Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304 Raah E Yaar (Episode 21)
Rate this Novel
Raah E Yaar (Episode 21)
Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar
چند روز بعد:
منیبہ ادھر آؤ ذرا ، آذر جو منیبہ کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوا تھا اسے سائیڈ ہر آنے کا کہتا ہوا خود بھی سائیڈ پر آیا تھا ۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو ،، منیبہ اس سے زیادہ حیرت میں تھی ۔
کیا مطلب میرے بھائی کی شادی ہے اور تم یہاں کیا کررہی ہو ،، آذر منبیہ کی سنگت میں دن بدن منیبہ کی طرح لڑاکا ہونے لگا تھا ۔
میری دوست کی شادی ہے، وہ خوشی سے چہکی تھی مگر اگلے ہی پل وہ خوشی اڑن چھو ہوئی تھی آذر کے پہلے جملے پر غور کرنے کے بعد ۔
تمہارے بھائی کی شادی ہے اور تم نے مجھے بلایا بھی نہیں ۔ صدمے سے کہتی ہوئی کاٹ کھانے کو دوڑی تھی ۔
ہاں تو تمہاری بھی تو دوست کی شادی تھی ،، آذر نے خود کو بچانے کی خاطر کہا تھا ۔
دوست کی شادی اور بھائی کی شادی میں دن رات کا فرق ہوتا ہے ۔دیکھنا اب میں بھی تمہیں اپنے بھائی کی شادی میں نہیں بلواؤں گی ۔ منیبہ کے صدمے سے کہتا الفاظ پر آذر قہقہ لگا گیا تھا ۔
اچھا مگر تمہارا تو کوئی بھائی ہے ہی نہیں، آذر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا ۔
بھائی نہیں تو کیا ہوا میں تمہیں اپنی شادی میں نہیں بلاؤں گی ۔چڑ کر کہتی ہوئی منیبہ آذر کے لبوں سے مسکراہٹ چھین گئی تھی ۔
جھٹکے سے منیبہ کا ہاتھ پکڑتا ہوا آذر اسے اپنے روبرو کرگیا تھا جس پر منیبہ کے دم خشک ہوئے تھے آج تک آذر کو اتنا سنجیدہ کہاں دیکھا تھا اس نے ۔
مجھے نہیں بلاؤ گی تو نکاح کس کے ساتھ پڑھو گی ۔ منیبہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ نہایت سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔
بولو ،، جس سے بابا کہیے گے اس سے کم از کم وہ اپنی فیملی کے ساتھ تو آئے گا مجھے اپنا بنانے تمہاری طرح تو نہیں ،، آذر کی اپنے لیے حد درجہ سنجیدگی دیکھ منیبہ سرشار ہوئی تھی مگر اسے چھیڑنے کی خاطر بولی تھی ۔
ایسی بات ہے ،، منیبہ کا ہاتھ پکڑے وہ سائیڈ سے نکلتا ہوا مہمانوں کے بیچ سے نکلتا ہوا سیدھا اسٹیج کی سائیڈ پر کھڑے سمرین ہمدانی اور جہانزیب ہمدانی کے پاس جا پہنچا تھا ۔
مام ،ڈیڈ مجھے آپ لوگوں کو کسی سے ملوانا تھا ،، ایک نئی آفت کو دعوت دے دی دی منیبہ تو نے سوئے ہوئے شیر کو جگا دیا ۔ آذر کے ردعمل پر منیبہ کی سانس رکی تھی ۔
میٹ منبیہ مائے مام اینڈ ڈیڈ اینڈ مام شی از منیبہ صفدر میری بیسٹ فرینڈ ۔ آذر کے انداز سے صاف ظاہر تھا سامنے کھڑی لڑکی اس کی صرف بیسٹ فرینڈ نہیں تھی ۔
السلامو علیکم ۔ منیبہ کا ہاتھ اب بھی آذر کی گرفت میں تھا جس کے باعث منیبہ کی آواز کسی گہری کھائی سے آتی دے رہی تھی ۔
