375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 12)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

فرقان چاچو کا فون ہے ۔ ارحم کے بتانے پر شاہ میر نے اپنے پینٹ کی پاکٹ سے بلو ٹوتھ نکال کر کان میں لگایا تھا ۔

ہاں بول میٹنگ کیسی رہی ۔

یار ہمدانی میٹنگ تو لگ بھگ اچھی جارہی ہے مگر ۔

مگر ۔ فرقان کے رکنے پر وہ پریشان ہوا تھا ۔

تجھ سے ملنے کے لیے باضد ہیں صدیق صاحب پھر ہی کچھ فیصلہ کریں گے ڈیل ڈن کرنی ہے یا نہیں ۔ فرقان کے پریشان تاثرات سب کے ساتھ بیٹھی کبری باآسانی نوٹ کررہی تھی ۔

کیوں انہیں مجھ سے کیوں ملنا ہے ۔ ایک ہاتھ کمر پر رکھے شاہ میر نے پر سوچ انداز میں پوچھا تھا ۔

ہوگی ان کی کوئی بیٹی تمہیں دیکھ کر اپنا داماد بنانے کی خواہش دل میں جاگ گئی ہوگی ۔ چبا کر کہتے فرقان کی بات پر وہ بے ساخت قہقہ لگا گیا تھا ۔

رہنے دے یار ۔ شاہ میر خود کے قہقہے پر کنٹرول کرتا ارحم کو خود کی طرف متوجہ پاکر سنجیدہ ہوا تھا ۔

ہمہم، فرقان کی جانب فقط ہنکارا ابھرا تھا ۔

اچھا سن انہیں کہہ کہ وہ کل آفیس آجائیں میں ان سے مل لوں گا ۔ شاہ میر ان سے ملنے کی رضامندی دے گیا تھا آخر اتنی بڑی ڈیل ہاتھ سے جانے تھوڑی دیتا ۔

ٹھیک ہے گھر پر ہے تو ۔ فرقان نے پوچھا تھا ۔

ہاں ۔ چل پھر میں آتا ہوں ،،،،

ٹھیک ہے آجا ۔ فون کٹ کرکے شاہ میر ارحم کے پاس آیا تھا جو سلیپ پر بیٹھا ہوا اس کو گھور کر دیکھ رہا تھا ۔

کیا ہوا ہے میری جان کو۔

آپ نے میری بات نہیں کروائی فرقان چاچو ۔ ہونٹ لٹکائے ارحم نے شکایت کی تھی ۔

اس لیے نہیں کروائی کیونکہ فرقان چاچو آپ سے ملنے آرہے ہیں ۔ ارحم کے گالوں کو چومتا ہوا شاہ میر مسکرایا تھا ۔

کچھ دیر بعد کوکنگ کرتا شاہ میر مصروف انداز میں سیب کترتے ارحم پر سرسری سی نظر ڈال کر بولا تھا ۔

ویسے ایک بتاؤ ارحم ۔

جی ابی ۔

آپ نے پری کا ٹیڈی بیئر کیوں جلایا ۔سیب کترتا ارحم مسکرایا تھا اور بولنا شروع ہوا تھا ۔

کیونکہ وہ ہر وقت اس ٹیڈی کے ساتھ کھیلتی تھی میرے ساتھ نہیں ،

تو اس لیے جیلسی میں آپ نے ٹیڈی کو آگ لگا دی ۔ شاہ میر کے لہجے میں ہلکا سا غصہ چھلکا تھا ۔

پری میری بہن ہے ابی میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں ۔بولتے ہوئے ارحم کی آواز روندھلا گئی تھی ۔

جن سے پیار کرتے ہیں انہیں ہرٹ نہیں کرتے ارحم ۔شاہ میر نے پیار سے اسے سمجھانا چاہا تھا ۔

میں نے اسے ہرٹ کیا بھی نہیں ابی میں نے تو اس ٹیڈی بیئر کو ہم دونوں کے بیچ سے نکال کر پھینک دیا اب بس پری میرے ساتھ کھیلے گی آپ نے دیکھا تھا نا وہ بس تھوڑی دیر کے لیے روئی تھی اس ٹیڈی کے لیے پھر وہ میرے ساتھ ہسنے اور کھیلنے لگ گئی تھی اب میری بہن میرے ساتھ کھیلے گی اپنے بھائی کے ساتھ ۔

