Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304 Raah E Yaar (Episode 15)
Rate this Novel
Raah E Yaar (Episode 15)
Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar
آپ خوامخواہ میری وجہ سے پریشان ہوتے ہیں ۔۔ ایک ہفتے سے مسلسل فرقان کے کبری کو ڈراپ کرنے پر کبری شرمندگی سے بولی تھی ۔
ارے نہیں کبری جی اس میں پریشانی والی کیا بات ہے میرے لیے ہمدانی کا حکم سر آنکھوں پر ہے ۔ ڈرائیوو کرتا ہوا فرقان اپنے برابر میں بیٹھی سر پر ڈوپٹہ ٹکائے آف وائیٹ کلر کے نفیس ڈریس میں ملبوس سادہ طبیعت کی مالک کبری کو دیکھ کر سرد آہ بھر کر رہ گیا تھا ۔
“کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا چ
فرقان چاچو آپ آج پھر ہمارے گھر ۔ کبری کے پیچھے سے آتے فرقان کو دیکھ ارحم نے اس کی جانب دوڑ لگائی تھی ۔
یس مائے بوائے آج پھر ۔ ارحم کو اپنی گود میں اٹھاتا ہوا فرقان شاہ میر کو مسکراتے دیکھ نگاہ جھکا گیا تھا ۔
پری آپ مما کے پاس نہیں آؤ گی ۔ پریشے کو شاہ میر کی گود میں دیکھ کبری اس لینے کی خاطر آگے بڑھی تھی ۔
مما ۔ مما کا بے بی پتا ہے مما نے آپ کو بہت زیادہ مش کیا ۔ پریشے کے پھولے ہوئے گالوں کو چومتی ہوئی وہ اپنی دن بھر کی تھکان دور کرگئی تھی ۔
وہیں شاہ میر اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کبری اور فرقان دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
پرفیکٹ میچ ۔ کچھ کہا تو نے ۔ فرقان جو ارحم کو گود میں لیے کبری کے برابر میں کھڑا تھا شاہ میر کو بڑبڑاتے دیکھ فورا سے پہلے بولا تھا ۔
نہیں تو تو نے کچھ سنا کیا ۔شاہ میر کے جواب پر فرقان ارحم کی باتوں کو سنتا ہوا مسکرا رہا تھا ۔
پتا ہے فرقان چاچو ابی ہمارے ساتھ کھیل رہے تھے اور انہوں نے آج ہمارے لیے چیز پزا بنایا تھا ۔ پر آپ نے اور مما نے دیر کردی آنے میں ۔ ارحم کے بتانے پر کبری کی نظریں بے ساختہ ہی شانے اچکاتے شاہ میر ٹھہری تھیں جو فرقان اور ارحم کی جانب متوجہ تھا ۔
ہمدانی اب تجھے میرے لیے بھی پزا بنانا پڑے گا ۔
یہ منہ اور مسور کی دال کھلا ہی نا دوں تجھے میں بنا کے پزا میری جان ۔ فرقان کے گال کھینچتا ہوا شاہ میر وہاں سے جانے کے لیے بڑھا تھا کہ کبری کے پوچھنے پر رکا تھا ۔
تم آفیس کیوں نہیں آرہے شاہ میر یا میں یہ سمجھوں کے جب سے میں نے آفیس جوائن کیا ہے جب سے تم آفیس نہیں آرہے کیا تمہیں میرا آفیس جوائن کرنا اچھا نہیں لگا ۔ ایک ہفتے سے شاہ میر کی آفیس نا جانے پر کبری کو شک گزارا تھا جسے وہ آج لفظوں میں بیان کرگئی تھی ۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں ۔جو اس وقت میرے لیے زیادہ ضروری اور اہم ہیں ۔نارمل تاثرات لیے وہ کبری کی سلوٹ زدہ پیشانی کو بغور دیکھتا بولا تھا ۔
