375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 7)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

اذیت_______♡

کل تم پر اک نظر پڑی____

پھر نظر لاپتہ ہو گئ!!

میں تمہیں دیکھنا نہیں چاہتا تھا___

پر پھر بھی گھنٹوں تکتا رہا!!!

جانے کیوں یہ دل میرے بس میں نہیں!!!

میری نگاہ جب جب تم پر پڑی____

مجھے تب تب تکلیف محسوس ہوئ!!!!

اب میں نے سوچا ہے کہ____

میں اپنے دل کو منا کے___

تمہیں ہمیشہ کےلیے بھلا دوں گا!!!

اور اب میں تم سے کبھی نہیں ملوں گا___

مجھے امید ہے_____

میں جب تم سے نہیں ملوں گا___

تو تکلیف سے بھی نہیں گزروں گا!!!

اے میرے بچھڑے محبوب(ہرجائ)

تو فقط اذیت ہے____

اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں!!!

اور اب اسی اذیت سے بغاوت کر کے___

میں خوشی سے دوستی بڑھا لوں گا!!!

گڈ مارننگ ڈئیر !

ان نون نمبر سے شاعری کے ساتھ مارننگ وش کا میسج منزہ کو صبح کے آٹھ بجے موصول ہوا تھا ۔

یہ کس کا نمبر ہے ۔وہ پریشان ہوئی تھی ایک اور ان نان نمبر دیکھ کر ۔

اگر کسی جاننے والے کا ہوگا تو دوبارہ آجائے گا ورنہ رانگ نمبر ہی ہوگا کل کی طرح ۔

ویسے تھا بہت وہ بے شرم آدمی ۔

نمبر کو غور سے دیکھتی ہوئی وہ فون بیڈ پر رکھ کر باتھروم میں اپنے کپڑے لیے گئی تھی ۔

تاکہ وہ جلد از جلد تیار ہوکر اپنے گھر جاسکے ۔

*****

مما میں ابی کے ساتھ اسکول جاؤں گا ۔ ارحم کی ضد پر کبری کے لب آپس میں پیوست ہوئے تھے ۔

ارحم ابی ابھی سوئے ہوئے ہیں ۔

ان کی نیند خراب ہوجائے گی تو پھر وہ ناراض ہوجائیں گے ۔

اس لیے آپ ڈرائیور انکل کے ساتھ جائیں ۔ ارحم کو باتوں مین لیتی ہوئی کبری پریشے کو ندا کے حوالے کرکے ارحم کو اپنی گود میں لے کر بیٹھ گئی تھی ۔

مما ابی مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہوتے ۔وہ مجھ سے ڈیڈ کی طرح پیار کرتے ہیں ۔ ارحم اور شاہ میر کی محبت سے وہ اچھے سے واقف تھی ۔مگر پھر بھی ارحم کو شاہ میر سے دور رکھنے کی اپنی سی کوشش کرتی تھی جو ہر بار ناکام ہوتی آئی تھی ۔

پر وہ آپ کے ڈیڈ نہیں ہیں ابی ہیں آپ کے ۔ کبری نجانے اسے کیا سمجھانے چاہ کررہی تھی جو اس کی خود کی سمجھ سے باہر تھی ۔

مما وہ ابی ہیں میرے اور پری کے ابی ۔ ارحم کا لہجہ لمحے بھر میں ضدی ہوا تھا ۔

جی بے بی پر وہ ۔

مجھے لیٹ ہورہی ہے مما ۔ کبری کی گود سے اتر کر ارحم اپنا اسکول بیگ لیے ندا کا ہاتھ پکڑ کر روم سے گیا تھا ۔

کھیلتی ہوئی پریشے کو دیکھ کر وہ افسردگی سے شارق کی فوٹو دیکھ کر نم ہوتی آنکھوں کو زور سے میچ گئی تھی ۔

*******

مجھے آپ سب سے ضروری بات کرنی ہے بلکہ ایک اجازت چاہی ہے آپ دونوں سے ۔

ڈائینگ پر موجود دادجی اور بی جان بھی کبری کی سمت متوجہ ہوئے تھے ۔

جو بڑے تحمل سے لفظوں کی تہمید باندھ رہی تھی ۔

جی ضرور بیٹے مگر والدین سے بیٹیاں اجازت مانگتی ہوئی نہیں بلکہ حق جتاتی ہوئی اچھی لگاتی ہیں ۔ کبری کو پیار سے سمجھاتے ہوئے جہانزیب ہمدانی شکوہ کن انداز اپنائے ہوئے تھے ۔

