Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 6)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 6)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
کمرے میں آکے دروازہ بند کیا اور وہی بیٹھتی چلی گئی۔۔۔ آنسو تیزی سے نکل کر چہرا بھگو رہے تھے۔۔۔ وہ بس بند آنکھوں سے رو رہی تھی کسی طرح اپنا دل ہلکا کرنا چاہتی تھی۔۔۔ کوئی شکوہ کوئی شکایت نہیں کر رہی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی اللہ نے اسکے لیے بہترین ہی سوچا ہوگا۔۔۔ بس اسے صبر کرنا تھا۔۔۔۔.
بجو آپ کو کھانے پر بلا رہے ہیں: احد کے دروازہ کھٹکھٹانے پر آنکھیں گھولی ۔۔۔
میں بعد میں کھالوں گی تم جاؤ: بامشکل لہجہ نارمل رکھا۔
وہ بھی بنا کچھ کہے نیچے چلاگیا۔
امی بجو کہہ رہی ہیں وہ بعد میں کھالیں گی: احد کی بات سن کر نورین بیگم کو بہت غصہ آیا۔ وہ اسے ایسی امید نہیں رکھتی تھیں۔ انکے مطابق اسکا ابھی رشتہ ہوا ہے اسنے یہاں سب کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔
کوئی بات نہیں بچی ہے گھبرا گئی ہوگی، آخر ہم بھی تو ایسے اچانک رشتہ لے کر آگئے۔۔۔ ٹھیک ہوجائے گی: آسیہ بیگم فطری شرموں حیا سمجھی۔۔۔
جی ٹھیک کہا آپ نے: نورین بیگم نے کھانا سرف کیا۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ کتنی ہی دیر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی۔۔۔زیادہ رونے کی وجہ سے سر میں بھی درد ہورہا تھا۔۔۔۔ پھر کچھ سوچ کے اٹھی اور وضو کر کے نماز ادا کی کیونکہ سکون تو اس پاک ذات کے ذکر میں ہی ملتا ہے۔۔۔
سلام پھیر کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آنسو ایک بار پھر بہ نکلے۔۔۔۔
یا اللہ میں تیری گنہگار بندی، تیری بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے تجھ سے صبر مانگتی ہوں۔۔۔ اے میرے مالک میں جانتی ہوں تو اپنے بندوں سے ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے ۔۔۔ تو اپنے بندوں کو تھامے رکھتا ہے۔۔۔ اے میرے مولا مجھے پتا ہے تو اپنے بندوں کو بہترین سے نوازتا ہے۔۔۔ تیرے ہر فیصلہ میں ہماری بھلائی ہے۔۔۔۔ بس اللہ ہمیں صبر و شکر کرنے کی توفیق عطا فرما: عاد کے بعد کتنی ہی دیر وہ چہرے پر ہاتھ رکھے بے آواز روتی رہی۔۔۔
جب دل تھوڑا پرسکون ہوا تو آٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔
بیک گراؤنڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں موند گئی۔۔۔ کیا ہوگی اسکی زندگی، کیسی گزرے گی آنے والی زندگی، کیا وہ اسے بھولا پائے گی، کیا اسکی یادوں، باتوں کو بھول پائے گی۔۔۔۔۔۔
ہاں اسے بھولنا ہوگا، اسے اپنے محرم کا وفادارہونا ہے، اسے گنہگار نہیں ہونا، وقت لگے گا لیکن ہاں وہ بھول جائے گی۔۔۔ وہ خود سے بات کرتے کرتے کب سوگئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
ٹرن ٹرن : وہ شیشے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا جب فون بجا۔
ہیلو: اسنے فون کان سے لگایا۔