وعلیکم السلام بیٹا کیسی ہیں آپ، سمرین ہمدانی آذر کا انداز دیکھ کر مسکرائی تھیں ۔
میں ٹھیک آنٹی، آذر سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی ہوئی وہ خبراں مسکرائی تھی ۔
بیٹا ہاتھ چھوڑ دو بچی کا ہمیں پتا چل گیا جو بتانا چاہتے تھے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ جہانزیب ہمدانی کے کہنے پر منیبہ کی پہلے آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں مگر اگلے ہی پل شرمندگی سے گردن جھکی تھیں ۔
آئی نو ڈیڈ جب ہی تو آپ لوگوں کے پاس منیبہ کو لے کر آیا تھا کیسی لگی دادجی اور بی جان آپ کی چھوٹی بہو ،، آذر نے ڈھٹائی کی حد پار کی تھی ۔
جس پر منیبہ عش عش کرتی رہ گئی تھی ۔
شاہ میر نے راستہ صاف کردیا تمہارا برخوردار، ، دادجی مسکرائے تھے ۔
یہ ہی سمجھ لیں دادجی ،، بی جان کی جانب بڑھتا ہوا آذر منبیہ کو اپنے ساتھ لے کر جاتا ہوا اسے دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
جو سیاہ لانگ فراک پہنے ہوئے شرم و غصے سے سرخ ہورہی تھی ۔
خوش رہو ،، منیبہ کے سر پر ہاتھ رکھتی ہوئیں بی جان منیبہ کو دیکھ کر داد دینے کے انداز سے مسکرائی تھیں ۔
آذر ہاتھ چھوڑو میرا ،، منیبہ کی برداشت ختم ہوئی تھی ۔
بیٹا ہماری فیملی میں اپنے منگیتر اور شوہر کا نام نہیں لیتے ۔ منیبہ شرم سے چور ہوئی تھی جبکہ آذر کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا تھا آخر کار اس کی پسند سب کو پسند جو آئی تھی ۔
چھوڑ دوں گا پہلے بھائی اور بھابھی سے مل لیتے ہیں ۔ بی جان سے ایکسیوز کرتے ہوئے وہ دونوں اسٹیج پر گئے تھے ۔
مبارک ہو بھائی ،، شاہ میر کے گلے لگتا ہوا چہک کر بولا تھا ۔
جس پر منزہ جو بنا تاثر دیئے خاموش بیٹھی ہوئی تھی ۔
جیٹھ جی یااللہ یہ تو وہ ہی ہیں ،، اپنی کی گئی حرکت یاد کرتی ہوئی منیبہ اپنے چہرہ چھپانے کی کوشش کررہی تھی ۔
بھائی یہ منیبہ ہیں ۔ شاہ میر کے مسکرا کر دیکھنے پر منیبہ بھی جواب میں مسکرائی تھی ۔
نائس ٹو میٹ یو ،، شاہ میر نے مسکرا کر کہا تھا ۔
منزہ ،، منیبہ کے پکارنے پر منزہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔
بے جا محبت کے تقاضے ہم لڑکیوں کی ذات کو روند کر رکھ دیتی ہے ، اس لیے ہمیں اس محبت اور اس کے چنے محبوب سے اپنا دامن بچا کر رکھنا چاہیے ، ہم لڑکیوں کی عزت بلکل سفید رنگ کے کپڑے کی مانند ہوتی ہے ،جس پر ہلکا سا بھی داغ سب کو دکھتا ہے منیبہ ، اور اس کے برعکس مرد بلکل سیاہ پوش ہوتے ہیں، ہر داغوں کو باآسانی ڈھانپ لیتے ہیں ۔
شکر ہے انہوں نے پہچانا نہیں مجھے ۔
