375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 16)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

روم میں آتے ہی شاہ میر کی کال غصے سے اٹھاتی ہوئی شاہ میر کے جھوٹ پر عش عش کرتی رہ گئی تھی ۔

میں ملنا چاہتا ہوں آپ سے ،،، شاہ میر کی بات پر منزہ کلسی تھی ۔

پر مجھے نہیں ملنا ،،،، مجھے انکار اپنے کی عادت نہیں ہے اس لیے میں ایڈریس سینڈ کررہا ہوں آپ کو آجائیے گا ۔۔ منزہ کو شاکڈ کر وہ مسکراتا ہوا کال کٹ کرگیا تھا ۔

آپ اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں، منزہ کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ۔

شاہ میر ہمدانی کو کچھ بننے یا خود کو کچھ سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے میں اپنے آپ میں ہی بہت ہوں ، شاہ میر کا مسکراتا لہجہ منزہ کو کلسا رہا تھا ۔

ہونگے آپ شاہ میر ہمدانی پر ایک اچھے باوقار اور عزت دار مرد نہیں ہیں آپ ،

اچھا وہ کیسے پتا تمہیں، سنجیدگی سے پوچھتا ہوا وہ منزہ کے جواب کا منتظر تھا ۔

کیونکہ عزت دار کبھی بھی کسی بھی لڑکی کو یوں پرینک کالز نہیں کرتے اور نا ہی انہیں دھمکیاں دیتے ہیں ۔

کل بتا دوں گا تمہیں کہ میں کتنا عزت دار ہوں اور تمہارے لیے کیا سوچتا ہوں ۔ منزہ نے سکتی سے آنکھیں میچی تھیں ۔

آؤ گی کل میں، وہ کہہ کر کال کٹ کرگئی تھی ۔

****

کیا کرنے والا ہے تو ہمدانی ۔ فرقان جو آفیس پہنچتے ہی شاہ میر کے پاس آیا تھا جو کہیں جانے کی تیاریوں لگ رہا تھا ۔

بہت کچھ ،، قہقہ لگاتا ہوا وہ فرقان کو حیران کرگیا تھا ۔

ہمدانی بتائے گا کہ کیا کرنے والا ہے تو ،، آکر بتاؤں گا ابھی مجھے دیر ہورہی ہے ۔ فرقان کے ساتھ بغلگیر ہوتا وہ کیبن سے نکلا تھا ۔

یااللہ اس پر رحم فرما مجھے تیرا یہ بندہ کچھ بدلا بدلا لگ رہا ہے،

فرقان سر وہ کبری میڈم آگئی ہیں ،،چلیں میں آرہا ہوں ۔ شاہ میر کے لیے دعا کرتا وہ اسٹاف بوائے کے پکارنے پر وہاں سے گیا تھا ۔

ﮔﺮﻓﺘﮧ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﺷﺎمِ شہرِ ﯾﺎﺭﺍﮞ ﺁﺝ

ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ﺗُــﻮ؟ ﮐﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺣﺎﻝِ ﺩﻟﺒﺮﺍﮞ ﻟﮑﮭﻮﮞ

خالی ریسٹورنٹ میں ایک گھنٹے سے منزہ کا انتظار کرتا ہوا وہ بار بار اپنے بائیں ہاتھ پر بندھی ریسٹ واچ کو دیکھ رہا تھا ۔

مگر پھر بھی بنا ہمت ہارے وہ منزہ کے محو انتظار میں گم تھا ۔

سوری دادجی، ویٹر کو وائن کا آرڈر دیتا ہوا وہ پہلی بار شرمندہ ہوا تھا دادجی کو دی ہوئی زبان توڑنے پر ۔

شاہ میر جو ریسٹورنٹ کے بیچوں بیچ بیٹھا ہوا گلاس کولڈ ڈرنک میں مکس وائن بے دلی سے پینے میں مشغول تھا ۔

