Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 16)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 16)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
کہاں چلنا ہے: عادل نے ڈرائیونگ کے دوران پوچھا۔۔۔
آئسکریم کھانے: عروہ نے باہر روڈ پر نظر جمائی کہا۔ تو اسنے سر ہلایا۔
عادل نے گاڑی آئسکریم پالر کے سامنے روکی۔۔۔ وہ دونوں گاڑی سے اتر کے اندر گئے اور لوگوں کے ہجوم سے دور ایک ٹیبل پر بیٹھ گئے۔۔۔
عروہ نے اپنے لیئے آرڈر دیا جب کے عادل کا کوئی موڈ نہیں تھا کچھ بھی کھانے پینے کا۔۔۔۔ آج کل تو اسکی بھوک پیاس سب ختم ہوگئی تھی۔۔۔۔ وہ مہر کے علاوہ اور کسی بارے میں سوچ ہی نہیں رہا تھا۔ اسکی ہر سوچ مہر سے شروع ہوکے مہر پر ہی ختم ہو رہی تھی۔۔۔۔
بولو تم کیا بتانے والی تھیں مہر کے بارے میں: عادل نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ارے بھئی صبر رکھو پہلے آئسکریم تو آنے دو۔۔۔۔ وہ کھا کے پھر سکون سے بتاؤ گی: وہ سکوں سے بولی۔
میم یہ آپ کی آئسکریم: ابھی وہ کچھ کہتا کے ویٹر آئسکریم لے آیا۔
اب آئسکریم آگئی اب تو بتاؤ: عادل نے ضبط سے پوچھا۔
پہلے کھانے تو دو: وہ مزے سے بولتی کھانے میں مصروف ہوگئی۔
تو کھاتے کھاتے بتادو نا: وہ جھنجھلایا۔
تم کیوں اتنے بےچین ہو رہے ہو جاننے کے لیے : عروہ نے ایک آئبرو اچکائی۔
وہ۔۔۔ وہ اس لیے کیوں کے مہر میری کزن ہے مجھے اس کی فکر ہے: عادل نے سنبھلتے ہوئے کہا۔
اوووووو اچھااااا۔۔۔۔۔۔۔ صرف کزن ہے؟ : عروہ نے آئسکریم کا چمچہ منہ میں ڈالا۔
ہاں صرف کزن ہے: عادل نے جھوٹ بولا۔
۔S.P عادل واصف سکندر کب سے جھوٹ بولنے لگے: سامنے بھی عروہ تھی۔
افففف عروہ تم سے کوئی بچ بھی سکتا ہے: عادل نے دانت پیسے۔
نہیں ۔۔۔۔ اسی لیے بول رہی ہوں جو بھی ہے خودی بتادو : عروہ نے سکون سے کہا۔
ہاں میں محبت کرتا ہوں مہر سے اور ابھی سے نہیں بہت پہلے سے اور وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے: عادل نے گہری سانس خارج کر کے بتایا۔
ہممم پتہ ہے ۔۔۔۔۔ میں تو بس تمہارے بھی منہ سے سنا چاہ رہی تھی: اسنے دانت دکھائے۔
تمہارے بھی سے کیا مطلب: عادل نے آنکھیں چھوٹی کیں۔
مہر مجھے پہلے ہی سب بتا چکی ہے اور وہ بھی بتایا ہے جو تم نہیں جانتے: عروہ سنجیدہ ہوئی.