کیا کام ،،، وہ میں فلحال تمہیں تو کیا کسی کو بھی نہیں بتا سکتا ۔ شاہ میر کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا ۔
کیا آپ جانتے ہیں شاہ میر آفیس کیوں نہیں آرہا ،،،
نہیں ۔ نفی میں گردن ہلاتا ہوا فرقان کو سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی کبری شاہ میر کی پیٹھ دیکھتی رہ گئی تھی ۔
ایک منٹ میں ابھی آیا ، ارحم کو گود سے اتارتا ہوا فرقان شاہ میر کے پیچھے گیا تھا ۔
شاہ میر ۔ فرقان کے روکنے پر شاہ میر ایڑھیوں کے بل گھومتا ہوا اس سامنے بولا تھا ۔
کیوں نہیں آرہا آفیس ۔
کل آؤں گا ان شاءاللہ ، شاہ میر نے مسکرا کر کہا تھا ۔
ان شاءاللہ ، فرقان نے کافی کھینچ کر دہرایا تھا ۔
جی میری جان ان شاءاللہ ہی کہا ہے صبح ملیں اور بہت سی باتیں ہیں جو تجھے بتانی ہے ۔ فرقان کو وہیں کھڑا چھوڑ وہ اپنے روم کی سمت بڑھا تھا ۔
بہت سی باتیں ،شاہ میر کو جاتے دیکھ فرقان بڑبڑایا تھا ۔
****
ميرے عشق کو نڈھال کر
کبھى ہجر کو بھی وصال کر
مجھے دے سزا کوئى سخت سى
مجھے اس جہاں میں مثال کر
تيرى طلب میں ہوں میں دربدر
کبھی اس طرف بھی خيال کر ،
خاموشی سے منزہ کو پڑھنے میں مصروف دیکھتا ہوا جاذب اسے پکار گیا تھا ۔ آپ کچھ لیں گی منزہ ۔ جاذب کے پکارنے پر کتاب سے منہ نکال کر اسے دیکھتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
جاذب پلیز یہ آپ جناب کرکے مجھ سے بات مت کیا کرو عجیب لگتا ہے ۔ منزہ کے اسے کئی بار ٹوکنے پر بھی جاذب اسے آپ کر کے مخاطب کرتا آیا تھا اور اب منزہ کے سختی سے کہنے پر سر کھجاتا ہوا مسکرایا تھا ۔
مجھے آپ کو ایسے ہی پکارنا زیادہ اچھا لگتا ہے،
اور مجھے عجیب ۔ پہلے سے نرمی سے کہتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
جیسی تمہاری مرضی، ہر بار کی طرح منزہ نے ہار مانی تھی ۔
تو پھر سینڈوچ لے آؤں آپ کے لیے ، منزہ نے اثبات میں گردن ہلائی تھی ۔
بس میں ابھی آیا ،، نوٹس پر جھکی منزہ کو دیکھ کر وہاں سے گیا تھا ۔
آیا نہیں ابھی تک جاذب ۔۔ کینٹین کی جانب دیکھتی ہوئی وہ اپنے رنگ کرتے فون پر آتے ایک اور رانگ نمبر کو دیکھ کر کال کٹ کرکے سر میز پر رکھ گئی تھی ۔
*****
یار پھوپھو ہے کیا آپ کے بیٹے کو ، چہرے پر فیس پیک لگائے ہوئے منیبہ رف سے حلیے میں دونوں ہاتھ ہاتھ کمر پر رکھے ہوئے اپنی پھوپھو سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔
اب کیا کردیا ہے میرے بیٹے نے ، وہ پھر منیبہ کی ہی پھوپھو تھیں اس سے زیادہ بلند آواز میں پوچھتے ہوئیں آرام سے ڈرامے میں نظریں جمائے ہوئے بیٹھی تھیں ۔
سر میں درد ہورہا ہے آپ کے بیٹے کو دیکھ کر ۔ وہ غصے سے چبا کر بولی تھی ۔