سوری ڈیڈ ۔ سر جھکائے کبری نے دھیمے لہجے میں کہا تھا ۔

بیٹے ۔

ارے بھئی جہانزیب بچی بات ہی بھول جائے تمہارے سمجھانے کے چکروں میں ۔دادجی نے جہانزیب ہمدانی کی بات بیچ میں کاٹی تھی ۔

بولو بیٹا ایسی کون سی بات ہے جس کی آپ کے لیے آپ کو اجازت لینے کی ضرورت پڑگئی ۔سمرین ہمدانی نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا ان کی بات میں ۔

ڈیڈ میں جاب کرنا چاہتی ہوں ۔ مجرمانہ انداز میں کبری نے اپنی بات رکھی تھی ۔

جس کو سوچنے میں ساری رات اس نے صرف کردی تھی ۔

یہ بہت اچھی بات ہے بیٹا ۔ کبری فقط مسکرائی تھی جہانزیب ہمدانی کے خوشگوار انداز پر ۔

تمہیں پھر جاب کرنے کی کیا ضرورت ہے اپنا فیملی بزنس جوائن کرلیں ، وہاں پر تمہارے ڈیڈ اور شاہ میر ہوگیں آپ کی گائیڈنگ کے لیے ۔ سمرین ہمدانی کی بات سے سب ہی متفق ہوئے تھے جبکہ دادجی کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے ۔

پر مما ۔

پر ور کچھ نہیں کبری آپ بس جوائن کررہی ہیں ۔ کبری کے انکار کرنے کا ارداہ بھانپتی ہوئی سمرین ہمدانی نے حتمی فیصلہ سنایا تھا جس پر کبری نے خاموشی اختیار کی تھی ۔

کیا ہوا شاہ سلطان آپ کن سوچوں میں گم ہیں ۔ دادجی کو خاموش دیکھ بی جان نے استفسار کیا تھا ۔

کچھ خاص نہیں ۔ ناک پر ٹکائے چشمے کو درست کرتے دادجی پھیکا سا مسکرائے تھے ۔

کس کی کہاں جوائنگ کی بات چل رہی ہے ۔ بالوں کو نفاست کے ساتھ سیٹ کیے شاہ میر بلیک جینز پر وائیٹ شرٹ میں ملبوس اپنی شاندار پرسنلٹی لیے ساتھ سوال کرتا ڈائینگ روم میں انٹر ہوا تھا ۔

کبری بیٹے کی آفیس جوائن کرنے کی بات ہورہی ہے ۔ جہانزیب ہمدانی کے بتانے پر شاہ میر نے ایک نظر پہلے لائیٹ پرپل کلر کے سادہ مگر قیمتی سوٹ زیب تن کیے کبری کو حیرانگی سے دیکھا تھا ۔

پھر دوسرے ہی پل چائے کی سیپ لیتے دادجی کو جو اسے دیکھ کر ان دیکھا کر گئے تھے ۔

کیا شاہ میر تمہیں کبری کے فیصلے سے کوئی اعتراض ہے ۔سمرین ہمدانی نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا تھا جو حیرت کا بت بنا کھڑا ہوا تھا ۔

نہیں مما مجھے کیوں اعتراض ہونے لگا کبری کے کسی بھی فیصلے سے ۔ شانے اچکاتا ہوا شاہ میر دادجی کے برابر میں آبیٹھا تھا ۔

شاہ میر کے انداز سے کبری کی آنکھیں پل بھر کے لئے نم ہوئی تھیں مگر اگلے ہی پل میں اس نمی کو وہ پیچھے دھکیل گئی تھی ۔

پھر کب سے جوائن کررہی ہیں کبری ۔ اورنج جوس گلاس میں انڈیلتا ہوا وہ عام سے انداز میں پوچھ رہا تھا ۔