انٹرس پر کھڑی منزہ خالی ریسٹورنٹ کو دیکھ کر ٹھٹھکی تھی ،وہیں سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی پیٹھ دیکھتی ہوئی خود کو مضبوط کیے آگے بڑھی تھی ۔

انتظار کی گھڑیاں تمام ہوئیں تھیں ۔ ٹیبل پر آہستہ سے ہاتھ مارتی ہوئی منزہ نے گم ان بیٹھے شاہ میر کو پیچھے سے خود کی طرف متوجہ کیا تھا جس پر سر اٹھا اپنے پیچھے کھڑی منزہ کو دیکھ کر شاہ میر کے لب پر مسکراہٹ بکھری تھی ۔

وہیں منزہ شاہ میر کو دیکھ کر شاکڈ ہوئی تھی ۔

آپ ،،، حیرانگی سے پوچھتی ہوئی اسے ذرا دیر نہیں لگی تھی شاہ میر کو پہچاننے میں ۔

جی میں، شاہ میر اپنی سے اٹھا تھا اور منزہ کے سامنے کھڑا ہوا تھا ۔

آئیں بیٹھیں ،، میں یہاں بیٹھنے نہیں آئی ، چبا کر بولی تھی ۔

بات تو بیٹھ کر ہی کی جائے گی اس لیے پلیز بیٹھ جائیں، عاجزی سے کہتا ہوا وہ چئیر پیچھے کرتا ہوا مسکرایا تھا ۔

مگر سامنے بھی منزہ وقار تھی اس کے شاہ میر کی چیئر کو چھوڑ وہ خود سے چیئر پیچھے کرتی ہوئی منزہ کو دیکھ شاہ میر کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔

کیا لینا پسند کرو گی ، شاہ میر کے خوشگوار لہجے سے منزہ کو اکتاہٹ محسوس ہوئی تھی ۔

کچھ نہیں جو بات کرنی ہے جلدی کریں، منزہ کے تیکھے انداز پر شاہ میر نے لب دبائے تھے ۔

ایز یو وش ، کہہ کر شاہ میر چیئر پر بیٹھاتا ہوا منزہ کے بے زار چہرے کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔کہ منزہ کی آنکھوں میں اپنے لیے غصہ دیکھ نظریں پھیر گیا تھا ۔

کچھ نہیں لینا تو چلو ایک گیم کھیلتے ہیں ۔ منزہ چونکی تھی یہ سوچ کر کہ اس شخص نے اسے یہاں گیم کھیلنے کی خاطر بلایا تھا ۔

میں یہاں آپ کے ساتھ کوئی گیم کھیلنے کی لیے نہیں آئی ہوں ۔اسے شاہ میر اپنے حواسوں سے غافل لگا تھا ۔

پر مجھے تو کھیلنی ہے ۔وہ باضد تھا ۔

مجھے نہیں کھیلنی بس مجھے یہ بتا دیں میرا پیچھا چھوڑے کے لیے کیا لیں گیے ۔

تمہارے پاس کچھ ہے ہی نہیں مجھے دینے کی خاطر ۔ہاں مگر ایک چیز ہے ۔وہ دل میں سوچ کر مسکرایا تھا ۔

منزہ پریشان ہوئی تھی اسے گلاس کے ساتھ کھیلتے دیکھ ۔

پھر مجھ سے کیا چاہتے ہیں آپ کیوں تنگ کررہے ہیں آپ مجھے ۔ وہ اپنے مدعے پر آئی تھی جس کی خاطر وہ یہاں موجود تھی ۔

شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے ، بنا باتوں کو گھمائے وہ فورا سے بولا تھا ۔

کیااااا ،،،، جی ،، وہ مسکرایا تھا ۔

پاگل ہیں کیا آپ ۔ اپنا سر تھامے وہ دبی ہوئی آواز میں چلائی تھی ۔

تھا نہیں ہوگیا ہوں، شاہ میر کے جواب پر وہ کلس اٹھی تھی ۔

پر مجھے آپ میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے سر ، ضبط سے چبا کر بولی تھی ۔

