Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304 Raah E Yaar (Episode 20)
Rate this Novel
Raah E Yaar (Episode 20)
Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar
گاڑی روکیں ،، فرقان نے چونک کر کبری کو دیکھا تھا ۔
سب ٹھیک ہے ناں کبری جی،، فرقان پریشان ہوا تھا اس کے اچانک سے گاڑی روکنے کے کہنے پر،
پتا ہے یہاں میں اور شارق پہلی بار ملے تھے ،، کھوئے ہوئے لہجے میں کہتی ہوئی وہ آبدیدہ ہوئی تھی ۔
کیسے بھول سکتا ہوں کبری جی اس جگہ کو یہ ہی تو وہ جگہ ہے جہاں پر مجھے آپ کی قسمت اور دل سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا،، لب دبائے وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب تھا ۔
جبکہ دل حد درجہ رفتار پکڑے ہوئے دھڑک رہا تھا ۔
یہاں پر تھا میرا ہینڈسم کرنل شارق ہمدانی جسے دیکھتے ہی میں زیر ہوگئی تھی اور اپنا دل ہار بیٹھی،،،، وہ کافی حد تک فرقان کے ایزی فیل محسوس کرنے لگ گئی تھی ۔
ہمہم ،،، کبری کو کار سے اترتے دیکھ فرقان نے سرد آہ بھری تھی ۔
فرقان آپ بھی آجائیں ،،، کبری کی چہکاہٹ ہی الگ تھی مگر آنکھوں کے کنارے ہلکے ہلکے سے بھیگے ہوئے تھے جو فرقان کی آنکھوں سے مخفی نا رہے تھے ۔
آپ چلیں میں آتا ہوں،،، خود کو کمپوز کرتا ہوا فرقان کبری کی پیٹھ دیکھتا ہوا اس دن کی یاد میں کھویا تھا ۔
****
دل کا عالم میں کیا بتاؤں تجھے
اک چہرے نے بہت پیار سے دیکھا مجھے
دل کا عالم میں کیا بتاؤں تجھے
وہ میرے سامنے بیٹھی ہے
مگر اس سے کوئی بات نا ہو پائی ہے
میں اشارہ بھی کرتا ہوں اگر
اس میں ہم دونوں کی رسوائی ہے
دل کا عالم میں کیا بتاؤں تجھے
اک چہرے نے بہت پیار سے دیکھا مجھے
اپنی دھن میں گنگناتا ہوا فرقان مال کے پارکنگ ایریا میں کھڑا ہوا مسسز کاظمی کا انتظار کررہا تھا ۔
کہ سامنے سے آتے ہوئی کبری کو دیکھ کر وہ اور اس کا دل دونوں ہی جھوم اٹھے تھے ۔
یہاں دو زندگیوں کا ملنا طے تھا جبکہ تیسری زندگی کو خالی ہاتھ لوٹنا تھا ،،
پاک آرمی آفیسر، ،ڈرائیور تم یہاں پر روکو میں بس ابھی آئی ۔۔روڈ کی سائیڈ پر سدا کی دیوانی آرمی آفیسر کو دیکھ وہ کار سے اترتی ہوئی اس کی جانب بڑھی تھی ۔
کبری ،، کبری کا نام زیر لب بڑبڑاتا ہوا وہ اس کی جانب بڑھا تھا کہ اسے شارق کے پاس روکتے دیکھ اس کے قدم جامد ہوئے تھے ۔
ہائے ،،، زندگی میں پہلی بار کبری کے ساتھ آج کسی فوجی سے ملنے کا اتفاق ہوا تھا جس پر اپنی خوشی اور خوش قسمتی کی خوشی پر قابو پاتی ہوئی شارق سے مخاطب ہوئی تھی جو کسی شخص کے ساتھ محو گفتگو تھا مگر اسے اس کی کہاں فکر تھی اسے تو فقط شارق سے ملنا تھا اور اس کے فوٹو بنوانا تھی ۔
