڑی گاڑی سے ٹکرایا تھا اور اب بھڑک اٹھا تھا ۔
یار ہمدانی سوسائٹی میں نیو آئے ہیں مرزا انکل ان کی ہے تو آجا ،
لاسٹ بال ہے اس کے بعد ہمیں بیٹنگ کرنی ہے اس اوور کے بعد ۔ فرقان نے اسے بلند آواز میں پکارا تھا ۔
ہاں ہاں آرہا ہوں تو چل ۔ پیچھے مڑ کر کار کو دیکھتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا تھا ۔
شاہ میر کی بیٹ سے تیزی سے لگتا ہوا بال ہواؤں کی سیر کرتا سیدھا مرزا صاحب کی کار کے فرنٹ گلاس پر اچھا خاصا ضرب لگا گیا تھا ۔
وہیں شاہ میر اپنی پیشانی ہر ہاتھ رکھے ان کی ڈانٹ سننے کا سوچ کر ہی پریشان ہوا تھا ۔
اسے کیا پتا تھا کہ ان کی یہ نیو کار اس کے ہاتھوں زخمی ہونے والی ہے ۔
یہ کس نے کیا ۔ ٹوٹنے کی زور دار آواز پر وقار مرزا فورا سے باہر آئے تھے ۔
انکل مجھ سے ہی غلطی سے کرکٹ کھیلتے ہوئے بال لگ گئی اور یہ سب ہو گیا ۔ شاہ میر سر جھکائے اپنی اپنی غلطی مان گیا تھا ۔
کوئی بات نہیں بیٹا میں دیکھ لوں گا ۔ شاہ میر کو شرمندہ دیکھ وہ بڑے دل کا مظاہرہ کرگئے تھے ۔
جس شاہ میر کو دھچکا لگا تھا ۔
کیااااااااا ۔ صدمہ زدہ آواز میں شاہ میر نے پوچھا تھا جبکہ اس کے پیچھے کھڑے فرقان کا حال بھی اس سے الگ نا تھا ۔
جی بیٹا اٹس اوکے میں اپنے سر کو کہہ کر ٹھیک کروا لوں گا آپ کھیلوں جاکر ۔ وہ جیسے پریشان ہوکر وہاں آئے تھے اتنی ہی سنجیدگی سے کہہ کر وہاں سے چلے بھی گئے تھے ۔
یار ہمدانی یہ کیسے انسان ہیں جنہیں غصہ نہیں آیا فرقان اب بھی حیران تھا ۔
وہی تو میں بھی سوچ رہا ہوں ان کی جگہ میرے ڈیڈ ہوتے تو اچھی خاصی کلاس لیتے سو الگ پاکٹ منی کاٹتے وہ الگ ۔ وقار صاحب کو جاتے دیکھ وہ ایک دوسرے سے حیرت زدہ انداز میں مخاطب تھے ۔
سنے انکل ۔ شاہ میر کو کچھ ہضم نہیں ہورہا تھا ان کا ٹھنڈا انداز ۔
جی بیٹا ۔ صوبر سے وقار صاحب اسے دیکھ کر مسکرائے تھے ۔
آپ نے مجھے ڈانٹا نہیں جبکہ میں نے آپ کا اچھا خاصا نقصان کردیا ہے ۔ شاہ میر کے پوچھنے پر وہ مسکرائے تھے ۔
ایک شخص سے اگر غلطی سے آپ کا نقصان ہوجائے اور پشیمانی بھی ہو اپنی غلطی کی تو وہ سزا کا حقدار نہیں رہتا ۔
اور اگر دوسرا شخص جس سے غلطی ہوجائے اور وہ مانے نا اور جھوٹ بولے تو وہ سزا اور جرمانے کا بھی حقدار ہوتا ہے ۔
آپ میرے پاس آئے آپ نے اپنی غلطی بھی مانی اور آپ شرمندہ بھی تھے ۔
تو میں آپ کو سزا کیسے دے دیتا یہ تو غلط ہوتا نا اگر میں آپ کو ڈانٹتا تو آپ کبھی بھی اپنی غلطی پر ہونے کے باوجود بھی شرمندہ نا ہوتے ۔ تحمل کے ساتھ اسے سمجھاتے ہوئے وہ شاہ میر کے شانے تھپتھاتے ہوئے وہاں سے گئے تھے ۔
پوائنٹ تو تھا ان کی بات میں ۔شانے اچکاتا ہوا شاہ میر فرقان کے ساتھ گھر گیا تھا ۔
