Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304 Raah E Yaar (Episode 23) Last Episode

375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 23) Last Episode

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

تھینک یو کبری جی ،، فرقان اور کبری کا نکاح سادگی سے ہوا تھا ۔ جس میں سب انتظام شاہ میر نے خود کروائے تھے ۔

نکاح میں ہمدانی فیملی کے علاوہ فرقان کی فیملی اور کبری کے والدین شامل تھے ۔

کس لیے ۔ فرقان کے خوشی سے پھولتے چہرے کو دیکھ کبری نے استفسار کیا تھا ۔

مجھے خوش نصیب بنانے کے لیے ۔ فرقان کو مسکرا دیکھتی ہوئی کبری دو دن پہلے ہوئی اپنی اور شاہ میر کی ہوئی بات سوچتی ہوئی مسکرائی تھی ۔

آج وہ مسکرا رہی تھی تو شاہ میر کی وجہ سے ۔

کبری ،، وہ روم سے باہر آیا تو اسے کبری کچن کے باہر کھڑی دکھی تو اسے پکار گیا تھا ۔

کیا ہوا شاہ میر ۔ کبری نے اسے بغور دیکھا تھا ۔

تم سے بات کرنی تھی مجھے اگر تمہارا پاس تھوڑا وقت ہو تو ۔

ہمہم کیوں نہیں ۔ شاہ میر کا انداز اسے کچھ بدلا بدلا سا لگا تھا جس پر اسے نوٹس کرتی ہوئی وہ دونوں لیونگ روم کی جانب بڑھے تھے ۔

عجیب لگے گا تمہیں مگر میں تمہاری بھلائی چاہتا ہوں ۔ شاہ میر نے بات کا آغاز کیا تھا ۔

دیکھو تمہاری زندگی میں شارق بھائی کی کمی ہم میں سے کوئی بھی پوری نہیں کرسکتا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اپنے بارے سوچا بلکل چھوڑ دو ۔ کبری نے شاہ میر کو ناسمجھی میں دیکھا تھا ۔

شاہ میر کیا کہنا چاہ رہے ہو صاف صاف کہوں ، الجھتی ہوئی کبری کنفیوز ہوئی تھی ۔

فرقان سے شادی کرلو کبری ہم سب یہ ہی چاہتے ہیں، ایک سانس میں کہتا شاہ میر کبری کے بگڑے تنفروں کو دیکھ رہا تھا ۔

اتنا آسان نہیں ہوتا شاہ میر میرے دو بچے ہیں۔ کبری نے باور کروانے کی کوشش تھی ۔

اس لیے ہی کہہ رہا ہوں ۔شاہ میر پرسکون تھا اتنا تو اسے پتا تھا کہ کبری اتنی آسانی سے نہیں مانے گی ۔

میرے بچوں کا کیا ہوگا کیا انہیں کسی غیر کی سرپرستی میں دوں صرف اپنے مفاد اور خوشیوں کے لیے ہر گز نہیں اگر میرے لیے اور میرے بچوں کے لیے اس گھر میں جگہ کم پڑگئی ہے تو میں صبح ہوتے انہیں لے کر اپنے گھر چلی جاؤں گی ۔کبری بھڑک کر کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔

کہاں جاؤگی اپنے گھر وہاں پر بھی تو سب یہ چاہتے ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھ جاؤ ۔ شاہ میر کے الفاظوں نے اس کے قدم جکڑے تھے ۔

رہی بات ارحم اور پریشے کی تو ان کے لیے میری جان حاضر ہے یہ گھر کیا چیز ہے اور دوسری باتمیں نے یہ کب کہا کہ میں انہیں کسی غیر کی سرپرستی میں دے رہا ہوں ان دونوں کا سرپرست ان کا ابی رہے گا ہمیشہ ۔

میرے اپنے بچے تو نہیں ہیں مگر وہ مجھے اپنے بچوں سے زیادہ عزیز رہیں گے ہمیشہ تو ان کی فکر تم چھوڑ دو اور بارے میں سوچو ۔ کبری نے حیرت سے شاہ میر کو دیکھا تھا۔

مطلب تم مجھے میرے بچوں سے الگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہو ۔ کبری کی آنکھوں میں نمی اتری تھی ۔

