375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 5)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

رکیں بھائی ! گاڑی اسٹارٹ کرتے ڈرائیور کو منزہ نے روکا تھا ۔

وہیں شاہ میر ٹھٹھکا تھا ۔

یہ کیسی خوشبو ہے آپ کی کار میں ، کار میں بیٹھتے ہی شاہ میر کے کلون کی محسور کن خوشبو منزہ کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی ۔

منزہ کی چھٹی حس بیدار ہوئی تھی جو اسے کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھی ۔

وہ میڈم کار فریشنز کی خوشبو ہوگی ۔ ڈرائیور نے فورا سے جواب دیا تھا ۔

لگ تو نہیں رہی ۔ منزہ زیر لب بڑبڑائی تھی ۔

اب میں گاڑی اسٹارٹ کروں میڈم مجھے لیٹ ہورہی ہے ۔ منزہ کی تیز حس پر ڈرائیور ڈگمگاتے ہوئے بولا تھا ۔

جی جی بھائی آپ چلائیں ہمیں بھی لیٹ ہورہی ہے ۔ منزہ کی جگہ منیبہ فورا سے بولی تھی ۔

اوکے میڈم ۔ سکھ کا سانس لیتا ہوا ڈرائیور اپنی پہلی کامیابی پر خدا کا شکر گزار تھا ۔

کیا ہے تمہیں منزہ بیٹھ جاؤ چپ چاپ ۔ منیبہ اسے ڈپٹی تھی ۔

جو کار بیٹھ تو گئی تھی اب الگ ہی پریشانی لاحق ہوگئی تھی اسے ۔

بھائی آپ کا نام کیا ہے ؟

آپ کہاں کام کرتے ہیں مطلب کس کے پاس ؟

شادی شدہ ہیں یا سنگل ہیں آپ ؟

اگر شادی شدہ ہیں تو کتنے بچے ہیں آپ کے ؟

روانگی سے سوال کرتی ہوئی منیبہ کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی ۔

جس پر وہ کافی دیر سے ضبط کیے خاموش بیٹھی تھی ۔

الحمداللہ میڈم میں شادی شدہ ہوں اور دو بچے ہیں میرے ،سارے سوالوں کو اگنور کیے وہ مصروف انداز میں مختصر سا جواب دے گیا تھا ۔

یہ نہیں بتایا آپ نے آپ کہاں کام کرتے ہیں ۔ وہ بھی منیبہ تھی کہاں بھولانے والی تھی اپنے سوال بنا جواب لیے ۔

میں میڈم ، خشک لب تر کرتا ہوا ڈرائیور کنفیوز ہوا تھا کہ اسے بتائے یا نہیں کہ وہ شاہ میر ہمدانی کا ڈرائیور تھا ۔

بس بھائی یہاں روک لیں ۔ کشمکش میں گھرے ڈرائیور کو منزہ نے بچایا تھا ۔

آپ کا بہت شکریہ بھائی ۔گاڑی سے نکلتے ہی منزہ نے تشکرانہ لہجے میں اسے کہا تھا ۔

اس میں شکریہ کی کیا بات ہے میڈم یہ تو میری خوش نصیبی ہے کہ میں آپ کے کام آیا ۔منزہ کو دیکھ کر پرجوشی میں گویا ہوا تھا ۔

کیا مطلب ۔خود کی بیوقوفی پر ماتم کرتا ہوا وہ سر کھجا رہا تھا ۔

مطلب میڈم آپ دونوں کی مدد کرکے مجھے بہت خوشی ہوئی اب میں چلتا ہوں ۔ فورا سے بات سنبھالتا ہوا وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تھا ۔

چلو ،منزہ کا ہاتھ پکڑ کر منیبہ اسے وہاں سے لے گئی تھی ۔

جبکہ منزہ اب بھی ڈرائیور کی بات میں الجھی ہوئی تھی ۔

*****

کیا آج تم نے رونا لیا ہوا ہے ۔ بی جان کو مسلسل روتے دیکھ دادجی زچ آئے تھے ۔

تمہیں کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا آج میرے رونے سے کیا خاک پڑے گا ۔

میں ہی بے وقوف ہوں جو اتنی عمر گزرنے کے بعد بھی مجھے عقل نہیں آئی اور تمہارے سامنے رونے بیٹھ گئی ۔دادجی کی بات پر بی جان کے رونے میں روانگی آئی تھی ۔

کیون ہونے لگی میری فکر تمہاری پہلی محبت تو سرحد ہے نا ان سے وفاداری نبھائی مجھ سے کیا خاک نبھاتے ۔بی جان پھٹ پڑی تھیں ۔

اپنی ساری زندگی تو بارڈر پر گزار دی پہلے میرے شاہ زیب اس وطن پر قربان ہوگیا ۔

پھر سمرین کے پھول جیسا شارق بھی فوج میں پڑ کر ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ۔

آپ نے ساری عمر وطن سے وفادار رہے شاہ زیب اور شارق بھی آپ پر ہی گئے ۔بی جان دل سے قائل تھیں دادجی کی اپنے وطن سے حد درجہ محبت سے ۔