ارحم کا پری کے لیے حددرجہ پیار دن بدن اسے پری کے معملے میں حساس بنا رہا تھا ۔

وہ ٹیڈی میری پری کو وہ پیار نہیں کرسکتا جو میں اپنی پری سے کرتا ہوں ۔ سات سالہ ارحم اپنی عمر سے بڑی باتیں کرتے پیاز چاپ کرتے شاہ میر کے ہاتھ رکے تھے ارحم کی بات سن کر ۔

منزہ کو جتنا پیار ، کیئر اور دولت میں دے سکتا ہوں کیا وہ جاذب آرائیں دے سکتا ہے ۔ ارحم کی باتیں شاہ میر کو سوچنے پر مجبور کرگئی تھی ۔

پھر تو آپ کو میرا بھی پری کے ساتھ کھیلنا اچھا نہیں لگتا ہوگا ۔ اپنی ذہن میں چلتی سوچ کو جھٹکتا ہوا شاہ میر دونوں ہاتھ کمر رکھے پوچھ رہا تھا ۔

نہیں ایسی بات نہیں ہے ابی بس مجھے اچھا نہیں لگتا جب وہ میرے ساتھ نہیں کھیلتی ۔ شاہ میر کی گردن میں ہاتھ ڈالے وہ معصومیت سے بولا تھا جس پر شاہ میر کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا ۔

اچھا اچھا میری جان مگر آپ دوبارہ یہ ٹیڈی کو آگ لگانے والی حرکت نہیں کرو گے ورنہ آپ کے اپنی آپ سے ناراض ہوجائیں گے اور آپ سے بلکل بھی بات نہیں کریں گے ۔

دوبارہ نہیں ہوگا ابی پر آپ مجھ سے ناراض نا ہوں ۔ شاہ میر کی ناراضگی کا سوچ کر ہی ارحم روہانسہ ہوا تھا ۔

نہیں ہوں میں ابھی اپنی جان سے ناراض اب ہم کھانا کھاتے ہیں ۔ ارحم کو گود میں لیے وہ ڈائینگ روم میں آیا تھا جہاں دادجی کے ساتھ ندا اور پریشے بھی موجود تھے ۔

*****

کہاں ہو تم فرقان ۔ کاظمی صاحب کی بھاری آواز فون سے باہر آتی محسوس کرتا فرقان خجل ہوا تھا ۔

یار پاپا کبری جی کو گھر ڈراپ کرنے جارہا ہوں ۔ چبا کر جواب دیتا فرقان ایک نظر اپنے برابر میں بیٹھی کبری پر ڈالی تھی جو باہر کے مناظر دیکھنے میں مشغول تھی ۔

میٹنگ کیسی رہی تمہاری صدیق صاحب کے ساتھ ۔ وہ اپنی بات پر آئے تھے جس کے لیے انہوں نے فرقان کو کال کی تھی ۔

سمجھیں کہ ڈیل ہماری ہے ۔

کیا مطلب سمجھیں کا ۔ کاظمی صاحب پریشان ہوئے تھے ۔

مطلب یہ پاپا کہ صدیق صاحب کل شاہ میر سے مل کر ڈیل ڈن کریں گے ۔ فون پر بات کرتے فرقان کو کبری نے اچانک سے دیکھا تھا شاہ میر کا نام سن کر ۔

شاہ میر سے ۔ وہ چونکے تھے ۔

جی ۔

کوئی بات تو ضرور ہے فرقان میں ابھی جہانزیب سے بات کرتا ہوں ۔ وہ پر سوچ انداز میں بولتے ہوئے کال کٹ کر گئے تھے ۔

کیا ہو سکتا ۔ فرقان زیرلب بڑبڑایا تھا ۔

فرقان ،،،، جی ۔ کبری کی مدھم آواز پر وہ فورا سے پہلے بولا تھا ۔

اپنی جلدبازی پر خود کو ملامت کرتا کبری کی جانب متوجہ ہوا تھا جو اب تک کے سفر میں پہلی بار خود سے مخاطب ہوئی تھی ۔

کیا جو ہم ڈیل کرنے گئے تھے وہ ڈیل ہمیں نہیں ملی کیا ۔ہلکی آواز مگر سنجیدگی سے بھرا لہجہ لیے کبری مخاطب ہوئی تھی ۔

یوں سمجھیں کبری جی کہ یہ ڈیل ہمیں ہی ملے گی ۔

کیوں ۔ فرقان کا پراعتماد لہجے کو دیکھ وہ پوچھ گئی تھی ۔

کیونکہ شاہ میر اپنی میٹھی زبان سے انہیں خرید لے گا اور پھر ہر حال میں ڈیل ہماری ہی ہوگی ۔فرقان کی بات پر ڈرائیور مسکرایا تھا ۔