بلکل بھی نہیں ہم بس تمہیں خوش دیکھنا چاہتے ہیں پہلے کی طرح اور ارحم پریشے تمہارے بچے تمہیں ان سے کون دور کرسکتا ہے ۔ نرم لہجے میں کہتا ہوا شاہ میر کبری کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر افسردہ ہوا تھا ۔

اگر فرقان مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی حرج نہیں مگر میری ایک شرط ہے ۔ طویل خاموشی کے بعد کبری بولی تھی ۔

کیسی شرط ۔۔

یہ ہی کہ انہیں ۔میرے بچوں کو بھی اپنانا ہوگا ۔ شاہ میر نے اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا اپنے آپ پر ضبط کرگیا تھا ۔

وہ انکاری نہیں ہے ۔ دانت دبائے قدرے آرام سے بولا تھا ۔

پھر تم کیوں مجھے میرے بچوں سے الگ کرنا چاہتے ہو شاہ میر ۔

انہیں الگ نہیں کرنا چاہتا تم سے انہیں میں اپنا پیار دینا چاہتا ہوں کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی تم پر جب چاہے ملو جب چاہے انہیں اپنے ساتھ لے جاؤ مگر صرف کچھ دن کے لیے ۔ کل تک کا ٹائم ہے تمہارے پاس اچھے سوچ لینا اس بارے میں ورنہ میرے دوسرا راستہ ہے جس تمہاری اور فرقان کی شادی ہونا لازمی ہے مگر ارحم اور پریشے سے کبھی نہیں ملنے دوں گا تمہیں ۔ شاہ میر اسے ساکت چھوڑ وہاں گیا تھا ۔۔

یہ کیسی الجھن ہے اللہ پاک،، آنکھوں میں نمی آنسو کی شکل میں بہہ نکلی تھی ۔

****

ابی مما کہاں جارہی ہیں ۔ منزہ نے شاہ میر کو دیکھا تھا جو ارحم کے سوال پر اسے دیکھ رہا تھا ۔

آپ بتادیں مام کہاں جارہی ہیں وہ بھی فرقان انکل کے ساتھ ۔شاہ میر کے جواب نا دینے ہر ارحم نے منزہ سے پوچھا تھا جو پریشے کا ہاتھ پکڑے کھڑی ہوئی تھی ۔

آپ چاہتے ہیں ناں آپ کی خوش رہیں ،، منزہ نے پوچھا تھا ۔

یس ، تو بس یہ سمجھیں کہ آج کے بعد سے آپ کی مام ہمیشہ خوش رہیں گی ۔

ہم دونوں بھی جائیں گے مام کے ساتھ ۔ کبری کو تو شاہ میر نے سمجھا لیا تھا مگر ارحم کے سوالوں سے وہ خود خوفزدہ ہورہا تھا ۔

اگر آپ دونوں مام کت ساتھ چلیں جائیں گے تو دادو والے آپ کو یاد کرکے سیڈ ہوجائیں گے اور آپ کے ابی تو سب سے لڑے گیے کہ میرا ارحم مجھ چھوڑ کر چلا گیا پری بھی چلی گئی تو پھر انہیں ہگ کون کرے گا ۔ ارحم نے شاہ میر کو دیکھا تھا جو گردن ہلا کر منزہ کی بات کی تصدیق دے رہا تھا ۔

اور اب تو مجھے آپ سے پیار ہوگیا ہے تو میں کیسے رہوں گی آپ کے بغیر ، منزہ نے ارحم کے کھینچتے ہوئے معصومیت سے کہا تھا ۔

آہستہ بولیں ابی سن لیں گے اور ابی کو تو میں چھوڑ بھی جاؤں مگر آپ کو کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گا ،، ارحم کو مانتے دیکھ شاہ میر اس کی شرارت پر مسکرایا تھا ۔۔

تو بس پھر ہم چل کر مام کو کس کرتے ہیں اور انہیں خوشی خوشی جانے دیتے ہیں جب ہمیں ان کی یاد آئے گی تو ہم ان سے ملنے چلے جائیں گے ۔