کہاں کل تک وہ منزہ اور جاذب کی شادی کئ خواب دیکھتی آئی تھی اور آج کہاں وہ منزہ کو شاہ میر ہمدانی کی دلہن بنے دیکھ رہی تھی کچھ دن پہلے ہوئی اپنی اور منزہ کی کنورسیشن یاد کرتی ہوئی وہ جاذب کے اچانک سے کہیں گم ہونے پر غم و ملال میں مبتلا ہوئی تھی مگر شاہ میر کو منزہ کے ساتھ دیکھ کر وہ بہت حد تک پرسکوں و خوش بھی ہوئی تھی ۔
مبارک ہو جانم ، منیبہ اس کے برابر میں آکر بیٹھی تھی ۔
دیکھ لیں بھابھی اس لڑکی کو غور سے یہ آپ کی ہونے والی دیورانی ہیں ۔ شاہ میر نے سوالیہ نظروں سے آذر کو دیکھا تھا جس نے مسکرا کر گردن ہلائی تھی ۔
منہ جوابا ہلکا مسکرائی تھی منبیہ کو خوش دیکھ کر ۔
ابی،، اچانک سے اسٹیج پر آتے ارحم نے شاہ میر کا ہاتھ پکڑا تھا ۔
جی ابی کی جان ، ارحم کو گود میں اٹھاتا ہوا شاہ میر ارحم کے گال پر بوسہ دیتا ہوا مسکرایا تھا ۔
یہ دلہن آپ کی ہیں، ، جی ۔۔ منزہ کی جانب دیکھتا ہوا شاہ میر مسکرا کر اسے جواب دے گیا تھا ۔
پھر یہ میری کیا ہوئیں ،، ارحم کے سوال پر شاہ میر نے سوچ میں لب بھینچے تھے ۔
چاچی ہیں آپ کی ،، پریشے کا ہاتھ پکڑے کبری نے ارھم کے سوال کا جواب دیا تھا اور منیبہ اور منزہ کی جانب بڑھی تھی ۔
بہت پیاری ہو تم ، کبری نے دل سے تعریف کی تھی منبیہ کی ۔
آپ سے کم ،، کبری کے خوبصورت نقوش اور اس کا ڈیسنٹ اسٹائل منیبہ کو دل سے قائل کرگیا تھا ۔
منیبہ کی تعریف پر کبری فقط مسکرائی تھی اور اس کی مسکراہٹ کو اسٹیج سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے فرقان کے دل کو اپنی مٹھی میں جکڑا تھا ۔
اپ بت پالی او،،، ( آپ بہت پیاری ہو ) پریشے کے سرگوشیانہ انداز اور گال پر پیار کرنے پر منزہ کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجی تھی جسے شاہ میر ہمدانی نے بڑے غور سے دیکھا تھا جب سے وہ اس کے پاس آکر بیٹھا تھا تب سے وہ سر جھکائے مجسمے کی مانند بیٹھا تھا ۔
*****
بہت خوش لگ رہا ہے تو ہمدانی ، شاہ میر کے لبوں پر ٹھہری مسکراہٹ کو نوٹس کرتا فرقان بلآخر اس سے پوچھ رہا تھا جس پر شاہ میر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔
یہ محبت ملنے کی خوشی ہے یا اپنی جیت کی ، شاہ میر کے جواب نا دینے پر فرقان نے پھر سوال کیا تھا ۔
جیت ،، وہ تمسخرانہ انداز میں ہنسا تھا ۔
یہ وہ جیت نہیں ہے فرقان جو مجھے سرور بخشے یہ تو وہ خوشی جو منزہ کو اپنا سوچ کر ہورہی ہے ۔ اسٹیج پر دلہن کے روپ میں بیٹھی منزہ کو دیکھ شاہ میر نے کہا تھا ۔
کیا مطلب میں سمجھا نہیں منزہ تو پچھلے ایک مہینے سے تیرے نکاح میں تھی پھر ۔ ہلکی آواز میں فرقان نے استفسار کیا تھا ۔
آج کی تاریخ میں ہی میرا اور منزہ کا نکاح ہوا ہے، بڑے ہی تحمل سے کہتا ہوا شاہ میر سنجیدگی سے بول رہا تھا ۔
کیاااااا،،، فرقان شاکڈ ہوا تھا سن کر ۔
کیااا کیا سچ کہہ رہا ہوں وہ پیپرز جو اس رات منزہ نے سائن کیے وہ جعلی پیپرز تھے ۔۔ شانے اچکاتا ہوا وہ اپنی کی حرکت پر مسکرایا تھا ۔