جی ،،،، وہیں اپنی پروقار وجاہت اور آرمی یونیفارم کی سحر انگیز کشش لیے شارق ہمدانی اس خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر حیران ہوا تھا کہ کیا اس نے اسے ہی پکارا تھا ۔
جی ،،،، شارق کی گرے حیرت زدہ آنکھوں میں خود کو ڈوبتےہوئے محسوس کرتی ہوئی وہ سب فراموش کرگئی تھی دکھ رہا تھا تو فقط شارق اور اس سحر زدہ حصار جس میں وہ اچانک سے بندھ گئی تھی ۔
شارق ،،، کبری کی آنکھوں میں شارق کے لیے پسندگی دیکھ فرقان اپنے قدم سے ڈگمگایا تھا یہ جرم اور کیسا ستم تھا کہ سب پل بھر میں بدل گیا تھا۔
محترمہ آپ نے مجھے پکارا تھا ،، کبری کے سامنے ہاتھ ہلاتا ہوا وہ مسکرایا تھا ۔
ہاں میں نے آپ کو بلایا تھا کیا آپ میرے ساتھ فوٹو بنوائیں گے ،، کبری کے کھوئے ہوئے انداز پر شارق کے دائیں گال پر ابھرتے گہرے گڑھے کو دیکھ کبری کی سانیس حال میں اٹکی تھیں ۔
شیور، ،، آپ بہت ہینڈسم ہیں سر ،،، شارق کو دیکھ وہ خود کو
کہنے سے باز نا رکھ سکی تھی ۔
شکریہ ،، سر کو خم کرتا ہوا وہ اس لڑکی کو دیکھ کر خود کو مسکرانے سے روک نہیں پارہا تھا ۔
تھینک یو، ،، ویسے کہاں رہتے ہیں آپ ،، شارق اس لڑکی کی ہمت کو داد دیتا ہوا اپنی آئبرو رب کرتا لب دبائے کھڑا تھا۔
بارڈر پر ،،، شرارت سے کہتا ہوا کبری کے کھولتے منہ کو دیکھ کر قہقہ لگا گیا تھا ۔
بارڈر پر تو ہر آرمی آفیسر رہتے ہیں ۔ وہ چڑ کر بولی تھی ۔
کبری ہاشمی ،،، کبری کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں شارق کے اس کا نام لینے پر ۔
آپ کو میرا نام کیسے پتا چلا ،، شارق مسکرایا تھا اس کے چونکنے پر ۔
آپ کے ڈرائیور آواز لگا رہے ہیں کب سے آپ کے نام کی اس لیے ،، کبری کے پیچھے کھڑے ڈرائیور کو دیکھتا ہوا شارق کبری کو ریلکس ہوتے دیکھ دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑا ہوا تھا ۔
سوری ،،
کس لیے ،،،
ایسے ہی خدا حافظ ،، کبری کو جانے کے لیے مڑتے دیکھ شارق واپس سے اس شخص کی جانب مڑا تھا جو کب سے اس کا انتظار کررہا تھا ۔
سر ،،
جی ،، کبری کے پکارنے پر وہ فورا سے موڑا تھا جیسے اس کی پکار کے انتظار میں ہو ۔
فی امان اللہ ،، شارق کو حیران چھوڑ وہ وہاں سے گئی تھی ۔
کبری کے بارے میں جاننے کا ارداہ کرتا ہوا شارق اسے سوچ کر مسکرا رہا تھا ۔
شارق اور کبری کی ملاقات سے یہ تو طے تھا کہ اب فرقان کا ان دونوں کے درمیان آنے کا سوال ہی پیدا نہیں تھا ۔
جب ہی وہ خالی بادل کی طرح کبری اور شارق کی زندگی سے دور ہوگیا تھا ۔
شارق اور کبری کی ایک آدھ ملاقات کے بعد وہ شارق ہمدانی کے نام لکھ دی گئی تھی ۔
دونوں ایک دوسرے کا ساتھ پاکر خوش تھے ،، خوش تو فرقان بھی تھا آخر محبت تو محبوب کی خوشی سے مکمل ہوتی ہے ۔