لوو یو مام ،، مسکرا کر منزہ کی بات مانتا ہوا ارحم کبری کو ہگ کرتا ہوا اس کے رخسار پر لب رکھ کر واپس سے منزہ کے پاس آن کھڑا ہوا تھا ۔

آپ آرام سے اپنی زندگی کا آغاز کریں یہ دونوں میری زندگی میں سب سے اولین ترجیح رہیں گے ،، کوشش کروں گی کہ میں انہیں ماں سے زیادہ پیار دینے کی ،، وہ شاہ میر کے فیصلے کو سنے بغیر ہی ارحم اور پریشے کو اپنا گئی تھی ۔جس پر شاہ میر کو اپنے فیصلے پر فخر محسوس ہوا تھا ۔

*******۔

مام مجھے ضروری کام ہے کیا ڈرائیور کے ساتھ جاسکتی ہوں ۔ پریشے کو سلانے کے بعد وہ فری ہوتی ہوئی جاذب کے بلانے کے اسرار پر بلآخر اس سے ملنے کو تیار ہوگئی تھی۔

ٹھیک ہے بیٹا آپ ہو آؤ ویسے بھی تھوڑی دیر میں منیبہ بھی آنے والی ہے آذر سے ملنے کے لیے پھر ہم سب کو چلنا بھی آذر کو سی آف کرنے کے لیے ایئرپورٹ تک ۔ آذر نے ہائیر اسٹڈیز کے لیے ملک باہر جانے کا فیصلہ کیا تھا جس پر سب نے اس کا ساتھ دیا تھا ۔

جی مام ۔ سمرین ہمدانی کو پریشے کے پاس چھوڑ وہ گھر سے نکلی تھی ۔

جاذب کے بتائے گئے ایڈریس پر پہنچتے ہی اسے ریسٹورنٹ کے بیچوں بیچ رکھی گئی ٹیبل پر جاذب اسے بیٹھا دیکھائی دیا تھا ۔

میں تمہارا زیادہ وقت نہیں لوں گا منزہ ،، منزہ کو بیٹھتے دیکھ جاذب خوشی سے کہتا ہوا بولنے لگا تھا ۔

میں خوش ہوں کہ تم اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئی ہو ،، ویسے بھی میں تمہارے قابل نہیں تھا ۔ جاذب کو سنتی ہوئی منزہ خاموش رہی تھی ۔

ایک سوال پوچھوں تم سے ؟؟

جلدی پوچھو مجھے گھر جانا ہے ۔ منزہ نے بے زاری سے کہا تھا ۔

کیا تمہیں کبھی مجھ سے ایک منٹ کےلیے بھی محبت نہیں ہوئی تھی ۔ جاذب کے بے بس چہرے کو دیکھتی ہوئی منزہ مخفی تھی اپنے اوپر جمی نم آنکھوں سے ۔

نہیں ہوئی ہمارے درمیان محبت نہیں تھی جاذب صرف ایک عزت اور احترام کا رشتہ تھا جو آج بھی قائم ہے ۔ ریسٹورنٹ میں میٹنگ کی غرض سے آتا ہوا شاہ میر کو منزہ کو جاذب کے ساتھ بیٹھے دیکھ میٹنگ کینس کیے الٹے قدم واپس مڑا تھا ۔

شاہ میر سے محبت ہوگئی تھی ۔ جاذب کا لہجہ تلخ ہوا تھا ۔

تم جیسا چاہے سمجھو یہ تمہاری سوچ پر مبنی کرتا ہے اور رہی بات شاہ میر سے محبت کی تو ہاں میں کرتی ہوں اس سے محبت اور مجھے یہ کہنے میں ذرا عار نہیں کہ میں اپنے محرم سے محبت کرتی ہوں ۔ وہ کہہ کر اپنی نشست سے کھڑی ہوئی تھی ۔

ایک بات اور جاذب میں نے ہمیشہ تمہاری عزت کی ہے اور ہمیشہ کرتی رہوں گی مگر میری دی گئی اس عزت کو محبت سمجھنے کی بھول مت کرنا ۔۔ وہ کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی ۔

