Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 20)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 20)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
عاکل اور سحر کا رشتہ ہوئے پانچ دن گزر چکے تھے۔۔۔۔ آج واصف صاحب نے سب کو اپنے گھر بلایا تھا شادی کی بات کرنے۔۔۔
اس وقت عالم صاحب، مدثر صاحب، دانش صاحب، واصف صاحب کے گھر موجود۔۔۔۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھے باتیں کررہے تھے۔۔۔۔ باقی سب اپنے اپنے کاموں پر گئے ہوئے تھے۔۔۔۔
زینب بیگم اور عروہ کچن میں کام کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
ہاں بھئی تو کیا سوچا ہے آپ لوگوں نے۔۔۔ :واصف صاحب نے بات کی شروعات کی۔۔۔۔
واصف صاحب میں اگلے مہینے بزنس کے سلسلے میں باہر جا رہا ہوں اور مجھے یہ بھی نہیں پتہ کے وہاں کتنا ٹائم لگ جائے۔۔۔۔۔ پہلے تو میں سحر کو بھی اپنے ساتھ لے کے جارہا تھا لیکن اب جب اسکا رشتہ ہوگیا ہے تو میں چاہتا ہوں کے اسکی زمیداری کسی مضبوط ہاتھوں میں سوپ کے پھر سکون سے چلا جاؤ۔۔۔: دانش صاحب رسانیت سے بولے۔۔۔۔
ہممم اور تم نے کیا سوچا ہے مدثر: واصف صاحب اب مدثر صاحب سے مخاطب ہوئے۔
بھائی صاحب میری بیٹی اب آپ کی امانت ہے آپ جب چاہیں اپنی امانت لے سکتے ہیں: وہ مسکرائے۔
ہممم تم کیا کہتے ہو عالم: انہوں نے ان سے مشورہ مانگا۔
جیسا آپ کو ٹھیک لگے بھائی۔۔۔۔ لیکن مدثر میں چاہتا ہوں کے حیا اور احد کا نکاح کر دیا جائے شادی جب حیا بیٹی کی پڑھائی مکمل ہوجائے گی اسکے بعد کر لیں گے کیوں کیا بولتے تم: عالم صاحب نے بڑھے بھائی کو کہہ کے اپنا خیال مدثر صاحب کے سامنے رکھا۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے :وہ انکی بات سے متفق ہوئے۔۔۔
ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔ جیسے کے دانش صاحب کو باہر جانا ہے اور مدثر تمہیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے تو ہم جلدی کی ہی کوئی تاریخ رکھ لیتے ہیں: واصف صاحب نے کہہ۔
بھائی دانش صاحب اگلے مہینے باہر جانے والے ہیں تو مجھے لگتا ہے کے۔۔۔۔پندرہ دن بعد کی کوئی تاریخ رکھنی چاہیئے تاکے وہ سکون سے شادی نمٹاکے جا سکیں۔: عالم صاحب نے رائے دی۔
عالم تمہاری بات ٹھیک بھی ٹھیک ہے اور آپ لوگ کیا کہتے ہیں: انہوں نے انکی رائے بھی جاننی چاہی۔
عالم کی بات ٹھیک ہے: مدثر صاحب نے کہا۔
اور مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے: دانش صاحب کو بھی انکی بات اچھی لگی تھی۔