آج سے ہی ۔ کبری کی جگہ جواب جہانزیب ہمدانی کی طرف سے دیا گیا تھا ۔

گڈ ، گلاس لبوں سے لگائے وہ دادجی کو حد سے زیادہ خاموش بیٹھے دیکھ حیران تھا ۔

آپ کو کونسا صدمہ لگ گیا ہے ۔ رازدانہ انداز میں پوچھتا ہوا وہ جہانزیب ہمدانی اور سمرین بیگم کو کبری کے ساتھ باتوں میں بزی دیکھ کر دادجی کی طرف جھکا تھا ۔

سوچ رہا ہوں تین سال میں آج تک کبری نے جاب کی بات نہیں کی آج اچانک ۔

چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے دادجی بھی اس کے ہی انداز میں بولے تھے ۔

مجھے بھی اس ہی بات کی حیرت ہوئی مگر کوئی بات نہیں اس ہی بہانے کبری کا ذہن بھی بہل جائے گا ۔ شاہ میر بولتا ہوا مسکرایا تھا بی جان کی خود پر ٹلی نظروں کو دیکھ کر ۔

ہاں یہ تو نا باقی بہتر تو خدا ہی جانتا ہے ۔ کبری کو فکرمندانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے دادجی پریشان ہورہے تھے اس کے اچانک سے کام کرنے کا سن کر ۔

کبری بیٹے آپ شاہ میر کے ساتھ آفیس آجائیے گا ۔

جہانزیب ہمدانی اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے ۔

میں ضرور کبری کو اپنے ساتھ آفیس لے آتا ڈیڈ پر مجھے فرقان کی طرف جانا تھا اس سے فائلز بھی لینی ہیں اور آج کی میٹنگ کے بارے تھوڑی بات چیت کرنی ہے ۔

مجھے دیر ہوجائے گی آفیس آنے میں ۔شاہ میر کی لہجے سے انہیں شک گزرا تھا ۔

ڈیڈ میں خود سے آجاؤں گی ڈرائیور کے ساتھ ۔ جہانزیب ہمدانی کو شاہ میر کو دیکھتے پاکر کبری فورا سے بولی تھی ۔

اوکے بیٹے ۔ شاہ میر پر کڑی نظر ڈال کر جہانزیب ہمدانی ڈائینگ روم سے گئے تھے ان کے پیچھے پیچھے سمرین ہمدانی بھی وہاں سے گئی تھیں ۔

کبری آپ آذر کے آفیس چلی جائیے گا آج ویسے بھی وہ یونی نہیں جارہا ہے ۔ اپنا سیل فون پاکٹ میں رکھتا ہوا شاہ میر دادجی سے مل کر وہاں سے گیا تھا ۔

جبکہ کبری کی بھوری آنکھوں نے دور تک اس کا تاکب کیا تھا ۔

*****

منزہ میری جان واپس آجا ۔

صاف صاف بات کرو ۔ منیبہ کی کال اٹینڈ کرتے ہی وہ اس کی بات پر نا سمجھی میں ٹکٹ لیتی ہوئی بس میں کی جانب بڑھی تھی ۔

میری جان یہ ہی کہ پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آگئی ہے ۔ منیبہ نے منزہ کے سر پر پھوڑا تھا ۔

کیا کہہ رہی ہو تم منیبہ ۔ منزہ لے قدم منجمند ہوئے تھے پیپرز کی ڈیٹ شیٹ کا سن کر ۔

سچ کہہ رہی ہوں کچھ دیر پہلے جاذب نے ہی مجھے انفارم کیا ہے ورنہ میں تو خود اپنی پیکنگ کررہی تھی ۔ اپنا سامان واپس سے اپنی جگہ پر رکھتی منیبہ نے افسردگی سے بتایا تھا ۔

منیبہ مما ناراض ہوجائیں گی بابا اور بھائی ۔ روہانسی ہوتی ہوئی مما سے ہوئی کل رات کی بات کو سوچ کر اور زیادہ روہانسی ہورہی تھی ۔

آئی نو منزہ پر کیا کر سکتے ہیں یار ۔ منیبہ کی افسردگی سے بولی تھی ۔

اب میں کیا کہوں مما کو ۔ منزہ کو نئی فکر لاحق ہوئی تھی ۔

وہی جو سچ ہے پیپرز کے بعد آؤں گی ۔ منیبہ نے وہی بات کہی تھی جو اس نے اپنے والدین کو کہی تھی ۔

