Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304 Raah E Yaar (Episode 14)
Rate this Novel
Raah E Yaar (Episode 14)
Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar
ارے کبری جی آپ ابھی تک یہاں پر ہی کھڑی ہیں اور میں کب سے آپ کا انتظار کررہا تھا ۔ عجلت میں کھڑی کبری فرقان کی آواز پر افسردہ چہرہ لیے اس کی سمت مڑی تھی ۔
جی وہ یہ پرینٹر نہیں چل رہا مجھ سے بہت کوشش کی میں نے لیکن بے سود، ، افسردگی سے کہتی ہوئی وہ پرنٹر کو دیکھتی ہوئی بولی تھی ۔
ایسی بات تھی تو آپ مجھے بلالیتی سائیڈ ہوں میں چلا دیتا ہوں اسے ،، کبری کو سائیڈ ہونے کا کہتا ہوا فرقان پرنٹر آن کرکے مسکرایا تھا کبری کے شاکڈ فیس کو دیکھ کر ۔
اتنا آسان تھا ،، کبری حیرت سے گویا ہوئی تھی ۔
جی اتنا آسان تھا اب یہ پیپرز آپ مجھے دیں اور آپ میرے کیبمیں بیٹھیں میں بس پانچ منٹ میں آتا ہوں ۔ سنجیدگی سے کہتا ہوا کبری کی خود پر ٹکی نظروں سے انجان بنا کھڑا تھا ۔
جی ۔۔ فرقان کو دیکھتی ہوئی وہ وہاں سے گئی تھی ۔
ہمدانی تو میرے صبر کا امتحان لے رہا ہے اللہ پوچھے گا تجھے کمینے ۔ پیپرز پرنٹ کرتا ہوا وہ شاہ میر کی دی ہوئی زمیداری یاد کرتا لب بھینچ گیا تھا ۔
کبری کو تم گائیڈ کرو گے ،،، کیاااااااا ،، شاہ میر کے عام سے انداز پر وہ چونکا تھا۔
کیا کیا جو کہا ہے وہ ہی کرنا ،،، فرقان کے چونکنے پر شاہ میر نے تاسف سے گردن ہلائی تھی ۔
جب تک ڈیڈ واپس نہیں آجاتے جب تک کبری کو گھر تک تم ہی ڈراپ کرو گے ،، ایک نیا حکم اس پر صادر کرتا ہوا شاہ میر فائلز سمیٹتا ہوا چہرے پر سنجیدگی طاری کیے ہوئے تھا ۔
میں کوئی ملازم نہیں ہوں تیرا پارٹنر ہوں میں ،،، صدمے سے کہتا فرقان شاہ میر کے کڑے تاثرات دیکھ کر رخ موڑ گیا تھا ۔
اچھے سے جانتا ہوں کہ تو اس کنسٹرکشن بزنس کے ساتھ ساتھ میرا کرائم پارٹنر بھی ہے ،،اس ہی وجہ سے تجھے کبری کی ذمہ داری دے رہا ہوں اگر نہیں نبھا سکتا تو تو سب بھول جا جو تو نے سوچا تھا وہ بھی جو تو اب سوچتا ہے وہ بھی، ،، فرقان کو وارن کرتا ہوا شاہ میر اپنی اچانک سے امڈ آنے والی مسکراہٹ پر قابو پائے ہوئے تھا ۔
جبکہ فرقان اسٹل بنا اسے ہی دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پر مسکراہٹ کا شائبہ تک نا تھا ۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے سمجھے تم ،، شاہ میر رخ موڑ کر مسکرایا تھا ۔
ہمہم ،، شاہ میر کہہ کر وہاں سے گیا تھا ۔
فرقان سر یہ ہوگئے ہیں ، آفیس اسٹاف کے لڑکے کے پکارنے پر سوچوں میں گم فرقان ہوش میں آیا تھا ۔