ٹھیک ہے پھر 15 دن بعد 23 تاریخ ہے تو اس دن ہم مہندی رکھتے ہی. اور حیا بیٹی کا نکاح بھی اسی دن ہوگا اور ہم 24 کو مدثر کے گھر بارات لے کے جائیں گے اور 25 کو دانش کے گھر۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے:انہوں نے فون پر کلینڈر کھول تاریخ دیکھتے ہوئے تاریخیں رکھیں اور سب کی رضامندی چاہی۔
جی ٹھیک ہے: ان تینوں نے مسکرا کے انکے فیصلے کا احترام کیا۔
تھوڑی دیر بیٹھے کے بعد ان سب نے اپنے گھر کی رہ لی۔
۔![]()
![]()
![]()
کیا بابا آپ وہاں آپی کی شادی کی بات کرنے گئے تھے تو پھر میری شادی کہا سے آگئی: حیا کو جب اپنے نکاح کا پتہ چلا تو وہ صدمے میں چلی گئی۔
بیٹا شادی کہاں ابھی تو بس نکاح کریں گے شادی تو آپ کی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد ہوگی: انہوں نے پیار سے سمجھایا۔
پر بابا مجھے ابھی نکاح بھی نہیں کرنا ورنہ وہ اونٹ مجھ پر ابھی سے حکم چلانے لگ جائے گا: حیا کو نیا ڈر لاحق ہوا۔
حیا تمیز سے وہ تمہارا ہونے والا شوہر ہے: شاہین بیگم جو اتنی دیر سے اسکی بکواس سن رہی تھی آخر کار بول اٹھیں۔
ہونے والا!!!! ہوا تو نہیں ہے نا: حیا نے آگاہ کیا۔
اب تو میں نے زبان دے دی ہے لیکن اگر میری بیٹی نہیں چاہتی تو میں انکار کر دوں گا: وہ سمجھ گئے تھے کہ انکی بیٹی اتنی آسانی سے نہیں ماننے والی۔
نہیں بابا اب آپ نے ہاں کر دی ہے تو میں نکاح کے لیے تیار ہوں: وہ اپنے بابا کو کسی کے سامنے شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
شکریہ میرا بچہ: انہوں نے محبت سے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
مہر بیٹا آپ لوگ بھی کل سے ہی تیاریاں شروع کردو۔۔۔ شادی میں دن بہت کم رہتے ہیں: انہوں نے خاموش بیٹھی ہوئے مہر کو دیکھ کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاگئی۔
کیا ہوا بیٹا آپ اتنی خاموش کیوں ہو: انہوں نے اسکی خاموشی نوٹ کرتے ہوئے پوچھا۔
ہونا کیا ہے رخصت ہوکے جا رہی ہیں اسلئے اموشنل ہو رہی ہیں: مہر کی جگہ حیا نے شرارت سے جواب دیا لیکن آنکھوں میں نمی گھلنے لگی تھی۔
بیٹا آپ نے کون سا دور جانا ہے جب بھی دل کرے آجانا ملنے : مدثر صاحب بھی اموشنل ہوئے۔
مہر اٹھ کے اپنے بابا کے پاس بیٹھی اور انکے سینے سے لگے رو دی۔۔۔۔۔۔۔ چاہیں بیٹیاں کتنی بھی قریب ہی شادی ہو کے کیوں نا جائیں لیکن حقیقت میں تو وہ پرائی ہوجاتی ہیں…
مہر کو روتا دیکھ شاہین بیگم کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔۔۔۔۔ حیا بھی مدثر صاحب سے لپٹ گئی۔۔۔۔ اسکی ایک ہی تو بہن تھی وہ بھی چلی جائے گی تو وہ بلکل اکیلی ہوجائے گی یہ سوچ کے اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے۔۔۔۔
بس بیٹا رونا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تمہیں ہمیشہ خوش و آباد رکھے: انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دعا دی۔۔۔۔