****
کیوں ،،آذر نے اچانک پوچھا تھا ۔
کیا کیوں ،،، منیبہ جو اس کی کال اٹینڈ کرتی ہوئی ابھی پوری طرح سے خوش بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس کے کیوں پر چونکی تھی ۔
ایسے ہی ،، ایسے ہی کیا ،، وہ کہاں چھوڑنے والی تھی ۔
بابا کب آرہے ہیں تمہارے، ، آذر کے سوال پر منیبہ خاموش ہوئی تھی ۔
پتا نہیں، ،، پتا کرو ،،، کیوں ،،،
کیونکہ مجھے شادی کرنی ہے تم سے ،،، آذر کے اس طرح سے بولنے پر منبیہ حیران ہوئی تھی ۔
بکواس بند کریں اپنی ،،،، آذر کا قہقہ اس کے کان کو چیرتا ہوا گزرا تھا ۔
کیا بکواس کی ہے میں نے ،،،مسلسل قہقہ لگاتا ہوا وی بیچ میں رک کر بولا تھا ۔
کچھ نہیں، ، خود کو کمپوز کرتی وہ کال کٹ کرگئی تھی ۔۔
****
کیا چاہتے ہو تم سب ،، کہ شاہ میر یہ گھر چھوڑ کر چلا جائے ،،
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ سلطان ہم ایسا کیوں چاہیں گے بھلا ،، بی جان فورا سے گویا ہوئیں تھیں ۔
جبکہ آذر اور کبری پریشان ہوئے تھے دادجی کی بات پر ۔
تو بس پھر آپ سب جاکر تیار ہوجائیں میں نے شاہ میر کے لیے لڑکی پسند کرلی ہے رشتہ لے کر چلنا ہے ہمیں، ، دادجی کے حکم صادر کرنے پر کبری کے اوسان خطا ہوئے تھے ۔
شاہ سلطان ،،، تیار ہوجائیں، ،، بی جان کو جواب دیئے بنا وہ جہانزیب کے پریشان چہرے کو دیکھ انہیں اٹھنے کا کہتے ہوئے خود کنفرٹ پر بیٹھے تھے ۔
ابا ،، جہانزیب شارق کی شادی کبری سے طے کرنے پر میں نے کوئی اعتراض کیا تھا ۔جہانزیب نے نفی میں گردن ہلائی تھی۔
تو بس پھر شاہ میر کی شادی کا فیصلہ میرا ہوگا وہ کہاں اور کس سے شادی کرے گا ۔سمرین بیگم تو سکتے میں بی تھی ہوئی جہانزیب ہمدانی کو دیکھ رہی تھیں جو خود اس وقت صدمے میں تھے کہ اچانک دادجی کو شاہ میر کی شادی کاخیال کیسے آگیا تھا ۔
آذر تم اور کبری فلحال گھر پر ہی روکو ہم سب جائیں گے پہلے ،، کبری نے فقط گردن ہلانے پر اتفاق کیا تھا ۔
یار دادجی آپ سب جائیں گے اور ہم یہاں پر بور ہونگے ،، آذر کے لٹکے ہوئے منہ کو دیکھ کبری کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی ۔
ٹھیک سب چلتے ہیں، ، کبری بیٹا آپ ارحم اور پریشے کو بھی تیار کرلیں،،، کبری کو مسکراتے دیکھ بی جان نے ہامی بھری تھی ۔
بیگم ہم برات لے کر نہیں جارہے رشتے لے کر جارہے ہیں، ، دادجی چڑ کر بولے تھے ۔
جہاں سارے فیصلے آپ لے رہے ہیں تو یہ فیصلہ میرا ہوگا،،، بی جان کے حتمی انداز پر دادجی خاموش ہوئے تھے ۔
*****
سنو یہ سب تم فائلز فرقان سر کو دے کر آؤ پھر تم جاسکتے ہو ۔ سیل فون میں مصروف شاہ میر نے اسے بلآخر اسے اجازت دی تھی جانے کی جو آج کافی تھک گیا تھا ۔
تھینک یو سر ،، صد شکر کرتا ہوا وہ وہاں سے گیا تھا ۔