تھینک یو ۔ پرنٹ کیے پیپرز لیے اپنے کیبن کی جانب بڑھتا ہوا فرقان ہاتھ پر بندھی ریسٹ واچ پر ٹائم دیکھتا ہوا مسکرایا تھا ۔
****
کیا ہوگیا ہے آپ کو شائستہ جب دیکھو بچے کے پیچھے پڑی رہتی ہیں آپ ۔ وقار صاحب جو کب سے انہیں مزمل کو سناتے دیکھ آخر کار بول ہی اٹھے تھے ۔
میں پڑی رہتی ہوں پیچھے اس کے اور یہ جو مجھے چھوٹے بچوں کی طرح تنگ کیے رکھتا ہے اس کی عمر کے نوجوان سمجھدار میچور ہوتے ہیں اپنا کام سلیقے سے کرتے ہیں اور یہ جب دیکھو کمرے کا حشر بگاڑ کر رکھتا ہے ۔وقار مرزا کے پیچھے کھڑے مزمل کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں ماں کی بات پر ۔
اللہ اللہ بابا منزہ کی ساری کمی مجھ سے پوری کرتی ہیں ناں ۔کانوں کو چھوتا ہوا وہ صدمے سے گویا ہوا تھا ۔
ہاں تو کسے سناؤ ایک منزہ ہی ہوتی تھی میری سننے والی آپ تو میری سنتے نہیں تھے ، ان کے تیز تلوار کا رخ وقار صاحب پر آیا تھا ۔
سندھ یونیورسٹی کے قابل پروفیسر اور پرنسپل
کی بیٹی ہونے کے بعد بھی ہماری بیٹی اسکالرشپ پر پڑھ رہی ہے اس سے تو بہتر ہے آپ ریٹائرمنٹ لے لیں وقار صاحب پھر ہم کراچی ہی شفٹ ہوجائے گے واپس سے ۔
نا تو پھر ہماری منزہ کو بھی ہاسٹل میں رہنا نہیں پڑے گا ۔ ممتا کی تڑپ ان کی آنکھیں نم کرگئیں تھیں ۔
اتنا آسان نہیں ہے شائستہ ریٹائرٹ لینا اور مجھے فخر ہے میری بیٹی کی قابلیت پر ۔ شائستہ بیگم کے ہاتھ پر دباؤ دیتے ہوئے خود بھی منزہ کی یاد میں افسردہ ہوئے تھے مگر فخرایہ انداز سے بولے تھے جس پر شائستہ بیگم خاموش ہوئی تھیں ۔
یار آپ دونوں تو ایسے افسردہ ہورہے ہیں منزہ کو یاد کرکے جیسے وہ ہی آپ دونوں کی سگی اولاد ہے اور مجھے کسی کوڑے دان سے اٹھا کر لائیں ہوں ۔
بابا مجھے تو لگتا ہے کہ ماں تو میری شادی بھی رشیدا کی بیٹی سے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔
ان دونوں کے بیچ میں بیٹھتا ہوا مزمل بیچارگی سے وقار صاحب کے کندھے پر سر رکھ گیا تھا ۔
ہے ناں ماں سوتیلا بیٹا ہوں نا میں آپ کا ۔ شائستہ بیگم کے سنجیدہ چہرے کو وہ غور سے دیکھتا ہوا بولا تھا ۔
یہ تمہیں کیسے پتا چلا میں نے تمہارے رشتے کی بات رشیدا (ملازمہ)کی بیٹی سے چلائی ہے ۔ شائستہ بیگم کی بات مزمل کی آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں ۔
کیا مطلب ماں ۔
کیا مطلب کیا جو سچ ہے وہ ہی تو بتایا ہے ۔ مزمل کے ساتھ وقار صاحب بھی حیران ہوئے تھے ۔
آپ سچ کہہ رہی ہیں شائستہ ۔
اور نہیں تو کیا اب سوتیلا بیٹا ہے مگر ہے تو بیٹا ہی ناں اتنا تو اس کے لیے سوچ ہی سکتی ہوں ۔ وہ بھی آج مزمل کو زچ کرنے کے درپے تھیں ۔