مجھے تو ہے ۔ اپنے بھاری ہوتے سر پر انگلیوں سے دباؤ دیتا ہوا بولا تھا ۔

منزہ : میں نہیں کرسکتی آپ سے شادی ،

شاہ میر : کیوں ،

منزہ :میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں،

شاہ میر : اوووو اچھاااااا ، کھینچ کر کہتے ہوئے شاہ میر پر ہلکا ہلکا نشہ سوار ہونے لگا تھا ۔

منزہ : اپنی بکواس بند کریں ۔۔

بکواس بند کرلیتا ہوں میں گیم کھیل لو میرے ساتھ اس کے بعد میری طرف سے کوئی کال یا میسج نہیں آئے گا تمہیں ۔ شاہ میر اپنی انگلیوں کے پوروں سےآنکھوں دباؤ دے رہا تھا ۔

مجھے نہیں کھیلنی کوئی بھی گیم جان چھوڑیں میری ، وہ زچ آئی تھی ایک ہی رٹ سے ۔

جب ہی تو کہہ رہا ہوں گیم کھیلتے ہیں۔ منزہ کی بھنویں سیکڑی تھیں ۔

دیکھو اگر میں جیتا تو تم میری اور اگر میں ہارا تو بھی تم میری ۔بھاری ہوتی پلکوں کو زبردستی کھولے وہ خود ہی کی بات پر وہ فلک شگاف قہقہ لگا گیا تھا ۔

وہیں منزہ شاکڈ ہوئی تھی اپنے مقابل بیٹھے شاہ میر کو دیوانہ وار قہقہ لگاتے دیکھ کر ۔

مجھے کوئی گیم نہیں کھیلنی ،،منزہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی ۔

بیٹھ جاؤ ۔۔ رئیس خالی بوتل لے کر آؤ ۔ منزہ کو تنبیہ کرتا ہوا وہ رئیس کو بلند آواز لگا گیا تھا ۔

نہیں کھیلنا مجھے کچھ بھی آپ کو سمجھ نہیں آرہی میری بات ،، منزہ زچ آتی چلائی تھی جس پر شاہ میر بھنویں ناگواریت سے سکڑی تھیں ۔

مت کھیلو ،، دبی دبی آواز میں شاہ میر غرلایا تھا ۔

محبت کا اظہار کررہا ہوں اس لیے دماغ خراب ہورہا ہے تمہارا ، شاہ میر کے لہجے سے غصہ چھلکا تھا ۔

پر میں نہیں کرتی آپ سے محبت، وہ دو بدو بولی تھی ۔

کمی کیا ہے مجھ میں جو اس میں ہے ۔، شاہ میر نے فورا سے استفسار کیا تھا ۔

یہ پوچھیں آپ میں ہے کیا ایسا جو میں آپ سے محبت کروں گی ۔ شاہ میر نے غصے سے آنکھیں میچی تھی سامنے بیٹھی ہوئی چھوٹی سی لڑکی اس کا ضبط آزما رہی تھی ۔

کیوں اچھا خاصا ہینڈسم اور رچ ہوں اور کیا چاہیے ہوتا لڑکیوں کو ، بنا لحاظ کے وہ ڈھٹائی سے بولا تھا ۔

جبکہ منزہ اس کی سوچ پر تاسف سے گردن ہلا کر رہ گئی تھی ۔

نہیں کرتی محبت میں آپ سے اور کروں بھی کیوں آپ ہیں کون ،، بتائیں کون ہیں آپ ،،، شاہ میر کا دل ڈوبا تھا ۔

بتائیں ناں کون ہیں آپ میری پھپھو کے بیٹے یا میرے ماموں کے ،، منزہ کے حد درجہ سخت لہجے پر شاہ میر خود پر ضبط کرنا محال لگا تھا ۔

ارے میں تو آپ کے نام تک سے واقف نہیں ہوں اور آپ بات کرتے ہیں میں آپ سے محبت کروں گی حد ہوتی مغروریت کی ،،،