اتنا تو سب ہی جانتے تھے جو کوئی بھی شخص شاہ میر سے ایک بار ملاقات کرلیتا تھا تو وہ بس پھر شاہ میر کا ہو کر رہ جاتا تھا ۔

بار بار اس سے ملنے کی خواہش دل میں لیے پھرتے تھے ۔

فرقان کے پراعتماد لہجے اور شاہ میر کے انداز سے تو وہ اچھے سے واقف تھی ۔

*****

اچھا ہمہم گڈ ۔ فون پر بات کرتے شاہ میر کی لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی مقابل کی بات پر ۔

ویل ڈن حسام ایسے ہی کام کرتے رہو گے تو تم ہمیشہ میرے خاص بندوں کی فہرست میں شامل رہو گے ۔شاہ میر کا انداز بیان حسام کے لیے باعث مسرت تھا ۔

اوکے پھر بات ہوتی ہے تم سے جب تک کے لیے کڑی نظر رکھنا ۔ اسے محتاط کرتا شاہ میر فون بند کرتا ہوا مسکرایا تھا ۔

جب جب میں کسی سے محبت کرنے کی خاطر اس کی طرف قدم بڑھاتا ہوں تب تب آپ میرے اور اس کے درمیان میلوں کا فاصلہ بنا دیتے ہیں اللہ اور میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں آپ کی حکمت میں چھپی اپنی بھلائی سوچ کر ۔

مگر اس بار میں پیچھے نہیں ہٹوں گا چاہے پھر کچھ بھی ہوجائے ۔

اس بار شاہ میر ہمدانی اپنی قسمت ہر حال میں آزمائے گا ۔ شاہ میر کے ارادے مضبوط تر ہوگئے تھے ۔

اچھا گھر ،گاڑی ،نوکر چاکر سب سے زیادہ پیسے کی ریل پھیل ایک عورت کو اس سے بڑھ کر کیا چاہیے ہوتا ہے ۔

اور رہی بات محبت کی تو اسے مجھ سے ہونے میں دیر تھوڑی لگے گی ، تمخسر سے سوچتا ہوا شاہ میر اپنے سوچوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بے قرار تھا ۔

ابی ویڈیو گیم کھیلیں ۔ ارحم کی نئی فرمائش پر وہ نفی میں گردن ہلا گیا تھا ۔

پھر ۔ افسردگی سے شاہ میر کو دیکھا گیا تھا ۔

کرکٹ کھیلیں ۔ ہلکا سا جھکتا ہوا شاہ میر مسکرایا تھا ۔

واووووووو پری بھی کھیلے گی ۔ ارحم کی پرجوش آواز پر شاہ میر دل سے مسکرایا تھا ۔

میں بھی کھیلوں گا ، پیچھے سے آتے دادجی کی آواز پر ارحم نے شاہ میر کو جھکنے کا اشارہ کیا تھا جس پر شاہ میر فورا سے جھکا تھا ۔

دادجی اپنی اسٹک سنبھالیں گے یا بال ۔ منہ پر ہاتھ رکھے وہ شرارت سے بولا تھا ۔

ارحم کی بات پر مسکراتا ہوا شاہ میر دادجی کی سمت مڑا تھا ۔

یار دادجی اس عمر میں ہڈیاں بھی نہیں جڑنی آپ کی اور بات کررہے ہیں کھیلنے کی ۔

اس لیے بہتر ہوگا آپ جاکر اپنے روم میں آرام کریں ۔شاہ میر کی بات دادجی نے ناراضگی سے منہ بسورا تھا ۔

ہاں ہاں جاؤ مجھے بھی شوق نہیں ہے کچے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا اور ویسے بھی کچھ دیر میں ریما خان کا پروگرام شروع ہونے والا ہے تو میں نہیں کھیلنے والا تمہارے ساتھ ۔ بڑی نزاکت سے کہتے ہوئے دادجی ایسے بول رہے تھے جیسے انہیں کھلانے سے انکار شاہ میر نے نہیں خود انہوں نے کیا ہو ۔

مسکراتا ہوا شاہ میر فقط گردن ہلا کر رہ گیا تھا ۔

ارے بھئی کس لیے اتنا خوش ہوا جارہا ہے ۔ اپنے روم جاتی سمرین ہمدانی لیونگ روم میں موجود شاہ میر اور ارحم کو دیکھ کر پوچھ رہی تھیں ۔

آج میں ابی اور پری کرکٹ کھیلیں گے دادو ۔ ارحم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا کیونکہ آج شاہ میر اسے اتنے دنوں کے بعد اس کے ساتھ اتنا وقت گزار رہا تھا ۔