ایسا کیا ہے جو میں نہیں جانتا: وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسا کے ٹیبل پہ رکھ آگے ہوا۔
عائشہ کون ہے: عروہ نے پہلا سوال کیا۔
عائشہ کا ذکر کہاں سے آگیا یہاں: عادل کو سمجھ نا آیا۔
عادل میرے سوال کا جواب دو مجھ سے سوال نہیں کرو: عروہ نے بھنویں سوکیڑی۔
عائشہ میری دوست ہے!!!!۔۔۔۔ اسنے ایک کیس میں میری بہت مدد کی تھی بس جب سے ہی ہم اچھے دوست ہیں اور کچھ نہیں: عادل کو کچھ عجیب لگا عائشہ کا یہاں ذکر۔
کیا وہ بھی صرف تمہیں دوست مانتی ہے: پرسکون لہجے میں دوسرا سوال کیا۔
ہاں۔۔۔۔۔ لیکن تم یہ سب کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔۔۔ میرے اور مہر کے معاملہ میں عائشہ کہاں سے اگئی: عادل عائشہ کے بار بار ذکر پر بےزار ہوگیا تھا وہ یہاں مہر کے بارے میں جاننے آیا تھا اور عروہ عائشہ نامہ لے کے بیٹھ گئی تھی۔
ضروری نہیں جیسا آپ سوچتے ہوں سامنے والا بھی آپ کو ویسا ہی سوچتا ہو۔۔۔۔۔ یہ دیکھو: عروہ نے فون آگے کیا۔۔۔۔ وہ یہاں آنے سے پہلے مہر سے ساری تصویریں لے چکی تھی۔
یہ!!!!!………: عادل حیران ہوا اپنی اور عائشہ کی تصویریں دیکھ کے۔۔۔ اس سے کچھ بولا نا گیا۔
عادل تمہیں پتہ ہے یہ تصویریں میرے پاس کیسے آئیں: عروہ نے باغور اسکا چہرہ دیکھا جو حیرت میں ڈوبا ہوا تھا۔
میں نے یہ تصویریں مہر سے لیں ہیں ۔۔۔ اسے عائشہ نے خود یہ تصویریں بھیجی تھیں: اسے خاموش پاکے عروہ نے بات جاری رکھی۔
اور پھر مہر نے خود اپنی آنکھوں سے تمہیں اسکے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔: عروہ نے مہر کی بتائی ہوئی پوری بات عادل کے گوشگوزار کی جو بےیقینی کی کیفیت میں تھا۔۔۔۔
اچھا تبھی مہر کا رویہ مجھ سے روڈ ہوگیا تھا: عادل کو مہر کا رویا اب سمجھ آیا تھا۔
لیکن اسے مجھے سے بات کرنی چاہیے تھی۔۔۔۔ مجھ پر یقین کرنا چاہیے تھا: عادل کو دکھ ہوا۔
عادل اس میں اسکی کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ بہت معصوم ہے ۔۔۔ جو دیکھا اس پر ہی یقین کر لیا اسنے۔۔۔۔ لیکن اسکا دل تمہارے لیے گواہی دے رہاتھا لیکن دل کے آگے دماغ بازی لے گیا اور اسنے دماغ کی سن لی۔۔۔۔ وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے۔۔۔۔: عروہ نے سمجھایا۔
ہممم تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔۔ : عادل نے دھیرے سے کہا۔
عادل میں جانتی ہوں کے نا غلطی تمہاری ہے نا مہر کی۔۔۔ جہاں مہر غلط فہمی کا شکار تھی وہیں تم ساری باتوں سے انجان تھے۔۔۔۔ اور عادل کم سے کم تمہیں مہر کو تو سچ ہی بتانا چاہیے تھا۔۔۔۔ یہ ساری غلط فہمی عائشہ کی پیدا کی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ میں نے مہر کی پوری بات سنی تھی اب میں تمہاری پوری بات جاننا چاہتی ہوں کے اس دن ہوا کیا تھا۔۔۔۔: عروہ نے رسانت سے کہا ۔
ہمممم : عادل نے سانس بھرا اور بتانا شروع کیا۔
![]()
![]()
۔
(کچھ ماہ پہلے)
