Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 22) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 22) 2nd Last Episode
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
اسکی آنکھ کھولی تو نظر اپنے سینے پر سر رکھے سوئی اپنی زندگی پر گئی۔۔۔ جو سوتے ہوئے معصوم بچی لگ رہی تھی۔۔۔
نئی زندگی کی پہلی صبح مبارک ہو: وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے بولا۔
مہر نے اپنے بالوں میں کچھ چلتا محسوس کر تھوڑی سی آنکھیں کھول مسکراکے اسے دیکھا۔
اٹھ جاؤ صبح ہوگئی ہے: عادل نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے جگایا۔
سونے دیں نا آپ نے رات میں بھی سونے نہیں دیا تھا: وہ نیند کے جمار میں بولی۔
اچھا!!! میں نے کیسے نہیں سونے دیا تھا: عادل نے مسکراہٹ دبائے پوچھا۔
آپ نے۔۔۔۔۔۔ : وہ کیا کہنے والی تھی یاد آنے پر چپ ہوتی جلدی سے اسکے پاس سے اٹھنے لگی۔
ارے پہلے بتاؤ تو میں نے کیسے سونے نہیں دیا تھا: عادل نے اسکا ہاتھ پکڑتے شرارت سے پوچھا۔
عادل پلیز: وہ رات کا منظر یاد کر شرم سے لال ہوتی اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی۔
اچھا بابا کچھ نہیں پوچھتا جاؤ فرش ہوجاؤ: عادل نے اسکا ہاتھ ہونٹوں سے لگا کے چھوڑدیا۔۔۔ تو وہ بھی راہے فرار پاکے تیزی سے واشروم میں گھس گئی۔۔۔۔پیچھے وہ اسکی تیزی دیکھ مسکرادیا۔
۔![]()
![]()
![]()
عاکل کی بارات نکلنے کو تیار تھی سب مہمان آگئے تھے۔۔۔۔سب گاڑیوں میں بیٹھنے کے لئے باہر نکلے تو ٹھٹک کے روکے۔۔۔۔
دانیال یہ کیا ہے: عالم صاحب نے دانیال کو گھوڑے کے پاس کھڑے دیکھ پوچھا۔
انکل یہ عاکل کی سواری ہے: دانیال نے سب کی حیران شکل دیکھ بتایا۔
ارے واہ یار تو لے آیا: عاکل جو براؤن شیروانی پہنے دولہا بنا ہوا تھا آگے آتا بولا۔
عاکل تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا گھوڑے پر بارات لے کے جاؤ گے: شہاب نے گھور کے پوچھا۔
بھائی میں اپنی شادی پر کچھ نیا کرنا چاہتا تھا تو میں نے سوچا کیوں نا بارات گھوڑے پر لے کے جائی جائے: عاکل نے جوش سے کہا تو سب نے اسکی سوچ پر نفی میں سر ہلایا۔
اچھا چلو اب دیر ہورہی ہے شہاب تم سب لیڈیز کو کہو جلدی آئیں: واصف صاحب نے کہا۔ تو شہاب ہاں میں سر ہلاتا گھر میں بڑہ گیا۔۔۔۔
بارات بہت دھوم دھام سے سحر کی چوکھٹ پر پوچھی تو سب لوگ آگے بڑھ بڑھ کے ولہے کو گھوڑی چڑے دیکھ حیران ہوئے۔۔۔ کیوں کے آج کے زمانے میں گھوڑی چڑنا شہری لوگوں کے لئے حیرانکن تھا۔۔۔