*****

پہلے تو تم کلب میں ہوتے تھے مگر اب تو تمہاری شادی ہوچکی ہے اب تمہاری ،،، اور کیا یہ اب تم نے نیا کام شروع کردیا ہے جو تم رات رات بھر گھر نہیں آتے،،،

یہ یاد رکھو شاہ میر ہمدانی کہ تمہارا تعلق ایک عزت دار گھرانے سے ہے جہاں یہ سب نہیں چلتا،،،

تمہاری بیوی اس کی کیا غلطی ہے جو ساری رات جاگ کر تمہارا انتظار کرتی ہے ۔

معمول کے خلاف دادجی نہایت سنجیدگی سے بول رہے تھے جبکہ شاہ میر گردن جھکائے مجرموں کی طرح بیٹھا ہوا تھا کہ دادجی کے منہ سے نکلے لفظ بیوی پر شاہ میر کا کھوکھلا قہقہ گونجا تھا ۔

بیوی سیرسلی دادجی بیوی وہ بھی میری ،

سوری دادجی آئی ڈونٹ کنٹرول مائے سیلف،،،

پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولتا ہوا وہ طویل سانس لے رہا تھا اور دادجی اسے بڑے غور سے دیکھ رہے تھے جو بظاہر ہنس رہا تھا مگر آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔

شاہ میر تم ٹھیک ہو، ،، دادجی کے پوچھنے پر وہ لب بھینچے گردن ہلا گیا تھا ۔

وہ میری بیوی ہے دادجی پر میں اس کا شوہر نہیں ہوں،،،

کیا بکواس کررہے ہو غیرت کھاؤ تھوڑی،،، دادجی برہم ہوئے تھے شاہ میر کی بے تکی بات پر ۔

اور کتنی غیرت کھاؤ کتنی اور دادجی،،،۔

کیا کسی غیرت مند شخص کی غیرت یہ گورا کرتی ہے کہ اس کی بیوی جو اس کی عزت ہوتی ہے اسے کسی دوسرے مرد کے ساتھ ہنستے مسکراتے ،چوری چھپے بات یا ملتے دیکھ سکے ،،،

دادجی نا سمجھی میں شاہ میر کو دیکھ رہے تھے جو کنفرٹ کی پشت سے سر ٹکائے خود کے اندر چلتی جنگ سے اب تک اکیلا لڑتا لڑتا تھک چکا تھا ۔

صاف صاف کہو برخوردار جو تم کہنا چاہتے ہو ،،،، دادجی الجھے تھے ۔

میری یہ غیرت نہیں ہے دادجی جو اپنی ہی بیوی کو اس کے عاشق سے ملتے دیکھ کر بھی خاموش ہوں میں ۔

ورنہ کون غیرت مند شخص ہے جو اپنی بیوی کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے ،،،

اپنی نام نہاد غیرت پر قاتل کردیتے ہیں لیکن یہ میرا شاہ میر ہمدانی کا ہی جگرا ہے ،،

جو سب دیکھنے کے بعد بھی خاموش ہے صرف اپنی عزت اور اس عزت کے لیے جو کبھی میری عزت بنی ہی نہیں،، آنکھیں میچے درد سے دل میں اٹھی ٹھیسوں کو مٹھیاں بھینچ کر خود پر ضبط کررہا تھا مگر پھر بھی آنکھوں سے آنسوؤں اپنا راستہ بنائے بہہ نکلے تھے جنہیں اس نے صاف کرنے کی زحمت نہیں کی تھی ۔

دادجی کے پاس سے اٹھ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا جہاں منزہ کو سوتے دیکھ وہ اس کی سمت بڑھا تھا ۔

مجھے چھوڑ کر چلی جاؤ مگر میرے ساتھ رہ کر مجھے اندھیرے میں مت رکھو منزہ ۔ دروازے کی آواز پر منزہ نے شاہ میر کو دیکھتے ہی آنکھیں موند کر سوتی بنی تھی مگر شاہ میر کو سنتی ہوئی اسے مشکل پیش آرہی تھی مزید دیر آنکھیں بند کیے رکھنے پر ۔