کیوں میرے بیٹے کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگئی ہو منیبہ دو دن کے لیے آئی ہو آرام سے رہ لو ، ہاتھ نچا کر بولتی ہوئی صدیقہ صاحبہ پیچھے سے آتے اپنے چشم و چراغ ماجد کو دیکھ منیبہ کی غصے سے ہوتی چھوٹی آنکھوں سے ڈرتی ہوئی رخ موڑ گئی تھیں ۔
جو بات آپ مجھے سمجھا رہی ہیں ناں وہ اپنے اس ،، ماجد کو دیکھتی غصے سے آنکھیں بند کر کے کھولتی ہوئی پل بھر کے لیے رکی ماجد کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر ۔
اپنے اس ، شاہ نواز کے پوچھنے پر طویل سانس بھرتی ہوئی زچ آتی مسکرائی تھی ۔
اپنے اس کالو کو سمجھائیں جو پاگلوں کی طرح میرے پیچھے دم ہلاتا پھرتا رہتا ہے ۔ منیبہ کے کڑے الفاظوں پر بھی وہ ڈھیٹ بنا مسکرا رہا تھا ۔
منیبہ تم اب تم زیادہ بول رہی ہو میرا بیٹا تمہیں پسند کرتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم میرے سامنے ہی اس کی بے عزتی کرو اور اسے کالا کہوں ۔ صدیقہ صاحبہ برا مناتی ہوئیں اپنے ڈھیٹ بیٹے کو دیکھ رہی تھیں جو اب بھی منیبہ کو دیکھ کر مسکرائے جارہا تھا ۔
کالے کو کالا نا کہوں تو پھوپھو کیا گورا کہوں اور آپ کے سامنے مجھے کیسے بے غیرتوں کی طرح گھور رہے ہیں ماجد ” بھائی “۔چبا کر کہتی ہوئی وہ ” بھائی ” پر زور دیتی ہوئی بولی تھی ۔
بھبھائی میں کوئی تمہارا بھائی نہیں ہوں سمجھی تم ، ماجد کے رنگ فق ہوئے تھے بھائی لفظ سن کر ۔
بھائی کو بھائی ہی کہتے ہیں ماجد بھائی ، اپنے چہرے پر لگے فیس پیک کا خیال آتے ہی وہ دانت دبائے بولی تھی ۔
امی یار اسے کہیں ناں مجھے بھائی نا بولے ۔ ماجد بچوں کی طرح منہ لٹکائے بولا تھا ۔
اب بولیں نا کچھ پھوپھو ، منیبہ کے بولنے پر صدیقہ صاحبہ نے ماجد کو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا ۔
اور ہاں پھوپھو میری مما نہیں ہے اور بابا یہاں پر موجود نہیں ہیں تو اس کا یہ مطلب یہ نہیں کہ میں سب چپ چاپ برداشت کروں گی ،اپنے اس بیٹے کی حرکتوں پر لگام ڈالیں ورنہ میں بابا کو بتا دوں گی کہ یہ کیسی اوچھی حرکتیں کرکے مجھے پریشان کرتے ہیں ۔ دونوں کو تنبیہ کرتی ہوئی وہ غصے سے وہاں سے گئی تھی ۔
ارے بے غیرت کچھ تو شرم کر لائبہ سے بھی دو حصے چھوٹی ہے منیبہ اور تو اپنی بے غیرتی سے باز نہیں آتا ۔انہوں نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کا حوالہ دیتی ہوئی ماجد کو شرم دلانے کی ناکام کوشش کی تھی ۔
ویسے ہی بھابھی کے مرنے کے بعد منیبہ بھائی کو کتنی عزیز ہوگئی ہے یہ تم اچھے سے جانتے ہو ماجد ایک منٹ نہیں لگائے گیے وہ ہمیں اس گھر سے نکالنے میں ۔ سر پر ہاتھ رکھے وہ پریشانی سے دو چار ہوئیں تھیں ۔