*****
کیا ہوا ہمدانی ! فرقان بنا باک کیے شاہ میر کے کیبن کے اندر داخل ہوا تھا ۔
اسے بنا جواب دیئے شاہ میر کھویا ہوا فقط مسکرا رہا تھا ۔
کسے سوچ کر مسکرایا جارہا ہے ہمدانی ، شاہ میر کی چیئر کو زور سے ہلا کر اسے ہوش میں لایا تھا ۔
میری محبوبہاور تیری ہونے والی بھابھی کے خیالوں میں کھویا ہوا ہوں ۔شاہ میر کا کھویا ہوا انداز فرقان کو حیران کرگیا تھا ۔
نا کر ۔ حیرانگی سے فرقان پوچھ رہا تھا ۔
ہاں یار فرقی شاہمیر کو سنجیدہ دیکھ وہ شاکڈ ہوا تھا ۔
تو سچ کہہ رہا ہے مطلب کل تک تو ایسا کوئی سین نہیں تھا تیرا ۔ شاہ میر کے سامنے ہی چیئر پر بیٹھتا ہوا وہ پانی کے گلاس کو ایک سانس میں خالی کرگیا تھا ۔
شاید مل گئی ہے ۔فرقان کو حیران دیکھ کر وہ مبہم سا مسکرا رہا تھا ۔
کب ملوا رہا ہے ۔
پہلے میں تو مل لوں بات چیت بڑھا لو پھر تجھے بھی ملوا دوں گا ۔ اپنی جگہ کھڑا ہوا تھا ۔
کیا مطلب ۔ فرقان اس کی بات سے چونکا تھا ۔
مطلب وطلب چھوڑ میں جارہا ہوں گھر ۔فون اٹھاتا ہوا شاہ میر اسے حیران چھوڑ کیبن سے باہر چلا گیا تھا ۔
یہ اب کیا گل کھلائے گا ۔شاہ میر کو جاتے دیکھ فرقان سوچ کر ہلکان ہورہا تھا ۔
*****
معمول کے حساب سے شاہ میر آج گھر جلدی آگیا تھا جو سب کو حیران ہوگئے تھے ۔
کبری بھابھی آذر اور یہ ارحم کہاں ہے دکھ نہیں رہے ۔ ڈائینگ پر کبری اور ارحم کو نا پاکر شاہ میر نے استفسار کیا تھا ۔
کبری کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اس لیے وہ آج اپنے روم میں ہی آرام کررہی ہے اور رہی بات ارحم کی تو وہ آذر کے ساتھ ہے اس کے روم میں کوئی اسائنمنٹ ملا ہے اسے ۔ سمرین ہمدانی نے مختصر سا جواب دیا تھا ۔
جس پر کھانا کھانے میں مصروف ہوا تھا ۔
کہ اچانک ہی دادجی کا پاؤں اپنے شوز پر مس ہوتے دیکھ وہ اسپون پلیٹ میں رکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا تھا ۔
آنکھوں میں صاف لکھا تھا کیا مسئلہ ہے دادجی ۔کیونکہ جہانزیب ہمدانی کی موجودگی میں وہ بولنے سے گریز کررہا تھا ۔
جس کے جواب میں دادجی اپنی ناک پر رکھے چشمے کو درست کرتے ہوئے شانے اچکا گئے تھے ۔
بی جان آج کل آپ دادجی پر بہت کم دھیان دے رہی ہیں ۔ شاہ میر کے اچانک بولنے پر بی جان نے دادجی کو دیکھا تھا ۔
کیوں کیا ہوا ابا جان آپ کی طبیعت کو ،جہانزیب ہمدانی پریشان ہوئے تھے ۔
ارے مجھے کیا ہونے لگا بلکل ٹھیک تو بیٹھا ہوں میں تو ۔ دادجی نے صفائی دی تھی ۔
بی جان میں کہہ رہا ہوں دادجی نے اس عمر میں لائن بدل دی ہے حرکت کچھ سمجھ نہیں آرہی ہیں ہر وقت فون پر لگے رہتے ہیں ذرا دھیان دیں آپ ان پر ۔