بیگم ۔ رہنے دیں شاہ سلطان ۔ دادجی کی بات بیچ میں کاٹتی ہوئیں بی جان آج فقط بولنے کا ارداہ رکھتی تھیں ۔

وطن کی محبت سر آنکھوں پر شاہ سلطان مگر ماں کی ممتا جو پل پل تڑپتی ہے اسے کیا وطن کی مٹی سکون بخشے گی ۔

یا یہاں کی مٹی ہماری کبری کو اس کا من پسند شارق واپس لوٹا دے گی ارحم اور پریشے کو ان کے ڈیڈ لوٹا دی گی نہیں ناں ۔

میں جانتی ہوں آپ سب آرمی والے ہماری ہی وجہ سے کفن سر پر باندھ کر بارڈر پر دشمنوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں شاہ سلطان۔

آرمی ، نیوی ،ایئر فورس ، پولیس ،رینجرز، کمانڈوز، ایڈوکیٹ، جرنلسٹ ،ان سب کی فیملیز بھی عام ہی انسان ہوتے ہیں جن کے سینے میں بھی وہی چھوٹا سا دل ہوتا ہے جس پر بڑا سا پتھر رکھ کر ہم انہیں ان پیشوں میں بھیجتے ہیں اپنے وطن سے اظہار محبت کرنے کے لیے ۔

پر جب ہم مائیں اپنے بچوں کو تکلیف میں بلکتے ہوئے دیکھتی ہیں ناں تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ہمارے تڑپ اٹھتی ہیں ہماری آنتیں ، بی جان کی آواز حلق میں اٹکی تھی ۔

پھر وہ جب ہمارے بچے اپنے زخموں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں تو یہ دل پھٹنے لگتا ہے ہم مائیں بے بس ہوجاتی ہیں ۔

ہمیں اپنے شارق پر صبر کیوں نہیں آتا شاہ سلطان ،

ہم اب تک کیوں اپنے شارق کی راہ دیکھ رہے ہیں جبکہ ہم سب اچھے سے جانتے ہیں وہ واپس نہیں آنے والا تو یہ دل کیوں نہیں مانتا ۔

دادجی کے کندھے پر سر رکھے بی جان کا دل شاہ زیب کی درد بھری یاد سے دوچار ہوا تھا ۔

شہیدوں پر رویا نہیں جاتا بلکہ فخر کیا جاتا ہے ہم تو دعا گو ہی شہادت کے ہوتے ہیں بیگم ۔

نم آنکھیں لیے دادجی انہیں دلاسا دے رہے تھے ۔

جانتی ہوں شاہ سلطان اور مجھے اپنا بچے پر بہت فخر ہے پر اس کوکھ کی آگ کو کیسا ٹھنڈا کروں جو آج بیٹے کی یاد میں کسی لاوے کی طرح پک رہی ہے ۔ بے بسی سے کہتی ہوئی بی جان کو شارق کے ساتھ اپنے پچیس سال پہلے وطن پر قربان ہوئے بیٹے کی یاد میں تڑپ رہی تھیں ۔

جو کرنل شاہ سلطان ہمدانی کی دیکھا دیکھی میں آرمی جوائن کرگیا تھا ۔

جوائننگ کے دوسرے ہی سال وہ شہادت کے اونچے درجے پر فائز ہوگیا تھا ۔

اب میں اپنے کسی بچے کو آرمی میں جانے نہیں دوں گی ۔ آنسوؤں صاف کرتی ہوئی وہ اپنا سر دادجی کے کندھے سے اٹھا گئیں تھیں ۔

اب آپ خود غرض ہورہی ہیں روبینہ ، بی جان کے فیصلے کو سن کر بولے تھے ۔

اب حوصلہ نہیں شاہ سلطان ۔ بی جان افسردگی سے سر جھکا گئیں تھیں ۔

جب اللہ ہمیں دے کر آزماتا تو ویسے ہی وہ لے کر بھی آزماتا ہے ،

ہم ناشکری کیوں کریں روبینہ جب اللہ نے ہمیں نعمت سے نوازا تھا تو ہم کتنے خوش و پرجوش تھے ۔

اب جب اس نے اپنے ہی بندے واپس اپنے پاس بلا لیے ہیں تو ہم کیوں واویلا مچارہے ہیں ،

اگر ہم خوشیاں نہیں منا سکتے تو ہمیں اس طرح رونے اور ناشکرا پن کرکے اپنے خدا کو ناراض نہیں نہیں کرنا چاہیے ۔

دیکھنا اللہ پاک سب ٹھیک کردیں گے ۔جہاں ہمیں شازیب پر صبر آگیا ہے ویسے ہی شارق پر بھی آجائے گا انشاءاللہ ۔ مضبوط لہجے میں انہیں حوصلے کے ساتھ سمجھاتے ہوئے دادجی مطمئن تھے اپنے خدا کی رضا سے ۔