عاکل گھوڑے سے اتر کے ہال میں داخل ہونے لگا تو عروہ اور مسکان نے راستہ روکا۔۔۔
یہ کیا تم دونوں تو ہمارے ساتھ تھیں: عاکل نے صدمے سے پوچھا۔
تھے!!! لیکن ابھی ہم اپنی بیسٹ فرینڈ کی طرف سے ہیں: عروہ نے بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرا۔
مگر۔۔۔۔۔ اگر مگر کچھ نہیں چلو جلدی سے پیسے نکالو: مسکان نے عاکل کی بات بیچ میں کاٹی۔
دے دو عاکل یہ لوگ تمہارا پیچھا ایسے نہیں چھوڑنے والیں: عادل نے اپنے بھائی کے کندھے پر ہاتھ رکھے کہا۔۔۔ عاکل نے بےچارہ سا منہ بنائے پیسے دیے۔۔۔ تو وہ خوش ہوتی راستے سے ہٹ گئیں۔۔۔ تو وہ اندر داخل ہوئے۔
ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی تو: نورین بیگم نے سرخ لہنگے میں، برائیڈل میک آپ، ہیوی جولری میں سحر کو دلہن بنا دیکھ بے ساختہ کہتے اسکا ماتھا چوما۔۔۔۔ نورین بیگم نے شروع سے ہی اسے اپنی بیٹوں کی طرف ٹریٹ کیا تھا وہ ہال میں آتے ہی اسکے پاس آگئیں تھیں…
سحر کو تو صبح سے ہی اپنی ماں کی بہت یاد آرہی تھی۔۔۔۔ نورین بیگم کے اتنے پیار پر کب سے روکے آنسو بہ نکلے۔
بیٹا بلکل نہیں رونا: انہوں نے آگے بڑھ کے اسکے آنسو صاف کئے۔
چلیں بھئی راستہ دیں مولوی صاحب آرہے ہی : عروہ نے اندر آتے ہوئے کہا۔۔۔ اسکے بیچھے مہر، مسکان، اور حیا بھی اندازہ داخل ہوئیں۔
وہ لوگ سائڈ پر ہوئی تو دانش صاحب مولوی صاحب کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔۔۔۔ دانش صاحب نے سحر کے سر پر ہاتھ رکھتے نکاح شروع کرنے کی اجازت دی۔۔۔۔
مولوی صاحب نے نکاح شروع کیا تو سحر کی آنکھوں میں نئے سرے سے آنسو جما ہونا شروع ہوگئے۔۔۔ ایجاب و قبول کا مرحلہ طے پایا۔۔۔
سحر کے نا روکنے والے آنسو روا ہوئے۔۔۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بیٹیوں کو اپنے ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ اسکے پاس باپ تو تھا لیکن ماں نہیں تھی۔۔۔ بیشک باپ نے اسے ماں باپ دونوں کا پیار دیا تھا لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے اسکی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔ بھلے آپ اپنے بچے کو ماں باپ دونوں کا پیار دو لیکن کبھی ایک باپ ماں نہیں بن سکتا اور ایک ماں باپ نہیں بن سکتی۔۔۔۔ اولاد کو ماں باپ دونوں کے ساتھ کی، پیار کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی ساتھ چھوڑ جائے تو دنیا آدھی ہوجاتی ہے۔۔۔( اللہ سے دعا ہے کے وہ سب کے والدین کو عمرے دراز عطا فرمائے!!! آمین
).
