Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 2)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 2)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
امی امی، جلدی سے ناشتہ دے دیں: وہ تیزی سے کچن میں آکے وہاں رکھی کرسی پر بیٹھی۔
محترمہ آپکی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ کھانے کا وقت ہے ناشتے کا نہیں: مسکان جو نورین بیگم کے ساتھ کام کروا رہی تھی ،اسنے اسے بتانا ضروری سمجھا۔
اوہو میرے لیے سب برابر ہوتا ہے: عروہ نے ایک ادا سے کہا۔
اچھا بس مسکان جاؤ زرینہ(ماسی) کو دیکھو،اور تم فرج میں بریانی رکھی ہے وہ گرم کر کے کھالو کھانا بنے میں ابھی ٹائم ہے: مسکان کچھ کہتی اسے پہ پہلے نورین بیگم بول پڑی۔
مسکان خاموشی سے واک آؤٹ کرگئی۔
امی رات کھانے میں کیا بنے گا: عروہ نے بریانی اوون میں رکھی۔
یہ رات کو پتہ چل جائے گا: مصروف انداز میں کہا۔
امی احد کہا ہے: اسکی زبان پھر چلی۔
دوست کی طرف گیا ہے:…….
کس کے: وہ گال پر انگلی رکھ کر سوچنے لگی۔
جواب نہ پہ کے اسنے انہیں دیکھا جو اسے ہی گھور رہہیں تھی۔ وہ سمجھ گئی انکی گھوری کو اور پہلی فرصت میں اپنی پلیٹ لے کے کچن سے غائب ہوئی۔
اس کے جاتے ہی نورین بیگم کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی۔
وہ اسی ہہی تھی سب کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والی،سب کے دکھ درد کو اپنا سمجھنے والی،بہت سمجھدار، اپنا درد چھپانے والی،سب کی لاڈلی۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ اپنے آفس میں بیٹھا کوئی کیس ریڈ کررہا تھا جب اس کا فون بجا۔
ہیلو S.Pعادل اسپیکنگ: اسنے نام پڑھے بغیر فون کان سے لگایا۔
۔S.Pعادل ہمیں آپ سے یہ امید نہیں تھی:فون سے آتی D.I.Gکی آواز پہ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
اور پھر جب D.I.G صاحب جیسے جیسے بتاتے جادہے تھے ویسے ویسے اسکی آنکھیں بڑی ہوتی جارہی تھیں۔
۔S.Pعادل واصف سکندر یہ آپکی پہلے اور آخری غلطی سمجھ کے معاف کر رہا ہو ورنہ آپ جانتے ہیں اسکی کیا سزا ہوتی ہے: انہوں نے اس کی سنے بغیر اپنی کہ کے فون بند کردیا۔
اسنے بند فون دیکھ کے لب بھیجے اور کانسٹبل کو بتاتا گھر کے لیے نکل گیا۔ اسکا غصہ سے برا حال ہورہا تھا اس کے بےداغ رکوڈ پر آج داغ لگ جاتا۔ وہ جلدی گھر پہنچ کر اسکی کلاس لینے والا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
عادل غصہ سے بھرا گھر میں داخل ہوا سامنے ہی وہ اسے اپنے بابا کے ساتھ بیٹھا نظر آگیا جو عاول کی طرف پشت کیے بیٹھا ہوا تھا۔
عادل نے زور سے مکہ اس کی کمر پہ مارا تو بیچارا عاکل اس اچانک حملے پہ کرہ کر رہ گیا۔
عادل یہ کیا حرقت ہے: واصف صاحب نے سخت لہجہ میں پوچھا۔
بابا پوچھیں اس سے کیا کیا ہے اسنے: عادل نے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا۔