بولیں دادجی، اسے جانے کا کہتا ہوا شاہ میر چیئر پر ڈھے سا گیا تھا ۔
سچ کہہ رہے ہیں بس سمجھے میں آیا گیا آپ کے پاس ،، خوشی میں پھولتا ہوا شاہ میر آفیس سے نکلا تھا ۔
ٹھیک دس منٹ بعد وہ مرزا ہاؤس باہر کھڑا ہوا اپنے بالوں میں انگلیاں چلاتا ہوا انہیں سیٹ کررہا تھا ۔
اف ،، بس اللہ آج اور ساتھ دے دیں میرا باقی میں خود سنبھال لوں گا ہاں ہاں مدد کی ضرورت پڑے گی میڈم کو منانے کے لیے ۔ خدا سے مخاطب ہوتا ہوا دورد شریف کا ورد کرتا ہوا اندر داخل ہوا تھا ۔
ارے آپ لوگ یہاں،، انجان بنتا ہوا شاہ میر کمال کی اداکاری کرتا ہوا وقار صاحب کے برابر میں آن بیٹھا تھا ۔
ہاں بھئی ہر روز تم آتے ہو یہاں تو ہم نے سوچا کیوں ناں آج ہم بھی پہنچ جائیں،،، دادجی شاہ میر کی اداکاری پر مسکراتے ہوئے بی جان کو دیکھ کر مسکرائے تھے جو جواب میں ہلکا سا مسکرائیں تھیں ۔
جبکہ جہانزیب ہمدانی سمیت سب خاموش بیٹھے تھے ۔
آج سے تم وقار کے بیٹے اور منزہ ہماری بیٹی بن گئی ہے ،، دادجی کے لہجے میں الگ ہی لچک تھی ۔
کیا مطلب دادجی ،، شاہ میر نے نا سمجھی کے تاثرات دیئے تھے ۔
مطلب یہ کہ ہم سب نے مل کر تمہارا اور منزہ کا رشتہ پکا کردیا ہے اور تم سے انکار نہیں سنو گا میں ،، دادجی کی آنکھوں میں خوشی کی چمک دیکھ شاہ میر گردن ہلاتا ہوا مسکرایا تھا ۔
مگر سب اچانک کیسے ،، شاہ میر نے وقار صاحب کو دیکھ کر پوچھا تھا ۔
ابا جان نے کہا اور ہم نے ہاں کردی تمہیں اپنا بیٹا بنانے کے لیے ۔ وقار صاحب کے لہجے میں خوشی کی رمق دیکھ شاہ میر ابھی پرسکون ہوا ہی تھا کہ راہداری سے آتی ہوئی منزہ کو دیکھ کر اپنے خشک لبوں کو تر کرتا ہوا زندگی میں پہلی بار گھبرایا تھا ۔
منزہ جو اپنے خیالوں میں گھر میں داخل ہوئی تھی شناسائی خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی تھی جس پر بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس اپنی پروقار وجاہت سمیت شاہ میر کو خود کو دیکھتے پاکر شاکڈ ہوئی تھی ۔
ابھی یہ کون ہیں ۔ ارحم کی معصومیت بھرے سوال کو سن کر شاہ میر سر جھکا کر مسکراہٹ ضبط کررہا تھا ۔
منزہ کی آنکھوں میں خود کے لیے نفرت و غصہ دیکھ کر بھی وہ مسکرایا تھا ۔
منزہ بیٹا آؤ یہاں اور ان سے ملو یہ سلطان ہمدانی ہمارے پڑوسی اور تمہارے ہونے والے دادجی، ، منزہ ہوش و حواس میں لانے والی آواز ارحم کی تھی ۔
جس پر وہ نا سمجھی میں وقار صاحب کو دیکھ رہی تھی ۔
دادجی ،، زیر لب بڑبڑاتی ہوئی وہ ان کی سمت بڑھی تھی ۔
جبکہ کبری اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ کر پھیکا سا مسکرائی تھی ۔