بابا کیا سچ میں اگر سچ ہے تو کیا رشیدا کی بیٹی ۔ مزمل کا رونے جیسا منہ دیکھ کر شائستہ بیگم مسکرا اٹھی تھیں ۔
مذاق کررہی ہوں میرے بیٹے کے لیے تو بہت ہی پیاری بیوی لاؤں گی ۔ شائستہ بیگم کے کہنے کی دیر تھی اور مزمل کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی ۔
میں وقار صاحب آپ کے لیے چائے لے کر آتی ہوں جب تک آپ اپنے بیٹے کو حوصلہ دیں ۔ مزمل کے سر پر ہلکی سی چیت رسید کرتی ہوئیں وہ کچن کی جانب بڑھی تھیں ۔
پروفیسر مزمل وقار مرزا، باپ کے لہجے میں فخر محسوس کرتا مزمل سرشار ہوا تھا ۔
جی بابا ۔ خوشی سے دمکتی آنکھوں میں سرشاری ہی سرشاری تھی ۔
بس میرا اللہ تم دونوں کو ایسے ہی کامیاب کرے ۔ آمین ۔ مزمل کا کاندھے تھپتھاتے ہوئے وہ مسکرا رہے تھے ۔
مزمل تمہارے بابا کا فون بج رہا ہے بیٹا ۔کچن سے آتی شائستہ بیگم کی بلند ہانک پر وہ فورا سے کمرے کی جانب دوڑا تھا ۔
بابا یونیورسٹی سے فون ہے آپ کے لیے ۔ وقار صاحب کو فون پکڑاتا ہوا وہ خود بھی ان کے پاس آبیٹھا تھا ۔
ریٹائرمنٹ مگر صبح تک تو کوئی ایسی بات نہیں ہوئی تھی اس بارے میں ۔
چلیں جیسی آپ کی مرضی کب آنا ہوگا مجھے ریٹائرمنٹ فرام سائن کرنے ۔ سنجیدگی سے پوچھتے ہوئے وقار صاحب کو دیکھ مزمل ریٹائرمنٹ کے نام پر شاکڈ ہوا تھا ۔
صبح ٹھیک ہے خدا حافظ ۔ افسردگی سے فون رکھ گئے تھے ۔
آپ کی ریٹائرمنٹ کا آرڈر آیا ہے کیا بابا ۔ مزمل سے رہا نا گیا تو فورا سے پوچھ گیا تھا ۔
جی بیٹا ،، مگر اچانک کیسے ،،، مزمل کے لہجے میں پریشانی گھلی تھی ۔
سرکاری ملازمین میں شمار ہیں ہمارا بیٹا کب کہاں ٹرانسفر ہوجائے یا پھر کب ریٹریٹائرمنٹ لیٹر موصول ہوجائے کہاں پتا چلتا ہے ۔ افسردگی سے کہتے ہوئے مسکرائے تھے ۔
آج یا کل مجھے ریٹائرمنٹ لینی ہی تھی اب وہ خود سے دے رہے ہیں تو اس میں اداس ہونے کی کیا بات ہے مزمل ۔
ویسے تمہاری ماں کی مراد بھر آئی ۔ وقار صاحب کی بات ہر مزمل مہذ سر کو ہلا کر خاموش ہوا تھا ۔
*****
تم ملوانے والی تھی اپنی بیسٹ فرینڈ سے ۔ جیل سے سیٹ کیے ہوئے براؤن بال جو آذر پر کافی سوٹ کررہے تھے ۔ وائیٹ پینٹ پر بلیو جینز کی شرٹ پہنے ہوئے وہ جیب میں ہاتھ دئیے منیبہ کے پیچھے چلتا ہوا عام سے لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔
اس کے سوال پر منیبہ نے رک کر اس کی طرف دیکھا تھا جو ہنوز جیب میں ہاتھ دیئے اس کے دیکھنے پر شانے اچکاتا مسکرایا تھا ۔
ہاں ملوانا تو تھا تمہیں اس سے مگر شاید وہ ہاسٹل چلی گئی ہے ۔ کہہ کر منیبہ واپس چلنے لگی تھی اور اس کے پیچھے آذر۔
