397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 21)

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

شادی کی تیاریوں میں دن پلک جھپکتے ہی گزر گئے تھے۔۔۔۔ دوپہر میں احد اور حیا کا نکاح ہونا تھا جس میں بس گھر والے ہی شامل تھے اور پھر رات میں مہر کی مہندی۔۔۔

عالم صاحب اپنے بیٹی دامادوں کے ساتھ مدثر صاحب کے گھر کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔۔۔۔

وہ شیشے کے سامنے بیٹھی سفید اور لال رنگ کی کامدار فراک پہنے,,, سرخ رنگ دوپٹہ لیے لائٹ سی جولری اور میک آپ میں وہ کانچ کی گڑیا لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

چلو لڑکے والے آگئے: وہ کنفیوز سی اپنی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی جب مہر اسے لینے آئی۔۔۔۔ مہر نے آگے بڑھ کے اسکے چہرے پر کھونکھٹ کیا پھر دونوں نیچھے چل دیں۔۔۔۔

نکاح کا انتظام باہر لان میں کیا گیا تھا۔۔۔ دسمبر کے آخر کے دنوں کی وجہ سے موسم نہیں خوشگوار تھا!!!! احد سفید کرتا پاجامہ پہنے,,, ہاتھ میں واچ پہنے,,, بالوں کو جیل سے سیٹ کئے اسٹیج پر بیٹھا شہزادہ لگ رہا تھا۔۔۔۔

احد کی نظر جیسے ہی سامنے حیا کے کھونکھٹ کے پیچھے چھپے چہرے پر گئی تو وہ گہرا مسکرایا۔۔۔۔

حیا کو اسٹیج پر لاکے احد کے سامنے بیٹھایا گیا۔۔۔۔۔ دونوں کے درمیان پھولوں کا پردہ حائل تھا۔۔۔۔

مولوی صاحب نے نکاح شروع کرنے کی اجازت چاہی تو مدثر صاحب نے اجازت دی۔۔۔۔

حیا مدثر ولد مدثر شاہ آپ کو احد عالم ولد عالم جہان سے حق مہر ایک لاکھ سکہ رائج الوقت کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟؟

قبول ہے: وہ جو کہتی تھی میں اپنے نکاح پر نہیں دوں گی آج پہلی ہاں میں ہی رو دی تھی۔۔۔

مولوی صاحب کے دو بار اور پوچھنے پر اسنے نکاح قبول کیا۔۔۔۔ ساتھ کھڑی مہر نے آنسو صاف کرتے ہوئے بہن کو اپنے ساتھ لگایا۔۔۔۔

احد عالم ولد عالم جہان آپ کو حیا مدثر ولد مدثر شاہ سے حق مہر ایک لاکھ سکہ رائج الوقت کیا آپ کو قبول ہے: مولوی صاحب نے احد کی طرف روخ کیا۔

قبول ہے: احد نے کھونکھٹ​ میں قید حیا کے چہرے پر نظریں جمائے جواب دیا۔۔۔۔

مولوی صاحب کے پوچھنے پر اسنے دو بار اپنی رضامندی دی تو ہر طرف مبارکبادی کا شور اٹھا۔۔۔۔

مبارک ہو میرے بھائی اب تم بھی نکاح شدہ ہوگئے: اسکے پیچھے کھڑے دانیال نے چھیڑا تو اسنے مسکرانے پر اکتفا کیا۔

چلو دلہے میاہ کھونکھٹ اٹھاؤ:بیچ سے پھولوں کا پردہ ہٹا تو عروہ نے حکمیاہ کہا۔۔۔

بجو رہنے دیں نا فضول میں لوگ ڈر جائیں گے: احد نے شرارت سے کہا۔

کھونکھٹ میں چھپی حیا کا دل کیا اٹھ کے اسکا سر پھاڑ دے لیکن اپنے تازہ تازہ نکاح کا سوچتے خاموش ہوگئی۔

احد بری بات : شہاب نے گھورا تو وہ ایک دم سیدھا ہوتے اٹھ کھڑا ہوا۔

جیسے ہی کھونکھٹ اٹھایا نظر نظریں جھکائے بیٹھی حیا پر گئی تو احد کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔۔۔

چلو بس اب پیچھے ہوجاؤ: مسکان نے احد کو سائد کرتے ہوئے حیا کو اٹھا کے احد کی جگہ بیٹھایا تو وہ بھی برا سا منہ بناتا ہوا حیا کے برابر میں بیٹھ گیا۔۔۔۔