آپی مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے اس سے پہلے سب آپکو دلہن والا پروٹوکول دیں آپ میرے لیئے آج بریانی بنادیں: حیا نے ماحول کو ہلکا کرنے کے لیئے بات بدلی۔
ٹھیک ہے: مہر مسکراتے ہوئے آنکھیں صاف کرتی آٹھ گئی۔
میں بھی آتی ہوں آپ کے ساتھ دونوں مل کے بنائیں کے تو جلدی بن جائے گی: حیا کہتی اسکے پیچھے ہولی۔
بیٹیاں کتنی جلدی بڑی ہو جاتی ہیں پتہ ہی نہیں چلتا: مدثر صاحب نم آنکھوں سے مسکرائے۔
ہمم۔۔۔۔۔۔ اچھا وہ مسسز رحمان کا فون آیا تھا تو میں نے انہیں انکار کردیا: شاہیں بیگم نے بتایا۔
ہاں مجھے بھی آیا تھا رحمان صاحب کا فون وہ وجہ جاننا چاہتے تھے انکار کی ۔۔۔۔۔لیکن فکر کی کوئی بات نہیں ہے میں نے انہیں سمجھا دیا تھا: انہوں نے سکون سے جواب دیا ۔۔۔
ہممم: وہ پرسکون ہوئیں۔
۔![]()
![]()
![]()
بابا یہ آپ کیا بول رہے ہیں اتنی جلدی شادی: سحر تو حیران ہی رہ گئی تھی۔
بیٹا بتایا تو ہے کے میں باہر جارہا ہوں اور وہاں کتنا ٹائم لگے میں خود بھی نہیں جانتا۔۔۔۔ اور وہ لوگ بہت اچھے ہیں تم وہاں بہت خوش رہوں گی بیٹا مجھے پورا یقین ہے: انہوں نے آرام سے سمجھایا۔
بابا آپ کون سا وہاں ہمیشہ کے لئے شفٹ ہو رہے تھے جب واپس آتے تب شادی کر لیتے: وہ جھنجھلائی۔
ابھی شادی کرنے میں مسلہ کیا ہے: انہوں نے وجہ جاننی چاہی۔
میں آپ کو چھوڑ کے اتنی جلدی نہیں جانا چاہتی: اسنے ڈبڈوبائی آنکھوں سے انہی دیکھا۔
بیٹا شادی تو کل بھی کرنی تھی اگر آج ہو جائے تو اس میں کوئی مسلہ نہیں ہے : انہوں نے مثال دی۔
بابا میں آب کے بغیر کیسے رہوں گی: آنسو آنکھوں سے باہر لڑک گئے۔
نا بیٹا رونا نہیں ہے۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے میری بیٹی وہاں رہ لے گی اور سب کے دل میں اپنا مقام بھی بنالے گی: اسکے آنسو صاف کیے اپنے سینے سے لگایا۔۔۔۔تو وہ بھی باپ کی آگوش میں اپنے آنسو روک نا پائی۔۔۔۔
بابا آج اگر ماما ہوتی تو کتنا خوش ہوتی نا۔۔۔۔۔ میری شادی کی ساری تیاریاں خود کرتیں۔۔۔۔ اپنی بیٹی کو دلہن بناتیں: ماں کو یاد کر آنسو میں روانی آئی۔
آپکی ماما اوپر سے آپکو خوشی سے دیکھ رہیں ہیں۔۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہی ہیں: وہ اسکے بال سہلاتے ہوئے نم آواز میں بولے۔
آپکو پتہ ہے جب آپ پیدا ہوئی تھی تو آپکی ماما نے پورے ہسپتال، پورے محلے، پورے خاندان میں میٹھائی بٹوائی تھی: وہ پرانے دن یاد کرتے مسکرائے تھے۔۔۔۔
اور باتیں بتائیں نا ماما کی: وہ انہیں دیکھتی ہوئی آہستہ سے بولی تو وہ بھی اسے اسکی ماں کی باتیں بتانے لگے۔۔۔۔۔۔