دانش صاحب سے اپنی بیٹی کو روتا ہوا دیکھا نا گیا تو وہ اسے خوش رہنے کی دعا دیتے آنکھیں صاف کرتے باہر نکل گئے۔۔۔۔
سحر کو چپ کروا کے اسے عروہ اور مسکان اسٹیج تک لائیں۔۔۔ عاکل نے آگے بڑھ کے اسے چڑھنے میں مدد کی۔
دونوں اسٹیج پر بیٹھے سب کی نظروں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔۔۔ عاکل کی گرے آنکھوں میں خوشی صاف چمک رہی تھی۔۔۔ چہرے پر مسکان نے بسیرا کر رکھا تھا۔۔۔۔ وہ ہر تھوڑی دیر بعد اسکے کان میں معنی خیز سرگوشی کرتا جس سے وہ شرما کے جھکے ہوئے سر کو اور جھکا لیتی۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
احد آپ یہاں کھڑے ہیں چلیں پکچرس بنواتے ہیں: حیا احد کو کافی دیر سے ایک لڑکی سے باتیں کرتے دیکھ رہی تھی جب رہا نا گیا تو احد کے پاس جاتی اسکے بازو میں ہاتھ ڈال کے بولی۔
احد نے حیرت سے اسے دیکھا پھر اپنے بازو میں اسکے ڈلے ہاتھ کو دیکھ اسکی جیلسی سمجھ گہرا مسکرایا۔
آپ کون: سامنے کھڑی لڑکی نے ناگواریت سے حیا کو دیکھا۔
میں انکی وائف: حیا نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے کہا۔۔۔۔ تو وہ لڑکی حسد سے اسی دیکھتی اکسکیوز کرتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔ اسکے جاتے ہی حیا نے جھٹ سے اپنا ہاتھ احد کے بازو سے نکالا اور چلتی بنی۔۔۔
ارے روکو تو,,, چلو تصویریں بنوانے چلتے ہیں: احد اسکے پیچھے آتا بولا۔
جاؤ اسی چڑیل کے ساتھ بنواؤ جس کےساتھ گپے ہانک رہے تھے: حیا ایک دم مڑتے ہوئے غصہ سے بولی تو اسکے ایک دم روکنے پر احد کے چلتے قدموں پر بریک لگی۔
تم جیلس ہو رہی ہو: احد نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا اسکو اچھا لگ رہا تھا اسکا خود کے لئیے پوزیسو ہونا۔۔۔
نہیں تم کسی بھی لڑکی سے باتیں کرو گے اور میں جیلس بھی نہیں ہوں: وہ صاف گو سے بولی۔
اچھا اب کسی سے بات نہیں کروں گا چلو اسٹیج پر چلیں: احد مسکراتا ہوا اسے لیئے اسٹیج کی طرف بڑھ گیا تو وہ بھی منہ بناتی خاموشی سے اسکے ساتھ ہولی۔
۔![]()
![]()
![]()
عروہ کافی دیر سے کسی کی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی کھانا کھانے کے درمیان بھی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی مسلسل اسے دیکھ رہا ہے۔۔۔۔۔ وہ زینب بیگم اور نورین بیگم کے پاس آکے بیٹھ گئی۔۔۔۔
اسلام و علیکم کیسی ہیں آپ میں جانتی ہوں آپ مجھے پہچانی نہیں ہوں گی۔۔۔ میں سحر کی ممانی ہوں: ابھی اسے بیٹھے تھوڑی دیر بھی نہیں ہوئی تھی کے ایک عورت ان لوگوں کے پاس آتے اپنا تعروف کروانے لگی۔
وعلیکم اسلام۔۔۔۔آئے بیٹھیں: نورین بیگم نے انہیں بیٹھنے کو جگہ دی۔
یہ آپ کی بیٹی ہے: انہوں نے زینب بیگم سے پوچھا۔
جی یہ میری بیٹی بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہاں میں دیکھ رہی تھی کے یہ آپ کے ساتھ ہی گھوم رہی ہے میں کافی دیر سے انہیں دیکھ رہی تھی: وہ عورت زینب بیگم کی آدھی بات بیچ میں کاٹ اپنی شروع ہوگئیں۔