ہیلو S.Pصاحب کیا حال ہیں: اسنے دلکشی سے حال پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں اتنی صبح صبح فون کیا خیریت تو ہے: عادل فکرمندی ہوا۔
ہاں ہاں سب خیریت ہے میں نے تمہیں یہ کہنے کے لیے فون کیا تھا کے آج رات کا کھانا تم ہمارے ساتھ کھارہے ہو اور میں کوئی بہانا نہیں سنوں گی: اسنے حکمانہ انداز میں کہا۔
یار۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بہانا نہیں چلے گا: عادل ابھی انکار کرتا کے وہ اسکی بات کاٹ کے بولی۔
اچھا ٹھیک ہے آجاؤ گا: عادل نے ہامی بھری۔
میں انتظار کرو گی: اسنے مسکرا کے فون بند کردیا۔
تو وہ بھی پولیس اسٹیشن کے لیے تیار ہونے لگا۔
۔![]()
![]()
![]()
شکر ہے تم کمرے سے تو نکلیں ورنا مجھے تو لگ رہا تھا کے وہی سے رخصت ہونے کا ارادہ ہے: عروہ کو نیچے آتے دیکھ مسکان نے شرارت سے کہا۔۔۔
عروہ کی آنکھ صبح سویرے ہی کھول گئی تھی لیکن رات رونے کی وجہ سے آنکھیں لال سرخ ہورہی تھیں اس لیے وہ نیچے بھی دیر سے گی۔۔۔۔ وہ کیسی کو پتہ نہیں لگنے دینا چاہتی تھی کے اسکا دل ڈوب رہا ہے، وہ خوش نہیں ہے، لیکن اسے اپنے بابا ماما کے لیے خوش ہونا تھا، ماں بابا کی خاطر سب بھول کے آگے بڑھنا تھا۔۔۔۔ جو آسان کام نہیں تھا۔۔۔۔
فکر نہیں کرو تمہیں رخصت کرکے جاؤ گی: عروہ افسردگی سے مسکرائی۔
ہاہاہا میڈم یہ آپ کی بھول ہے 1ہفتے بعد آپکی منگنی ہے اور 2 ماہ بعد شادی: مسکان نے اسے آگاہ کیا۔
کیااااا اتنی جلدی۔۔۔۔: عروہ کو اتنی جلدی کی امید نہیں تھی۔
تو کیا 30 کی ہوکے پھر شادی کرو گی: نورین بیگم نے حال میں آتے ہوئے اسکی بات سن لی تھی۔
میرا مطلب ہے اتنی جلدی کیا ہے۔۔۔ ایک دو سال تو ہوں ۔۔۔۔ آپ تو مجھے اتنی جلدی نکلنے پر تولی ہوئی ہیں: عروہ کی آواز روندی ہوئی۔
نکال کون رہا ہے جب دل کرے آجانا۔۔۔: انہوں نے پیار سے پچکارا۔۔۔
اسے نکال نا ہی کہتے ہیں : عروہ کو ایک بار بھر نئے سرے سے رونا آیا۔۔ وہ سب کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ اس لیے آٹھ کے لان میں چلدی۔
لو پاگل ہو گئی ہے یہ تو: نورین بیگم نے سر جھٹکا۔
بس ایسے اچانک سب ہونے پر ایسا ریئکٹ کر رہی ہے ٹھیک ہو جائے گی: مسکان نے انہیں تسلی دی۔
۔![]()
![]()
![]()
دانیال کا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ رات میں ہی گھر پہنچ جائے لیکن آج کی میٹنگ بھی اہم تھی جیسے چھوڑ کے وہ آ نہیں سکتا تھا۔۔۔
امی کہاں ہیں : اسنے حال میں کام کرتی ملازمہ سے پوچھا۔
وہ بی بی جی اور صاحب جی دونوں اپنے کمرے میں ہیں: اسنے کہا۔
بابا گھر پر ہی ہیں: حاکم صاحب اس وقت عموماً آفس میں ہوتے تھے۔
جی۔۔۔۔: اسنے کہا تو وہ سر ہلاتا انکے کمرے کی طرف چل دیا۔
کون: اسنے دستک دی تو آسیہ بیگم نے پوچھا۔
دانیال: اسنے جواب دیا تو انہیں نے اندر آنے کی اجازت دی۔
ارے آؤ نا بیٹا۔۔۔۔۔
وہ اندر داخل ہوا تو اپنی ماں کو بیڈ پر زیورات پھیلائے بیٹھے دیکھا۔
اسلام و علیکم ۔۔۔ امی آپ کہیں جا رہی ہیں: وہ دونوں کو سلام کرکے صوفے پر بیٹھا۔
نہیں جی۔۔۔۔ یہ تو میں نے اپنی بہو کے لیے نکالا ہے۔۔۔ کیسا ہے: انہوں نے ایک سیٹ اسکی طرف بڑھایا۔