یہ بہت اچھی بات ہے ۔ شاہ میر کو دیکھتی ہوئی وہ نم آنکھوں سے مسکرائی تھیں ۔

آپ بھی کھیلیں گی دادو ہمارے ساتھ ۔ ارحم نے انہیں بھی دعوت دی تھی ۔

سوری دادو کی جان دادو تھک گئیں ہیں اور طبیعت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی ۔

کیوں مام کیا ہوا ہے آپ کی طبیعت کو ۔شاہ میر کو فکر ہوئی تھی ۔

زیادہ کچھ نہیں ہے مائگرین ہے دوا لوں گی تو ٹھیک ہوجائے گا تم فکر مت کرنا ۔شاہ میر کی فکر پر مسکرا کر بولتی ہوئی وہ اپنے روم کی جانب بڑھی تھیں ۔

چلیں ،،،، یس ابی ۔ پری اور ارحم کا ہاتھ پکڑے وہ گارڈن کی سمت بڑھا تھا ۔

پری بال لاؤ ۔ شاہ میر کے پکارنے پر ننھے قدموں سے بھاگتی ہوئی گول مٹول سی پری بال کی جانب بڑھی تھی ۔

جس پر شاہ میر منہ پر ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہا تھا اور وہیں ارحم رن لیتا ہوا چونکا نظروں سے پری کو دیکھ رہا تھا ۔

ابی بال آہستہ کروائیں ۔ارحم کے بولنے پر شاہ میر نے اپنی سلیوز فولڈ کی تھیں ۔

بیٹا اگر اس سے زیادہ آرام سے کروائے نا آپ کو بال پری اور میرا تو نمبر پھر آنے سے رہا ۔ بچوں کے ساتھ بچہ بنا ہوا شاہ میر گلاس ونڈو سے دیکھتے دادجی اور بی جان کی نم آنکھوں کا مرکز بنا ہوا تھا ۔

آؤٹ ۔۔ پری کو گود میں اٹھا کر شاہ میر بلند آواز میں چلایا تھا ۔

شٹ یار ۔ وکٹ پر بال سے لگنے آؤٹ ہوتا ارحم افسردہ ہوا تھا ۔

بیٹنگ کی باری پری کی آئی تھی جس سے بھاری بیٹ اٹھایا بھی نہیں جارہا تھا ۔

پنجوں کے بل بیٹھے شاہ میر کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ان دونوں کو ہنستے کھیلتے دیکھ ۔

میں اپنی ذمہ داری دل سے نبھا رہا ہوں شارق ۔ دل میں کہتا ہوا شاہ میر بھاری بیٹ کو پکڑنے کی جدد کرتی پری کے پاس آیا تھا ۔

اب کرواؤ ۔ ارحم کو چیلنج دیتا شاہ میر بیٹ پر پری کے ہاتھ رکھوا کر کھیلنے کے لیے تیار تھا ۔

سیکسر ۔ شاہ میر کی بلند آواز پر چہکتی ہوئی پری نے تالی بجائی تھی ۔

چیٹنگ ہے یہ تو ابی ۔ارحم نے افسردگی سے کہا تھا ۔

کیا چیٹنگ یہ گیم ہے بیٹا ۔شاہ میر نے اس کی پتلی ناک دبائی تھی ۔

میں نہیں کھیل رہا آپ دونوں جیت جاؤ گے ۔بیٹ لے کر بھاگتا ہوا ارحم مسکرا کر بول کر بھاگتا اپنے پیچھے شاہ میر اور پری کو آتے دیکھ قہقہ لگا رہا تھا ۔

پورچ ایریا میں رکتی فرقان کی کار سے باہر نکلتی کبری شاہ میر کو بچوں کے ساتھ دیکھ کر کرب سے آنکھیں میچ گئی تھی ۔

ارحم کے بچے ۔ارحم کے پیچھے بھاگتا ہوا شاہ میر ہری گھاس پر دراز ہوا تھا ۔

اس کی دیکھا دیکھی ارحم اور پریشے اس کے سینے پر سر رکھے اس کو ہنستے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔

*****

یار منزہ کتنا پڑھو گی ۔ منیبہ جو کب سے اپنی بکس بند کیے بیڈ پر نیم دراز تھی منزہ کو پڑھتے دیکھ اکتاہٹ محسوس کررہی تھی ۔

جب تک مجھے میرا دل کرے گا تب تک ۔ منیبہ کو زچ کرتی وہ جان بوجھ کر بولی تھی ورنہ وہ بکس بند کرنے کا ارادہ رکھتی تھی ۔