وہ جب بھی اداس ہوتی تھی یا اپنی ماں کو بہت شدت سے یاد کرتی تھی تو اپنے بابا سے ان کی باتیں سن لیتی تھی جس سے اسے یہ حساس ہوتا تھا کے اسکی ماں اسکے پاس ہے۔۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
بابا آپ سچ میں نکاح پکا کر آئے: احد نے بے یقینی سے پوچھا۔
تم تو ایسے حیران ہو رہے ہو جیسے میں نے کوئی انہونی بات کردی ہو: وہ سکون سے بولے۔
پہلے مجھے کمانا تو شروع کرنے دیتے۔۔۔۔۔۔ اب تو وہ مجھے خوب تانے مارے گی بےروزگاری کے: احد کو اپنا دکھ یاد آیا۔
جب تک شادی ہوگی تب تک تم کمانے لگ جاؤ گے پھر نہیں مارے گی: نورین بیگم چائے کی ٹرے لیے وہاں آتی ہوئی بولیں۔
لیکن!!!!!۔۔۔۔۔۔۔۔ چلیں ٹھیک ہے جیسی آپ لوگوں کی مرضی: احد کچھ سوچ کے خاموش ہوگیا۔
حیا میڈم ایک بار نکاح ہوجانے دو پھر دیکھو میں کرتا کیا ہوں: احد پراسرار سا مسکرایا۔
اسکی مسکراہٹ بتا رہی تھی کے حیا بچنے والی نہیں ہے۔
۔![]()
![]()
![]()
عاکل کو جب سے پتہ چلا تھا وہ تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔۔۔۔۔ اسکا دل تو بھنگڑے ڈالنے کا چاہ رہا تھا لیکن سب کے سامنے تھوڑی سی شرم کرتے ہوئے وہ خود کو باز رکھے ہوئے تھا۔
جب کے خوش تو عادل بھی تھا لیکن وہ عاکل جیسی حرکتیں نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔ مہر کو سوچتے وہ بڈ دن گزرنے کا انتظار کر رہا تھا کے کب یہ دن گزریں اور کب وہ اسکی ملکیت میں آئے۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
شادی کی تیاریاں زوروشور سے جاری تھیں کاڈ بانٹے جا رہے تھے ہر کوئی۔۔۔ کوئی نا کوئی کام میں مصروف تھا۔۔۔۔۔
عادل نے جان بوچ کے اپنے ایک دوست کے ہاتھ عائشہ کے گھر کاڈ بھجوایا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ خود عائشہ کا سامنا کرکے کچھ غلط نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔ اسلیئے کاڈ بھی کسی اور کے ہاتھوں بھیجا تھا۔۔۔۔۔ وہ چاہتا تھا کے وہ شادی میں آئے اور دیکھے کے جسے وہ الگ کرنا چاہتی تھی جس وجہ سے اسنے یہ ساری چالیں چلی تھیں ساری پلینگ کی تھی وہ سب بےکار تھی۔۔۔۔
عائشہ نے اندر آکے کاڈ کھولا تو نام پڑھ کے ساکت رہ گئی۔۔۔۔۔۔ اسے یقین نہیں آیا کے مہر اتنا سب ہوجانے کے بعد کیسی اس پر یقین کرسکتی ہے۔۔۔۔۔۔ وہ عادل کو کسی اور کا سوچ کے غم و غصہ سے سرخ ہوئی۔۔۔۔۔ اسنے سیکنڈ کی بھی دیر کئے بغیر عادل کو فون کیا۔۔۔۔۔
عادل جو اپنے کیبن میں بیٹھا کسی کیس کے بارے میں سوچ رہا تھا عائشہ کی کال آتے دیکھ۔۔۔۔۔ ضبط سے کال کاٹ گیا۔۔۔۔۔ پر دل تو کر رہا تھا کے کال اٹھا کے اسے کھری کھری سنا دے۔۔۔۔
عائشہ بھی ڈھیٹ سابت ہوئی تھی جو کال پر کال کرے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ عادل کو کال نا اٹھاتا دیکھ اسنے میسج کیا۔