بہت اچھا ہے : اسنے دل سے تعریف کی۔۔۔۔
بھئی ہماری بہو سے زیادہ اچھا نہیں ہے: حاکم صاحب مسکرائے تو وہ دونوں بھی مسکادیے۔
یہ تو ہے: اسنے دل میں کہا۔
بیٹا تمہارے بابا نے ایک ہفتے بعد منگنی رکھی ہے اور پھر دو ماہ بعد شادی ٹھیک ہے نا: انہوں نے بتایا۔
جیسے ٹھیک لگے: اسکے دل میں تو لڈو پھوٹ رہے تھے۔
کل جلدی آجانا عروہ کو منگنی کا سوٹ بھی دلانے جانا ہے: آسیہ بیگم نے سیٹ الماری میں رکھتے ہوئے کہا۔
ہیںںںں عروہ کو کیوں لے کے جانا ہے: اسنے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔۔
لیکن پھر دماغ میں ایک دم دھماکہ ہوا۔۔۔۔ وہ جو سمجھ رہا تھا وہ سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔
کیا مطلب بیٹا اسنے پہنا ہے تو اڈکہ پسند کا ہی ڈریس لیں گے نا : انکو اسے اس سوال کی امید نہیں تھی۔
امی بابا آپنے میرا رشتہ کس سے کیا ہے: اسکو اپنی آواز ہی سنائی نہیں دے رہی تھی۔
عروہ سے : حاکم صاحب نے اسکا چہرا دیکھا جس پر اب پریشانی کے آثار تھے۔
مگر بابا آپ نے تو مسکان سے : وہ کہتے کہتے رکا پھر یاد آیا کے حاکم صاحب نے عالم انکل کہ بیٹی کا کہا تھا کون سی بیٹی یہ نام تو لیا ہی نہیں تھا۔۔۔
مسکان کہا اے آگئی بیٹا۔۔۔ تم کہنا کیا چاہتے ہو: آسیہ بیگم کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔
امی میں مسکان سے شادی کرنا چاہتا ہوں عروہ کا تو خیال بھی میرے دماغ میں نہیں آیا: اسنے ماتھا مسلہ۔
کیا اگر تم مسکان سے شادی کرنا چاہتے تھے تو پھر ہاں کیوں کی یا پہلے کیوں نہیں بتایا جب میں نے پوچھا تھا: انہوں نے سر تھاما۔
امی اس وقت میں بھی اپنی فیلنگ نہیں سمجھتا تھا لیکن جب آپ نے عالم انکل کی بیٹی کا کہا تو مجھے صرف مسکان کا ہی خیال آیا عروہ تو دور دور تک کہیں بھی نہیں تھی: اسنے وضاحت دی۔
اب کیا کرے گے ہم کیا جواب دیں گے انکو : وہ فکرمندی ہوئیں۔
ہمممم ہمیں جلدی ہی بات کرنی ہوگی۔۔۔ میں سمجھالوں گا عالم کو وہ سمجھے گا۔۔۔ ہم زبردستی نہیں کرسکتے ورنا دو دو زندگیاں برباد ہو جائیں گی: حاکم صاحب نے سمجھتے ہوئے کہا۔۔
دانیال بیٹا جاؤ اپنے کمرے میں فریش ہو جاؤ ابھی آئے ہو اور فکر نہیں کرو ہم کل جاتے ہیں بات کرنے سب ٹھیک ہوگا: انہوں نے سر جھکائے بیٹھے اپنے بیٹے کو کہا۔۔۔
جی بابا مجھے پورا یقین ہے آپ سب ٹھیک کردیں گے: وہ اپنے باپ کے گلے لگتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
حاکم ہم کیسے بات کہیں گے کیا سوچے گے وہ: آسیہ بیگم نے انہیں دیکھ پوچھا۔
فکر نہیں کرو بیگم میں بات کر لوں گا یہ ہمارے بیٹے کی خوشی کا سوال ہے میں منا لوں کا عالم کو: انہوں نے آسیہ بیگم کو تسلی دی تو وہ بھی سر ہلا گئی۔۔۔
دانیال اب پرسکون تھا کے وقت رہتے سب بات پتا چل گئی اب اسکے بابا سب سنبھالیں گے ورنا ۔۔۔۔۔ اسے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔ مسکان کب اسکی سانسوں میں بس گئی اسے پتہ ہی نا چلا۔۔۔
۔![]()
![]()
.
آج کا سورج اپنے ساتھ خوشیوں کی نوید لے کے آیا تھا۔۔۔ خوشیاں بکھیرنے آیا تھا۔۔۔ کسی کے صبر کا پھل لایا تھا۔۔۔۔.