میں کچھ سمجھا نہیں! سلوار گولڈن کلر کی شیروانی پہنے شاہ میر کی سفید و گلابی رنگت کی آج معمول کے حساب سے سرخ مائل ہوئی ہوئی تھی جس سے فرقان کی ذہانت کچھ بھی سمجھنے سے جواب دیئے ہوئے تھی ۔
اس رات میں کوئی منزہ سے نکاح نہیں کرنے گیا تھا بس ویسے ہی اسے دور سے دیکھنے کی خاطر جارہا تھا کہ مجھے مزمل مرزا کی کال آئی پہلے پہل تو میں سوچ میں پڑگیا کہ یار یہ مجھے کیوں کال کررہا ہے جبکہ ہم دونوں کی تو سرسری سی ہی ملاقات ہوئی ہے پھر وجہ کیا ہوسکتی ہے کال کرنے کی ،، میں ابھی سوچ رہا تھا کہ پھر سے کال آنے لگی پھر میں نے بنا تاخیر کیے کال پک کرلی پھر پتا ہے مزمل نے مجھے کیا کہا ۔۔
کیا کہا ؟ شاہ میر کے بیچ میں بات روکنے اور ساتھ پوچھنے پر فرقان نے فورا سے پوچھا تھا ۔
کیسے ہو شاہ میر ۔۔ سوال کیا گیا ۔
بلکل فٹ اینڈ فائن، اپنے مخصوص انداز میں جواب دیتا ہوا شاہ میر کار کو سائیڈ پر لگا کر خود سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا مزمل کو سننے کی خاطر ۔
گڈ بزی تو نہیں تھے تم ،، ایک اور سوال تھا شاہ میر سمجھنے سے قاصر تھا ۔
نہیں گھر کی طرف جارہا تھا ۔ شاہ میر نے جھوٹ کہا تھا ۔
ہمہم ،، کوئی کام تھا تمہیں مجھ سے ،، مزمل کے ہمہم کرنے پر شاہ میر نے رسما پوچھا تھا ۔
ہے پر کیا تم وہ کام کردو گے ،، مزمل کی بات پر شاہ میر نے آئبرو ریس کی تھی ۔
اگر کرسکا تو ضرور ،، شاہ میر کو تجسس ہوا تھا جاننے کا کہ آخر ایسا کیا کام تھا ۔
میری بہن تو تم نے دیکھ لی ہوگی ۔ شاہ میر پہلی بار کسی کے سوالوں میں الجھ رہا تھا ۔
جی ، مختصر سا جواب دیا تھا ۔
اس کے پیچھے ایک لڑکا لگ گیا ہے اسے بس میری بہن سے دور کرنے میں مدد کرنے میں میری مدد کرسکتے ہو ۔ شاہ میر دم سادے سن رہا تھا ۔
ککوننن لڑکا ،،، شاہ میر کو خود پر شک ہورہا تھا ۔
اس کی ہی یونیورسٹی کا ہے ،، شاہ میر طویل سانس خارج کیا تھا ۔
نام کیا ہے اس کا، ، شاہ میر کے ذہن میں جاذب کا خیال آیا تھا ۔
جاذب آرائیں ،، زندگی سے بھرپور مسکراہٹ شاہ میر کے لبوں پر رینگی تھی ۔
تنگ کیا ہے اس لڑکے تمہاری بہن کو ،، شاہ میر نے پوچھنا ضروری سمجھا تھا ۔
نہیں ۔
پھر ،، شاہ میر کنفیوز ہوا تھا ۔
میں نہیں چاہتا میری بہن کسی کی بھی باتوں میں آکر غلطی کرے ،، وہ سنجیدگی سے گویا تھا ۔
میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تمہیں یہاں آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں اور تم نے اس لڑکے کو بھی دیکھ لیا کب اور کہاں ،، شاہ میر کے سوال پر مزمل مسکرایا تھا ۔
مجھے آج ہی پتا چلا ہے ۔۔ پل بھر میں مسکراہٹ سمٹ گئی تھی مزمل کے لبوں پر سے ۔
کیا ، کہ وہ شخص میری بہن کو چاہتا ہے ۔
تو اس میں تمہیں کیا برائی دکھی ۔۔ شاہ میر اس شخص کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔
وہ میری بہن کو فقط چاہتا ہے اور زندگی چاہت سے نہیں چلتی ،، شاہ میر کی بھنویں سیکڑی تھیں ۔
اور میں اپنی اکلوتی اور جان عزیز بہن کی ساری زندگی فقط چاہت کی خاطر برباد نہیں ہونے دے سکتا ۔ پھر چاہے کوئی مجھے خود غرض ہی کیوں نا سمجھے ۔ شاہ میر بنا کوئی تاثراتدیئے اسے سن رہا تھا جسے ہر لفظ میں اپنی بہن کے لیے محبت پھوٹ رہی تھی ۔
ایک سوال پوچھوں،
ہاں ضرور ،، شاہ میر کے پوچھنے پر مزمل نے ہامی بھری تھی ۔
اگر منزہ جاذب کو پسند کرتی ہوئی تو ، دل میں آئے سوال کو شاہ میر پوچھنے ضروری سمجھا تھا ۔
اگر ایسا سب ہوتا تو وہ مجھے سب سے پہلے بتاتی، مزمل کے لہجے میں اعتبار صاف چھلک رہا تھا ۔
ویسے میں کیا کرسکتا ہوں ان سب میں، ،
بابا نے بتایا تھا تمہاری بہت جان پہچان ہے اس شہر میں ،، شاہ میر کی آنکھیں پھٹی تھیں مزمل کی بات پر ۔
تم اسے مروانا چاہتے ہو ،، شاکی انداز میں شاہ میر نے پوچھا تھا ۔
نہیں بس اسے کچھ دن کے لیے اس شہر دے دور کرنا ہے ، مزمل شاہ میر کے چونکنے پر مسکرایا تھا ۔
او شکر، ، شاہ میر نے خود کی تھمی ہوئی سانس بحال کی تھی ۔
کرسکتے ہو ۔
ہوجائے گا تم بس ایک دن دو مجھے ،،
بہت شکریہ شاہ میر ۔ شاہ میر کے کہنے پر مزمل مسکراتا ہوا کال کٹ کرگیا تھا ۔
یہ کیا کیا مزمل تم نے خود مجھے منزہ کے قریب کردیا اور اس جاذب کو تو میرا بس چلے تو اس دنیا سے ہی غائب کردوں مگر کیا کروں بیچ میں اس کی ماں اور بہنیں آجاتی ہیں ۔ جاذب کی بیوہ ماں دو بہنیں اور سب سے چھوٹے بھائی کو دیکھ شاہ میر نے منزہ کو چھوڑنا کا فیصلہ کیا تھا مگر اب مزمل کے کہنے ہر وہ سرشار ہوا تھا اور اسے اپنی خوش قسمتی سمجھ رہا تھا ۔
*****
گولڈن کلر کا فرشی لہنگا بیڈ پر بچھانے کے باوجود بھی فرش پر بکھرے سرخ گلاب کی پنکھڑیوں کو سلامی پیش کرتا ہوا پورے کمرے میں اپنے جگمگاتے نگوں سے خوبصورت منظر پیش کررہا تھا ۔
جبکہ منزہ کسی بھی احساس سے عاری کسی مجسمے کی مانند بیٹھی ہوئی تھی ۔
لڑکیاں چاہیں کتنی ہی مضبوط کیوں نا ہوں انہیں اپنے والدین کی خاطر اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلے میں کمزور ہونا پڑتا ہے ۔ زندگی ہمیں اس موڑ پر لے آتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ترین عمل بن جاتی ہے اور ہم خاموشی سے کسی بھی کھنٹے سے باندھ دی جاتی ہیں ۔
ان سب میں میں ہار گئی ہوں یا یہ کہوں کہ میں نے اپنی قسمت کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں ،، تازے پھولوں سے سجایا گیا شاہ میر ہمدانی کے کمرے کو دیکھ رہی تھی جہاں آج وہ اس کی بیوی ہونے کے حق سے موجود تھی ۔
یہ قسمت کی سمت ظرفی تھی یا شاہ میر کی جیت وہ اس وقت الجھی بیٹھی تھی کہ اچانک ڈور ناب کھولنے کی آواز پر وہ الرٹ ہو بیٹھی تھی ۔
