Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304 Raah E Yaar (Episode 2)
Rate this Novel
Raah E Yaar (Episode 2)
Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar
اس ویک اینڈ پر گھر آرہی ہو یا نہیں ۔ کال اٹینڈ کرتے ہی مما کے پوچھنے کے انداز پر منزہ مسکرائی تھی ۔
کوشش کرو گی مما ۔مختصر سا جواب جو منزہ دو ہفتوں دیتی آئی تھی ۔
دو ہفتوں سے کوشش کروں گی کوشش کروں گی اور اب بھی یہ ہی کہہ رہی ہو کوشش کرو گی مما ۔منزہ کے اس بار کوشش کرنے کے جواب پر وہ غصے سے تپ کر بولیں تھیں ۔
اچھا نا میں پوری کوشش کروں گی آنے کی اور آپ کے پاس پورے دو دن رکنے کی ۔ ٹیبل پر بکھری ہوئی کتابوں کو سائیڈ پر ترتیب سے رکھتی ہوئی وہ اپنا اسائنمنٹ اور کافی کا مگ ہاتھ میں پکڑے ہوئے سنگل بیڈ پر آکر بیٹھی تھی ۔
بلکل بھی دل نہیں لگتا میرا تمہارے بنا منزہ ،
مزمل اور تمہارے بابا کام پر چلے جاتے ہیں تو میں بلکل اکیلی ہوجاتی ہوں ۔
خالی گھر جیسے کاٹنے کو دوڑتا ہے ۔افسردگی سے کہتی ہوئیں وہ منزہ کو بھی اداس کرگئی تھیں ۔
میرا بھی دل نہیں لگتا مما آپ سب کے بغیر ۔مگر کیا کیا جاسکتا ہے وہ کہتے ہیں ناں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے ۔پل بھر میں اس کی پلکیں نم ہوئی تھی ۔
تمہارے اس پروفیسر بننے کے چکر میں میں بیٹی ہونے کے باوجود بھی بیٹی سے محروم ہوں ۔ان کی آواز رونے کے باعث بھاری ہورہی تھی ۔
ایم سوری مما ۔دو سال ہوگئے تھے منزہ کو پڑھائی کے سلسلے میں ہاسٹل رہتے ہوئے اس دوران وہ چار بار ہی گھر گئی تھی ۔ایک تو منزہ کا ہاسٹل میں اکیلے رہنا انہیں کھائے جاتا تھا اوپر سے اس کا سال میں دو بار آنا انہیں الگ افسردہ کرکے رکھتا تھا ۔
تمہاری سوری ایک ہی شرط پر ایکسپٹ ہوگی جب تم گھر آؤ گی ورنہ میں ناراض ہی رہوں گی ۔مما کی بات پر وہ قہقہ لگاتی کافی مگ اٹھانے لگی تھی کہ اچانک ہی کافی سے بھرا مگ منزہ کے ہاتھ سے چھوٹ کر اس کے اسائنمنٹ بھگو گیا تھا ۔
ہااااااااا، منزہ کی چیخ نکلی تھی ساتھ آنسو بھی اس کی آنکھوں سے بہنا شروع ہوئے تھے چار دن کی محنت رائیگاں ہونے کے غم سے ۔
کیا ہوا منزہ تم ٹھیک ہو ۔انہوں نے فکر سے پوچھا تھا ۔
مما میرا اسائنمنٹ ۔ بچوں کی طرح روتی ہوئی کافی کے مگ کو اسائنمنٹ پر گرے ہوئے دیکھ مزید روانگی سے رونا شروع ہوگئی تھی ۔
کیا ہوا اسائنمنٹ کو وہ تو تم نے بنا لیا ہے ناں پھر ۔۔وہ سمجھی نہیں تھیں سمجھتی بھی کیسے منزہ نے انہیں سہی سے بتایا ہی کب تھا ۔
مما میری ساری محنت پر کافی پھر گئی آپ سے باتیں کرنے کے چکر میں میں نے بے دھیان سے مگ اٹھایااور اسائنمنٹ کافی سے رنگ گیا ۔منزہ کی محنت رائیگاں ہونے کا سن کر مما بھی افسردہ ہوئیں تھیں ۔
یااللہ تیرا شکر ہے میرے مالک ، یو آر دا بیسٹ ۔ ہائے اللہ بچ گیا میرا اسائنمنٹ ۔منزہ کی چہکی ہوئی آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی ۔
منزہ اسائنمنٹ خراب نہیں ہوا ۔مما کی آواز سن کر وہ فون کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔
مما میرا اسائنمنٹ خراب ہونے سے بچ گیا ۔اسائنمنٹ کو سینے سے لگائے ہوئے وہ خوشی سے بولی تھی ۔
کیسے ۔مما کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔
مما میری ہی غلطی تھی میں نے ہی غور نہیں کیا تھا کہ اسائنمنٹ کے اوپر منیبہ نے پلاسٹک کوٹنگ کردی تھی تاکہ خراب نا ہو اور میں بے وقوف خود بھی پریشان ہوگئی اور آپ کو بھی کردیا ۔آخر میں سنجیدگی سے بولی تھی ۔
کوئی بات نہیں تم بس اسے احتیاط سے رکھو ،اور اپنا بہت سارا خیال رکھنا ۔مما کی نصیحت کے اندر چھپی محبت پر وہ نم آنکھوں سے مسکرائی تھی ۔
ہمہم ۔۔بھرائی آواز میں فقط اتنا ہی کہہ سکی تھی ۔
اور ہاں ویک اینڈ پر تم آرہی ہو اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں سننا سمجھی تم ۔
جی مما ۔آنسوؤں کو واپس دھکیلتی ہوئی دانتوں تلے لب دبا گئی تھی ۔
اپنا خیال رکھنا منزہ ۔نم لہجے میں کہتی ہوئی وہ منزہ کے ضبط کردہ آنسوؤں سے اچھے سے واقف تھیں جب ہی تو خود کو مضبوط کرنے کی سعی کیے ہوئیں تھیں ۔
آپ بھی اپنا بابا کا اور بھائی کا بہت سارا خیال رکھنا ۔
خدا حافظ مما ۔خود کو کمپوز کرتی ہوئی وہ اتنا ہی کہہ سکی تھی اور کال کٹ کر گئی تھی ۔
آئی مس یو مما، آئی مس یو سو مچ ۔فون ہاتھ میں لیے اپنے ضبط کردہ آنسوؤں کے سارے بند توڑ گئی تھی ۔
******
ایک عدد لیموں اور عدد ایگ چاہے مجھے ۔ ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی روکتا ہوا شاہ میر فرقان کو گاڑی میں چھوڑ کر خود ریسٹورنٹ کے اندر گیا تھا ۔
ویٹر کو آرڈر دے کر اپنی نشے سے بند ہوتی آنکھوں ہر انگلیوں سے دباؤ دے رہا تھا جب ویٹر اس کا آرڈر لیے آیا تھا ۔
بوئلڈ ایگ نہیں چاہیے مجھے کچا انڈا چاہیے جس میں یلیو کلر کا سرکل ہوتا ہے جسے فرائی پین میں ڈالتے ہیں تو وہ اپنی شکل چینج کرلیتا ہے ۔بوئلڈ ایف دیکھ کر وہ فورا سے نشے کی حالت میں تفصیل دے رہا تھا ۔
بٹ سر کچا انڈا ،ویٹر پریشان ہوا تھا آج تک اس سے کسی نے ایسا آرڈر نہیں دیا تھا ۔پھر بھی خاموشی سے سر ہلا گیا تھا ۔
رکو۔۔فون میں چلتی ویڈیو کو دیکھتا ہوا پریشانی میں جاتے ہوئے ویٹر کو وہ پیچھے سے آواز لگا گیا تھا ۔ایک لمین ایک کچا انڈا اور ساتھ ایک نیم گرم پانی کی بوتل ،ایک گلاس رہنے دو یہ تو ہے یہاں اور وہ جو ہوتی ہے نا جس وہ کٹ جاتا ہے ۔ٹیبل پر ہاتھ سے کاٹنےکےانداز سے اسے سمجھا رہا تھا ۔
ویٹر کو وہ کہیں سے بھی سڑک چھاپ نشائی نہیں لگ رہا تھا ۔جس وجہ سے وہ اسے سمجھنے کی سعی کررہا تھا ۔
سر آپ کو نائف چاہیے ۔وہ اپنے تحت صحیح اندازہ لگا گیا تھا ۔
کاریکٹ جو تم کہہ رہے ہو یہ ہی چاہیے مجھے ۔ویٹر کو داد دیتا ہوا مسکرایا تھا ۔ٹیبل پر دونون ہاتھ رکھے وہ اپنا نشے کی وجہ سے ہوتا بھاری سر ان پر رکھ گیا تھا ۔
یہاں کیا کر رہے ہو تم ۔ویٹر کو کچن میں دیکھ کر مینجر نے سخت لہجے میں پوچھا تھا ۔
سر وہ ایک سر کا آرڈر ہے انہوں نے ایک عدد لیمن ،میں گرم پانی کی بوتل اور اس کے ساتھ ایک نائف منگوائی ہے ۔تفصیل سے بتاتا ہوا ویٹر سامان لینے لگا تھا ۔
