397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 9)

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

مہندی اسپیشل۔۔۔۔!!!

آج صبح سے ہی عالم ہاؤس میں گہما گہمی کا عالم تھا ۔۔۔۔ ہر کوئی کام میں مصروف تھا۔۔۔ کیونکہ مہندی کا فنگشن شام میں تھا تو سب مہمان آنا شروع ہو چکے تھے۔۔۔۔۔۔

اسنے گھر میں قدم رکھا تو نظر اپنے دائیں جانب بنے لان میں گئی۔۔۔ جسے سفید اور پیلے پھولوں​ سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔ لان میں ایک طرح سٹیج بنایا گیا تھا جس پر کمبائن فنگشن ہونے کی وجہ ڈے دو جھولے رکھے ہوئے تھے جنہیں لال گلاب سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔۔ جھولوں کے آگے ٹیبل رکھی تھی جو پھولوں کی پتیوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔۔۔۔ باقی لان میں بیٹھنے کے لیے کرسیاں ٹیبل لگائی ہوئی تھیں۔۔۔۔ وہ حال میں داخل ہوئی تو نورین بیگم سامنے ہی ملازمہ کو کچھ کام بتاتی نظر آئیں۔۔۔۔۔

اسلام و علیکم آنٹی: مسکرا کے سلام کیا۔

وعلیکم اسلام بیٹا۔۔۔۔ اب آرہی ہو آپ کو پتہ ہے عروہ کب سے آپ کا انتظار کر رہی ہے اور اب پکا ناراض ہوگئی​ ہو گی آپ سے: انہوں نے پیار سے کہا۔۔

فکر نہیں کریں آنٹی میں اسے یوں منالوں گی : اسنے چٹکی بجائی۔

اور تمہارے بابا نہیں آئے:۔۔۔۔۔۔

وہ کل آئیں کے آنٹی آج انہیں کہی جاتا تھا: اسنے نا آنے کی وجہ بتائی۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔ جاؤ وہ اپنے کمرے میں ہے تیار ہو رہی ہے اور آپ بھی جلدی سے تیار ہو جاؤ لڑکے والے آتے ہی ہوں گے: وہ اسے کہتیں آگے بڑھ گئیں۔

اسنے اپنا چھوٹا سا بیک اٹھایا اور اوپر عروہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

ہائے۔۔۔۔: وہ چہکتی ہوئی اندر آئی تو نظر عروہ پر گئی جو تیار ہو کے بیڈ پر بیٹھی فون چلا رہی تھی۔۔۔۔۔ اسے ایک نظر دیکھ کے منہ بناتی پھر سے فون میں مصروف ہو گئی۔

شکر ہے تم آگئیں ورنہ تمہاری دوست نے تو تم سے بات نا کرنے کی قسم کھا لی تھی: ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی مسکان بیوٹیشن سے تیار ہو رہی تھی۔۔۔

ارے ایسے کیسے نہیں آتی میری اکلوتی بیسٹی کی شادی ہے مجھے تو آنا ہی تھا: وہ عروہ کے ساتھ چپکی۔۔۔

اچھا بس بس زیادہ چپکو مت میری تیاری خراب ہو جائے گی میرے انکے دیکھنے سے پہلے: عروہ نے آخری بات پہ دانتوں میں انگلی دبائی۔

تم اسے چھوڑو اور جاکے جلدی سے کپڑے چینج کرکے آؤ تاکے یہ تمہیں بھی تیار کر سکیں۔۔۔۔: مسکان نے بیوٹیشن کی طرف اشارہ کیا۔

اوکے: وہ اپنے کپڑے لے کے واشروم میں گھس گئی۔

۔🌺🌺🌺

تیار ہوگئے بیٹا۔۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ میرے بچے کتنے پیارے لگ رہے ہیں: زینب بیگم عادل کے کمرے میں آئی تو وہ تینوں اپنی تیاری کو آخری ٹچ دے رہے تھے۔

ان تینوں نے سیم ڈریسنگ کی ہوئی تھی۔۔۔ سفید شلوار قمیض زیب تن کئے۔۔۔ پیلی اور ہری چنری گردن میں ڈالے، پشاوری چپل پہنے وہ تینوں شہزادے لگ رہے تھے۔۔۔

ماما آپ بھی کسی سے کم نہیں لگ رہیں: شہاب نے ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھے اپنے ساتھ لگایا۔ تو وہ بھی اسکے وجیہہ چہرے پر ہاتھ رکھ ہولے سے مسکرائیں۔

بلکل میری ماما تو آج ساری لڑکیوں کو پیچھے چھوڑ دیں گی: عاکل نے انہیں دوسری طرف سے ساتھ لگایا۔ عادل خاموش کھڑا مسکراتا رہا۔

اچھا بس کرو اور جلدی سے باہر آؤ دیر ہورہی ہے نکلنے میں: وہ مسکراتی ہوئی انہیں کہہ کے باہر نکل گئیں۔۔۔ تووہ بھی انکے پیچے ہو لیے۔