پر امی میں کیا کرو ، باز آجاؤ اپنی حرکتوں سے یہ ہی کافی ہے پر مجھے میرے بھائی کے سامنے شرمندہ مت کرو اب جاؤ اور میری نظروں سے دور ہوجاؤ ماجد ۔ دونوں ہاتھ جوڑتی ہوئیں وہ ماجد کو اپنی نظروں کے سامنے سے جانے کا کہہ گئی تھیں ۔
صدیقہ صاحبہ کے کہنے پر افسردہ چہرہ لیے ماجد وہاں سے گیا تھا ۔
*****
دیکھیں مجھے کال کرنی بند کریں ، رات کے دوسرے پہر آتی کال روم میں اکیلے ہونے کی وجہ سے وہ ہڑبڑا کر اٹھتی ہوئی غصے سے کال اٹینڈ کرگئی تھی ۔
مگر دوسری جانب گھور سناٹا چھایا ہوا تھا جیسے مقابل نے کال ہی اس کی آواز سننے کے لیے کی ہو ،،
آپ سن رہے ہیں ناں ،، منزہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا تھا ۔
آواز سننی تھی تمہاری جو سن لی ہے میں نے خدا حافظ ،، منزہ شاکڈ ہوئی تھی مقابل کے فورا سے کہہ کر کال کٹ کرگیا تھا ۔
جی بھر کے اسے منیبہ کی یاد ستائی تھی جو اس بار ویک اینڈ پر اپنی پھوپھو کے گھر چلی گئی تھی دونوں ہاتھوں میں سر گرائے وہ اس نمبر کو بھی بلاک لسٹ میں ڈال گئی تھی ۔
جس رنگ میں بھی دیکھوں خوشنما لگے
اک شخص دل کے آسمان پر قوس قضا لگے
ایک ہفتے سے مسلسل آتی بلاناغہ آتی کالز محبت بھری شاعری سے منزہ کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ۔
ابھی بھی وہ پوری طرح سے نیند سے بیدار بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس کا فون رنگ کرنے لگا تھا ۔
پتا نہیں کیا مثلہ ہے آخر ان لڑکوں کو ،، ان نون نمبر دیکھ کر تنگ آتی وہ آج مقابل کو اچھی خاصی سنانے کی غرض سے کال اٹینڈ کرگئی تھی ۔
صبح بخیر ۔ وہی رات والی آواز سن کر وہ نمبر دیکھنے لگی تھی جو کل رات والے نمبر سے مختلف تھا ۔
ویسے بہت پیاری آواز ہے آپ کی بہت اچھی نیند آئی مجھے کل رات ۔ وہ اسٹل ہوئی تھی مقابل کی تعریفی جملے پر ۔
ککککون ککیااا مطلب ،،، گھبراہٹ میں منزہ کی بے داغ پیشانی پر پسینے کی ننھی بوندیں ابھری تھیں ۔
ارے آپ گھبرا کیوں رہی ہیں میں تو آپ کی تعریف کررہا ہوں بلکہ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے ۔ منزہ نے اپنے کمرے کے چاروں اطراف متلاشی نظریں دوڑائی تھی ۔
ادھر ادھر دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے مس منزہ وقار میں آپ کو دیکھ سکتا ہوں پر آپ مجھے نہیں ۔منزہ کی گھبراہٹ کا فائدہ اٹھاتا ہوا شاہ میر اسے ڈرا رہا تھا ۔جبکہ خود وہ اپنے آفیس میں بیٹھا ہوا بلیک کافی سے لطف اندوز ہورہا تھا ۔
کون ہیں آپ اور مجھے کیوں تنگ کررہے ہیں لیکن یہ جان لیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا آپ کو ۔ لمحے بھر کی گھبراہٹ کو دفناتی ہوئی وہ نڈر لہجے میں بولی تھی ۔
نمبر بلاک کرنے کی غلطی مت کرنا منزہ وقار ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھی تم ۔دانت دبائے غرلاتا ہوا اسے دھمکا رہا تھا ۔