۔![]()
![]()
![]()
وہ ابھی ناشتہ کر کے فارغ ہوئی تھی جب میسج کی بیل ہوئی۔۔۔ اسنے میسج کرنے والے کا نام پڑها تو اسی انون نمبر سے میسج تھا جس سے پچھلے کچھ مہینوں سے میسج اور کال آرہے تھے جو اسکی تکلیف کا باعث بن رہے تھے یا شاید میسج بھجنے والی بھی یہی چاہتی تھی۔۔۔۔
اسنے کاپتے ہاتھوں سے میسج کھولا۔۔۔ ایک بار پھر اسکو اسی لڑکی کے ساتھ دیکھ کے اسکا دل ڈوب گیا۔۔۔ آنسو باہر نکلنے کو بیتاب ہوئے۔۔۔ اسنے سمجھ نہیں آیا کے یہ سچ ہے یا وہ باتیں سچ ہیں جو عادل اسے کہتا ہے۔۔۔۔
مہر زرا ادھر آنا بیٹا: شاہین بیگم کی کچن سے آواز آئی۔
جی۔۔۔ جی امی آئی: ہاتھ کی پشت سے بے دردی سے آنکھیں صاف کیں۔۔۔
فون پاور اوف کر کے وہی رکھا اور کچن کی طرف بڑھ گی۔۔
۔![]()
![]()
![]()
آج اتوار تھا تو سب ہی گھر پر تھے۔۔۔
بابا کیا میں آپ کا بچہ نہیں ہوں : احد نے بچوں کی طرح نچلا ہونٹ باہر کو نکل کے آنکھیں پٹپٹائیں۔
نہیں تمہیں ہم نے گود لیا تھا: مسکان نے افسوس سے کہا تو چائے پیتے عالم صاحب مسکرائے۔
ہمم تبھی امی مجھ سے اتنے کام کرواتی ہیں: اسنے سوچنے والے انداز میں کہا۔
صحیح کہا تم نے بیٹا سارے گھر کا کام تو تم ہی کرتے ہو میں تو بس یونیورسٹی جاتی ہوں وہاں سے آکے کھا پی کے اپنی دوستوں میں نکل جاتی ہوں: انہوں نے طنز کیا۔
جب کے ان سب میں عروہ خاموش بیٹھی بس اپنے گھروالوں کےلیے مسکرا رہی تھی۔۔۔
بجو آپ بھی تو کچھ بولیں۔۔۔ دیکھ رہی ہیں نا آپ کے معصوم بھائی پر کیسے الزام لگائے جارہے نہیں: اسنے عروہ کو دیکھا جو کب سے خاموش بیٹھی تھی۔
ٹھیک کہہ رہی ہیں امی: عروہ نے بھی ماں کی سائڈ لی۔۔۔
بجو آپ بھی۔۔۔ بابا دیکھ رہے ہیں یہ ساری خواتین ایک طرف ہوگئی ہیں لیکن آپ تو میرے ساتھ ہیں نا: وہ صدمہ سے بولا۔
ہاں بھئ میں اپنے بیٹے کے ساتھ ہوں: انہوں نے بیٹے کی سائڈ لی۔
اسلام و علیکم: احد کے کہنے سے پہلے حاکم صاحب نے اندر آتے ہوئے سلام کیا۔۔۔ انکے پیچے دانیال اور آسیہ بیگم نے بھی سلام کیا۔
ان سب کو وہاں دیکھ کر عروہ کو کھبراہٹ ہوئی تو وہ ان سب کو سلام کا جواب دیتی اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ وہ اب رونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ وہ سب بھول جانا چاہتی تھی لیکن بچپن کی محبت کو بھول جانا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔
وعلیکم اسلام آؤ آؤ بھئی کیسے آنا ہوا۔۔۔: عالم صاحب آگے بڑہ کے ملے۔
یار مجھ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے: حاکم صاحب نے انکے ساتھ بیٹھے۔۔۔
مسکان پہلے ہی کچن میں چائے پانی کا انتظام کرنے جا چکی تھی۔۔۔۔
ہاں ہاں بولو انہوں نے جیسے اجازت دی۔۔۔
یار میں گھوما پھرا کے بات نہیں کروگا۔۔۔۔ وہ بات یہ ہے۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم کیا بات ہے بھئی یہاں تو محفل لگی ہوئی ہے: حاکم صاحب کی بات بیچ میں ہی رہ گئی جب واصف صاحب نے حال میں داخل ہوتے کہا۔
وعلیکم اسلام۔۔۔ میں آپ کا اور بھابھی کا ہی انتظار کررہا تھا: عالم صاحب نے انہوں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