۔🌺🌺🌺

واصف صاحب اور حاکم صاحب دونوں کی فیملیز آ گئیں تھیں۔۔۔۔

مدثر صاحب بھی تھوڑی دیر پہلے پہنچے تھے۔۔۔۔۔

دانیال نے بھی ان تینوں کی طرف ہی ڈریسنگ کی بھی۔۔۔ وہ بھی بہت ہنڈسم لگ رہا تھا۔۔۔

ماشاءاللہ: نورین بیگم عروہ کے کمرے میں انہیں لینے آئی تو بے ساختہ منہ سے ماشاءاللہ نکلا۔۔۔۔ وہ لگ ہی اتنی پیاری رہیں تھیں۔

عروہ نے پیلی انار کلی فروک ،جس کا ہرا چوڑی دار پاجامہ اور ساتھ ہی پیلے اور ہرے کنٹراس کے ساتھ دوبٹہ لیے، بالوں کی چوٹی کیے ان میں پھول لگائے آگے کیا ہوا تھا، نرمی و نازک پاؤں میں پیلے رنگ کا کھسہ پہنے۔۔۔، سوفٹ سا میک اپ کیے پھولوں کے زیورات میں وہ ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔

جب کے دوسری طرف مسکان نے بھی سیم ڈریسنگ کی تھی بس کپڑوں کا رنگ الگ تھا وہ بھی نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔

بہت پیاری لگ رہی ہو : نورین بیگم کی آنکھیں بھیگ گئیں۔۔۔ تو وہ دونوں کچھ بولے بغیر انکے گلے لگ رگئیں۔۔۔

آنٹی کیا میں پیاری نہیں لگ رہی: سحر کی اداس آواز آئی۔۔۔

ارے کس نے کہا۔۔۔ میری بیٹی تو بہت پیاری لگ رہی ہے: وہ دونوں ان سے الگ ہوئی تو وہ مسکراتی ہوئی اسکی طرف بڑھ گئیں۔۔۔ جو ہرے رنگ کے قمیض شلوار میں بالوں کی چوٹی کیے۔۔۔۔ بہت پیاری لگ رہی تھی۔

بس آنٹی آپ نے کہہ دیا نا تو مجھے یقین ہوگیا: وہ خوش ہوئی۔۔۔

اچھا چلو بیٹا نیچے آؤ سب آگئے ہیں۔۔۔ انتظار کر رہے ہیں دلہنوں کا اور زرہ گھونگھٹ بھی لو: نورین بیگم نے آگے بڑھ کے دونوں کا گھونگھٹ کیا اور سحر کے ہمراہ دونوں کو نیچھے لے کے بڑھ گئیں۔

ان دونوں​ کو لال دوبٹہ کے سائے میں سٹیج تک لایا گیا۔۔۔۔ جب کے دانیال اور شہاب ایک ایک جھولے کے آگے کھڑے تھے۔۔۔۔

دانیال کی نظر جب گھونگھٹ میں چہرا چھوپائے مسکان پر گئی تو نظریں دیدارِ یار کے لیے بے قرار ہو گئیں۔۔۔

جب کے شہاب کی نظر عروہ پر گئی تو وہ دلگشی سے مسکرایا۔۔۔ جب سے اسکی شادی کی باتیں شروع ہوئی تھیں شہاب کے دل میں عروہ کو لے کے ہلچل سی ہو رہی تھی۔۔۔

ارے روکیے روکیے: ابھی وہ دونوں اپنے اپنے جھولے کی طرف بڑھتیں احد نے بیچ میں ہی روک دیا۔۔۔۔۔

احد نے بھی سب کی طرح سیم ڈریسنگ کی ہوئی تھی۔۔۔۔

کیوں بھئی کیا ہوا : عاکل نے آگے آتے ہوئے پوچھا۔

وہ اس لیے کیوں کے لڑکے دونوں ایک جھولے پر بیٹھیں گے اور لڑکیاں دونوں ایک جھولے پر: حیا نے بھی حصہ ڈالا۔۔۔۔ جو گلابی رنگ کی فروک میں بالوں کو پشت پہ گھلا چھوڑے۔۔۔ بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔۔۔

یے کیا بات ہوئی ایسا نہیں ہوتا: دانیال انکاری ہوا۔

دانیال بھئی ابھی نکاح نہیں ہوا اس لیے الگ الگ : سحر نے وجہ بتائی۔۔۔

بات ٹھیک تھی اس لیے وہ دونوں بھی اپنے جھولے پر بیٹھ گئے۔۔۔۔ اور لڑکیاں​ اپنے پر۔۔۔

رسم کا آغاز واصف صاحب اور زینب بیگم نے کیا۔۔۔۔ اسکے بعد ایک ایک کر کے سب نے رسم کی۔۔۔