می۔۔میں نے کیا کیا: وہ جنتا تھا اس کی شامت آئے گی لیکن اتنی جلدی آئے گی یہ نہیں سوچا تھا۔
تمہیں نہیں پتہ:اسنے ضبط سے مٹھیاں بھیجی۔
نہیں: عاکل نے اب کافی سکون سے کہا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔
تجھے تو میں۔۔۔۔۔بس دونوں چپ ہوجاؤ اور عاکل سچ سچ بناؤ کیا کیا ہے تم نے۔
![]()
![]()
۔
واصف صاحب سمجھ گئے تھے کہ ضرور کوئی بڑی بات ہے ورنہ عادل غصہ کم کرتا تھا لیکن جب کرتا تھا تو سب ہی اسکی زد میں آتے تھے۔
بابا میرے دوستوں کو پولیس والوں نے روک لیا تھا بائک فل اسپیڈ میں چلانے کی وجہ سے تو میں نے: اسنے ایک نظر سب کو دیکھا زینب بیگم بھی باہر شور سن کہ آگئی تھیں۔
عادل بن کے ویڈیو کال پر بات کی تھی اور انہیں چھوڑ دینے کو بول دیا تھا: اسنے سر جھکائے اپنی غلطی تسلیم کی۔
وہ سب ہی جانتے تھے کہ عادل اپنی جاب کو لے کہ بہت سیریس ہے۔ وہ اپنی جاب پوری ایمانداری سے کرتا تھا اسکا رکوڈ بےداغ تھا لیکن عاکل کی اس حرکت سے اس کا رکوڈ خراب ہو سکتا تھا وہ تو شکر ہے جو سر نے اسے معطل نہیں کیا۔
سوری برو!!…شکل نہیں دیکھنا اپنی:عاکل آگے بڑھا تو عادل اسے دور کرتے ہوئے اپنی رسم میں چلاگیا۔
ماما کیا یہ اپنی شکل بھی نہیں دیکھے گا کیوں کہ اسکی شکل بھی تو میرے جیسی ہے: عاکل نے رازداری سے اپنی ماں سے چوچھا۔
جو واصف صاحب نے سن لیا اور اسے ایک گھوری سے نوازا جس کا اسنے اثر نہ لیا۔
ناراض کردیا نہ اسے : زینب بیگم نے اپنے خوبرو بیٹے کو کہا۔
میں منالوں گا ماما: اسنے مسکراتے ہوئے اپنی ماں کو ساتھ لگایا تو وہ بھی مسکرا دیں۔
واصف صاحب ماں بیٹے کو دیکھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے۔
۔![]()
![]()
![]()
جہان سکندر اور یتون بیگم کی تین اولادیں تھیں۔دوبیٹے اور ایک بیٹی۔
بڑے بیٹے واصف سکندر اور انکی بیگم زینب۔جن کے تین بیٹے تھے۔بڑا بیںٹا شہاب سکندر جو سنجیدہ مزاج تھا اور باپ کا بزنس سنبھالتا تھا۔پھر دو جوڑوا عادل سکندر اور عاکل سکندر دونوں ایک جیسے بس آنکھیوں کا رنگ الگ تھا۔ عادل کی ہزل براؤن اور عاکل کی گرے آنکھیں تھیں۔
اس کے بعد آتے ہیں دوسرے بیٹے عالم سکندر اور انکی بیگم نورین۔جن کی تین اولادیں تھی۔دوبیٹیاں اور ایک بیٹا۔ بڑی بیٹی عروہ سکندر شوخ، چنچل سی،باتونی اور سب کی لاڈلی۔ پھر آتی ہے مسکان کم گو لیکن جب بولنے پر آئے تو سب کی نانی یاد کرا دے۔ اور پھر آتے ہیں احد سکندر جو ابھی پڑھ رہا ہے اور بہنوں کے ساتھ مل کر جوب شرارتیں کرتا تھا۔
پھر جہاں صاحب کی چھوٹی بیٹی آتی ہیں شاہین اور انکے شوہر مدثر شاہ انکی دوبیٹیاں ہیں۔ بڑی مہر مدثر شاہ خاموش طبعیت، ڈرپوک، جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر روجاتی ہے۔جب کے چھوٹی بیٹی حیا مدثر شاہ بہادر، چلبولی، لاابالی سی جو ابھی پڑھ ہے۔!!!