السلام و علیکم، ، ان سب کے قریب آکر منزہ نے ہلکی آواز میں سلام کیا تھا جو وہاں موجود سب کو آسانی سے سنائی دے گیا تھا ۔
کیسی ہو منزہ ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو ،، سمرین ہمدانی جب سے آئی تھیں خاموش بیٹھی تھیں مگر منزہ کو دیکھتے ہی مسکرا کر بولی تھی ۔
سمرین ہمدانی کی نظروں میں منزہ کے لیے پسندگی دیکھ شاہ میر اور دادجی خوش ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے تھے ۔
بی جان ، سمرین ہمدانی اور کبری کے منزہ کے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرتے آذر جو ارحم اور پریشے کے ساتھ ایک سائیڈ پر بیٹھا ہوا کب سے منزہ کو پہچاننے کی کوشش کررہا تھا جس میں وہ ناکام ٹھہرا تھا ۔
منزہ بیٹا ایک کام آپ کریں آپ ہمارے لیے چائے بنا کر لائیں ،، دادجی کی فرمائش پر منزہ نے شاہ میر کو گھورا تھا جو اس کی موجودگی سے بھی انجان بنا بیٹھا تھا ۔
ہاں یہ اور بات تھی اس کی نگاہیں بھٹک کر بار بار منزہ کے چہرے پر رک رہی تھی،
جی ضرور دادجی ،،
میں بھی چائے لوں گا ،، آذر کے اچانک بول اپنی موجودگی کا احساس دلانے پر منزہ ہلکا سا مسکرائی تھی ۔
منزہ بیٹا شاہ میر سے تو پوچھ لو کہ وہ چائے لے گا یا نہیں،،، مسسز وقار کے بولنے پر منزہ نے خاموش بیٹھے شاہ میر کو دیکھا تھا ۔
کیا آپ بھی چائے لیں گے ۔۔ لیا دیا سا تلخ لہجہ بھی شاہ میر کو سرشار کرگیا تھا ۔
چائے کا پوچھا ہے حسینہ نے …..
اس کا مطلب ہے مجھ پہ مرتی ہے..
جی اگر آپ بنا کر لائیں گی تو ضرور لوں گا ،، شاہ میر کا پرشوخ لہجہ کبری نے خاصا نوٹ کیا تھا ۔
زہر نا ڈال کر دے دوں،، مسکراتے ہوئے شاہ میر کو دیکھ وہ دل ہی دل میں اس کی ہاں کرنے پر سخت بد مزہ ہوئی تھی ۔
ایکسیوزمی، منزہ کو جاتے دیکھ شاہ میر اس کے پیچھے جانے کے لیے کھڑا ہوا تھا ۔
ہم سے پوچھوں کہ کیسے گزرے ہیں دن ہمارے
کبھی دیدار تو کبھی تجھ سے تکرار کو ترسے ہیں
دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں دیئے وہ منزہ کے پیچھے آن کھڑا ہوا تھا ۔
شاہ میر کے لیے شعر کو ان سنا کرتی ہوئی وہ خود کو چائے بنانے میں مصروف ظاہر کررہی تھی ۔
بدل گیا کیوں مزاج تیرا کچھ ہی مدت میں ۔
تو تو کہتا تھا بدلتے لوگ مجھے اچھے نہیں لگتے۔
ایک اور شکوہ کن شعر کہا گیا تھا شاہ میر کی جانب سے مگر اب بھی خاموشی طاری تھی ۔
سنو ،، وہ بلآخر تھک کر بولا تھا جس منزہ نے گھورا تھا اسے ۔
رشتہ لے کر آیا ہوں تمہارا ،، شاہ میر کی بات پر وہ طنزیہ انداز میں مسکرائی تھی۔
تمہیں رشتہ لے کر آنے کی ضرورت کب اور کیوں پڑی شاہ میر ہمدانی ،،
جبکہ تم اپنی مرضی کرچکے ہو ،، ہاسٹل میں اپنی آخری رات یاد کرتی ہوئی وہ کرب سے بولی تھی ۔
ضرورت تو ابھی بھی نہیں پڑی ،، وہ ڈھٹائی سے ہنسا تھا ۔
