375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 8)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

یار منیبہ یہ منزہ کہاں رہ گئی ہیں اب تک آئی کیوں نہیں ۔

تم نے بتایا تو تھا نا کہ ڈیٹ شیٹ آگئی ہے ۔

مسٹرڈ کلر کی جینز پر بلیک شرٹ پہنے اپنے سیاہ بالوں کو ہمیشہ کی طرح آج بھی اچھے طرح سیٹ کیے خوبرو نوجوان جو کسی بھی لڑکی کے دل خواہ ہوسکتا تھا ۔

منزہ کی فکر میں پریشانی سے ہاسٹل کے میں گیٹ کے سامنے چکر کاٹتا ہوا پریشان ہوا تھا منزہ کے اب تک نا پہچنے پر ۔

دیکھو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آجائے گی بچی تھوڑی نا ہے ۔ منیبہ جو خود بھی فکرمند تھی اس کے لیے بنا پریشانی کے تاثرات دیے بولی تھی ۔

ہمہم آئی نو منیبہ مگر پتا نہیں کیوں دل گھبرا رہا ہے یار ۔ دل کی گھبراہٹ وہ منیبہ پر عیاں کرگیا تھا ۔

کچھ بھی ہاں اس دل کو کہوں کہ خاموشی سے اپنے آپ پر بند باندھ کر رکھے سب جانتی ہوں منزہ کو دیکھنے کی خاطر اتاولے ہورہے ہو ۔ منیبہ نے اس کی گھبراہٹ والی بات مذاق میں اڑائی تھی ۔

جس پر مسکراتا ہوا وہ اپنا کان رب کرنے لگا تھا .

افففففف جاذب یو آر بلشنگ ۔ منہ پر ہاتھ رکھے وہ تعجب سے بولی تھی ۔

منیبہ پلیززز ۔ خود کو کمپوز کرتا ہوا جاذب اپنے چاروں اطراف نظریں دوڑانے لگا تھا ۔

یار تم ہم لڑکیوں سے زیادہ بلش کررہے ہو اس وقت ۔ اسے اس طرح بلش کرتے دیکھ منیبہ قہقہ لگا گئی تھی ۔

اتنی محبت کرتے ہو منزہ سے ۔ منیبہ نے سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔

محبت تو بہت چھوٹا لفظ ہے میں منزہ کی دل سے بہت عزت کرتا ہوں ۔

یہ ہی وجہ رہی ہے آج تک میں نے کبھی بھی منزہ کو نظر اٹھا کر بے باکی سے نہیں دیکھا ہے ۔ منیبہ اس کی بات سے دل سے قائل تھیں کیونکہ آج تک جاذب کی نگاہوں میں منزہ کے لیے سوائے احترام کے کچھ بھی نہیں دیکھا تھا ۔

اگر میرا منزہ کو عزت دینا محبت کہلاتا ہے تو شاید مجھے ان سے حد درجہ محبت ہے ۔ وہ منزہ کو سوچتا ہوا کھو سا گیا تھا ۔

اف تم اور تمہاری عزت والی محبت ۔

اگر محبت کرتے ہو تو صاف سیدھے کہو میں منزہ سے محبت کرتا ہوں ۔

لیکن نہیں دونوں کو ہی باتیں گھما پھرا کر باتیں کرنا زیادہ پسند ہے ۔ منیبہ کو ذرا نا بہائی تھی جاذب کی باتیں اس پر وہ چڑ کر بولی تھی ۔

تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا ۔

میرا نہیں تم دونوں کا کچھ نہیں ہوسکتا ۔

اگر چاہتے ہو کہ تم دونوں کا کچھ بنے تو برائے مہربانی اس عزت کی دلیلوں کو چھوڑ کر اظہار محبت کرو جاذب ۔

کہیں قسمت اور وقت تم سے یہ حق چھین نا لے غور کرنا میری باتوں پر۔

سنجیدگی سے کہتی ہوئی منیبہ جاذب کو سوچ میں الجھا کر وہاں سے چلی گئی تھی ۔

جس سے ملتا ہے دل مقدر نہیں ملا کرتے

محبت میں بھی ایسے موسم ہوا کرتے ہیں

دل کی بے چینی کا سبب کس کو بتأیں

تیری دید سے دل کو چین ملا کرتے ہیں

بے ترتیب سی راتیں بے ترتیب سے دن

ہمیں سارے موسم یوں ملا کرتے ہیں

منیبہ کی باتوں کو سوچتا ہوا جاذب منزہ کی راہ دیکھ رہا تھا ۔

*****

ارے بھائی رک جا اففف ۔ کافی دیر سے رکشے والے کو روکتی ہوئی منزہ غصے مٹھیاں بھینچ کررہ گئی تھی ۔