۔![]()
![]()
![]()
اس وقت عالم ہاؤس میں مسکراہٹوں اور قہقوں کا سما تھا۔کہنے کو تو سب آمنے سامنے ہی رہتے ہیں لیکن مصروفیات کی وجہ سے سب کم ہی اکٹھے ہوتے تھے لیکن بچے آتے جاتے رہتے تھے۔
اس ٹائم سب کھانے کے ساتھ ساتھ جوش گپوں میں مصروف تھے۔
کھانا پرسکون ماحول میں کھایا گیا اسکے بعد چائے کا دور چلا تو سب نے لان میں بیٹھ کر چائے پی۔ بڑے سارے کرسیوں پر جب کے بچہ پارتی نیچے گھاس پہ چادر بچا کے اپنی باتیں کر رہے تھے۔
بڑے ماموں آپ شہاب بھائی کی شادی کردیں۔اتنے دنوں سے کوئی ہلاگلہ نہیں ہوا اس بہانے، میں بہت ساری شوپنگ بھی کر لوں گی:حیا نے واصف صاحب کوکہا جو اسکی بات سن کہ مسکرا رہے تھے۔
ان میں کوئی تھا جس کا دل شہاب کی شادی کا سن کے بہت زور سے دھڑکا تھا اور دل سے ایک ہی دعا نکلی تھی!!! یااللہ اسے میرا محرم بنادے۔۔۔
واہ بھئی صرف اس وجہ سے میں بلی کا بکرا بن جاؤ: شہاب نے مسنوئی عضہ سے کہا۔
صحیح کہا بھائی نے اچھے خاصے انسان ہیں۔۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے انکو بکرا بنانے کی انسان ہی ٹھیک ہیں:عاکل نے سیریس انداز میں کہا تو سب کا قہقہ چھوٹا جب کہ شہاب بس اسے گھور ہی سکا۔
تھوڑی دیر بعد سب اپنے اپنے گھر نکل گئے
ایسے ایک خوش گوار شام اپنے اختتام کو پہنچی۔
۔![]()
![]()
![]()
گڈمورننگ : عروہ جو آج جلدی آٹھ گئی تھی سبھی اسے حرانگی سے دیکھ رہے تھے۔
بابا آج سورج کہا سے نکلا ہے:احد پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
عالم صاحب نے کندے آچکا کے لاعلمی کا اظہار کیا جب کہ عروہ کا بہس کا کوئی موڈ نہیں تھا اس لیے ناشتے میں لگی رہی۔
ویسے جنا تو میں بھی چاہتی ہوں کہ سورج کہا سے نکلا ہے: نورین بیگم نے شرارت سے کہا
بابا دیکھ رہے ہیں اپکی بیوی کیسے مجھ معصوم کو طعنے مار رہی ہیں :منہ بنا کہ باپ سے شکایت کی۔
بیگم آپ میری بچی کو کچھ نہ بولیں اس کی مرضی ہے وہ دیر سے اٹھے یا جلدی: انہوں نے بیٹی کی سائڈ لی۔
ہہہمم میں کچھ نہ بولوں تو یہ بلکل ہی ہاتھ سے نکل جائے گی یہاں تو مرضی چل جائے گی لیکن سسرال جا کہ کیا کرے کی: قومی طعنہ جو پر لڑکی کو پڑتا ہے عروہ کو بھی پڑھا۔
اچھا بابا چھوڑیں سب کو آپ مجھے اپنا کاڈ دیں میں شوپنگ پر جاؤ گی اپنی دوست کا برتھ ڈے گفٹ لینے: اس نے سب کو اگنور کیا۔
یہ لوںیٹا۔۔۔۔۔۔۔
میری طرف تو دیکھے گا بھی نہیں میں آپ کے ساتھ تو بلکل بھی نہیں جاؤ گا۔آپ ایک چیز کےلیے پورا مال گھوما دیتی ہیں اورلیتی وہی چیز ہیں جو سب سے پہلے دیکھی ہوتی ہے: احد نے عروہ کہ صرف دیکھنے پہ ہی فرست سے انکار کیا اور وہاں سے غائب ہوا۔
احد ٹھیک کہ رہا ہے اس لیے میری طرف بھی نہیں دیکھو میں بھی نہیں جاؤ گی تمہارے ساتھ: اسے پہلے عروہ مسکان کو بولتی اس نے بھی ہری جھنڈی دکھادی۔
اچھا بیٹا ایسا کرنا تایاابو کے گھر دیکھ لینا وہاں کوئی ہوگا اسکے ساتھ چلی جانا: واصف صاحب نے اسکی رونی صورت دیکھ کے کہا۔
جی بابا اور اب دیکھیں یہ دونوں بھی مجھ سے کوئی کام بولیں میں بھی صاف انکار کردوں گی: عروہ ایک نظر مسکراتے ہوئے ناشتہ کرتی مسکان پر ڈال کہ آٹھ گئی۔
صحیح سے کرو ناشتہ بیٹا،،، نہیں بابا بس ہو گیا: باپ کو کہتی اپنے کمرے میں چل دی۔
۔![]()
![]()
![]()
امی میں جاری ہوں : عروہ نے ہال میں بیٹھی اپنی ماں کو آگاہ کیا اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
اسلام و علیکم تائی امی:جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوئی سامنے ہی زینب بیگم چائے پیتی نظر آگئی۔
وعلیکم السلام بیٹا: انہوں نے جواب دیا۔
تائی امی عاکل گھر پر ہی ہے نہ: اسنے اسکی گاڑی باہر دیکھ لی تھی پھر بھی کنفوم کر رہی کیا۔
ہاں وہ گھر پر ہی ہے کوئی کام ہے کیا: انہوں نے چائے کا سپ لیتے ہوئے پوچھا۔
جی مجھے شوپنگ پر جانا تھا!!!!!!