کہاں سے خیال آجاتے ہیں آپ جیسوں کو کہ ہر لڑکی آپ کی پرسنلٹیی دیکھ کر پاگل ہوجائے گی مگر یاد رکھیں سر ہر لڑکی ایک جیسی نہیں ہوتی ہر لڑکی دولت اور خوبصورتی پر نہیں مرتی ،منزہ کی بات کے اختتام پر شاہ میر مسکرایا تھا ۔

ہر لڑکی بھی شاہ میر ہمدانی کی نگاہوں میں نہیں چڑھی مس منزہ وقار مرزا ،،

تم واحد لڑکی ہو جو” اس طرح “خاصا زور دیا گیا میرے سامنے کھڑی ہوکر اپنی تیز زبان کے جوہر دیکھا رہی ہیں ورنہ کسی کی بھی محال نہیں ہے کہ شاہ میر ہمدانی کے سامنے بول بھی سکے ، شاہ میر کے باور کروانے پر منزہ نے طویل سانس خارج کیا تھا ۔

میرا خیال اپنے دماغ سے نکال دیں شاہ میر ہمدانی میں مر تو سکتی ہوں پر آپ کے بارے میں سوچنا بھی خود پر گناہ سمجھوں گی ،،، جاذب اورآپ میں زمین آسمان کا فرق ہے جو ہمیشہ قائم و دائم رہے گا ،، منزہ کے سلگتا لہجہ شاہ میر کے تن بدن میں آگ لگا تھا ۔

جاذب اوقات کیا ہے اس کی میرے سامنے ،،، منزہ کی تمخسرانہ ہنسی نے شاہ میر کو اسٹل کیا تھا ۔

اوقات کی بات نا ہی کریں تو بہتر ہوگا سر کیونکہ جاذب کی اوقات میری نظروں میں یہاں ہے ۔ اپنے قد سے اونچا ہاتھ کرتی ہوئی وہ شاہ میر کی سوئی ہوئی انا کو بیدار کرگئی تھی ۔

یہاں ،،، شاہ میر کا نفرت انگیز قہقہ ریسٹورنٹ کی در و دیوار کو ہلانے کے لیے کافی تھا۔

قہقہ لگاتا ہوا وہ اچانک روکا اور منزہ کے جانب ہلکا سا جھکا تھا ۔شاہ میر کے منہ سے آتی بو اور اس گرم سانسوں سے گھبراہٹ محسوس کرتی ہوئی منزہ دو قدم پیچھے ہوئی تھی مگر بے سود شاہ میر نے واپس سے اس کی جانب قدم بڑھا کر وہ دو قدم کا فاصلہ بھی تمام کیا تھا ۔

پہلے تم میری محبت تھی پھر دیوانگی کی حد تک چاہنے لگا تمہیں وہاں تک سب ٹھیک تھا مگر اب تم میری ضد بن گئی ہو منزہ وقار ،

اب یہ یاد رکھنا تمہیں صرف میرا ہونا ہے شاہ میر ہمدانی کا ہونا منزہ وقار ۔

اب اسے تم دھمکی سمجھوں یا پھر کچھ بھی ،،، آنکھوں میں آئی نم کو بے دردی سے صاف کرتا ہوا جبڑے بھینچے ہوئے غرلایا تھا ۔

ضد نہیں بننا چاہیے تھا تمہیں کیونکہ شاہ میر ہمدانی سب چھوڑ سکتا ہے سوائے اپنی ضد کے ،،، ناؤ یو ویٹ اینڈ واچ مسسز ہمدانی ٹو بی،،،، سانس روکے شاہ میر سے خوفزدہ ہورہی تھی ۔

اب اس جاذب کو شاہ میر ہمدانی کے قہر سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا حتی کہ تم بھی نہیں منزہ وقار ،،، منزکے چہرے بنا نگاہ غلط ڈالے وہ اپنے اور اس کے درمیان میلوں کا فاصلہ قائم کرتا وہاں سے گیا تھا ۔

شاہ میر کے جاتے ہی اپنی رکی ہوئی سانسیں بحال کرتی منزہ جاذب کو کال ملانے لگی تھی مگر اس کا مسلسل نمبر بند جاتے دیکھ فکر مند ہوئی تھی ۔