عالم صاحب گئے تھے واصف صاحب کو عروہ کے رشتے کے بارے میں بتانے لیکن وہ اپنے کیسی دوست کی بیٹی کی شادی میں گئے ہوئے تھے زینب بیگم کے ساتھ اسلیے نہیں بتا پائے تھے ۔۔۔۔ تو انہوں نے خود آنے کے لیے کہہ دیا تھا۔
ارے ہاں تم کوئی بات کر رہے تھے کرو: واصف صاحب کو یاد آیا جب وہ اندر آئے تھے تب حاکم صاحب کوئی بات کر رہے تھے۔
ہاں وہ میں کہہ رہا تھا کے۔۔۔۔ وہ ایک پل کے لیے روکے ۔۔۔۔
وہ دراصل بات یہ ہے کے دانیال مسکان کو پسند کرتا ہے۔۔۔: انہوں نے سانس خارج کی۔
یہ تم کیا کہہ رہے ہو حاکم: عالم صاحب کو سمجھ نا آیا کے وہ کیا کہیں۔
دراصل ایک غلط فہمی ہوگئی تھی کے جب ہم نے دانیال سے یہ پوچھا کے عالم کی بیٹی سے تمہارا رشتہ کر رہے ہیں تو نام نہیں لیا کے کون سی بیٹی۔۔۔۔ دانیال نے تو مسکان سمجھ کے ہاں کی تھی عروہ تو اسکے ذہن میں تھی ہی نہیں : انہوں نے ایک نظر عالم صاحب کو دیکھا جو سنجیدہ لگ رہے تھے۔۔۔۔
نورین بیگم بھی پریشان ہوگئیں۔۔۔۔
دانیال سر جھکائے بیٹھا تھا کیوں کے غلطی اسی کی تھی اسکو پہلے بتانا چاہیے تھا مسکان کے بارے میں۔۔۔
حاکم یہ تم کیا کہ رہے ہو میں اب کیا جواب دوں گا اپنی بچی کو: عالم صاحب فکرمندی ہوئے۔
مسکان جو ریفریشمنٹ کا سامان اٹھائے لا رہی تھی سب کی باتیں سن کے وہیں کچن کے دروازے پر رک گئی۔۔۔ وہ تو دانیال مسکان کو پسند کرتا ہے میں ہی گھو گئی تھی۔۔
عالم میں جانتا ہوں غلطی ہماری ہے۔۔۔ لیکن ہم بچوں کو مجبور تو نہیں کر سکتے نا۔۔۔ مجبوری کے رشتے پائیدار نہیں ہوئے۔۔۔۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا سب صحیح ہو جائے گا۔۔۔ میں جانتا ہوں عروہ بہت سمجھدار ہے سمجھ جائے گی۔۔: حاکم صاحب نے تحمل سے سمجھایا۔۔۔۔
حاکم ٹھیک کہہ رہا ہے عالم ہم بچوں کے اوپر اپنا فیصلہ تھوپ نہیں سکتے۔۔۔ اگر دانیال مسکان کو پسند کرتا ہے تو ہمیں چاہیے کے ان دونوں کو ایک کردیا جائے: واصف صاحب نے بھائی کی مشکل آسان کی۔۔۔
جی بھائی صاحب بچوں کی خوشی سے بڑھ کے تو کچھ نہیں ہوتا نا اس لیے میں عروہ کے لیے معذرت کرکے مسکان کا ہاتھ دانیال کے لیے مانگتی ہوں: آسیہ بیگم نے بھی بات میں حصہ ڈالا۔۔۔
عالم صاحب نے سامنے بیٹھی اپنی بیگم کو دیکھا تو انہیں نے ہاں کا اشارہ کیا۔۔۔
ٹھیک ہے حاکم مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن آخری فیصلہ مسکان کا ہوگا۔۔۔۔: انہوں نے مسکان پر سب چھوڑ دیا۔۔۔
اپنے نام پر مسکان نے دھڑکتے دل کو قابو کیا جب اسے نورین بیگم اور عالم صاحب کچن میں آتے دیکھے۔
مسکان بیٹا ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی ہے: عالم صاحب کو سمجھ نہیں آیا کے وہ کہاں سے بات شروع کریں۔۔۔
بابا میں سب سن چکی ہوں۔۔۔۔ آپ کی جیسی مرضی۔۔۔۔ میں آپکے ہر فیصلہ کا احترام کرتی ہوں۔۔: وہ سر جھکا کر بولی۔ اسنے اپنے بابا کی مشکل آسان کردی تھی۔۔۔۔
عالم صاحب نے مسکراتے ہوئے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔ وہ بہت خوش تھے انکی بیٹیاں ہمیشہ انکا مان رکھتی تھیں۔۔۔۔
نورین بیگم بھی مسکرائیں اور عالم صاحب کے ساتھ ہی باہر بڑھ گئیں۔
دانیال بےچینی سے انکے آنے کا انتظار کر رہا تھا جب عالم صاحب مسکراتے ہوئے آتے نظر آئے۔۔۔