عادل جو فون سامنے رکھے فون کو گھور رہا تھا۔۔ میسج بیل بجتے ہی فون اٹھا کےدیکھا ۔۔
عادل اگر تم اگلے 20 منٹ میں میرے گھر نہیں آئے تو میں وہاں آکے سب کے سامنے جو بات کروں گی اس سے تمہاری ریپوٹیشن خراب ہوجائے گی۔۔۔۔۔: عائشہ کا مسیج پڑھ کے اسکے ماتھے پر بےشمار بل آئے۔۔۔۔
اسنے فورن فون عروہ کو لگایا جو دوسری بیل پر ہی اٹھا لیا گیا۔
ہاں بولو عادل: عروہ کی مصروف سی آواز آئی۔
عادل کو اپنی ریپوٹیشن بہت پیاری تھی وہ عائشہ پر اب یقین نہیں کر سکتا تھا اور وہ عائشہ سے اس بار اکیلے ملنے کی غلطی ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے عروہ کے پوچھتے ہی ساری بات بتادی۔
ہممم ٹھیک ہے تم مجھے گھر سے پک کرلو: عروہ نے کہہ کے فون رکھ دیا تو وہ بھی اپنی کنپٹیاں مسلتا ہوا اٹھ گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ عروہ کو لے کے عائشہ کے گھر آیا تو عروہ نے گاڑی اسکے گھر سے تھوڑی دور رکوائی۔۔۔۔۔ گاڑی روکتے ہی وہ اترنے لگا تو عروہ نے اسے روک دیا کے وہ اسے اکیلے بات کرے گی۔۔۔۔۔ عادل بھی نہیں چاہتا تھا کے وہ عائشہ کے منہ لگے اسلئے وہی گاڑی میں ہی بیٹھا رہا۔
عروہ نے دروازہ بجایا تو ایک منٹ سے بھی پہلے دروازہ کھل گیا۔
عائشہ جو دروازے کے باہر ہی ٹہل رہی تھی دروازہ بجتے ہی فورن کھول دیا۔۔۔۔۔
آپ کون :دروازے پر کسی انجان لڑکی کو کھڑے دیکھ پوچھا۔
میں عروہ ہوں عادل کی کزن اور بھابھی: عروہ نے اپنا تعروف کرویا۔
عادل کی بھابھی: عائشہ حیران ہوئی اسے یہاں دیکھ کے۔
ہاں!!!! کیا میں اندر آسکتی ہوں: عروہ نے اجازت چاہی۔۔۔۔۔تو وہ اسے اندر آنے کا راستہ دیتی سائڈ پر ہوئی۔۔۔۔۔
عائشہ اسے لئے لائنچ میں بیٹھی۔۔۔۔۔ تو عروہ نے بات شروع کی۔
آپ کے گھر پر کوئی نہیں ہے کیا۔۔۔۔۔
امی ابو کسی کام سے گئے ہوئے ہیں۔۔۔ اس وقت بس میں ہی ہوں : عائشہ نے کھڑی دیکھتے ہوئے بتایا وہ بےزار ہوئی لگ رہی تھی کیوں کے بیس منٹ سے اوپر کا ٹائم ہوگیا تھا اور عادل ابھی تک نہیں آیا تھا۔
عادل کا انتظار بےکار میں وہ نہیں آئے گا: عروہ نے اسکی بےزار شکل دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بتایا۔
کیا مطلب ہے تمہارا: وہ چونکی اسکی بات پر۔
میری بات کا مطلب چھوڑو اور یہ بتاؤ کیا ملا تمہیں یہ سب کر کے : عروہ نے سخت لہجہ میں پوچھا۔
کیا کیا میں نے : وہ انجان بنی۔
انجان مت بنو ۔۔۔۔۔ کیوں کیں تم نے مہر اور عادل کے بیچ غلط فہمیاں پیدا۔۔۔۔ کیا ایسا کرنے سے عادل تمہیں مل گیا: عروہ نے ائبرو سکیڑ کے پوچھا۔
جب تمہیں سب پتہ ہے تو کیوں پوچھ رہی ہو ہاں۔۔۔۔۔۔۔ : عائشہ غصہ سے غرائی۔