ہمہم قسمت میں نہیں تھا ملنا آج ہمارا ۔ بھنویں سیکڑے منیبہ کو دیکھ وہ آنکھوں میں سوال لیے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
کیاااا ،،،،، کچھ نہیں ۔
ویسے تمہاری دوستی کیسے ہوئی مطلب تمہاری دوست سے ۔ بات بڑھاتا ہوا وہ کینٹین کے بیرونی دروازہ پار کیا تھا ۔
اسکالرشپ اسٹوڈنٹ وہ ۔
کیا مڈل کلاس فیملی سے ہیں وہ ۔ اسکالرشپ کا سن کر آذر کے ذہن میں سوال ابھرا تھا جو فورا سے منیبہ سے پوچھ گیا تھا ۔
نہیں مڈل کلاس فیملی سے نہیں ہے وہ اس کے بابا حیدر آباد یونیورسٹی کے قابل پروفیسر اور پرنسپل ہیں اور مزمل اس کے بابا کے ساتھ ہی کمیسٹری کے پروفیسر ہیں ۔ مزمل کے نام پر آئی منیبہ کے چہرے پر مسکراہٹ کو آذر نے گہری نظروں سے دیکھا تھا ۔
اور یہ مزمل کون ہے ۔ چاروں اطراف نظریں دوڑاتا ہوا اپنے دونوں لب دبائے ہوئے تھا ۔
منزہ کا بھائی ہے ۔ہوا کی دوش پر اڑتے اپنے ڈوپٹے کو سنبھالتی ہوئی وہ بنا آذر کے تاثرات دیکھے بولی تھی ۔
ہمہم تم ملی ہو ان سے ،،،
نہیں آج تک یہ حسین اتفاق ہی نہیں ہوا ورنہ جس وقت منزہ ان کی بات کرتی ہے نا میرا تو بس نہیں چلتا کہ ان سے اس ہی وقت مل لوں ۔ اپنی ٹون میں بولتی ہوئی آذر کے مزمل کے نام پر بگڑے تاثرات دیکھنے سے قاصر تھی ۔
ویسے میں کیسا لگتا ہوں تمہیں ۔ آذر کے اچانک پوچھنے پر منیبہ حیرت سے پوری کی پوری اس کی جانب مڑی تھی جو اس کے منہ سے تعریف سننے کے لیے بے قرار تھا ۔
ہمہم صحیح ۔ مذاق اڑاتی ہوئی وہ مسکرائی تھی آذر کے ساکت چہرے کو دیکھ کر ۔
بس صحیح ۔ وہ صدمے سے گویا ہوا تھا ۔
کہتے ہیں منہ پر تعریف کرنے سے سامنے والے بگڑ جاتے ہیں ۔کہہ کر منیبہ لائبریری کی جانب بڑھی تھی ۔
آذر اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھتا ہی رہ گیا تھا جو گھما پھرا کر اس کی تعریف کرگئی تھی ۔
*****
بول کیا مدد کرسکتا ہوں میں تیری ۔ ریسٹورنٹ میں مزے سے کافی سے لطف اندوز ہوتا شاہ میر وقاص کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
چھوٹی سی مدد کرنی ہے تمہیں ۔ دونوں کہنیاں ٹیبل پر ٹکائے شاہ میر وقاص کی طرف ہلکا سا جھکا تھا ۔
کیسی مدد کہیں تم مجھ سے کسی کا قتل تو نہیں کروانا چاہتے ۔ رازدانہ انداز میں کہتا وقاص شاہ میر کے فلک شگاف قہقہ پر مبہم سا مسکرایا تھا ۔
کسی کا قتل کرنا ہوگا تو وہ میں خود بھی کرسکتا ہوں تمہاری ضرورت نہیں پڑے گی مجھے ۔
پھر ۔شاہ میر کو مزے کافی پیتے دیکھ وہ اب سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔
ایک پروفیسر کا ٹرانسفر اور ایک کی ریٹائرمنٹ کروانی ہے بس ۔قدرے آرام سے کہتا ہوا شاہ میر اسے چونکا گیا تھا ۔