وہ جو اپنے رات والے نمبر سے منزہ کو کال کررہا تھا مگر کال ملاتے ہوئے وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کا یہ نمبر بھی میڈم کی طرف سے بلاک کردیا گیا تھا ۔
منزہ کی بلاک لسٹ میں یہ اس کا تیسرا ذاتی نمبر ہوتا جو بڑی ہی بے رحمی سے بلاک کئے گئے تھے ۔
آپ ہوتے کون ہیں مجھے دھکمانے والے ۔ لرزتے وجود پر قابو پاتی ہوئی وہ شاہ میر کو ضبط سے مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرگئی تھی ۔
ایک بار کی کہی بات سمجھ نہیں آرہی تمہیں، وہ جذباتی ہوا تھا ۔
میں آپ کو بلاک کیا شکایت کروں گی آپ کی ہاسٹل انچارج سے اور ضرورت پڑی تو ایف آئی آر درج کرواؤں گی اور آپ کو مولیسٹیشن کے کیس میں اندر بھی کرواؤں گی ۔ شاہ میر کی بھنویں سیکڑی تھیں منزہ کی لگائی دھمکی پر ۔
نہیں منزہ تم ایسا مت کرنا دیکھو میں اب سے تمہیں کوئی کال یا میسج کرکے تنگ نہیں کروں ۔ مقابل کے ڈری سہمی آواز سن کر منزہ تھوڑی پرسکون ہوئی تھی ۔
اب میرا جب بھی دل کرے گا تم سے بات کرنے کا تو میں تمہیں ملنے سیدھا تمہارے ہاسٹل روم میں ملوں گا اب تم چاہو تو میرا نمبر بلاک کردو منزہ وقار ۔ منزہ کی آنکھیں ڈر و خوف سے پھٹی تھیں ۔
میں تم سے ڈرنے والی نہیں ہوں سمجھے اور میں ابھی انچارج سے تمہاری شکایت کرنے جارہی ہوں ۔
شوق سے جاؤ ۔ کال کٹ کرتا ہوا شاہ میر دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر کنفرٹ صوفے پر دراز ہوا تھا اور انتظار کرنے لگا تھا ہاسٹل انچارج کے فون کا ۔
پیروں میں چپل اڑستی ہوئی منزہ روم سے باہر نکلی تھی سیدھا انچارج روم کی جانب بڑھی تھی ۔
*****
سر آپ کے کسی فیملی ممبر کی طرف سے ہمارے ہاسٹل کی ایک لڑکی کو پرینک کالز آتی رہی ہیں اور اب مسلسل دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں ۔
منزہ نے بڑھا چڑھا کر بات پیش کی تھی ۔
جس وجہ سے وہ بہت پریشان ہے ۔ہاسٹل انچارج کی بات سن کر وہ مبہم سا مسکرایا تھا ۔
آپ کے کہنے کا کیا مطلب ہے انچارج صاحبہ صاف صاف کہیں جو بھی بات کرنی ہے ۔
سر میرے کہنے کا مطلب ہے ۔شاہ میر کے لہجے سے وہ ڈگمگائی تھیں اپنی ہی بات سے ۔
دیکھیں میڈم میری فیملی میں میرا سات سالہ بھتیجا، باون سالہ میرے والد صاحب اور اسی سالہ میرے والد کے والد صاحب ہیں جو اس عمر میں یہ کام کرنے سے رہے نیچے بچا میں اور مجھے شاہ میر ہمدانی لڑکیوں کی کوئی کمی ہے کیا جو وہ آپ کے مڈل کلاس ہاسٹل کی کسی لڑکی کو پرینک کال کرکے اسے پریشان کرے گا ۔وہ ایک ایک لفظ جتا کر بول رہا تھا ۔
وہیں ہاسٹل کی انچارج شرمندگی سے سر جھکا گئی تھی ۔
اب جب آپ سیدھے سے مجھ پر اور میرے کیریٹر پر انگلی اٹھائی رہی ہیں ۔