اسکے بیٹھتے ہی حیا نے تھوڑا فاصلہ بنایا تو احد مسکراہٹ دباتا اور اسکی طرف سرکا۔۔۔۔۔ ٹو سیٹر صوفے پر حیا کی طرف جگہ ختم ہوئی تو اسنے گھور کے احد کو دیکھا۔

اب تو تمہارا ہی ہوں جب چاہے دیکھ لینا لیکن ابھی تو سامنے دیکھو سب دیکھ رہے ہیں: احد نےشوخ لہجہ میں کہا تو حیا نے دانت پیستے ہوئے سامنے نظریں کیں۔

شاہین بیگم نے اسے سختی سے کہا تھا اپنا منہ بند رکھنے کے لیے اس لیے وہ کچھ نہیں بول رہی تھی۔

احد ایسے ہی حیا کو چھیڑتا رہا اور وہ بچاری بس گھور ہی سکی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ سب واپسی کے لیے روانہ تاکے سحر کے گھر مہندی پر جاسکیں جو آج شام میں رکھی گئی تھی۔۔۔پھر رات میں یہاں بھی آنا تھا۔۔۔

۔🌺🌺🌺

سحر تیار ہوئے اپنی ماں کی تصویر ہاتھ میں لئے بیٹھی ہوئی تھی !!!!! وہ پیلے رنگ کے لہنگے میں پھولوں کے زیورات پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔

ہیلو دیورانی صاحبہ کیسی ہو: وہ جو اپنے ہی خیالوں میں مگن تھی عروہ کی آواز پر چونکی۔

تم کب آئیں: وہ اٹھتے ہوئے بولی۔

خالی میں نہیں سب آگئے ہیں اور میں آپ کو لینے آئی ہوں: عروہ آگے بڑھی۔۔۔تو وہ سر ہاں میں ہلاتی اسکے ساتھ باہر نکل گئی۔

مہندی میں زیادہ لوگ نہیں تھے چن لوگ سحر والوں کی طرف کے تھے اور واصف صاحب اپنے بھائی بہن کی فیملیز کے ہمراہ آئے تھے۔۔۔۔۔ عاکل کب سے بےچینی سے سحر کا انتظار کررہا تھا۔۔۔۔وہ پیلے رنگ کی شلوار قمیض میں بہت خوبرو لگ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن اسے زیادہ انتظار کرنا پڑا کیونکہ سامنے سے وہ پری پیکر عروہ کی ہمراہی میں آتے ہوئے نظر آئی۔

وہ جیسے جیسے قدم بڑھاتی عاکل کی طرف بڑھ رہی تھی عاکل کو وہ قدم اپنے دل میں اترتے محسوس ہورہے تھے۔۔۔۔سحر کو عادل کے برابر والے سنگل صوفے پر بیٹھا۔۔۔ عاکل کی نظر اسے ہٹنے سے انکاری تھیں۔۔۔جب کے عاکل کی نظروں سے گھبراتی وہ اپنی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی۔

بیٹا جی رسم کی طرف دھیان دو: زہنب بیگم کی اپنے دائیں جانب سے اتنی آواز پر وہ ہوش میں آیا۔۔۔

سوری: اسنے خفت سے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

سب سے پہلے زینب بیگم اور واصف صاحب نے رسم کی اسکے بعد باری باری سب نے کی۔۔۔

بہت پیاری لگ رہی ہو: عاکل نے سرگوشی کی تو سحر نے مسکراتے ہوئے سر نیچھے جھکالیا۔

بتاؤ گی نہیں میں کیسا لگ رہا ہوں: عاکل نےشوخی سے پوچھا۔

اچھے لگ رہے ہیں لیکن مجھے سے کم : وہ اترا کے بولی۔

ہممم وہ تو ہے وہ دلکشی سے مسکرایا۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ لوگ رخصت ہوئے تو سحر کو اسکے کمرے میں بھیج دیا آرام کرنے۔

۔🌺🌺🌺

آسماں پر چاند اپنے ستاروں کی ہمراہی میں آبوتاب سے چمک رہا تھا۔۔۔ فضاء میں پھولوں کی خوشبو مہک رہی تھی۔۔۔۔ وہ تیار سی بالکونی میں کھڑی عادل لوگوں کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔چہرے سے مسکراہٹ جدا نہیں ہورہی تھی۔۔۔۔ اسے یہ وقت ایک خواب جیسا لگ رہا تھا۔۔۔