انشاءاللہ ۔ بھرائی آواز میں بولتی ہوئیں بی جان اپنے آنسوؤں پونچتی ہوئی دادجی کے پرسکون چہرے کو دیکھ کر مزید اپنے آنسوؤں پر ضبط کرگئیں تھیں ۔

اب چپ ہوجاؤ بوڑھیاں ورنہ شاہ میر کے چھوڑے ہوئے جاسوس اس تک ساری خبر پہنچا دیں گے ۔ شاہ میر کے ذکر بی جان مبہم سا مسکرائی تھیں ۔

*****

یہ اب تک آیا کیوں نہیں، میٹنگ سے فارغ ہوتے ہی اپنے کیبن میں بیٹھا ہوا شاہ میر ڈرائیور کے انتظار میں اب تک بلیک کافی کے چھ مگ ختم کرچکا تھا ۔

کہاں رہ گئے ہو ۔آخر کار شاہ میر ڈرائیور کو کال ملا گیا تھا ۔

سر بس میں پہنچ گیا ۔ ڈرائیور کے پھولتے ہوئے سانسوں کی آواز سنتا ہوا شاہ میر ریلکس ہوکر چیئر پر جھولنے لگا تھا ۔

انتہا ہوگئی انتظار کی

آئی نا کچھ خبر میرے یار

یہ ہمیں ہے یقین بے وفا وہ نہیں

پھر وجہ کیا ہوئی انتظار کی

انتہا ہوگئی انتظار کی

چیئر پر جھولتا ہوا شاہ میر بے چینی سے انتظار کرتا ہوا گنگنا رہا تھا ۔

ٹک ٹک ۔فائنلی ڈور ناک ہوا تھا اور شاہ میر کا انتظار بھی اپنا اختتام پذیر ہوا تھا ۔

کم ان ۔ بنا ایک سیکنڈ کی دیر کیے شاہ میر نے اندر آنے کی اجازت دی تھی ۔

سر میڈم کی ساری ڈیٹیل اس فائل میں ہے ۔ کیبن میں داخل ہوتے ہی وہ فورا سے بولا تھا ۔

چلو پھر دیر کس بات کی ہے جلدی سے اسٹارٹ ہوجاؤ بتانا ۔ شاہ میر کی جلدبازی پر ڈرائیور حیران ہوا تھا ۔

فل نیم منزہ وقار مرزا ۔ منزہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے مسکراہٹ نے شاہ میر کے لبوں کا احاطہ کیا تھا ۔

میڈم حیدر آباد سے ہیں ، فیملی میں پیرنٹس کے ساتھ ایک بڑا بھائی ہے جو کیمسٹری کے قابل پروفیسر ہیں وہاں کی یونورسٹی کے ۔

تو میڈم کا یہاں کیسے آنا ہوا سنگل ہیں یا ۔ شاہ میر نے بیچ میں بات کاٹی تھی ۔

آپ نے فکر رہیں سر میڈم سنگل ہیں ۔ ڈرائیور کی بات شاہ میر کے لب آپس میں پیوست ہوئے تھے ۔

یہاں اسکالرشپ کے تھرو دو سال سے کراچی گرلز ہاسٹل میں رہتی ہیں،

دو سال میں میڈم اپنے گھر صرف چار بار گئیں ہیں وجہ ان کی پڑھائی میں حد درجہ سنجیدگی رہی ۔

اور سر ایک بہت اہم بات ۔ وہ جو جاذب کے بارے میں بتانے لگا تھا کہ شاہ میر نے اسے بیچ میں روک دیا تھا ۔

بس اتنا کافی ہے میں خود دیکھ لوں گا تم جاؤ ۔فائل لیتا ہوا شاہ میر ڈرائیور کے روانگی سے بتانے پر اسے بیچ میں روک گیا تھا ۔

اوکے سر ۔دونوں ہاتھ باندھے وہ وہاں سے گیا تھا ۔

گھر کا ایڈریس ،ہاسٹل ایڈریس سب دیکھتے ہوئے شاہ میر کی نظریں فون نمبر پر ٹھہر گئی تھیں ۔

گھر بھی چلے جائیں گے پہلے تھوڑی بات چیت تو بڑھا لیں ۔ منزہ کا نمبر اپنے سیل فون میں سیوو کرتا ہوا وہ زندگی سے بھرپور مسکرایا تھا ۔

حیران ہوں میں کیسے تم میری آنکھوں کو اچھی لگ سکتی ہو منزہ ۔منزہ کو سوچتا ہوا وہ اس کو سوچتا ہوا کھو سا گیا تھا ۔

تم نے ضرور کوئی جادو ٹونا سیکھا ہوا ہے ورنہ کیسے ممکن ہے ۔ وہ ایسے مخاطب تھا جیسے وہ سامنے ہی موجود ہو ۔

کیا خبر تھی مجھے تم یوں بھیڑ میں مل جاؤگے

خبر ہوتی اگر تو ساری زندگی یوں خاک تھوڑی چھانتے

فائنلی کوئی تو وجہ ملی زندگی جینے کی منزہ وقار مرزا ۔دلفریب مسکراہٹ سجائے شاہ میر کھویا ہوا تھا ۔۔

******