تو کیوں نا ایسا کیا جائے جو اس سال ہمدانی کنسٹرکشن آپ کے کالج اور ہاسٹل کو ڈونیشن کرنے کا ارداہ رکھتے تھے اب اسے کینسل کردیں۔ کنفرٹ کاؤچ پر اپنی ٹانگیں سیدھی کرتا ہوا ان کی دکھتی رگ پر پیر رکھتا ہوا زندگی سے بھرپور مسکرایا تھا ۔
نہیں سر ایسی کوئی بات نہیں ہے شاید ۔ اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو گھورتی ہوئی وہ فورا سے بولی تھیں۔
شاید اب بھی ۔شاہ میر نے انچارج کو بیچ میں ٹوکا تھا ۔
ایم ویری سوری ہمدانی سر ۔۔۔
یقینا اس لڑکی کو غلط فہمی ہوئی ہوگی ورنہ آپ جیسا شریف انسان ایسے گرے ہوئے کام تھوڑی کریں گے ۔آپ بس ڈونیشن ملتوی مت کریں ۔اپنے مفاد پر آتی ہوئی انچارج اب بھی منزہ کو گھور رہی تھیں جو حیرت سےآنکھیں پھاڑے ہوئے ان کے بدلتے رنگ دیکھ کر چونکی تھی ۔
آپ کے کہنے سے کیا ہوگا میڈم ۔جس نے مجھ جیسے شریف انسان پر یہ بیچ الزام لگایا ہے میں ان سے ہی معذرت کے الفاظ سننا پسند کروں گا ۔لہجے میں مضنوئی سچائی لیے وہ حقارت سے مسکرا رہا تھا ۔
پھر ہی میں ڈونیشن کے بارے میں سوچوں گا ۔شاہ میر ہمدانی کا ایم تھا لوگوں کی دکھتی رگ کو پیروں تلے روندنے کا۔
اور اتنا تو وہ جانتا تھا کہ ہو نا ہو منزہ اس وقت انچارج کے پاس ہی موجود تھی جب ہی تو وہ یہ ڈیمانڈ رکھ گیا تھا ۔
اوکے سر وہ ابھی آپ سے ایکسکیوز کریں گی ۔وہ کہتی ہوئی فورا حیرت کا مجسمہ بنی کھڑی منزہ کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کرگئی تھیں ۔
ہمارے کالج کے لیے ان کی ڈونیشن بہت ضرورت ہے ۔آنکھوں میں نمی لیے وہ انچارج میڈم سے فون لیتی ہوئی لمبے سانس بھر کر خود کو پرسکون کرنے لگی تھی ۔
وہیں شاہ میر ہمدانی سیدھا ہو بیٹھا تھا اس کی سانسوں کی ہلکی سی آواز پر ہی اس کا دل چار سو چالیس والڈ کی اسپیڈ پر دھڑکنے لگا تھا ۔
ایسا کیا تھا مبزہ میں جس نے شاہ میر ہمدانی کو زیر کردیا تھا ۔
بے صبری سے اس کے بولنے کا انتظار کرتا ہوا اپنی کیفیت پر مسکرا رہا تھا ۔
ایم سوری منزہ وقار ،، منزہ کے سوری بولنے سے پہلے ہی وہ بولا تھا ۔جس پر منزہ لب کاٹ گئی تھی ۔
ویسے ہوگیا شوق پورا میری شکایت کرنے کا ،، پل بھر میں بدلتے شاہ میر کے انداز پر منزہ کی آنکھیں پھٹی تھی جس پر انچارج میڈم نے اسے دیکھا تھا ۔
منزہ بیٹا سوری کہوں سر کو ،، منزہ کو خاموش دیکھ انچارج نے التجائی لہجے میں کہا تھا ۔
سوری ،،، خود پر ضبط کرتی ہوئی وہ بھرائی آواز میں بولی تھی ۔
روم میں جاکر کال پک کرو میری ورنہ یاد ہے ناں تھوڑی پہلے میں نے کیا کہا تھا ،، ضبط کے آخری مرحلے پر کھڑی منزہ اس کی دھمکی سن ریسور انچارج کو تھماتی وہاں سے بھاگی تھی ۔ وی آر ویری سوری سر ،،
اٹس اوکے میڈم ،، اب بس منزہ بہت ہوگیا یہ چوہے بلی کا کھیل اب وقت آگیا ہے روبرو ملنے کا ۔۔
*****