پلیز منزہ بند کردو ۔ منیبہ کی منمناہٹ پر منزہ مسکرائی تھی ۔

بکس بند کرکے منزہ اپنے کیچر میں مقید بالوں کو رہائی دیتی ہوئی بیڈ پر نیم دراز ہوئی تھی ۔

آج جاذب نے مجھے اپنی مما سے ملوانے کا کہا ہے ۔ اچھا کب ۔منزہ کی بات پر منیبہ تجسس سے اٹھ بیٹھی تھی ۔

پیپرز کے بعد ۔

مطلب تمہیں اس نے پرپوز بھی کردیا مجھے تو صبح کہہ رہاتھا ۔

محبت کا تو پتا نہیں ہاں پر میں منزہ کی دل سے عزت کرتا ۔جاذب کی نقل اتارتی ہوئی شاکڈ تھی جاذب کے اپنی فیملی سے ملانے کے بڑے قدم سے ۔

اس میں کوئی شک نہیں میں اور جاذب ایک دوسرے کی دل سے عزت کرتے ہیں ۔

ہمارے بیچ میں محبت کا رشتہ ہے یا نہیں مجھے نہیں پتا مگر ہمارا ہاں ہمارے درمیان عزت اور احترام کا بہت مضبوط اور گہرا رشتہ ہے ۔ منزہ اور جاذب کی ایک جیسی سوچ سن کر منیبہ اپنی پیشانی پکڑ کر بیٹھ گئی تھی ۔

تو تم صاف سیدھا کہہ دو کہ تم دونوں ایک دوسرے محبت کرتے ہو ایسے ہی بات کو گھوما رہے ہو ۔ منیبہ کے لہجے میں تلخی گھولی تھی ۔

عزت محبت سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہوتی ہے ۔جب ہمارے درمیان عزت کا رشتہ قائم ہوچکا ہے تو محبت کی گنجائش نہیں ۔ منیبہ کو حیران کرتی وہ مسکرائی تھی ۔

مطلب تم جاذب سے محبت نہیں کرتی ۔

پتا نہیں ۔ شانے اچکاتی وہ تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئی تھی ۔

حد ہے مطلب ایک دوسرے کی فیملی سے ملنے ملانے کی باتیں ہورہی ہیں اور یہاں میڈم کو یہ نہیں پتا کہ وہ محبت کرتی ہے یا نہیں ۔منیبہ کو گہرے صدمے میں دیکھ منزہ سوچنے پر مجبور ہوئی تھی ۔

محبت اور عزت کہنے میں تو دونوں ایک دوسرے سے بہت الگ ہیں مگر دونوں ہی بہت قیمتی ہیں ۔

اور جنہیں محبت مل جاتی ہے بنا عزت کے تو اس محبت کی کوئی معنی نہیں رہتی وہ ہو کر بھی ادھوری رہ جاتی ہے انسان پاکر بھی خالی ہاتھ رہ جاتا ہے ۔

ہر رشتہ میں محبت اور عزت کا ہونا لازمی ہے ان دونوں کے بغیر ہر رشتہ ادھورا ہے ۔ اس لیے محبت اور عزت دونوں کا ہونا لازمی ہے ۔

ایک عورت کے لیے عزت سب سے زیادہ معنی رکھتی ہے مگر محبت کی کمی بھی کہیں نا کہیں اندر ہی اندر خلتی ضرور ہے ۔

اگر محبت اور عزت یہ دونوں ایک ساتھ مل جائے جس شخص یا عورت کو وہ دنیا کا خوش قسمت ترین انسانوں میں سے ایک ہوتے ہیں ۔

اور اگر کسی کو صرف عزت ملتی ہے اور محبت نہیں زندگی بے وجہ گزرتی ہے اور تو اور اس کے دل کا ایک خاکا ہمیشہ خالی رہتا ہے محبت کی بہار کے انتظار میں ۔

کہا جاتا ہے کہ ایک عورت کو سب سے زیادہ عزت کی ضرورت ہوتی ہے مگر وہ بھی حقدار ہوتی ہے محبت کی ۔عورت ایک پھول کی مانند ہوتی ہے جسے محبت کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کے عزت کی ۔

اس عورت کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی اسے بھی چاہے اس کا بھی خیال رکھے اس کی چھوٹی چھوٹی بات غور سے سنیے ۔

زیادہ نا سہی مگر دو بول محبت کے اس مرجھائی ہوئی عورت کو تروتازہ کردیتے ہیں ۔

اس لیے محبت اور عزت دونوں میں برابری لازم ہے ۔

******