رئیس ۔ شاہ میر جو خود کے بکھرے بالوں کو سیٹ کرکے ڈرائیور سے مخاطب ہوا تھا ۔

جی سر ۔ رئیس جو اپنے سر کے نئے روپ کو دیکھ کر حیرت سے مسکراتا ہوا فورا سے بولا تھا ۔

ہینڈسم تو لگ رہا ہوں نا ۔ شاہ میر کے اندر کا چھپا ہوا ٹین ایجر لڑکا اچانک سے بیدار ہوا تھا ۔

جبکہ رئیس حیرانگی سے شاہ میر کو دیکھ رہا تھا جو ہر روز کی طرح آج بھی پروقار لگ رہا تھا ۔

سر آپ تو ۔ رئیس ہچکچایا تھا ۔

ارے یار جلدی بولو مجھے باہر جانا ہے کہیں چلی ہی نا جائے وہ ۔ منزہ کو کیب روکتے دیکھ شاہ میر پریشان ہوا تھا کہ کہیں وہ چلی نا جائے وہ ۔

ییلو کلر کے ڈوپٹے کو سلیقے سے سر پر ٹکائے ساتھ کاندھوں پر بلیک کلر کی بڑی سی چادر ڈالے خود کو ڈھانپے ہوئی منزہ جو ایک ہاتھ میں سفری بیگ اور ہاتھ سے کیب روک رہی تھی ۔

جی سر آپ ہمیشہ کی طرح آج بھی بہت ہینڈسم لگ رہے ہیں ۔ رئیس فورا سے بولا تھا ۔

ریئلی سچ کہہ رہے ہو تم ۔ شاہ میر چہک اٹھا تھا ۔

جی سر ۔ رئیس شاہ میر کی چہکاہٹ پر مسکرایا تھا ۔

مگر منزہ کو دیکھنے سے قاصر تھا جو فٹ پاتھ پر کھڑی کیب روکتے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی ۔

اگر رئیس منزہ کو دیکھ لیتا تو وہ شاہ میر کی چہکاہٹ کو اچھے سے پہنچان جاتا ۔

تم میرے فیورٹ ہوتے جارہے ہو رئیس ۔ اپنی ڈنر جیکٹ اتار کر سیٹ پر رکھتا ہوا شاہ میر گاڑی سے اتارا تھا ۔

سر باہر بہت گرمی ہے ۔ رئیس اسے گاڑی سے اترتے دیکھ بولا تھا ۔

رئیس کی پکار کو شاہ میر یکسر اگنور کرگیا تھا ۔

ہو بارش ،بادل ،طوفان ، یا دھوپ کے ساتھ گہرا سایہ

جب راہ یار پر ہو قدم میرے پھر مجھے فرق نہیں پڑتا

بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا شاہ میر بڑی مہارت سے ٹریفک کراس کرتا ہوا اپنے دل کی چاہ کی خاطر منزہ کے پاس جارہا تھا اور خود سے دور ۔

ہائے میم اینی پروبلم ۔ منزہ کے قریب آکر کرتا ہوا شاہ میر اس سے بڑے ہی تحمل مزاجی سے مخاطب ہوا تھا ۔

جس پر منزہ کا ڈر سے حلق خشک ہوا تھا ۔

میم میں آپ سے پوچھ رہا ہوں آپ یہاں اکیلی کیا کررہی ہیں ۔ ادھر ادھر نظریں دوڑاتا ہوا شاہ میر منزہ کو پریشان دیکھ کر چہرے پر سنجیدگی ہوجائے ہوئے تھا ۔

تھوڑی دیر پہلے والے شاہ میر کا تو نام و نشان ہی نہیں تھا ۔

دیکھیں میم میں کوئی ایسا ویسا شخص نہیں ہوں جو آپ اتنا ڈر رہی ہیں ۔ منزہ کو پریشان دیکھ شاہ میر نے صفائی دی تھی ۔