رازدانہ انداز میں بی جان کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا شرارت سے دادجی کو دیکھ رہا تھا ۔
شاہ سلطان ۔ بی جان کا کرخت لہجہ دادجی کو حیران کرگیا تھا ۔
دادجی گڈ نائیٹ ۔ایک آنکھ دبائے شاہ میر شرارت سے مسکراتا ہوا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا ۔
جبکہ دادجی اسے جاتے دیکھ بی جان کی شاکی نظروں سے خائف ہورہے تھے ۔
کیا کہہ کرگیا ہے یہ ہمدانی ۔ دادجی سوچتے ہوئے پریشان ہورہے تھے ۔
******
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم
صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا
سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم
اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب
اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم
تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراق
آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم
وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فرازؔ
ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم
دھوکے باز نکلے آپ شارق ،
مجھ سے ساری عمر ساتھ نبھانے کے وعدے کرکے آپ اتنی جلدی میرا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے ۔
روم کی لائٹس آف کیے بیڈ پر لیٹنے کے انداز سے بیٹھی ہوئی کبری شارق کی فوٹو کو گود میں لیے ہوئے تھی ۔
آپ کو مجھ پر ترس نہیں آیا کہ آپ کی کبری آپ کے بغیر کیسے رہے گی کیسے سنبھالے گی خود کو اور اپنے بچوں کو ۔ فوٹو پر ہاتھ پھیلتی ہوئی وہ مسلسل رو رہی تھی ۔
آپ کا ارحم بہت یاد کرتا ہے ہر وقت سوال کرتا ہے آپ کے لوٹ آنے کا ۔
میری ہی طرح آپ کا دیوانہ بن گیا ہے وہ بھی ۔آنسو پونچتی ہوئی وہ ارحم کے ذکر پر ہلکا سا مسکرائی تھی ۔
اور اس پریشے کو دیکھیں ناں آپ کو اس نے دیکھا تک نہیں ہے مگر آپ کی فوٹوز دیکھ کر چومتی رہتی ہے ۔ یہ بلکل آپ پر گئی ہے شارق ۔ اپنے برابر میں سوئی ہوئی پریشے دیکھ کر روہانسی ہوئی تھی ۔
یہ رہتی تو میرے ساتھ مگر یہ ہے آپ کی طرح پہلی بار پکارا بھی آپ کو اور آپ کو ہی دیکھ کر یہ روتے روتے چپ ہوجاتی ہے ۔ پریشے کے پھولے ہوئے گالوں کو چومتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
کاش میں اس دن آپ کو روک لیتی تو شاید آج ہم یوں جدا نا ہوئے ہوتے ۔ ضبط سے لب دانتوں میں دبائے اپنا درد کم کرنے کی کوشش کررہی تھی جو ناممکن تھی ۔
آئی مس یو شارق ، آئی مس یو سو مچ ۔بے خودی میں فوٹو پر لب رکھتی ہوئی وہ افسردگی سے بولتی ہوئی فوٹو فریم سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر پریشے کے گرد حصار باندھتی ہوئی نم پلکیں بند کرگئی تھی ۔