امی وہ بابا رخصتی کا بول رہے ہیں: شہاب نے آکے اپنی ماں کو واصف صاحب کا پیغام پہنچایا۔
اچھا بیٹا: زینب بیگم نے کہا۔
یہ آپ کا بیٹا ہے ماشاءاللہ آپ کے تو سارے بچے ہی ایک سے بڑھ کے ایک ہیں: اس عورت نے تعریف کی۔۔۔
شکریہ:وہ مسکرائیں۔
تم کہاں جارہی ہو بیٹھو: عروہ شہاب کے اشارے پر اٹھ رہی تھی جب اس عورت نے اسے واپس بیٹھا دیا تو چار و ناچار اسے بیٹھنا پڑا۔
بہن مجھے نا آپ کی بیٹی بہت پسند آئی ہے اپنے بیٹھے کے لیئے۔۔۔۔ میرے بیٹا کا اپنا بزنس ہے۔۔۔: وہ عورت اپنے مقصد کی بات پر آئیں۔۔۔۔
انکی باتیں سن وہاں موجود سب نے حیرانی سے انکی بات سنی۔۔۔۔ عروہ نے شہاب کا چہرہ دیکھتے اپنی ہنسی دبائی جس کے چہرے سے صاحب ناگواریت جھلک رہی تھی۔
آنٹی آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے یہ میری بیوی ہے: شہاب نے اپنے لہجہ کو نارمل رکھتے ہوئے کہا۔
کیا یہ تمہاری بیوی ہے لیکن یہ تو بہت چھوٹی لگ رہی ہے اس لئے میں سمجھی کے ابھی اسکی شادی نہیں ہوئی ہوگی: وہ عورت تعجب سے بولی۔
کوئی بات نہیں غلط فہمی ہوجاتی ہے: نورین بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ عورت ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے وہاں سے آگے بڑھ گئی۔ تو وہ دونوں بھی اٹھ کے رخصتی کے لئے اسٹیج کی طرف چلدیں۔
بہت ہنسی نہیں آرہی تمہیں: شہاب نے دانت نکالتی عروہ کو گھورا۔
نہیں میں کہاں ہنس رہی ہوں: وہ ہنسی روکتے ہوئے انجان بنی۔
سب دیکھ رہا ہے مجھے: شہاب نے سرد پن سے کہا۔
اچھا چھوڑینا چلیں روخصتی ہونے والی ہے: عروہ نے اس کا دھیان اسٹیج کی طرف دلایا تو وہ اسکو لئے اسٹیج کی طرف بڑھ گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
اور آخر کار وہ گھڑی آگئی جس میں ایک بیٹی کو اسکے باپ کا آنگن چھوڑ اڑ جانا ہوتا ہے۔۔۔۔
سحر اپنے بابا سے مل کے خوب روئی دانش صاحب کی آنکھیں بھی نم تھیں۔۔۔
سحر بیٹا اپنے سسرال کو سسرال سمجھ کے نہیں بلکے اپنا گھر سمجھ کے رہنا،،، ساس سسر کو ماں باپ کا درجہ دینا،،، اگر شوہر سے ناراض ہوجاؤ اور وہ تمہیں منائے تو مان جانا۔۔۔ کبھی لڑائی جھگڑے کو بڑھنے نہیں. دینا!!! انا کو اپنے رشتے کے بیچ نہیں لانا۔۔۔پیار محبت سے اپنے گھر کو آباد رکنا۔۔۔ مجھے یقین ہے میری بیٹی باپ کی تربیت کا ہمیشہ مان رکھے گی: دانش صاحب نے اسے اپنے سینے سے لگائے بہت محبت سے نصیحت کی۔
عاکل مجھے پورا یقین ہے تم میری بیٹی کا خیال رکھوں گے: وہ عاکل سے گلے ملے۔
آپ فکر نہیں کریں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کے میں سحر کو کبھی کوئی تکلیف نہیں دوں گا۔۔۔ہمیشہ خوش رکھوں گا: عاکل مؤدب انداز میں بولا۔
قرآن کے سائے میں رخصت کئے ایک نئ منزل کی طرف روانہ کیا۔