واٹ ٹرانسفر اور ریٹائرمنٹ کس کی اور کیوں ؟؟؟؟؟
دیکھ بھائی میں ایک انگلش کا پروفیسر ہوں میں کیسے کسی کا ٹرانسفر اور ریٹائرمنٹ نوٹس کنفرم کروا سکتا ہوں ۔ شاہ میر کے ہاتھ سے مگ چھینتا ہوا وقاص حیرت زدہ ہوا تھا ۔
کسی پولیس والے کی ریٹائرمنٹ کروانے کا نہیں کہہ رہا ایک پروفیسر کی ہی بات کررہا ہوں ۔ شاہ میر سخت بد مزہ ہوا تھا وقاص کے مگ چھیننے پر ۔
دیکھ بھائی میں یہ نہیں کرسکتا ۔ وقاص نے ہری جھنڈی دیکھاتے ہوئے دونوں ہاتھ کھڑے کیے تھے ۔
تجھ سے امید ہی یہ ہی تھی مجھے ۔ شاہ میر نے پریشانی مسلی تھی ۔
ایک ساتھ دو دو کام ۔ وقاص بڑبڑایا تھا ۔
مشکل ہے تیرے لیے یہ کرنا ۔ آبرو ریس کرتا شاہ میر بھڑکا تھا ۔
مشکل نہیں ہے یار اب بابا کو کہہ دوں اب یہ کام ہوجائے گا ۔ شاہ میر کے بھڑکنے پر وہ عام سے انداز میں بولا تھا ۔
پھر انکار کیوں کیا تھا پہلے ۔ شاہ میر نے گھوری پر وہ مسکرایا تھا ۔
ایسے ہی ۔شانے اچکاتا ہوا وہ شاہ میر کو اس وقت زہر لگ رہا تھا ۔
ویسے کون ہیں جس کا ٹرانسفر اور ریٹائرمنٹ لیٹر ایک ساتھ چاہیے ۔ وقاص کے پوچھنے پر شاہ میر نے چاروں اطراف نظریں گھومائی تھی ۔
کسی کو پتا نا چلے میرے ہونے والے سسر کی ریٹائرمنٹ اور اپنے سالے کا ٹرانسفر تیری یونیورسٹی میں کروانا چاہتا ہوں بہت قابل پروفیسر ہے مزمل پروفیسر وقار مرزا ان کی ریٹائرمنٹ کروانی ہے ہر سہولت کے ساتھ اور مزمل وقار مرزا ان کا ہی بیٹا ہے نام تو آنکھوں کے سامنے سے گزرے ہی ہونگے تمہاری ۔ شاہ میرکے منہ سے سنے ناموں پر وقاص نے ذہن پر زور دیا تھا ۔
وقار مرزا تو نے یہ ہی نام لیا ہے ناں ۔شاہ میر نے اثبات میں گردن ہلائی تھی ۔
یار ایسے پروفیسر کی ریٹائرمنٹ بنتی تو نہیں ہے پھر بھی تو کہتا ہے کروا دیتا ہوں ۔ وقار مرزا کے نام پر وقاص نے افسردگی سے ہامی بھری تھی ۔
اور مزمل کا ٹرانسفر ۔
وہ بھی ہوجائے گا تو بے فکر رہے ۔ شاہ میر مسکرایا تھا ۔
لیکن وقاص ان دونوں کے ٹرانسفر اور ریٹائرمنٹ لیٹر میں ایک ہفتے کے درمیان کا فرق رکھنا تاکہ انہیں ذرا شک نا ہو اور خیال رہے میرا نام تو بلکل بھی نہیں آنا چاہیے ان سب میں ۔ شاہ میر کے تنبیہ کرنے پر وقاص نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا ۔
یار اگر میرا نام آگیا ان کے سامنے تو وہ اپنے ہونے داماد کے احسان میں ساری عمر نظریں جھکا کر رکھیں گے ۔
کیا مطلب ۔شاہ میر کی بے تکی باتوں سے وقاص پریشان ہوا تھا ۔
یار وہ کب سے کروانا چاہتے تھے یہ کام اس لیے اور کیا مطلب ہوگا ۔ شاہ میر بروقت بات سنبھالی تھی ۔