ہیلو: عادل ڈرائیو کر رہا تھا۔ وہ پولیس اسٹیشن سے نکل کر گھر جارہا تھا مہر کو لینے تاکے وہ لنچ پر جاسکیں۔۔۔۔ جب راستے میں ہی اسکا فون بج گیا۔
عادل۔۔۔۔ عادل پلیز آپ جلدی اس پتہ پر آجائیں کچھ لوگ میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں: دوسری طرف سے کافی ڈری ہوئی آواز آئی اور یہ کہہ کے فون بند ہوگیا۔۔۔ جب کے فون کرنے والے کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ تھی۔
ہیلو،،، ہیلو عائشہ: عادل نے سائد پر گاڑی روکی۔۔۔جب میسج ٹون بجی۔۔۔۔ اسنے جلدی سے میسج پڑھا جہاں آڈرس آیا ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ آبادی سے تھوڑا دور ایک سنسان جگہ کا آڈرس تھا۔۔۔۔
آڈرس پڑھ کے عادل نے جلدی سے گاڑی اسٹاٹ کی اور تیزی سے آگے بھڑہائی۔۔۔ وہ بہت پریشان ہوگیا تھا عائشہ کی آواز سن کے۔۔۔
وہ اس جگہ پر پہنچا تو۔۔۔۔ اسے سامنے سے کوئی لڑکی بھاگتی ہوئی آتی دیکھائی دی۔۔۔۔۔ اسنے گاڑی کو بریک لگائی اور تیزی سے گاڑی سے نکلا۔۔۔۔ اسے پہچاننے میں وقت نہیں لگا تھا کے وہ عائشہ ہے جو اسی کہ طرف بھاگتی ہوئی آرہی ہے۔۔۔۔
عائشہ بھاگتے ہوئے آئی اور سیدھا عادل کے گلے لگ گئی۔۔۔۔ اتنے میں ایک کلیک کی آواز آئی اور وہ منظر کیمرے میں قید کرگئی جس سے عادل ناواقف تھا…
عادل بوکھلا گیا تھا اسکے اس طرح اچانک گلے لگنے سے لیکن اسنے اپنا حصار نہیں بنایا تھا۔۔۔ اسنے نرمی سے بازو پکڑ کے خود سے دور کیا۔۔۔۔
کیا ہوا عائشہ تم ٹھیک تو ہونا اور کون تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے بتاؤ مجھے: عادل نے اسکا چہرہ دکھاجو ہاتھوں میں چھوپا ہوا تھا۔۔۔
وہ چہرہ ہاتھوں میں چھوپائے رونے کی اداکاری کر رہی تھی جو کمس کم عادل تو نہیں سمجھا تھا۔
وہ ک۔۔۔۔۔کچھ بدماش لڑکے تھے و۔۔۔۔۔وہ مجھے تن۔۔۔تنگ کر رہے تھے: اسنے ہکلاتے ہوئے بتایا۔
تو تم یہاں سنسان جگہ پر اکیلی کیا کر رہی تهیں: عادل نے پوچھا۔
وہ میں اپنی ایک دوست سے ملنے آئی تھی وہ یہی تھوڑا آگے رہتی ہے: اسنے باضاہر ڈرتے ہوئے کہا۔
تمہاری گاڑی کہاں ہے: عادل نے ایک اور سوال کیا۔
وہ خراب تھی تو میں رکشے میں آئی تھی: وہ پوری تیاری سے آئی تھی تبھی ہر بات کا جواب موجود تھا۔
اچھا چلو گاڑی میں بیٹھو: عادل نے اسکی حالت کے پیشے نظر کہا جو عادل کو تو ڈری ہوئی لگ رہی تھی۔
عادل نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تو وہ عادل کے کندھے کا سہارا لیتی بیٹھی۔۔۔۔۔
عادل گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی آگے بڑھائی۔
ہم کہاں جا رہے ہیں: عائشہ نے اپنے گھر کا راستہ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
تمہیں تمہارے گھر چھوڑنے جارہا ہوں: عادل نے ایک نظر اسے دیکھا جو پریشان لگ رہی تھی۔