تم اگر ایک بار کہوں گی تم اس جاذب سے محبت کرتی ہو میں تمہیں جانے دوں گا مگر مجھے اس طرح مت تڑپاؤ میں جانتا میں نے غلط طریقہ استعمال کیا ہے تمہیں حاصل کرنے کے لیے مگر میں سے بہت محبت کرتا ہوں ۔ سوئی ہوئی منزہ کو دیکھ وہ اس کے برابر میں آکر لیٹا تھا ۔

شاہ میر ،، وہ اچانک سے اٹھ کر شاہ میر کو اپنے برابر میں لیٹے دیکھ بولی تھی ۔

کیا ہوا ہے ، شاہ میر نے سرد لہجے میں استفسار کیا تھا ۔

میں کہیں بھی نہیں جاؤں گی سمجھے آپ اور جاذب کہاں سے آیا اب ۔ منزہ نے نم لہجے میں پوچھا تھا ۔

وہ گیا ہی کب تھا ہمارے درمیان سے تم نے جانے ہی کب دیا اسے ۔شاہ میربھڑک کر کہتا ہوا اٹھ بیٹھا تھا ۔

میں اسے کبھی بیچ نہیں لائی ، تو چھوڑ بھی نہیں سکی تم اسے ۔ خود پر ضبط کرتا ہوا وہ ہلکی آواز میں دھاڑا تھا ۔

پہلی بات وہ تھا ہی میری زندگی میں اور دوسری بات اگر تھا بھی تجھے اس کا ہونے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا تھا پھر میں یہاں مسسز شاہ میر ہمدانی کی نا ہوتی ۔ دوبدو بولتی ہوئی وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو تنفر سے گردن ہلا کر مسکرا رہا تھا ۔

اس سے زیادہ اپنے کردار کی کوئی صفائی نہیں دوں گی ۔ وہ کہہ کر کنفرٹ سر تک تان گئی تھی ۔

میرے ساتھ ایسے کیوں رہتی ہو جیسے تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔ منزہ پر سے کنفرٹ کھینچتا ہوا شاہ میر دانت دبائے ہوئے بولا تھا ۔

یہ رویہ اختیار آپ نے خود کیا تھا میرے ساتھ میں نے نہیں،، وہ واپس سے کنفرٹ کھینچتی ہوئی تڑخ کر بولی تھی ۔

اچھا تو مطلب سارا قصور میرا ہے ۔ شاہ میر نے حیرت سے پوچھا تھا ۔

ہاں آپ کا ۔ کنفرٹ سے منہ باہر نکال کر کہتی ہوئی واپس منہ چھپا گئی تھی ۔

ٹھیک ہے غلطی میری تھی تو میں ہی ٹھیک کروں گا سب ۔ کہتا ہوا وہ کنفرٹ کھینچ کر خود اوڑھتا ہوا بڑبڑایا تھا ۔

مجھے سردی لگ رہی ہے ۔ منمنائی تھی ۔

تو وہ تو مجھے بھی لگ رہی ہے ۔ لاجواب کرتا کنفرٹ دبا گیا تھا ۔

شاہ میر ،، منزہ کے پکارنے پر اسے دیکھ کر اسے اپنی طرف کھینچتا ہوا منزہ کو ساکت کرگیا تھا ۔

کیا کررہے ہو ،، چپ چاپ سو جاؤ ، کروٹ بدلتا ہوا وہ منزہ کو اپنے قریب کرتا ہوا آنکھیں بند کیے سوتا بنا تھا ۔

****

یہ کیا ہے ،، شاہ میر بیڈ پر رکھے اپنے کپڑے دیکھ کر حیرت سے بڑبڑایا تھا ۔

منزہ کی اپنے رشتے کی طرف پہلی پیش قدمی تھی ۔

بیڈ کے پاس کھڑی ہوئی منزہ شاہ میر کے تاثرات سمجھنے سے قاصر تھی ۔

میرا کل کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا ،، وہ ہلکا سا بڑبڑایا تھا جسے سننا منزہ کو مشکل در پیش آرہی تھی ۔

اوہ میرے تو ہاتھ سلامت ہیں اور ٹانگیں بھی ماءشااللہ سے کام کررہی ہیں اچھے سے، آگے کی طرف بڑھ کر واپس سے پیچھے قدم لیتا ہوا وہ منزہ کو بنا دیکھے بولا تھا جس منزہ اسے حیرت دیکھ رہی تھی جو اچانک سے اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہا تھا تو کبھی اپنی ٹانگوں کو ۔