تمہارے منہ سے سنا چاہتی ہوں : اسکے برعکس عروہ نے تحمل سے کہا۔
ہاں میں نے کیا ہے سب کچھ کیونکہ میں عادل سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔ اسے حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔ اپنا بنانا چاہتی ہوں اور بناکے بھی رہوں گی۔۔۔۔۔ لیکن اس مہر نے پتہ نہیں کیا جادو کردیا ہے کے وہ مجھے صرف دوست سمجھتا تھا: اسکے لہجے میں غم غصہ دکھ کیا نا تھا۔
عائشہ لیکن عادل تم سے محبت نہیں کرتا۔۔۔۔ اگر تم اسے زبردستی حاصل بھی کر لوگی تو کیا تم ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزر سکو گی جو تم سے محبت ہی نہیں کرتا بلکے کسی اور سے محبت کرتا ایسا کر کے تو تم اسے خود سے نفرت کرنے پر مجبور کردوگی۔۔۔۔۔
اس طرح تین جانیں برباد ہوجائیں گی،۔۔۔۔ عائشہ میں یہ نہیں. بول رہی کے تمہارے جذبات سچے نہیں ہیں لیکن محبت محبوب کو تکلیف دینے کا نام نہیں ہے بلکے محبوب کی خوشی میں خوش ہونے کا نام ہے۔۔۔۔۔ اور عادل کی خوشی صرف مہر ہے تم نہیں!!!!!!. کیا تم عادل کو خوش نہیں دیکھنا چاہتیں؟: عروہ نے نرم لہجے میں اسے سمجھایا۔۔
مگر میں عادل سے۔۔۔۔۔: عائشہ نے بات ادھوری چھوڑی۔۔۔۔ اسے کہی نا کہی عروہ کی باتیں ٹھیک لگی تھیں۔
عائشہ محبت کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔۔ اور جس شخص سے آپ محبت کرتے ہو اور وہ آپ کے سامنے ہوتے ہوئے بھی آپ سے محبت نا کرے تو زندگی کانٹوں پر کٹتی ہے۔۔۔۔کیوں کے محبت زندگی ہے۔۔۔ اگر زندگی سے محبت نکل جائے تو زندگی بےرونق ہوجاتی ہے۔۔۔۔
اگر تم عادل کو حاصل بھی کرلوں کی تو تمہیں صرف نفرت ملے گی اور کسی کی نفرت کے ساتھ ہم پوری زندگی نہیں گزار سکتے: عروہ اسے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
عائشہ خاموش سے اسکی ساری باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی کہا وہ عادل کی نفرت برداشت کر پائے گی کیا وہ اپنی ہی محبت کو اپنے سے نفرت کرتے دیکھ پائے گی۔۔۔۔نہیں کبھی نہیں ۔۔۔۔۔
عائشہ میری ایک بات یاد رکھنا اس محبت میں تمہیں کچھ نہیں ملے گا لیکن اس کے چکر میں تم اچھا دوست نہیں کھودیا۔۔۔۔۔۔: عروہ کہہ کے روکی نہیں تھی سیدھے گھر سے باہر نکل گئی تھی۔
عائشہ کتنی ہی دیر عروہ کی باتوں کو سوچتی رہی وہ عادل سے محبت کرتی تھی اسے اسکی خوشی عزیز تھی جو مہر کے ساتھ تھی۔۔۔۔وہ سمجھ گئی تھی۔۔۔۔ وہ خود غرض ہوگئی تھی صرف اپنا سوچنے لگی تھی لیکن اب عروہ نے اسکی آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔۔۔ وہ عادل کو پا نہیں سکتی تو کیا ہوا لیکن ایک دوست کی طرف تو رہ سکتی ہے۔۔۔۔۔ اب وہ تھوڑی پرسکون ہوئی تھی۔۔
۔![]()
![]()
![]()