وہ آسمان کی طرف منہ کئیے چاند کو دیکھ رہی تھی جب اسے شور سنائی دیا۔۔۔۔ اسنے نیچھے دیکھا جہاں اسکی مہندی آگئی تھی۔

مہر کی نظر عادل پر گئی جو شہزادوں سی آن بان لیئے اندر آرہا تھا۔۔۔۔ عادل کی نظر غیر ارادائی طور پر اوپر اٹھی تو وہ دشمن جان ہری فراک جو کوٹنوں سے نیچے آرہی تھی۔۔۔چوڑی دار باچامہ۔۔۔ پھولوں سے سجی کوئی پھول ہی رلگ رہی تھی۔۔۔۔ نگاہیں دو سے چار ہوئی تو مہر نے شرماتے ہوئے نظریں جھکاگئی۔

عادل نے بےتاثر چہرے سے اسے دیکھ نگاہیں سامنے کرلیں۔۔۔۔۔ مہر نے اسکا نظر انداز کرنا شدد سے محسوس کیا تھا۔

آپی چلیں سب آگئے ہیں: حیا کے بلانے پر وہ خود کو نارمل کرتی نیچھے بڑھ گئی۔

مہر کو لاکے عادل کے برابر والے صوفے پر بیٹھایا گیا۔۔۔۔ رسم شروع ہوکے ختم ہوگئی۔۔۔۔۔ اور مہر عادل کے بولنے کا انتظار کرتی رہی ۔۔۔۔ وہ سب سے بات کر رہا تھا ہنس رہا تھا مسکرا رہا تھا لیکن ایک بار بھی اسنے مہر سے بات نہیں کی تھی۔۔۔۔ مہر جانتی تھی وہ ناراض ہے لیکن اس سے اسکی ناراضگی برداشت نہیں ہو رہی تھی اور نا ہمت ہو رہی تھی خود سے بات کرنے کی۔۔۔وہ رونے پر ضبط کئے بیٹھی تھی۔۔۔عادل جانتا تھا اسکے معصوم دل کو لیکن اسے اسکی غلطی کی سزا بھی دینی تھی اسلیے انجان بنا بیٹھا رہا۔

محفل اختتام کو پہنچی۔۔۔۔ سب جارہے تھے۔۔۔ وہ جو آس لئے بیٹھی تھی کے جاتے ہوئے ہی اسکے منہ سے دو لفظ سن لے گئی لیکن اسکے خاموشی سے جانے پر دل مسور کے رہ گئی۔۔۔

۔🌺🌺🌺

پانی لادو زرا: حیا جو مہر کو کمرے میں چھوڑ کے اپنی ہی دوھن میں اپنے کمرے کی طرف جارہی تھی احد کی آواز پر پیچھے مڑ کے دیکھا جو صوفے پر دونوں بازو پھیلائے بیٹھا ہوا اسے آرڑر کر رہا ٹھا۔وہ مدثر صاحب کی مدد کے لیئے تھوڑی دیر یہی رک گیا تھا۔

تم ابھی تک گئے نہیں: حیا نے حیرت سے پوچھا کیونکہ سب جاچکے تھے۔

شوہر ہوں تمہارا آپ بولا کرو…. اور اب جاؤ پانی لاؤ: احد نے روعب سے کہا۔

سوری میں تھک چکی ہوں خودی جاکے پی لو:حیا نے اسکی پہلی بات اگنور کئے کہا۔

گناہ ملے گا اپنے چن گھنٹے پہلے ہوئے شوہر کی بات نا ماننے پر: احد اٹھتا ہوا اسکی طرف بڑھا۔

ابھی صرف نکاح ہوا ہے تو زیادہ ضرورت نہیں ہے مجھ پر شوہروں والا روعب جمانے کی سمجھے: وہ تن کے بولی۔

مسسز احد۔۔۔۔ شاید آپ کو پتہ نہیں ہے کے شادی نکاح سے ہی ہوتی ہے،،، نکاح اہم ہوتا ہے باقی رسموں سے: احد کا لہجہ پل میں بدلا تھا وہ گہری مسکان لئے گھمبیر لہجہ میں بولتا اسکے قریب ہوا تھا۔

یہ۔۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو دور ہوکے بات کرو: حیا اسکا بدلتا رویہ اور خود سے قریب ہوتے دیکھ بوکھلائی۔

اب تو قریب آنے کا پرمیننٹ لائسنس ہے میرے پاس: احد نے اسکی کمرے میں ہاتھ ڈالا۔

پاگل ہوگئے ہو دور ہٹو مجھ سے: سب تھکے ہوئے اپنے کمروں میں تھے حیا نے شکر ادا کیا کے اس وقت کوئی نہیں تھا یہاں۔ وہ تو اسکی اتنی قربت میں لال ہوگئی تھی۔