بے فکر رہے کل تک تجھے گڈ نیوز مل جائے گی وقار سر کی ریٹائرمنٹ کی ۔وقاص کی رضامندی پر شاہ میر نے دل ہی دل میں خدا کا شکر گزار ہوا تھا ۔
*****
اپنی دھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں
او پچھلی رت کے ساتھی
اب کے برس میں تنہا ہوں
تیری گلی میں سارا دن
دکھ کے کنکر چنتا ہوں
مجھ سے آنکھ ملائے کون
میں تیرا آئینہ ہوں
میرا دیا جلائے کون
میں ترا خالی کمرہ ہوں
تیرے سوا مجھے پہنے کون
میں ترے تن کا کپڑا ہوں
تو جیون کی بھری گلی
میں جنگل کا رستہ ہوں
آتی رت مجھے روئے گی
جاتی رت کا جھونکا ہوں
اپنی لہر ہے اپنا روگ
دریا ہوں اور پیاسا ہوں
سر آپ یہاں ۔۔ شاہ میر کو یونی کے باہر کھڑے دیکھ اسٹاف بوائے زبیر نے حیرت سے پوچھا تھا ۔
ہاں کیوں میرا یہاں آنا منع ہے پابندی عائد ہوئی ہے مجھ پر کہ شاہ میر ہمدانی یونیورسٹی نہیں آسکتا ، دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے ریلکس کھڑا ہووہ طنزیہ انداز میں بولا تھا ۔
نہیں سر میرے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا ،، شاہ میر کے جواب پر وہ ڈگمگایا تھا ۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔ شک بھری نظروں سے دیکھتا ہوا شاہ میر زبیر کو جذبذ کرگیا تھا ۔
میری بہن پڑھتی ہے سر یہاں بس اسے ہی لینے آیا تھا ۔
ہمہم تمہارے چھوٹے سر بھی یہاں پر ہی پڑھتے ہیں ۔ عام سے لہجے میں کہتا متلاشی نظریں دوڑاتا ہوا شاہ میر منزہ کی ایک جھلک کی خاطر دھوپ میں کھڑا ہوا تھا مگر شاید ول اس کی جھلک اس کے نصیب میں نہیں تھی آج ۔
سوری سر ،، شاہ میر کو نظریں دوڑاتے دیکھ زبیر وہاں سے سائیڈ پر ہوا تھا ۔
آذر کب تک فری ہورہے ہو تم میں باہر کھڑا ہوں ،،، تھک ہار کر آذر کو کال ملا گیا تھا ۔
بھائی آج آپ مجھے لینے آئے ہیں، ،آذر کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔
نہیں آیا تو کسی اور وجہ سے تھا پھر سوچا تمہیں پک کرلوں، شاہ میر کے سچ نے آذر کی خوشی پر پانی پھیرا تھا ۔
یہ بتاؤ تم آرہے ہو یا نہیں، ، شاہ میر کے لہجے میں بیزاری شامل ہوئی تھی ۔
بس آرہا ہوں بھائی ایک منٹ میں، ، گاڑی میں بیٹھا شاہ میر سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا تھا ۔
آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے نا بھائی ،، گاڑی میں بیٹھتے ہی آذر نے شاہ میر کی چوڑی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر چیک کیا تھا ،،،،
بخار بھی نہیں ہے آپ کو تو ،، جس پر اسے شاہ میر کی سخت گھوری ملی تھی ۔
شاہ میر کی گھوری پر مسکراتا آذر شاہ میر کے یہاں ہونے پر سوچ میں غرق ہوا تھا ۔
*****