ریلکس منزہ میں جانتی ہوں تم اس وقت شاہ میر کو ایکسپیکٹ کررہی تھیں ، کبری کی مدھم آواز نے منزہ کی گھبراہٹ کو کم کیا تھا ۔
نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے بھابھی ،اپنی خجل مٹاتی ہوئی منزہ اپنی انگلیوں کو آپس میں الجھانے لگی تھی ۔
رہنے دو منزہ ،، میں اچھے سے جانتا ہوں، ، ویسے چھوڑو ان سب کو تم نے کچھ کھایا ہے ۔ کبری فکر سے گویا ہوئی تھی ۔
بھوک نہیں ہے مجھے ۔ سر جھکائے منزہ نے کبری کو بنا دیکھے کہا تھا ۔
کسی چیز کی بھی ضرورت ہو تو مجھے بنا کسی جھجھک کے کہہ سکتی ہو تم اپنی بڑی بہن سمجھ سکتی ہو منزہ ۔ کبری کے کہنے پر منزہ کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔
شکریہ بھابھی،، کبری مسکرائی تھی ۔
یہاں ٹیک لگا کر بیٹھ جاؤ پتا نہیں شاہ میر کو آنے میں کتنی دیر لگ جائے ۔ منزہ کے پیچھے گاؤ ٹیک لگاتی ہوئی کبری مسکرا کر وہاں سے گئی تھی ۔
****
ڈرائنگ روم میں پریشان کھڑی کبری کو دیکھ فرقان اس سمت آیا تھا ۔
آپ پریشے کو مجھے دے دیجئے میں اسے سنبھال لیتا ہوں کبری جی،، کبری کو پریشے اور ارحم کو سنبھالتے دیکھ فرقان کو اس کی فکر ہوئی تھی ۔
نہیں شکریہ میں سنبھال لوں گی ،، ہمیشہ کی طرح لیا دیا لہجہ تھا کبری کا ،،مگر وہ آج بھی ہر بار کی طرح اس پر نثار ہوا تھا ۔
اتنے مہربان کیوں ہیں آپ مجھ پر ،، کبری کے اچانک سوال پر فرقان کی آنکھوں میں نمی ابھری تھی ۔
مہربان نہیں ہوں آپ پر فدا ہوں ،، وہ آج بھی خود کو باز رکھ گیا تھا کچھ بھی ایسا کہنے سےجس سے کبری اس سے دور ہوجاتی ۔
ہمدانی کی بھابھی ہیں آپ،، شانے اچکاتے ہوئے وہ بڑے ہی ضبط سے کہتا ہوا ارحم کو اپنی محفوظ گود میں اٹھا کر مسکرایا تھا ۔
آپ کی کیا لگتی ہوں میں اور میرے بچے کیا لگتے ہیں آپ کے جو آپ انکی اتنی فرق کرتے ہیں، ، نجانے کبری اس سے کیا جواب چاہتی تھی ۔
اتنی تو وہ بے خبر نہیں رہی تھی جو فرقان کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت نا دیکھ پائی ہو مگر آج وہ جواب چاہتی تھی فرقان سے اس کی نظروں، اس کے بےجا خیال ،احترام اور فکر کا ۔
فرقان کی گردن جھکی تھی وہ ان سوالات کے لیے کب تیار تھا ۔
بتائیں فرقان ،، وہ اسرار کررہی تھی ۔
کبری جی میری نظروں میں آپ کا مقام بہت بلند ہے ، آپ پتا نہیں میری کیا ہو مگر ارحم میں جان بستی ہے اور پری میری مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہے ،،
کیوں ،، کبری نے سخت لہجے میں پوچھا تھا ۔
کیونکہ یہ دونوں آپ کے وجود کے حصے ہیں اور آپ سے جڑی ہر چیز مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے اور ہمیشہ رہیں گے ۔ وہ جذب کے عالم میں کہتا ہوا آخر میں اپنی نم ہوتی آنکھوں سے کبری کے ساکت چہرے کو دیکھ رہا تھا، جہاں کرب اور حیرت کا ایک جہاں آباد تھا۔