آنکھوںسے دکھ بھی رہا ہے مجھے ،، منزہ کے چہرے پر انگلیاں پھیرتا ہوا وہ اسے لرزتے دیکھ بغور دیکھ رہا تھا جو بلیو کلر کی کامدار فراک پر ہم رنگ نیٹ کا ڈوپٹہ سر پر ٹکائے وہ میک اپ سے پاک چہرہ لیے ہوئے شاہ میر کی گہری نظروں سے گھبراہٹ محسوس کررہی تھی ۔

جب میرے ہاتھ پیر سلامت ہیں تو آپ کو کیااا ضروت پڑی تھی میرا کام کرنے کی ۔ شاہ میر نرمی سے بولتا ہوا آخر میں دھاڑا تھا ۔

جس پر کانپتی ہوئی منزہ نے آنکھیں میچی تھیں ۔

میں اپنا کام خود سے کرسکتا ہوں مسسز ،، منزہ کی کمر ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچتا ہوا شاہ میر منزہ لے کان میں سرگوشی کرتا ہوا اس کئ لرزتے وجود سے مزہ لیتا ہوا اسے مزید قریب کرگیا تھا ۔

ویسے یہ اچانک سے بیویوں والی رگ کیسے بیدار ہوگئی تمہاری ۔ منزہ کے سر پر سے اترے ڈوپٹے کو دیکھتا ہوا اس کے کیچر کیے بالوں کو آزاد کرگیا تھا ۔

منزہ خاموش رہی تھی ۔

بیویوں کے اور بھی بہت سے حقوق ہوتے ہیں ان کے علاوہ وہ تو جانتی ہی ہوگی تم ۔ منزہ کی ناک سے اپنی ناک مس کرتا ہوا وہ شرپر ہوا تھا ۔

ہمہم ویسے تو بہت زبان چلتی ہے تمہاری اب کیوں بولتی بند ہوگئی ہے ۔ سانس روکے شاہ میر کو سنتی ہوئی اسے دیکھنے سے گریزاں تھی ۔

تمہاری خاموشی مجھے اکسا رہی ہے ایسا کرنے کے لیے جس کے لیے تم تیار نہیں ہو ۔ شاہ میر کہتا ہوا اس چہرے پر جھکا تھا شاہ میر کی سانیس اپنے چہرے پر محسوس کرتی ہوئی منزہ فورا سے شاہ میر کے سینے پر سر رکھتی ہوئی اسے دنگ کرگئی تھی ۔

مجھ سے بچنے کے لیے بھی تمہیں میری مدد چاہیے ۔ اس کے گرد حصار قائم کرتا ہوا وہ منزہ کے اقدام پر سرشار ہوا تھا ۔

ایم سوری ،، منزہ کو خود سے لگائے وہ آنکھیں بند کیے ہوئے بوکا تھا ۔

میں نے تو آپ کو کب کا معاف کردیا ۔ شاہ میر نے حیرت سے اسے دیکھا تھاجو اس کے حصار میں مسرور سی تھی ۔

رئیلی پھر مجھے بتایا کیوں نہیں ،،شاہ میر نے شکوہ کیا تھا ۔

بتا دیتی تو آپ مجھے سوری تھوڑی کہتے ،، شاہ میر کو دیکھتی ہوئی وہ ہنوز اس کے حصار میں تھی ۔

ایم سوری منزہ شاہ میر ہمدانی ہر اس غلطی کے لیے اور اس کے لیے جو میں اب کرنے والا ہوں ۔ شاہ میر کے کہنے پر منزہ کو حیرت ہوئی تھی کیا وہ کبھی نہیں بدل سکتا تھا منزہ سوچ کر پریشان ہوئی تھی ۔

منزہ کی آنکھوں میں نمی دیکھ وہ اس کے رخسار پر لب رکھتا ہوا اسے ساکت کرگیا تھا ۔۔

پاگل ،، منزہ کی دونوں آنکھوں پر باری باری لب رکھتا ہوا منزہ کی پریشانی تمام کرگیا تھا ۔