احد نے جھک کے اسکے گال پر لب رکھے تو اسکی آنکھیں بڑی ہوئیں۔۔۔ سانس جیسے رک گیا۔۔۔۔ مارے شرم کے اسے اب یہاں کھڑے رہنا مشکل لگ رہا تھا اسنے اپنی پوری جان لگائے اسے پیچھے دھکا دیا۔

وہ جو اس میں کھوگیا تھا اسکے دھکا دینے سے ہوش میں آیا۔۔۔۔ اسنے اسکی پشت کو دیکھا جو بھاگ کے کمرے میں جا بند​ ہوئی تھی۔

احد تو بس اسے تنگ کرنا چاہتا تھا لیکن بے خودی میں کچھ اور کرگیا وہ مسکرا ہوا بالوں میں ہاتھ پھیرتا گھر جانے کے لئے نکل گیا۔

حیا نے کمرے میں آکے کہرے کہرے سانس لئے خود کو نارمل کیا۔ احد کی حرکت کا سوچ ہاتھ کال پر گیا تو ایک شرمیلی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر رینگ گئی۔۔۔

۔🌺🌺🌺

آج وہ دن آہی گیا تھا جس کا بےصبری سے عادل کو انتظار تھا۔۔۔۔آج وہ ہمیشہ کے لیئے اسکی ہونے والی تھی۔۔۔

وہ بارات لئے ہال میں داخل ہوا تو حیا نے اسکا راستہ روکا۔۔۔

چلیں عادل بھائی نکالیں نیک: وہ ہاتھ آگے کئے بولی۔

ارے آپ بھائی کو اندر جانے دیں ہم آپ کو نیک دے دیں گے: احد نے آنکھ ماری تو اسنے سٹپٹاتے ہوئے نظریں بندلیں۔

عادل نے خاموشی سے نیک اسکی ہتھیلی پر رکھا تو اسنے راستہ چھوڑا۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد ایجاب و قبول کا مرحلہ طے ہوا۔۔۔۔ اور دو دل ایک ہوگئے۔۔۔۔ دو محبت کرنے والے مل گئے۔۔۔۔

مہر اپنے ماما بابا کی ہمراہی میں عادل تک پہنچی۔۔۔۔ عادل نے ہاتھ بڑھا کے اسے اسٹیج پر چڑنے میں مدد دی تو سب نے ہوٹنگ کی۔۔۔

عادل بلیک شروانی پہنے جب کے مہر ڈیپ ریڈ لہنگے میں دلہن بنی اسکے برابر میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔ دونوں پرفیکٹ لگ رہے تھے۔۔۔

مہر نے چور نظر سے عادل کو دیکھا جو پہلے تو مسکرا رہا تھا پر سامنے دیکھتا ایک دم سنجیدہ ہوگیا۔۔۔۔ مہر نے اسکی نظروں کے تاقب میں دیکھا تو چہرے پر غصہ نمایا ہوا۔۔۔

شادی بہت بہت مبارک ہو : عائشہ نے مسکرا کے مبارکباد دی۔

کیوں آئی ہو یہاں: عادل سے جب برداشت نا ہوا تو بول پڑا۔۔۔۔ جب کے مہر خاموش رہی۔

میں جانتی ہوں غلطی میری ہے اور میں اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ میں خود غرض ہوگئی تھی لیکن میں اب سمجھ گئی ہو کے محبت میں زبردست نہیں ہوتی محبت تو جیتی جاتی ہے پائی جاتی ہے۔۔۔۔ اور میں اس کے چکر میں اپنے اچھے دوست کو نہیں گھو سکتی….ہوسکے تو مجھے تم دونوں معاف کر دینا: عائشہ نے شرمندگی سے کہا۔

کوئی بات نہیں ہم نے آپکو معاف کیا!!! ہیں نا عادل؟: مہر نے کھولے دل سے کہا اور ساتھ عادل کی بھی رائے جانی۔

ہممم بلکل: عادل کو اچھا لگا تھا کے وہ اپنی غلطی سمجھ گئی تھی اور اس پر شرمندہ بھی تھی۔۔۔