۔![]()
![]()
![]()
دانیال اور مسکان اپنے گھر کی طرف روانہ تھے۔۔۔ گاڑی خالی سڑکوں پر تیز اسپیڈ سے چل رہی تھی۔۔۔ گاڑی کی خاموش فضا میں دانیال کی گھمبیر آواز گونجی۔
کیا ہوا تم بہت خاموش خاموش ہو۔۔۔۔
مسکان جو بھاگتی ہوئی سڑکوں کو دیکھ رہی تھی اسکی آواز پر گردن موڑ کے اسکی طرف رخ کیا۔
ایسی بات نہیں ہے!!! بس میں تھوڑی تھک گئی ہو اور نیند بھی بہت آرہی ہے: مسکان نے آہستہ سے کہتے اسکے کندھے پر سر رکھا۔
ہممم میں بھی بہت تھک گیا ہوں لیکن میری تھکن کا علاج نیند نہیں ہے بلکے تم ہو: وہ سر پر بوسہ دیتے بولا۔
لیکن آپ تو اچھے شوہر ہیں نا اس لئے بیوی کی نیند کا خیال کرتے ہوئے مجھے سونے دیں،، جب گھر آئے تو اٹھا دیجئے گا!!!! : مسکان معصومیت سے بولی تو وہ اسکی نیند سے بھری آنکھوں کو دیکھتا ہامی بھر گیا۔
وہ اسکے کندھے پر سر رکھے رکھے ہی آنکھیں بند کر گئی اور جلدی ہی نیند کی وادیوں میں گھو گئی۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
عاکل کو اسکے کچھ دوست گھیرے بیٹھے تھے بہت مشکل سے جان چھڑواتا اپنے کمرے کی طرف آیا تھا۔۔۔ لیکن ہائے رے قسمت سامنے ہی دروازہ روکے مہر اور عروہ دیکھ گئیں۔۔۔۔
یہ غلط بات ہے تم لوگوں نے وہاں بھی مجھے لوٹا اور اب یہاں بھی لوٹ رہی ہو: عاکل نے دوہائی دی۔۔۔۔
عاکل بہس کا کوئی فائدہ نہیں ہے: عروہ نے آنکھیں کھومائیں۔۔
بلکے یہ تو تمہارے لئے ہی اچھا ہے جتنی جلدی پیسے نکالو کے اتنی جلدی ہی اندر جاؤ گے: مہر نے سکون سے کہا۔
یہ لو اور اب راستے سے ہٹ جاؤ: عاکل نے مہر کے ہاتھ پر پیسے رکھے تو دونوں نے اسکا راستہ چھوڑا ریا۔تو وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
پیسے آپس میں آدھے آدھے کر کے وہ دونوں بھی اپنے کمرے کی طرف چل دیں۔
۔![]()
![]()
![]()
عروہ کمرے میں آتے ہی گرنے کے انداز میں بیڈ پر ڈھ گئی۔۔۔ شہاب جو بیڈ پر لیٹا اسی کا انتظار کر رہا تھا اسے آتے ہی گرتے دیکھ اٹھ بیٹھا۔
کیا ہوا عروہ طبیعت تو ٹھیک ہے:وہ فکر مند ہوا۔
جی میں ٹھیک ہوں بس بہت زیادہ تھک چکی ہوں: وہ تھکے تھکے انداز میں بولی۔
اچھا جاؤ چینچ کرلو پھر سوجانا: شہاب نے کہا۔
میری بلکل بھی ہمت نہیں اٹھنے کی میں ایسے ہی سورہی ہوں: وہ کہتی آنکھیں موند گئی۔
نہیں ایسے تم صحیح سے نہیں سو پاؤ گی جاؤ جلدی سے پہلے چینچ کرکے آؤ پھر سونا:شہاب نے سختی سے کہا کیوں کے وہ جانتا تھا اگر آرام سے بولے گا تو وہ نہیں مانے گی۔۔۔۔ شہاب کے سختی سے کہنے پر وہ مرے مرے قدموں سے کپڑے لیتی واشروم میں گھس گئی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد باہر آئی تو شہاب دن بھر کی مصروفیت اور تھکاوٹ کی وجہ سے سو چکا تھا وہ اپنی جگہ پر آکے لیٹتی آنکھیں بند کر گئی۔۔۔سارا دن کی تھکاوٹ کی وجہ سے جلد ہی نیند اس پر چھا گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