آہ۔۔۔ نہیں میں ابھی گھر نہیں جانا چاہتی۔۔۔ میں ابھی کافی ڈری ہوئی ہوں اگر ایسے گھر گئی تو امی پریشان ہو جائیں گی اور میں انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔ اگر آپ کو برا نہیں لگے تو کیا ہم تھوڑی دیر کے لیے کسی رسٹورینٹ میں بیٹھ سکتے ہیں: عائشہ نے آہستہ آواز میں کہا۔ وہ گھر جاکے اپنا پلین خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
ہاں کیوں نہیں: عادل نے ہامی بھری اور گاڑی رسٹورینٹ کی جانب موڑلی۔
وہ رش سے ہٹ کے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔ عادل نے عائشہ کے لیے کچھ کھانے کو مانگوا لیا تھا۔
میں ایک فون کر کے آیا: عادل نے کہا۔
عادل پلیز آج کے واقعہ کے بارے میں کسی کو نہیں بتائے گا : اسے اٹھتے دیکھ عائشہ نے اسکے ہاتھ پر جلدی سے اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔
تم فکر نہیں. کرو کسی کو نہیں. بتاؤ گا: عادل نے نا محسوس انداز میں اپنا ہاتھ نکالا اور فون ہاتھ میں لیے سائڈ میں گیا۔۔۔۔مہر کو فون کرنے۔۔۔
عادل کے جاتے ہی عائشہ نے اپنا کام کیا اور واپس معصومیت کا لبادہ اوڑ لیا۔۔۔
وہ فون کر کے واپس آیا تو عائشہ سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
کیا ہوا عائشہ۔۔۔۔ دیکھو ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میں پتہ لگواتا ہوں کے وہ کون لڑکے تھے: عادل نے نرمی سے کہا۔
نہ۔۔۔نہیں عادل اسکی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ میں کسی اور مسلہ میں نہیں پڑنا چاہتی۔۔۔۔ اور اگر یہ بات امی کو پتہ چلی تو وہ کتنی پریشان ہوجائیں گی: عائشہ نے جلدی سے کہا۔
لیکن عائشہ ایسے تو وہ بدماش لڑکے اور بھی لڑکیوں کو تنگ کریں گے اور ویسے بھی میرا کام ہی ایسے لوگوں کو پکڑنا ہے۔۔۔۔: عادی نے سمجھانا چاہا۔۔۔۔
نہیں عادل پلیز آپ ابھی کچھ نہیں کرو گے ۔۔۔۔ ہم بعد میں اس معاملے پر بات کریں گے پلیز: عائشہ نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اسے پلین فیل ہونے کا ڈر تھا۔۔۔ کے اگر عادل نے سب معلومات نکلوالی اور جب اسے یہ پتہ چلے گا کے وہاں کوئی لڑکے تھے ہی نہیں صرف وہ جھوٹ بول رہی تھی تو سارہ کھیل خراب ہوجانا تھا۔
اچھا ٹھیک ہے تم رلیکس ہوجاؤ: عادل نے اسے گھبراتا دیکھ کہا۔ اگر وہ اسکی گھبراہٹ کی وجہ جان جاتا تو کبھی نا کہتا۔
اتنی دیر میں ویٹر نے آکے کھانا سرو کیا تو عادل کے نا نا کرنے پر عائشہ نے اسے بھی کھانا دیا تو اسے مجبوراً کھانا پڑا۔۔۔۔
عائشہ کی نظریں سیڑھیوں پر ہی تھیں وہ مہر کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔ کچھ دیر بعد اسکا انتظار ختم ہوا اسے مہر سیڑھیوں کے پاس ہی دیکھ گئی تھی۔۔۔۔ اسکی نظریں مہر کے چہرے پر ہی تھیں جو آنسوں سے بھیگ رہا تھا۔۔۔۔ اسے تھوڑی دیر کا افسوس تو ہوا لیکن وہ عادل کو حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی ۔۔۔۔
عادل کا فون بجا جو ٹیبل پر ہی رکھا ہوا تھا وہ دیکھ چکی تھی کے مہر کی کال ہے۔۔۔۔
عادل پلیز کسی کو کچھ نہیں بتائے گا: عائشہ نے کہا تاکے وہ فون دیر سے اٹھائے۔۔۔
اسنے ہاں میں سر ہلاتے کال ریسیو کی!!!!