جانتے اور سمجھتے بھی ہیں آپ کہ آپ کیا بول رہے ہیں ۔ غصے و غم کے عالم میں غرلاتی ہوئی وہ فرقان مسکرانے پر اکسا گئی تھی ۔
میں آپ سے عشق کیا ہے کبری جی ، بنا کسی غرض بنا کسی مفاد بس آپ کو چاہا ہے آپ ہمیشہ خوش رہیں یہ ہی دعا ہر حال میں کی ہے میں نے بنا آپ کو پانے یا حاصل کرنے کی کوشش کیے ،، ارحم کے گرد ہاتھ پھیلائے وہ دانت دبائے بول رہا تھا ۔۔
تمہاری نظریں نگل گئیں میری خوشیوں کو، جو مجھ سے میرا شارق ہمیشہ کے لیے دور ہوگیا ۔ بھرائی آواز میں بولتی وہ فرقان کے ضبط کو آزماتی ہوئی اس کی محبت پر الزام لگا گئی تھی ۔جس فرقان تڑپ اٹھا تھا ۔
سات سال سے محبت کرتا ہوں آپ سے کبری جی ، کبھی آپ کو غلط اٹیشن سے چھوا تک نہیں ہے میں نے ،، ورنہ
میں چاہتا تو آپ کو اپنا بنانے میں مجھے دیر نہیں لگتی مگر نہیں میں نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ زبردستی کے رشتے بنانے فرقان کاظمی کو گوارا نہیں،، وہ کچھ توقف کے لیے رکا تھا ۔
جتنا کرب میرے دل اور میں نے دن رات جھیلا ہے ناں کبری جی کوئی نہیں جھیل سکتا ۔
جتنی بار یہ آنکھیں آپ کو دیکھنے کی خواہش کرتی تھیں اتنا ہی میرا دل تڑپتا تھا کرب جھیلتا تھا ۔کیونکہ آپ میرے جان عزیز دوست کی بھابھی تھیں، پر کبھی بھی غلط نگاہ تو دور کی بات ہے کبھی غلط سوچا تک نہیں آپ کے بارے میں ۔آپ کی خوشیاں سلامت رہیں یہ ہی دعا کی میں نے ہر وقت جب تک سانسیں ہیں جب تک کرتا رہوں گا ۔
ارحم کو ندا کے حوالے کرتا ہوا وہ جانے لگا تھا کہ اچانک سے مڑا تھا ۔
خدا حافظ کبری جی ،، وہ کہہ کر رکا نہیں تھا ۔
کبری کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے وہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا ویسے ویسے کبری کی تکلیف بڑھ رہی تھی ۔
کیا غلط کہا تھا اس نے سب سچ ہی کہہ کر گیا تھا وہ کبھی ناں واپس آنے کے لئے ۔۔
****
بہت کوشش کی تمہیں محبت سے پانے کی ،، مگر تم نے مجھے قابل ہی نہیں سمجھا اپنی محبت کے مزہ ،،
سمجھا تو اس جاذب کو ،، بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سوئی ہوئی منزہ کو دیکھ کر وہ سرخ آنکھیں اس پر گاڑے ہوئے وہ سوچ کر تلخی سے مسکرایا تھا ۔
اسے سوتے چھوڑ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوا تھا ۔
اپنی ریسٹ واچ رکھتا ہوا شیشے میں ابھرتے منزہ کے عکس کو دیکھ شیروانی کو سائیڈ پر پھینکتا ہوا اس کی سے بڑھا تھا ۔
اس کی چوڑیوں سے لبریز کلائی کو اوپر کی جانب کھینچتا ہوا اسے سیدھا بیٹھا گیا تھا۔
جبکہ منزہ نیند میں ہوئی اپنے ساتھ سختی پر بڑی طرح گھبرا شاہ میر کو دیکھ رہی تھی جس کی لہو رنگ آنکھیں کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کررہی تھیں ۔
******