تم آگے چلو میں بھی آتا ہوں اس سر سے ملنے ۔عجیب آرڈر کو دیکھتے ہوئے مینجر نے اسے کہا تھا جس پر ویٹر سر ہلاتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔
سر آپ کا آرڈر ۔ویٹر کی آواز پر وہ اسے دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
تھینک یو ،ٹیبل پر رکھے سامان کو دیکھ کر فون میں چلتی ویڈیو کو دیکھتا ہوا وہ پھرتی سے آدھے گلاس پانی میں ایگ ڈالتا ہوئی ٹیبل پر رکھی ہوئی اسپون سے ہل کررہا تھا ۔
شاہ میر ہمدانی ۔ویٹر پیچھے سے آگے آکر کھڑے ہوتے مینجر اسے یہاں دیکھ کر چونکے تھے ۔
وہیں شاہ میر کو ناک دبائے وہ پانی میں گھولے ہوئے انڈے کو پیتے دیکھ ویٹر کو اکلائی آئی تھی جب ہی تو وہ خود بھی اپنی ناک دبا گیا تھا ۔
کتنا بل ہوا ہے ۔ تھوڑی دیر ریلکس کرتا ہوا شاہ میر اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔
اٹس اوکے شاہ میر سر ۔مینجر نے مخصوص لہجے میں انکار کیا تھا ۔
نہیں پھر بھی بتا دیں ۔پاکٹ مین کہاں رکھتا ہوا ایک ہاتھ میں پانی کی بوتل اور نائف پکڑے ہوئے اور دوسرے ہاتھ سے والٹ نکال کر پوچھ رہا تھا ۔
میں نے کہا نا سر اٹس اوکے ۔ مینجر کے انکار پر شاہ میر شانے آچکا گیا تھا ۔
ویٹر رکو ۔ویٹر کو جاتے دیکھ وہ پیچھے سے پکار گیا تھا ۔
یہ لو تمہاری ٹپ ۔
اٹس اوکے سر ۔۔شاہ میر کی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے مینجر کو اس گھورا تھا ۔
آپ کو نہیں دے رہا یہ اس کا حق ہے ۔پانچ ہزار کا نوٹ ویٹر کے ہاتھ میں تھماتا ہوا وہ مینجر کو خاموش کروا گیا تھا ۔
یہ لے کر جارہا ہوں ۔نائف کی طرف اشارہ کرتا ہوا وہ ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے کی سمت بڑھا تھا ۔
پیچھے کھڑا ویٹر کبھی ہاتھ میں پکڑے نوٹ کو حیرت سے دیکھ رہا تھا تو کبھی جاتے ہوئے شاہ میر کو ۔
******
گرلز ہاسٹل کے تیسرے فلور پر بنے اس چھوٹا کمرا جو جو سنگل بیڈ ،ایک دو پٹ والی کبرڈ کے ساتھ ہی اٹیچڈ واشروم کی سہولت انہیں میسر تھی ۔
وہیں کمرت کی دائیں جانب رکھی ٹیبل جس پر ایک لیمپ کے ساتھ کتابیں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں ، نائیٹ بلب کی مدھم روشنی میں سنگل بیڈ کے چھوٹے سے کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی وہ خود بخود مسکرا رہی تھی ۔
دوسری سنگل بیڈ پر لیٹی ہوئی صلہ جو کب سے اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔
اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ۔
کسے اتنی دیر میں سوچا جارہا ہے وہ بھی مسکرا کر ۔ صلہ کے استفسار کرنے پر اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔
کسی کو بھی نہیں سوچا جارہا بس ایسے ہی مسکرا رہی تھی ۔
تم بتاؤ تم کس خوشی میں جاگ رہی ہو اب تک ۔ بات ٹالتی ہوئی وہ الٹا اس سے ہی سوال کرگئی تھی ۔
زیادہ چالاک بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے ساتھ سمجھی تم ۔ صلہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔
یار مسئلہ کیا تمہیں ، وہ اب اس کے سوالوں سے زچ آئی تھی ۔
جب ہی اپنے بستر پر سیدھی ہوئی تھی ۔
منزہ کی بچی زیادہ چالاکیاں مت دیکھاؤ مجھے اور جلدی سے بتاؤ کسے سوچ کر مسکرایا جارہا تھا ۔منزہ کے منہ پر سے کمبل کھینچتے ہوئے اونچی آواز میں بولی تھی ۔
آہستہ بولو کسی نے سن لیا نا پروبلم ہوجائے گی ۔اسے تنبیہ کرتی ہوئی منزہ اٹھ کر بیٹھی تھی ۔
جاذب مجھے کل کافی پر لے جانا چاہتا ہے ۔انگلیاں چٹکھاتی ہوئی منیبہ سے نظریں چرا رہی تھی ۔
سچ میں ۔وہ چیخی تھی ۔
جاذب کی منزہ کے لیے فیلنگز وہ کب سے جانتی تھی مگر آج منزہ کے بتانے کے انداز سے وہ اندازہ لگا گئی تھی جاذب اکیلا نہیں تھا منزہ سے محبت کے سفر میں۔
چپ ہوجاؤ اور جاکر سو جاؤ ،منیبہ کا ڈپٹتی ہوئی منزہ تکیے میں میں دے گئی تھی ۔
راجہ کی آئے گی برات رنگینی ہوگی
رات مگن ناچوں گی ہووووووو
مگن میں ناچوں گی ۔۔۔۔۔۔
سوجاؤ منیبہ، تکیہ اس کے منہ پر مارتی ہوئی وہ شرم اور غصے کے ملے جلے تاثرات لیے بولی تھی ۔
جس پر قہقہ لگاتی ہوئی منیبہ اس کے برابر میں ہی لیٹ گئی تھی ۔
******
اٹھ بے کمینے تیرا گھر آگیا ۔ لیمون جو پہلے ہی وہ پانی کی بوتل میں مکس کرگیا تھا ۔اس لیموں والے پانی کو پیتے ہوا وہ فرقان کو جھنجھوڑنے کے انداز ہلا رہا تھا ۔
میری جان ہمدانی آئی لوو یو ۔گاڑی سے اترنے کے بجائے فرقان نے اپنی دونوں بازوں اس کی گردن میں ڈالی تھی ۔
ابے کمینے دور رہ اور اتر میری گاڑی سے ،فرقان کو دور کرتا ہوا وہ گاڑی سے اترا تھا ۔
جس پر فرقان نے منہ بنایا تھا ۔
نکل ۔شاہ میر کی ترکیبیں رنگ لائی تھیں جو اس کا نشہ کافی حد تک اتر گیا تھا جو رہ گیا تھا اس پر وہ خود سے قابو پائے ہوئے تھا ۔
یارا تیری یاری کو میں نے تو خدا مانا
یاد کرے گی دنیا تیرا میرا افسانہ
کمینے بند کر اپنا بے سورا راگ ،شاہ میر جو اسے سہارا دے کر چل رہا تھا اچانک سے اس کی اونچی میں میں گانے پر زچ آیا تھا ۔
اوکے جانی ۔ کہتا ہوا وہ شاہ میر کے گال پر لب رکھ گیا تھا ۔
کتے کمینے گدھے انسان ،ایک ساتھ گالیوں سے نوازتا ہوا فرقان سے دور ہوا تھا جس پر وہ ہنستا ہوا لڑکھڑا گیا تھا ۔
ڈور بیل بجا کر شاہ میر دور ہوا تھا ۔
اسلام وعلیکم ابو ۔اپنے والد کو دیکھ فرقان آنکھیں پٹ پٹا کر بولا تھا ۔
جس پر اسے غصے سے بھری سخت گھوری ملی تھی ۔
اسلام وعلیکم انکل چند فرینڈز نے اسے زبردستی پلا دی اس لیے مجھے آنا پڑا اسے چھوڑنے ۔جھوٹ بولتا ہوا شاہ میر ذرا نہیں ڈگمگایا تھا ۔
آؤ بیٹا تم اندر آؤ ۔شاہ میر کو دیکھتے ہی وہ مسکرائے تھے ۔
ضرور انکل مگر پھر کسی اور دن ابھی داجی اور بابا انتظار کررہے ہونگے میرا میں تو اس کو چھوڑنے کی خاطر آیا تھا اور اب چلتا ہوں ۔وہ کہتا ہوا مسکرایا تھا ۔
چلو بیٹا چکر ضرور لگانا ۔ان سے اجازت لیتا ہوا شاہ میر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا ۔
کتنا بدل گئے ہو تم شاہ میر ہمدانی ۔شاہ میر کو جاتے دیکھ وہ فرقان کو اپنے پاس کھڑے نا دیکھ اپنے کمرے کی سمت بڑھے تھے ۔
******