حاکم ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے: عالم صاحب کی بات پر وہاں بیٹھے سبھی لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ دانیال کی تو من کی مراد پوری ہوگئی تھی۔۔۔۔ اسنے دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا۔۔۔
اور رہی بات عروہ کی میں جانتا ہوں اپنی بچی کو وہ سمجھے گی بات کو: انکے انداز میں مان تھا۔
اس خوشی کے موقع پر میں بھی تم سے کچھ مانگ ہی لیتا ہو عالم: واصف صاحب نے زینب بیگم کو دیکھا جو مسکراکے بات شروع کرنے کا کہہ رہی تھیں۔
بھائی میرا سب کچھ آپکا ہی تو ہے آپکو مانگنے کی کیا ضرورت ہے: عالم صاحب نے احترام سے کہا۔
ٹھیک ہے پھر مجھے عروہ بیٹی دے دو شہاب کے لیے: انہوں نے سکون سے کہا۔
عالم صاحب اور نورین بیگم نے ایک دوسرے کو حیرت اور خوشی سے دیکھا۔۔۔
کیا ہوا کوئی اعتراض ہے کیا: انہیں خاموش پاکے واصف صاحب نے روعب سے پوچھا۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے بھائی صاحب لیکن بہتر ہوگا کے پہلے آپ شہاب سے ایک بار پوچھ لیں: نورین بیگم نے شہاب کا فیصلہ سنا چاہا۔
کیوں نہیں نورین میں ابھی فون کرتی ہوں شہاب کو: زینب بیگم نے فون ملایا۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ اپنے آفس میں بیٹھا کوئی فائل ریڈ کررہا تھا۔۔۔ جب فون بجا۔۔۔
جی ماما بولیں: ماں کا فون آتا دیکھ اسنے سب کام چھوڑا۔
شہاب بیٹا تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے کیا تم فری ہو: انہوں نے پوچھا۔
جی ماما آپ بولیں کیا بول رہی تھیں: شہاب نے فون بائیں کان سے ہٹا کر دائیں پر لگایا۔
بیٹا ہم تمہارا رشتہ عروہ سے کرنا چاہ رہے ہیں تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا: انہوں نے پیار سے پوچھا۔
نہیں ماما مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے جیسے آپ لوگوں کی مرضی: شہاب کے ہاں کرنے پر انہوں نے اسے خوب دعائیں دیں اور فون رکھ دیا۔۔۔
وہ اپنی ماں کی دعائیں سن کر مسکراتا رہا جب فون بند ہوا تو اسے عروہ کا خیال آیا۔۔۔۔ اسکی زندگی میں کبھی کوئی لڑکی نہیں آئی تھی۔۔۔ نا اسنے لانے کی کوشش کی تھی۔۔ اسنے اپنی شادی کا فیصلہ اپنے ماں بابا پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ چاہتا تھا کے اسکی بیوی پڑھی لکھی ہو جس کا ذکر وہ اپنی ماں سے بھی کر چکا تھا۔۔۔ لیکن قسمت میں شاید کچھ اور ہی لکھا تھا
مسکرا کے گہری سانس بھرتا سر جھٹک کے اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
۔![]()
![]()
![]()
زینب بیگم نے فون بند ہوتے ہی سب کو شہاب کے جواب سے آگاہ کیا تو سب ہی پرسکون ہوگئے۔۔۔۔
بھائی میں عروہ سے بھی پوچھنا چاہوں گا: عالم صاحب نے اپنے بھائی کی نظریں خود پر دیکھ کے کہا تو انہوں نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔
عروہ کہاں ہے : انہوں نے احد سے پوچھا جو خاموش بیٹھا سب سن رہا تھا ۔
بجو اوپر ہیں بابا میں بلاکے لاتا ہوں: احد بتاکے اٹھنے لگا تو انہوں نے اسے روک دیا۔۔۔
نہیں میں خود جا کے بات کرتا ہوں: وہ کہہ کے اوپر چلے گئے۔۔۔ پیچھے سب انکا انتظار کرنے لگے۔
۔![]()
![]()
.