ہیلو مہر سب خیریت ہے: عادل نے فکرمندی سے پوچھا۔
کہاں ہیں آپ: مہر نے پوچھا۔
میں نے بتایا تھا نا کے میں کسی کام سے جارہا ہوں: عادل نے نرمی سے کہا۔۔۔
اوکے: اک لفظی جواب دے کے اسنے فون رکھ دیا۔۔۔ تو عادل نے ایک نظر فون کو دیکھ کھانے کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔ وہ جلد سے جلد گھر جانا چاہتا تھا۔۔۔۔
کھانا کھاکے انہوں نے واپسی کی رہ لی۔۔۔۔ اسنے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اوپر دیکھا تو مہر نظر آئی جو انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ اسے جلانے کے لیے اور اپنے پلین کی کامیابی پر مسکراتی ہوئی گاڑی میں بیٹھی ۔۔۔۔۔ یہ جانے بغیر کے اس معصوم کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی۔۔۔۔
تھینکس۔S.P صاحب: عائشہ نے اپنی پرانی ٹون میں کہا لیکن آواز آہستہ ہی رکھی۔۔۔۔
یہ تو میرا فرض تھا: عادل نے اچھے دوست کی طرف کہا اور اللہ حافظ کہتا گاڑی چلادی۔
پیچھے وہ فاتحانہ مسکراہٹ سجائے گھر میں داخل ہوئی۔
۔![]()
![]()
![]()
(حال)……
میں عائشہ کو چھوڑو گا نہیں : عادل کو غصہ آیا۔۔۔۔ وہ تو اسے اپنا اچھا دوست سمجھ رہا تھا لیکن اس نے کیا کیا۔۔۔۔۔۔ اسے عائشہ سے ایسی امید نہیں تھی۔
نہیں عادل ابھی تم کچھ نہیں کرو گے نا تم اسے کچھ کہوں گے۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تو ہمیں گھر میں بات کرنی ہے سب سے وہ بھی جلدی کیوں کے پھوپھا جان بتا رہے تھے کے ان کو علی کے آئے رشتے میں کوئی برائی نظر نہیں آرہی وہ تو میں نے یہ کہہ کے ٹال دیا کے ایک بار عادل ساری ڈیٹیلز بھی نکال لے پھر ہم کچھ سوچے گے!!!: عروہ نے تحمل سے کہا۔
ہممم تم ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن ہم کرے گے کیا: عادل نے پیشانی مسلی۔۔۔۔۔
تم کچھ نہیں کرو گے کروں گی تو اب میں بس تم شادی کی تیاریاں شروع کرو: عروہ نے مسکراتے ہوکہا۔
اور تمہیں لگتا ہے کے سب مان جائیں گے: عادل نے اسے دیکھا جو پرسکون لگ رہی تھی۔۔۔
بلکل سب کو منانا تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے: عروہ نے چٹکی بجائی۔۔۔۔۔ تو عادل اسکا کونفیڈنٹ دیکھتا مسکرا دیا۔۔۔
کیا تم مجھے ایک اور آئسکریم کھلانا چاہتے ہو: عروہ نے اشتیاق سے کہا۔
نہیں بلکل نہیں : عادل نے انکار کیا۔
تو پھر بیٹھے کیوں ہو چلو۔۔۔۔ ویسے اگر اپنی پیاری سی بھابھی کو ایک آئسکریم اور کھلا دو کے تو کچھ جائے گا نہیں تمہارہ۔۔۔:, عروہ نے ناک چڑائی۔