جس پر منزہ کلس اٹھی تھی ۔
پھر پوچھ سکتی ہو آپ سے یہ رشتہ لے کر آنے کی وجہ ،، وہ چبا کر بولی تھی ۔
رشتہ لے کر آنے کی وجہ آپ کو دیا ہوا وعدہ ،
کونسا وعدہ ،،، وہ چونک کر بولی تھی ۔
یہ ہی کہ ہماری شادی بہت دھوم دھام سے ہوگی ، وہ پر سکون انداز میں ابلتے ہوئے پانی میں چائے پتی ڈالتا ہوا مسکرایا تھا ۔
ویسے کتنے اچھے لگ رہے ہیں نا ہم دونوں بلکل رومینٹک کپلز کی طرح کچن میں کھڑے ہوئے ،، میں تمہاری محبت چائے بنارہا ہوں اور تم مجھے محبت سے نہار رہی ہو ،، منزہ کی نظروں پر ٹوک کرتا ہوا شاہ میر مخمور لہجے میں گویا ہوا تھا ۔
شاہ میر کے کھوئے ہوئے لہجے پر وہ سر جھٹک گئی تھی جس پر شاہ میر اپنے اور اس کے درمیان موجود فاصلے کو تمام کرگیا تھا ۔
ایک بات یاد رکھنا سوئیٹ ہارٹ ،، سیلپ کے ساتھ لگی ہوئی منزہ کے گرد دونوں ہاتھ رکھ کر اس کی راہیں بند کرتا ہوا وہ منزہ پر ہلکا سا جھکا تھا ۔
وقار انکل آئے گے تم سے تمہاری مرضی پوچھنے تو جانم انکار نہیں ہونا چاہیے ۔
ورنہ تو تم اچھے سے جانتی اور سمجھتی ہو آنٹی بیمار ہیں انکل ہارٹ پیشنٹ ہیں اور بھائی تمہارا ایک ہی ہے ،، تو ان سب کا اور تمہارا خیال کرنا مجھ پر فرض ہے جانم ،، منزہ کے گال پر چٹکی کاٹتا ہوا مسکراکر کہتا وہ منزہ کو اسٹل کرکے جانے کے لیے بڑھا تھا کہ کچھ سوچ کر واپس سے منزہ کی سمت مڑا تھا ۔
تمہارے ہاتھ کی چائے پیوں گا آج تو میری چائے میں میٹھا تھوڑا کم ہی رکھنا اگر اس میں میٹھا زیادہ ہوگیا تو مجھے شوگر ہوجائے گی۔
ایک آنکھ دبا کر کہتا ہوا وہ وہاں سے گیا تھا ۔
شاہ میر کو گھورتی ہوئی اسے جاتے دیکھ طویل سانس خارج کرتی ہوئی وہ اپنی بے بسی پر ماتم کناں ہوئی تھی ۔
آنٹی چائے ،، اسے اب ان سب کی موجودگی کا مقصد پتا چلا تھا ۔
شکریہ بیٹا،، منزہ کے سمائل پاس کرتی ہوئی سمرین ہمدانی کی آنکھوں میں منزہ کے لیے پسندگی دیکھ کبری کی نظریں ارحم کے ساتھ ہنستے ہوئے شاہ میر پر اٹھی تھیں،
جس کے چہرے پر رقم خوبصورت مسکراہٹ اس کی خوشی کا پتا دے رہی تھی ،
بھابھی ،، منزہ کے بھابھی کہہ کر پکارنے کر کبری نے چونک کر اسے دیکھا تھا ۔
تھینک یو منزہ ،، نا چاہتے ہوئے بھی کبری کے چہرے پر مسکراہٹ رینگی تھی جو منزہ کے اسے بھابھی کہنے پر امڈ آئی تھی ۔
میں تو دو کپ لوں گا ،، آذر کو بغور دیکھتی ہوئی منزہ پہلی بار کھل کر مسکرائی تھی ۔
آپ دو کیا تین لے لیں ،، اسے ہنس کر جواب دیتی ہوئی شاہ میر کو چونکنے پر مجبور کرگئی تھی ۔
کبھی مجھ سے ایسے بات نہیں کی ہر وقت کاٹنے کو تیار رہتی ہے جنگی بلی ،، ارحم کے بال سیٹ کرتا ہوا وہ بڑبڑایا تھا ۔