*****
ڈنر کرنے کے بعد شاہ میر سیدھا اپنے روم میں آیا تھا ۔
گلاس ونڈ کے پاس کھڑا ہوا وہ اپنے پاکٹ سے سیل فون نکال کر منزہ کا نمبر ڈائل کرگیا تھا ۔
پہلی کال کی گئی تھی جسے بڑی ہی بے دردی سے ریجیٹ کردیا گیا تھا ۔
مگر اس کے کال اٹینڈ نا کرنے پر بھی شاہ میر کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔
دوسری کال جو بڑے ہی دل سے کی گئی تھی کہ شاید اٹینڈ کرلی جائے ۔
مگر بے سود یہ کال بھی رد ہوگئی تھی ۔
“دیوانہ کرگئے وہ ایک نظر دیکھ کر
ہم کچھ بھی نا کرسکے بار بار دیکھ کر “
دوسری کوشش کو ناکام ہوتے دیکھ شاہ میر کے ٹھنڈے دماغ پر ہلکا ہلکا سا غصہ طاری ہونے لگا تھا ۔
تیسری کال شاہ میر نے خود پر ضبط کرکے کی تھی ۔
مس منزہ پلیز پک اپ دا فون ۔ دانت دبائے وہ زیر لب بڑبڑایا تھا ۔
شاہ میر جس کی آج تک کسی نے کال کٹ نہیں کی تھی اور یہ لڑکی اس کی تین کالز ریجیٹ کرگئی تھی ۔
کون منحوس انسان ہے جو تھک ہی نہیں رہا کال کر کے ۔
مسلسل بجتے فون سے منزہ تنگ آئی تھی ۔
ہیلو ! تین چار بار ان نان نمبر اگنور کرکے بلآخر اس نے کال اٹینڈ کی تھی ۔
منزہ کی اکتائی ہوئی آواز بھی اسے سرور بخش گئی تھی ۔
ہیلو ،، جواب نا پاکر منزہ نے پھر سے ہیلو کہا تھا ۔
منیہا سے بات ہوسکتی ہے میری ۔ بہت سوچ سمجھ کر شاہ میر بات شروع کی تھی ۔
سوری بھائی رانگ نمبر کیونکہ یہ کسی منیہا کا نمبر نہیں ہے ۔ منزہ نے اسے فورا سے جواب دیا تھا ۔
بھائی ۔۔۔
دیکھیں میڈم میں آپ کا کوئی بھائی وائی نہیں ہوں سمجھی آپ ۔ شاہ میر کو صدمہ لگا تھا منزہ کے بھائی کہنے پر ۔
اس شخص کی بات پر منزہ نے فون کان سے ہٹا کر فون کو حیرانگی سے دیکھا تھا ۔
چلیں کوئی بات نہیں منیہا ہیں تو کیا ہوا میں سے بات کرلیتا ہوں ۔ شاہ میر نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا تھا ۔
پر مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی سمجھے آپ ۔
ارے سنیں تو ۔ فورا سے شاہ میر کے منہ پر فون بند کرتی ہوئی غصے سے نمبر بلاک کرگئی تھی ۔
اتنا تو مجھے پتا تھا مس منزہ آپ نمبر بلاک ضرور کریں گیں ۔
رئیس کا نمبر کام آگیا شاہ میر تیرے ۔
کئی بار نمبر ملانے پر ہر بار نمبر بزی آتا سن کر وہ سمجھ گیا تھا کہ نمبر بلاک کردیا گیا ہے ۔
اپنی سمجھداری سوچ کر مسکرایا تھا جو اس نے رئیس (اپنے ڈرائیور ک کی سیم لے کر اپنا نمبر بلاک ہونے سے بچایا تھا ۔
منزہ وقار مرزا ۔ نام دہراتا وہ قہقہ لگا گیا تھا ۔
کیا ہوا کل نیو نمبر ٹرائی کریں گے ۔ منزہ کا نمبر دیکھتا ہوا بیڈ پر گرنے کے انداز پر لیٹا تھا ۔
*****