یہ کونسی نئی مصیبت آگئی ہے یااللہ ۔ شاہ میر کو دیکھ کر وہ دل میں بڑبڑائی تھی ۔

ممممیرا بھائی آرہا ہے ۔ منزہ کے جھوٹ پر شاہ میر چاہ کر بھی مسکرا بھی نا سکا تھا ۔

مطلب جھوٹ بولنے میں بھی محترمہ کو مہارت حاصل ہے ۔ منزہ کے جھوٹ پر وہ لگ دبا گیا تھا ۔

اوکے ہم ویٹ کرلیتے ہیں آپ کے بھائی کا ۔ شاہ میر کی مسکراتی نظروں سے منزہ خائف ہوئی تھی ۔

آپ جا سکتے ہیں ۔ منزہ مضبوط لہجے میں بولی تھی ۔

یااللہ اس بندے کو یہاں سے بھیج دے ۔ جس کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کررہی تھی اس کے جانے کے دعا کررہی تھی جو کسی آفت کی طرح اس کے سر پر سوار ہوگیا تھا ۔

شاہ میر ہمدانی اس طوفان کی مانند ہے منزہ وقار جو تمہاری زندگی میں ٹھہر تو سکتا مگر جا کہیں نہیں سکتا ۔ دل میں سوچتا ہوا بڑے ظرف کا مظاہرہ کررہا تھا ۔

دیکھیں محترمہ آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں ۔ منزہ کے میک اپ سے پاک چہرے کو بڑی فرصت سے استحاق بھری نظروں سے دیکھتا ہوا وہ منزہ کے دیکھنے پر فورا سے نگاہیں پھیر گیا تھا ۔

میں غلط نہیں سمجھ رہی سر آپکو پلیز آپ جائیں میں خود سے چلی جاؤں گی ۔ سہولت کہتی ہوئی وہ جانے کے لیے بڑھی تھی ۔

اگر غلط نہیں سمجھ رہی ہیں آپ تو آئیں میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں ۔ منزہ کے پیچھے ہوا تھا ۔

کیا پتا آپ کے بھائی کو آنے میں کافی دیر لگ جائے ۔ حقیقت سے واقف وہ بات کو گھوما کر عام سے لہجے میں بولا تھا ۔

جس پر منزہ کے قدم ساکت ہوئے تھے ۔

نننہیں ۔۔ وہ بھائی راستے میں مل جائیں گے مجھے ۔

یہ میرا آئی ڈی کارڈ ہے دیکھ لیں ۔کہہ کر وہ واپس سے آگے بڑھی تھی کہ شاہ میر کے دیکھانے پر رکی تھی ۔

میں کوئی سڑک چھاپ آوارہ گردی کرنے والا کوئی گنڈا ماوالی نہیں ہوں ۔

میں شاہ میر ہمدانی ہوں ویسے حیرت ہے مجھے آج تک کسی کو اپنے کردار کی گواہی نہیں دی ہے میں نے مگر آپ کو اس طرح اکیلے دیکھ کر انسانیت کے ناطے آگیا تھا یہ الگ بات ہے آپ نے کچھ اور ہی سمجھا ۔آئی ڈی کارڈ دیکھ کر منزہ تھوڑی پرسکون ہوئتھی مگر شاہ میر کی باتوں پر شرمندہ ہوگئی تھی ۔

اینی ویز میں چلتا ہوں ۔ منزہ کو اچھا خاصا شرمندہ کرکے وہ جانے کے لیے بڑھا تھا ۔

روکو منزہ مجھے ۔ ٹریفک کراس کرتا ہوا دل میں خواہ تھا منزہ کے خود کو پکارنے کا۔

خدا کی قسم ایک آواز پر رک جاؤں گا ۔ یہ حقیقت تھی وہ شاہ میر ہمدانی جس کی ایک آواز پر لوگ لائن سے لگ جاتے تھے آج اسے کسی کے حکم کا انتظار تھا ۔

ایک بار روک لو منزہ ہمیشہ کے لیے رک جاؤں گا ۔

دل میں عہد کرتا وہ بنا مڑے خالی ہاتھ اپنی منزل کی جانب بڑھ رہا تھا ۔

*****