عالم صاحب اور نورین بیگم جب رسم کرنے آئی تو ان دونوں کی آنکھیں نم ہوئیں اور یہی حال عالم صاحب، نورین بیگم اور دور کھڑے احد کا بھی تھا۔۔۔۔ عالم صاحب نے باری باری دونوں کے سر پر ہاتھ رکھا اور ڈھیر ساری دعائیں دیں۔۔۔

رسم ختم ہوئی تو دلہنوں کو انکے کمرے میں بیجھ دیا تاکے وہ کچھ کھا پی کے آرام کرلیں۔۔۔ کیونکہ کل بارات تھی تو آج ہی دونوں کو مہندی لگنی تھی۔۔۔۔

مہمانوں میں کھانا گھولوا دیا تھا۔۔۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺

اچھی لگ رہی ہو ہمیشہ کی طرح :عادل جس کی نظر پوری محفل میں مہر پر ہی تھی اب اسے اکیلا دیکھ اسکے پیچھے کھڑے ہوکے گھمبیر آواز میں کہا۔

مہر جو فون سنے سائد پر آئی تھی اسکی آواز پر چوکی۔۔۔

اسنے مہندی رنگ کی قمیض شلوار زیب تن کی ہوئی تھی۔۔۔ لمبے بالوں کی چوٹی بنا رکھی تھی ۔۔۔۔ لائٹ سے میک اپ میں وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

شکریہ:اسنے شکریہ بول کے برابر سے نکلنا چاہا تو عادل نے راستہ روکا۔۔۔

میں کیسا لگ رہا ہوں بتایا نہیں تم نے: اسنے محبت سے پوچھا۔

مہر نے اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں صرف محبت ہی محبت تھی۔۔۔۔۔ جھوٹ، دھوکا، دیکھاوا تو دور دور تک نہیں تھا۔۔۔۔ اسکا دل اسے دھوکے باز مان ہی نہیں رہا تھا!!!

نہیں میں نے خود دیکھا تھا: اسنے اپنے دل کی نفی کی.

مجھے نہیں پتہ: وہ کہتی ہاتھ سے سائد کرتی حیا کی طرف بڑھ گئی ۔۔

وہ ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔۔۔

۔🌺🌺🌺

آہ۔۔ہ۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے۔۔۔۔ میرے سارے کپڑے خراب کر دیے۔۔: سحر تو اپنے کپڑے دیکھ صدمہ میں آگئی تھی۔

میں نے کچھ نہیں کیا ساری غلطی اس پاؤں کی ہے جو خودی مڑ گیا: عاکل جو جوس کا گلاس لیے سٹیج کی طرح جا رہا تھا پاؤں مڑنے پر گرتے گرتے بچا تو جوس سارا سامنے سے آتی سحر پر گر گیا۔۔۔۔

تو آپ پاؤں کاٹ کے رکھ دیں نا ہوں گے پاؤں نا مڑے گے: وہ غصہ میں آئی۔۔۔

توبہ توبہ لڑکی۔۔۔۔ پاؤں کٹیں میرے دشمنوں کے : عاکل نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔

اف پاگل آدمی: وہ جھنجھلائی۔

آدمی کیسے کہا لڑکی۔۔۔۔ مجھ پر تو ساری لڑکیاں​ مرتی ہیں: اسنے فخر سے کہا۔

تو نہا لیا کریں بیچاریاں بدبو سے مر جاتی ہوں گی: اسنے افسوس سے کہا۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی لڑکی مجھے ایسا کہنے کی۔۔۔۔ بتاؤ تمہاری امی کہا ہیں میں ان سے تمہاری شکایت کرو گا: عاکل نے اسے گھورا۔۔۔۔

سحر کی آنکھیں ایک دم نم ہوئیں اور وہ بغیر کچھ بولے گھر میں بھاگ گئی۔۔۔۔

ایسے کیا ہوا: عاکل نے اسکی نم آنکھیں دیکھ لیں تھیں۔۔۔ وہ پریشان ہوا۔

جب یہ 3 سال کی تھیں تب انکی امی کا انتقال ہوگیا تھا: احد جو انکو لڑتے دیکھ انکی طرف آرہا تھا، عاکل کی آخری بات سن چکا تھا ۔۔۔۔

او اچھا لیکن تمہیں کیسے پتہ: عاکل کو دوکھ ہوا۔۔۔۔

وہ بجو کی اسکول سے دوست رہی ہیں اور ہمارے یہاں آتی جاتی رہتی ہیں۔۔۔۔: احد نے بتایا۔

ہممم :عاکل کو اسکے لیے بہت دوکھ ہو رہا تھا اتنی سے عمر میں ماں چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔۔ اسنے تو انکا لمس بھی صحیح سے محسوس نہیں کیا….

تھوڑی دیر بعد سب ہی اپنے گھر کے لیے روانہ ہوئے۔۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