جاذب آرائیں تجھے ایسی جگہ ماروں گا کہ ڈھونڈنے سے بھی کسی کو نظر نہیں آئے گا، ، ریش ڈرائیونگ کرتا ہوا وہ مسلسل اپنی اور منزہ کی ہوئی کنورسیشن کو سوچ سوچ کر غصے مزید بڑھ رہا تھا ۔

*****

سمرین بیٹا ذرا آئیں بات کرنی ہے آپ سے ،،،

جی ابا جان ،،، سمرین ہمدانی کو اپنے روم میں جاتے دیکھ دادجی نے انہیں پیچھے سے روکا تھا۔ دادجی کی پہلی ہی آواز پر مڑتی ہوئی سمرین ہمدانی لیونگ روم میں تنہا بیٹھے دادجی کے پاس آئی تھیں ۔

شاہ میر کی شادی کے بارے میں کچھ سوچا ہے آپ نے اور جہانزیب نے ،،، جہانریب ہمدانی کی غیرموجودگی میں سمرین ہمدانی سے بات کرنا انہیں مناسب لگا تھا ۔

ابا جان شاہ میر کی شادی کے لیے میری اور ان کی آج بھی وہی رائے ہے جو دو سال پہلے تھی ،، سمرین ہمدانی کہتی ہوئیں دادجی کے سامنے رکھے ریڈ کلر کے کنگ اسٹال صوفے پر بیٹھی تھیں جانتی تھی کہ یہ بات جلدی ختم نہیں ہونی تھی ۔

جبکہ آپ دونوں شاہ میر کی رائے جانتے ہیں پھر بھی ،،ناک پر رکھے چشمے کو درست کرتے ہوئے دادجی کو ذرا حیرانگی نہیں ہوئی جہانزیب اور سمرین ایک جگہ ٹکی ہوئی سوئی پر ۔

مجھے یقین ہے کہ شاہ میر کبھی نا کبھی تو مان ہی جائے گا کبری سے شادی کے لیے ،،،، وہ کہتے ہیں ناں ابا جان امید پر دنیا قائم ہے ۔ سر جھکائے بیٹھی ہوئیں سمرین کے لہجے کھوکھلا لگا تھا دادجی کو ۔

پھر تو میں آج بھی آپ کو وہی دو سال پہلے والا جواب دوں گا ۔ سمرین ہمدانی نے نا سمجھی میں دادجی کو دیکھا تھا ۔

آپ تینوں کی بے جا ضد نے شاہ میر کو ضد چڑھا دی ہے اور اب ہم سب مرتے مر جائے گیے لیکن شاہ میر کی کبری سے شادی نا کرنے کی ضد کبھی نہیں ٹوٹے گی ،،سمرین ہمدانی اچھے سے واقف تھیں اپنے بیٹے کی ضد اور انا پرستی سے ۔

آپ جانتے ہیں کہ ہم بھی فقط کبری اور بچوں کے لیے ہی بضد ہیں ہم غلط تو نہیں ہیں ناں ابا جان ،، سمرین ہمدانی کی وہی مرغ کی ایک ٹانگ والی بات سن کر دادجی نے نفی میں گردن ہلا رہے تھے ۔

مطلب آپ لوگ پیچھے نہیں ہٹنے والے ،،،

ہم کوشش کرنا نہیں چھوڑیں گے ابا جان، ،، سمرین ہمدانی کی بات پر سنجیدگی سے بیٹھے دادجی مسکرائے تھے ۔

آپ لوگ اپنی بے فضول کوششیں کریں اور شاہ میر ہر حال میں اپنی ضد پوری کرے گا اور وہ اس ضد کی آڑ میں کچھ بھی کر گزرے گا یہ آپ اور جہانزیب اچھے سے جانتا ہے پھر یہ مت کہیے گا کہ میں نے آپ کو وارن نہیں کیا ۔ دادجی سختی سے کہتے ہوئے اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔

پر ابا جان، ،، دادجی کے اٹھتے ہی سمرین ہمدانی اٹھ کھڑی ہوئیں تھیں ۔

آپ لوگ پر ور کرتے رہ جائیں گے پر شاہ میر اپنی ضد سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا بیٹا ،،، آپ لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے ہو شاہ میر کے لیے کبری اس کی چھوٹی بہن جیسی ہے وہ کتنی بار باور کروا چکا ہے پھر بھی آپ سب کو اپنی کوشش جاری رکھنی ہے ،،، سمرین ہمدانی کا سر جھکا تھا ۔

تو شوق سے رکھیں اس معملے میں میرے ہاتھ کھڑے ہیں میں آپ تینوں کے ساتھ نہیں ہوں میں ہمیشہ آپ تینوں کے خلاف اور شاہ میر کے ساتھ کھڑا ملوں گا اس کے ہر فیصلے میں ،،، دادجی سختی سے کہتے ہوئے وہاں سے گئے تھے ۔

جبکہ سمرین ہمدانی دادجی کی بات سے دل ہی دل میں متفق ہوئیں تھیں ۔

****

مما ۔۔ یس بے بی ،،،، لیپ ٹاپ پر مصروف کبری نے اپنے برابر میں بیٹھے ارحم پر سرسری سی نظر ڈالی تھی ۔ آپ ابی سے ناراض ہیں ،،، کبری اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔

نہیں تو آپ کو کس نے کہا ،

وہ آپ ابی سے بات نیں کرتی نا ۔ کبری کو لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھتے دیکھ ارحم اس کی زانوں پر سر کر لیٹا تھا ۔

میں آپ کے ابی سے بات کرتی ہوں پر وہ گھر نہیں ہوتے نا زیادہ اس لیے ،، ارحم کی پیشانی پر لب رکھتی ہوئی وہ شاہ میر کو سوچ کر افسردہ ہوئی تھی ۔

مما آپ ابی سے کبھی ناراض نا ہونا ،، کبری کے چہرے پر اپنے ننھے ہاتھ رکھتا ہوا وہ کبری پریشان کرگیا تھا ۔

کیوں بے بی ،،،

کیونکہ ابی نا مجھے اور پری کو بلکل ڈیڈ کی طرح پیار کرتے ہیں، ہمارے ساتھ کھیلتے ہیں ہمیں کھانا بنا کر کھلاتے ہیں جب میرے ساتھ ہوتے ہیں نا مجھے ڈیڈ کی یاد نہیں آتی مما ۔ ارحم کی معصومیت بھرے لہجے پر کبری کی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔

میں ابی سے بہت پیار کرتا ہوں مما جیسے ابی ہم دونوں سے کرتے ہیں ۔

کیا ہوا مما ،،،، کبری کی نم آنکھیں دیکھ ارحم خاموش ہوا تھا ۔

کچھ بھی تو نہیں بے بی بس مما آپ کو سن رہی تھی ۔ ارحم کو اپنے حصار میں لیتی ہوئی پری کے برابر لیٹی تھی ۔

کیا مما اور سب صیحح کہتے ہیں میرے ارحم اور پری کو شاہ میر سے زیادہ کوئی پیار نہیں کرسکتا ،، ارحم کے سنہری ریشم بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی اپنے ذہن میں بازگشت کرتی سوچوں سے کب نیند کی وادی میں اتری تھی خبر ہی نا ہوئی تھی ۔

*****

شاہ میر کیا ہوا ہے تمہیں ،، شاہ میر کو گھر میں داخل ہوتے ہی اپنے روم کی سمت بڑھتے دیکھ دادجی پیچھے سے فکر سے پکارے تھے ۔

یار دادجی آج رہنے دیں ، زندگی میں پہلی ٹھکرائے جانے کا درد شاہ میر کو پاگل کیے ہوئے تھا بنا دادجی کی سمت مڑے وہ سیڑھیاں چڑھتا اپنے روم میں بند ہوا تھا ۔

****