اچھا بھابھی جی دلا دیتا ہوں آپ کو ایک اور آئسکریم کیا یاد رکھیں گی کے کس سخی دیور سے پالہ پڑا ہے: عادل اب کافی رلیکس ہوگیا تھا عروہ سے بات کر کے۔۔۔۔ اور یہ جانکے کے مہر صرف ایک غلط فہمی کا شکار تھی۔۔۔ لیکن عادل کو یہ بات بھی اچھی نہیں لگی تھی کے مہر نے اس سے یہ سب باتیں شئر کیوں نہیں کیں!! اگر وہ اسے سب بتاتی تو بات یہاں تک نا پہنچتی۔۔۔۔ لیکن اسنے سوچ لینا تھا کے اس کی سزا تو وہ اسے دے کے رہے گا۔۔۔
بھابھی جی تو بس عاکل کے منہ سے ہی اچھا لگتا ہے تم تو مجھے عروہ ہی کہا کرو: عروہ نے سچائی سے کہا تو وہ بھی مسکراتا ہوا آئسکریم لینے چل دیا۔۔۔۔
آئسکریم عروہ کو دے کے وہ گاڑی میں آگے بیٹھے اور گھر روانہ ہوئے۔
۔![]()
![]()
![]()
ماموں جان چائے کیسی بنی ہے: حیا نے عالم صاحب سے پوچھا۔
میری بیٹی نے بنائی ہے تو اچھی ہی بنی ہوگی نا بیٹا: انہوں نے مسکرا کے کہا تو وہ بھی کھل اٹھی۔۔۔
چی۔۔۔۔ تبھی میں بولوں اتنی بد ذائقہ چائے کیوں بنی ہے: احد جسے چائے بہت اچھی لگی تھی اور مزے سے پی رہا تھا۔۔۔۔ جب پتہ چلا کے چائے حیا نے بنائی ہے تو برئی کرنا اپنا فرض سمجھا۔
او تو تمہیں آدھا کپ پینے کے بعد بدذائقہ لگی ہے: حیا نے طنز کیا۔۔۔
تو وہ میں سمجھا امی نے بنائی ہے اس لیے انکا دل رکھنے کے لیئے پی رہا تھا مجھے کیا پتہ تھا کے یہ تم نے بنائی ہے: احد نے صفائی دی۔
ممانی جان دیکھ رہی ہیں آپ اسے: حیا نے نورین بیگم سے شکایت کی جو وہیں چائے پی رہی تھیں۔
بیٹا آپ اسے چھوڑو یہ تو پاگل ہے ۔۔۔۔ آپ نے تو بہت مزے کی چائے بنائی ہے: انہوں نے دل سے تعریف کی۔
امی آپ مجھے اس کی وجہ سے پاگل بول رہی ہیں : احد تو اپنی ماں کو خود کو پاگل کہنے پر صدمے میں ہی چلا گیا تھا۔۔۔۔
اونہہ۔۔۔۔ ممانی جان پھر تو میں روز آکے آپ کو اپنے ہاتھ کی چائے پلاؤ گی: حیا نے احد کو دیکھ منہ چڑایا اور نورین بیگم کے کندھے پر سر رکھے کہا۔
تو ایک کام کرتے ہیں نا بیٹا جی آپ کو ہم ہمیشہ کے لیئے اپنے پاس لے آتے ہیں: عالم صاحب نے اسکی معصوم شکل دیکھ کہا ۔ جب کے انکی بات سمجھ نورین بیگم مسکرادیں۔
کیوں نہیں ماموں جان ضرور: حیا نے انکی بات کو مطلب سمجھے بغیر احد کو چڑانے کے لیے کہا۔
کوئی ضرورت نہیں ہے اس چڑیل کو یہاں لانے کی میں زور اسکی شکل دیکھ اپنا دن نہیں خراب کرنا چاہتا: احد نے فوراً انکی بات کی نفی کی۔
برخودار تم سے پوچھ کون رہا ہے: عالم صاحب نے کہا تو ہال میں حیا کا زور دار قہقہہ گونجہ۔۔۔
بےعزتی مبارک ہو: حیا نے دل جلی مسکراہٹ سے کہا تو وہ اسے گھوتا ہوا اٹھ گیا۔
دیکھ لوں گا: وہ دھمکی دینا نہیں بھولا تھا۔
شوق سے :اسنے کندھے اچکائے۔۔۔۔
اور پھر وہ عالم صاحب اور نورین بیگم سے باتوں میں مصروف ہوگئی۔
۔![]()
![]()
![]()