اچھا وہ اپنے کم۔۔۔۔ارے لو آگیا: انہوں نے اسے نیچے آتے دیکھ کہا۔
جی بلکل شیطان کا نام لیا اور شیطان حاضر: عروہ نے ہنسی دبا کر کہا۔
اوہو بس بس میڈم آپ بھی کسی چڑیل سے کم نہیں ہیں: عاکل نے گھورا۔
ارے بیھو نہیں چلو جلدی میرے ساتھ: عروہ نے اسے بیٹھتے دیکھ جلدی سے ٹوکا۔
کہا جانا ہے:اسنے ایک آئبرو اچکائی۔
شوپنگ پہ:اسنے مزہ سے کہا۔
میں تو نہیں جارہا تم بہت گھوماتی ہو: اسنے صاف انکار کیا کیوں کہ سب جانتے تھے عروہ کی شوپنگ کو۔
تائی امی دیکھ رہی ہیں آپ،کاش میں لڑکا ہوتی ہو کم سے کم میں اکیلی تو جاسکتی اج
ایسے کسی کی منت تو نہ کرنی پڑتی: وہ مسنوئی روتے ہوئے تائی امی کے گلے لگی۔
عاکل لے کے جاؤ بچی کو: انہوں نے سخت لہجہ میں کہا۔
مگر امی یہ۔۔۔۔۔۔بس لے کے جاؤ اسے: انہوں نے اسکی بات کاٹی۔
تو چلے عاکل: اسنے معصومیت کی انتہا کی اور عاکل اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔
ویٹ کر رہا ہو باہر آؤ: وہ اسے گھورتے ہوئے باہر نکل گیا۔
اللہ حافظ تائی امی: وہ جلدی سے ان کے گلے لگ کے باہر بھاگی تو اسکی جلد بازی پر وہ بھی مسکرا دیں۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ آج جلدی گھر جارہا تھا جب راستہ میں اسے جانا پہچانا چہرہ نظر آیا اسنے گاڑی اسکے پاس روکی۔
عائشہ تم یہاں کیا کر رہی ہو: اسنے خوش گوار لہجے میں پوچھا۔
ارے S.Pصاحب آپ : عائشہ کا چہرہ کهل اٹھا۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو کوئی پرابلم ہے:عادل گاڑی سے اترا۔
ہاں میں گھر جارہی تھی لیکن راستے میں میری گاڑی خراب ہوگئی: اسنے مسلہ بتایا۔
اچھا آؤ میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں:اسنے آفر کی۔
ارے نہیں میں چلی جاؤ گی، آپ پریشان نہ ہوں: اسنے انکار کیا۔
پریشانی والی کون سی بات ہے دوست دوست کے ہی تو کم آئے گے نہ:۔مسکرا کہ دروازہ کھولا۔
اس بار اسے انکار نہیں کیا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔
عادل اور عائشہ کی ملاقات ایک کیس کے دوران ہوئی تھی۔جس یونیورسٹی میں وہ پڑھتی تھی اس میں کچھ ٹیچر اور اسٹوڈن مل کے ڈرکس بیچتے تھے۔جب عائشہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے پولیس کوبتایا اور یہ کیس عادل کے ہاتھ آیا۔کیس کے دوران عائشہ نے عادل کی بہت مدد کی،اور ایک اچھا انسان ہونے کا فرض نبھایا۔اس دوران ان دونوں کی اچھی دوستی ہوگئی۔۔۔