شکریہ!!! اب میں چلتی ہوں: عائشہ نے تشکر سے کہا۔

کھانا کھا کے جائے گا: مہر نے روکنا چاہا۔

اگر میں کھانا کھانے روکی تو میری فلائٹ مس ہوجائے گی۔۔۔۔ دوراصل میں دبئی جارہی ہوں وہاں میری بہت اچھی جوب لگی ہے اس لیے مجھے اب جانا ہوگا: عائشہ نے نا رکنے کی وجہ بتائی۔

بہت اچھی بات ہے یہ تو مبارک ہوں تمہیں : عادل نے دل سے کہا۔

تھینکس۔۔۔تم دونوں بھی ہمیشہ خوش رہو: عائشہ مہر سے ملتی واپسی کے لئے روانہ ہوگئی۔

کھانے کے بعد رخصتی کا شور اٹھا تو حیا اپنی بہن کے گلے لگے رو دی مہر بھی اپنے آنسو روک نا پائی۔۔۔۔ قرآن کے سائے میں اسے اسکی نئی منزل کی طرف روانہ کیا۔

۔🌺🌺🌺

مہر کو کچھ رسموں کے بعد کمرے میں بھیج دیا گیا تھا۔۔۔۔عادل جب اپنے کمرے کی طرف آیا تو دروازے پر عروہ کو کھڑا پایا۔۔۔

تم یہاں کیوں کھڑی ہو: عادل نے ایک ائبرو اچکائے سوال کیا۔

پیسے: عروہ نے ہاتھ سامنے کیا۔

یہ لو : عادل کو اس وقت اندر جانے کی جلدی تھی ۔۔۔۔

یہ کیا کیا بھائی تو نے سارے پیسے دے دیئے: عاکل نے پیچھے سے آتے ہوئے کہا۔

تم جاؤ اور تم بھی کل موٹی رقم لے کے آنا: عروہ عادل کو جانے کا کہہ کے عاکل کو باور کرواتی۔۔۔اسکی سنے بغیر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔ تو وہ بھی سر جھٹکتا اپنے کمرے کی طرف روانہ ہوگیا۔

عادل دل میں پکا ارادہ کر کے آیا تھا کے کچھ بھی ہوجائے آج نہیں مانے کا لیکن کمرے میں قدم رکھتے ہی پورے حق سے اپنے بستر پر بیٹھی اس دشمن جان کے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ ٹھٹک کر رکا۔۔۔۔ وہ میسمرایز سا اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔۔ وہ قدم قدم بڑھتا اسکے قریب آرہا تھا اور بیڈ پر نظریں جھکائے بیٹھی مہر کی ہھتیلیاں پسینے سے بھیگ رہی تھیں۔۔۔ دل کی دھڑکنیں کانوں میں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔

عادل اسکے قریب بیٹھتا نظریں اسکے چہرے پر جمائے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ کٹی ڈور کی طرح اسکے سینے سے آ لگی۔۔۔

پتہ ہے میں سوچ کے آیا تھا کے تمہیں اپنی محبت پر شک کرنے کی سزا دوں گا لیکن تمہارا یہ روپ دیکھ کے دل بےایمان ہورہا ہے۔۔۔ تم بتاؤ کیا کیا جائے: عادل نے اسکا مہندی سے سجا ہاتھ چوما۔۔۔۔ تو وہ اسکی قربت پر حیا سے سرخ پڑی۔

معاف کردیں مجھے مجھ سے غلطی ہوگئی۔۔۔ آئی ایم سوری عادل: مہر نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔

عادل کو ان آنکھوں میں اپنا دل ڈھبتا ہوا محسوس ہوا۔

اتنے پیار سے بولو گی تو کون کمبخت معاف نہیں کرے گا: عادل نے جمار آلود لہجہ میں کہتے اسکی نم آنکھوں پر بوسہ دیا۔۔۔

مہر کبھی میری محبت پر شک نہیں کرنا میری پہلی اور آخری محبت صرف تم ہو!!۔۔: اسنے شدد سے گالوں پر لب رکھے۔

تمہارے علاوہ میں نے نا کبھی کسی کا سوچا ہے نا سوچوں گا: وہ تھوڑی پر لب رکھے بولا تو اسنے اسکے کندھوں پر گرفت مضبوط کی۔

میں وعدہ کرتا ہوں کبھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا ہر قدم پر تمہارے ساتھ رہوں گا: وہ پیشانی پر محبت سے بھرا لمس چھوڑتا اس پر چھانے لگا تو مہر بھی اسکی پناہوں میں سکون محسوس کر اپنا آپ اسے سونپ گئی۔۔۔۔

باہر افق پر چمکتا چاند دو دلوں کے ملن پر مسکرا دیا۔

🌺🌺🌺۔