مما یہ رشتہ ڈن کریں مجھے بھابھی بہت پسند آئی ہیں ،، بلند ہانک لگا کر کہتا ہوا آذر کپ لیتا ہوا پرجوشی کا مظاہرہ کرگیا تھا ۔
خوشگوار موڈ میں کھانا کھانے کے بعد ہمدانی فیملی وہاں سے گئے تھے ۔
کچھ توقف بعد مزمل اور مسسز وقار سے بات کرنے کے بعد وقار صاحب منزہ کے کمرے میں گئے تھے ۔
بابا آپ مجھے بلا لیتے آپ میں آجاتی آپ کے پاس ،، بیڈ پر کتابیں پھیلائیں بیٹھی ہوئی منزہ سوچوں میں گم تھی کہ اچانک وقار صاحب کے آتے ہی وہ ہڑبڑا کر بیٹھ گئی تھی ۔
آپ اچھے سے جانتی ہیں بیٹا کہ آج ہمدانی فیملی ہمارے گھر کیوں اور کس مقصد سے آئی تھی ۔وقار صاحب نے لفظوں کو ترمیم دینے کی سعی کی تھی ۔
جی بابا ،، شاہ میر کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے تھے ۔
پھر آپ کا کیا فیصلہ ہے منزہ ،، بغور منزہ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ اس کے تاثرات پڑھنے کی ناکام کوشش کررہے تھے ۔
بابا آج تک میں نے آپ کے کسی بھی فیصلے پر سوال نہیں اٹھایا اور نا ہی آج اٹھاؤں گی ۔ مسکرا کر کہتی ہوئی وہ آبدیدہ ہوئی تھی ۔
مجھے پتا میری بیٹی میرا مان ہمیشہ رکھے گی ۔ منزہ کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے وہ وہاں سے گئے تھے ۔جبکہ منزہ شاہ میر کی جیت پر لب بھینچے اپنی سسکی دبا گئی تھی ۔
*****
دل جو دیوانہ نہیں آخر کو دیوانہ بھی تھا
بھُولنے پر اس کو جب آیا تو پہچانا بھی تھا
مرزا ہاؤس سے آنے کے بعد کبری ارحم اور پریشے کو لیے سیدھا اپنے روم میں گئی تھی ۔
جانیے کس شوق میں رشتے بچھڑ کر رہ گئے
کام تو کوئی نہیں تھا پر ہمیں جانا بھی تھا
کیوں میرے ذہن میں ایک پل کے لیے بھی شاہ میر کا خیال آیا ،، پریشے کو چینج کرانے کے بعد اسے سلانے کی کوشش میں ناکام ٹھہری تھی ۔
اجنبی سا ایک موسم ایک بے موسم سی شام
جب اُسے آنا نہیں تھا جب اُسے آنا بھی تھا
چائے کا مگ پکڑے اپنے لیے ہوئے فیصلے پر وہ خود سے ہی شرمندگی محسوس کررہی تھی ۔
وہ کیسے شاہ میر کو جیتنے دے سکتی تھی مگر وہ کر بھی کیا کرسکتی تھی ۔۔
جانیے کیوں دل کی وحشت درمیاں میں آ گئی
بس یونہی ہم کو بہکنا بھی تھا بہکانا بھی تھا
وہیں دوسری طرف شاہ میر ہمدانی جو اپنی زندگی میں ہر بار کی طرح آج بھی سرفہرست ٹھہرنے والا تھا ۔
اپنے جیتنے کا سکون کا قدر خوبصورت ہوتا ہے یہ شاہ میر ہمدانی سے بہتر کون جان سکتا تھا ۔
اک مہکتا سا وہ لمحہ تھا کہ جیسے اک خیال
اک زمانے تک اسی لمحے کو تڑپانا بھی تھا
جون ایلیا
خوبصورت تو بہت ہو تم منزہ وقار ایسے ی تو میں دیوانہ نہیں ہوا تمہارا مگر تمہاری ایک غلطی میری محبت کو ضد میں بدل گئی ،،
تمہیں حاصل کرنا ہی میری زندگی کا وہ مقصد ہے منزہ وقار جس کے لیے میں کچھ بھی کرسکتا ہوں ۔