اوکے میں کرتی ہوں ان سے بات ۔ فون کٹ کرتی ہاتھ میں پکڑی ٹکٹ کو دیکھ کر اپنے آنسوؤں ضبط کررہی تھی ۔

جو گھر کی یاد میں اس کی آنکھوں میں آئے تھے ۔

مما میں نہیں آسکتی اس ویک اینڈ پر، انشاءاللہ نیکسٹ منتھ پیپرز کے فورا بعد آپ کی منزہ آپ کے پاس ہوگی ۔ کال کرنے کا ارداہ ترک کرتی ہوئی وہ میسج ٹائپ کرگئی تھی ۔

اتنی کہاں تھی اس میں کہ وہ مما سے بات کرسکے ۔

بے دردی سے آنکھوں میں آئی نمی کو رگڑتی ہوئی ٹکٹ کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بدل گئی تھی ۔

******

اوئے ہمدانی صبح صبح کال کیوں کی ہے ۔ شاہ میر کی کال دیکھ فرقان لال پیلا ہوا تھا ۔

وہ فرقان جسے اٹھانے کی ہمت اس کے ماں باپ تک نہیں کرسکتے تھے وہ ہمت شاہ میر ہمدانی کی کال نے کردکھایا تھا ۔

کال اس لیے کی ہے تاکہ تو اپنے گھونسلے سے نکل کر فریش ہوجائے میرے آنے تک ۔ شاہ میر کے تپے ہوئے لہجے پر وہ تکیہ منہ پر رکھ گیا تھا ۔

فرقی اٹھ جا کمینے ۔ کافی دیر تک فرقان کی طرف سے کوئی جواب نا پاکر شاہ میر غصے سے بولا تھا ۔

اٹھ گیا ہوں میرے باپ ۔ بالوں میں انگلیاں الجھائے وہ رونے کو ہوا تھا ۔

چل ٹھیک ہے اب فریش ہوجا میں تھوڑی دیر میں تجھے پک کرنے آرہا ہوں ۔ شاہ میر اس کی حالت سوچ کر مسکرایا تھا ۔

فون تو بند کر کمینے انسان ۔ بمشکل آنکھیں کھولنے کی کوشش میں فرقان ہلکان ہوا تھا ۔

اچھا خدا حافظ تیار رہ ۔ مسکرا کر بولتا ہوا شاہ میر کال کٹ کرگیا تھا ۔

******

احساس محبت کا میری ذات پہ رکھ دو

تم ایسا کرو ہاتھ میرے ہاتھ پہ رکھ دو

معلوم ہے ، دھڑکن کا تقاضا بهی ہے لیکن

یہ بات کسی خاص ملاقات پہ رکھ دو

یوں پیار سے ملنا بهی مناسب نہیں لگتا

یہ خواب کا قصہ ہے اسے رات پہ رکھ دو

اظہار ضروری ہے تو پھر کہہ دو زباں سے

یہ دل کی کہانی ہے روایات پہ رکھ دو

یہ پیار کی خوشبو میں نیا رنگ بھرے گا

اک پھول اٹھا کر مرے جذبات پہ رکھ دو

ہر وقت تمہارے ہی تصور میں رہوں میں

جادو سا کوئی میرے خیالات پہ رکھ دو

اک میں کہ مرے شہر میں بارش نہیں ہوتی

اک تم کہ ملاقات کو برسات پہ رکھ دو

مانوں گا سحر تب ہی کہ جب بات بنے گی

اس بار میری جیت میری مات پہ رکھ دو

ہماری ملاقاتیں کیا راستے میں ہی ہونگی مس منزہ ۔

منزہ کو دیکھ کر شاہ میر خوشگوار حیرت کا شکار ہوا تھا ۔

مگر آج شاہ میر ہمدانی سے ملے بغیر نہیں جاؤ گی تم ۔ سیلفی کمیرے میں دیکھ اپنے بال سیٹ کرتا ہوا وہ زندگی سے بھرپور مسکرایا تھا ۔

****