*****

تین سال بعد ۔۔۔۔

زندگی اتنی بھی مشکل نہیں ہوتی جنتا ہم انسان سمجھ لیتے ہیں ۔ زندگی تو خوبصورت ہوتی ہے جسے دیکھنے کے لیے ہمیں پہلے خود خوبصورت ہونا پڑتا ہے پھر اپنے آپ ہی سب چیزیں نظر آنے لگتی ہیں ،

سچ کہتے ہیں شاہ میر عجیب ہے یہ راہ یار بھی جب لگتا ہے کہ ہم خالی ہاتھ رہ گئے ہیں راہ یار کے اس سفر پر پھر اچانک ہمارا دامن خوشیوں دے بھر دیتی ہے ۔

میں خود حیران ہوں میں کب اس راہ کی مسافر بنی مسافر بنی بھی تو بس اس ہی کی ہوکر رہ رہے گئی ۔ ساحل سمندر پر کھڑی ہوئی وہ شاہ میر کو ارحم پریشے اور دو سالہ سعدان کے کھیلتے دیکھ وہ زندگی سے بھرپور مسکراہٹ لیے انہیں دیکھ رہی تھی ۔

منزہ ،، منزہ کو آنے کا کہتا ہوا شاہ میر سعدان کو گود میں اٹھاتا ہوا پریشے کے پیچھے بھاگنے لگا تھا ۔

ڈیڈ،، خوشی سے چلاتا ہوا سعدان پریشے کے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ رہا تھا ۔

ابی یہ چیتنگ ہے ۔ پریشے کی دہائی پر پیچھے سے آتی ہوئی منزہ مسکرائی تھی ۔

بلکل یہ چیٹنگ ہے سعدان کو نیچے اتاریں ۔ شاہ میر کو کہتی ہوئی منزہ پریشے کا ہاتھ پکڑے بولی تھی ۔

مما ،، یس مما کی جان ،، پری کے پکارنے پر منزہ نے اس کے گال کھینچے تھے ۔

یس ابی یہ چیٹنگ ہے ہم نہیں رہے آپ کے اور سعدی کے ساتھ ۔ دوسری طرف سے مڑ کر آتا ہوا ارحم منزہ کا ہاتھ پکڑے بولا تھا ۔

سعدی ،، شاہ میر نے سعدان کو دیکھا تھا جو منزہ کو ان دونوں کے ساتھ کھڑے دیکھ روہانسا تھا ۔

ایک ہاتھ سے آنکھیں مسلتا ہوا سعدان رونے کو تیار تھا ۔

مما،، منزہ کی گود میں آنے کے لیے پرتول کرتا سعدان شاہ میر کو تنہا چھوڑ منزہ کی ٹیم میں شامل ہوا تھا ۔

اب آپ اکیلے ہوگئے ہیں اس لیے اب بھاگے گیے اور آپ پکڑے گیے ۔ تینوں کے پیچھے بھاگتی ہوئی منزہ مسکرا کر شاہ میر کو دیکھ رہی تھی جو دونوں سے کمر پکڑے ہوئے حیران و پریشان ہوا ان تینوں کو منزہ کے ساتھ ۔

مما، ،پریشے کے پکارنے پر منزہ نے رخ ان کی سمت کیا تھا جس پر بررفتاری سے شاہ میر نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں مقید کیا تھا ۔

چیٹر ،، منزہ چڑ کر بولی تھی ۔

منزہ کو شاہ میر کی قید میں دیکھ وہ تینوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے بھاگ رہے تھے ۔

بہت شکریہ منزہ میری زندگی کو مکمل اور خوبصورت بنانے کے لیے ۔ ان تینوں کو دیکھ شاہ میر مسکراتا ہوا منزہ کے شانے پر تھوڑی ٹکائے بولا تھا ۔

تھینکس ٹو یو شاہ میر ہمدانی اس راہ یار کے سفر میں میرا ہمسفر بننے کے لیے ، ایک دوسرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کی گمراہی میں اپنے بچوں لی سمت بھاگے تھے ان سے کافی فاصلے پر کھڑے انہیں پکار رہے تھے ۔

*****

ختم شد