Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 18)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 18)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
شہاب یاد سے جلدی آجائے گا: عروہ اسے سی اوف کرنے آئی تھی۔
اوکے : شہاب نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھول گاڑی میں بیٹھا۔
وہ ابھی گاڑی آگے بڑھاتا کے عروہ نے ونڈو سے چھنک کے کہا۔۔۔!!!!!!
شہاب آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں مجھے پتہ ہے آج دعوت ہے گھر میں۔۔۔۔ میں یاد سے جلدی گھر آجاؤ گا۔۔۔۔ تو کیا آب میں جا سکتا ہوں: وہ اسکی بات کاٹ کے بولا۔۔۔۔ شہاب جب سے اٹھا تھا عروہ ہر تھوڑی دیر بعد اسے جلدی آنے کا بول رہی تھی اب تو شہاب کو اسکا کہا جملا بھی یاد ہوگیا تھا۔
اچھا اچھا تو غصہ کیوں ہو رہے ہیں ۔۔۔ جائیں دیر ہو رہی ہے آپ کو: عروہ نے مسکرا کے اسے جانے کا اشارہ کیا تو وہ سر جھٹکتا گاڑی آگے بڑھاتا نکل گیا۔۔۔ تو وہ بھی اندر بڑھ گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
دن ڈھلتا گیا اور ایک خوبصورت خوشیوں سے بھری رات کا آغاز ہوا۔۔۔۔ آج کی رات دو لوگوں کے لیئے خوشخبری لائی تھی۔۔۔۔ دو محبت کرنے والوں کو ملانے آئی۔۔۔۔
واصف صاحب کے گھر اس وقت سب کھانے کی میز پر بیٹھے کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔۔ کھانے کی دوران مہر کہ نظریں بار بار عادل پر جارہی تھیں لیکن اسنے ایک بار بھی نظر اسکی طرف نہیں اٹھائی تھی۔۔۔ ایک تو وہ پہلے ہی عروہ کے سوچ بتانے کی وجہ سے خود سے شرمندہ تھی کے اسنے عادل کو غلط سمجھا اور دوسری طرف عادل کا اسے نظر انداز کرنا اسے اور تکلیف دے رہا تھا۔۔۔
ہنسی مزاق کے ساتھ سب کھانے سے فارغ ہوکے سب ہال میں بیٹھے چائے پیتے پیتے خوش گپوں میں مصروف تھے جب واصف صاحب نے مدثر صاحب اور شاہین بیگم کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
مجھے تم دونوں سے کچھ ضروری بات کرنی ہے: انہیں نے مدثر صاحب اور شاہین بیگم سے کہا۔
جی بولیں بھائی کیا بات ہے: شاہین بیگم اپنے بھائی کی طرف متوجہ ہوئیں۔
مدثر میں تم سے کچھ مانگنا چاہتا ہوں : واصف صاحب نے بات کا آغاز کیا۔تو سب ہی انکی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔
آپ کو مانگنے کی کیا ضرورت ہے بھائی میرا جو کچھ ہے سب آپ کا ہی ہے۔۔۔۔ میرے والدین تو بچپن میں ہی مجھے اس دنیا کی بھیڑ میں چھوڑ گئے تھے جب آپ کے والد نے مجھے اپنا بیٹا بنایا۔۔۔۔ آپ نے ہمیشہ سگے بھائیوں سے بڑہ کے مجھے پیار دیا۔۔۔۔۔ عالم جیسا بھائی اور بہترین دوست ملا۔۔۔۔۔ اور اس سے بڑہ کر آپ نے مجھے اپنی بہن دی جس نے میری زندگی جنت بنادی: مدثر صاحب نے نم آنکھوں سے مسکرا کے کہا۔
مدثر تم ہمیشہ ہی ہمیں عزیز رہو گے لیکن آج میں تم سے تمہاری عزیز چیز مانگ رہا ہوں : واصف صاحب نے انکا کندھا تھپتھپایا۔
آپ حکم کریں بھائی: انہوں نے مؤدب انداز میں کہا۔
مدثر شاہین میں تم سے تمہاری مہر کو مانگتا ہو اپنے عادل کے لیئے: واصف صاحب نے کہا
تو سب ہی یہ بات سن کے خوش ہوئے جب کے مہر تو حیرت میں ڈوب گئی عروہ نے اسے یہ تو بتایا ہی نہیں تھا کے واصف صاحب آج ہی یہ بات کرنے والے ہیں مہر نے نظر سامنے بیٹھے عادل پر کی جو لاپرواہ سا بیٹھا ہوا فون یوز کررہا تھا۔۔۔۔
بھائی صاحب یہ آپ ۔۔۔۔۔: مدثر صاحب سے خوشی کے بائث بولا نہیں گیا۔۔۔
لیکن بھائی جو رشتہ آیا ہے مہر کے لیئے انہیں کیا کہیں گے: شاہین بیگم خوش تھیں لیکن انہیں دوسری پریشانی بھی تھی۔
پھوپھو جان ایسے رشتے تو بہت آتے ہیں اور ویسے بھی صرف رشتہ آیا تھا۔۔۔۔ ہم نے نا کوئی پکا کیا تھا اور نا انہیں کوئی یقین دلایا ہے کے ہم ہاں ہی کریں گے : عروہ نے انہیں کہا۔
بچی ٹھیک کہہ رہی ہے شاہین۔۔۔ تمہیں پریشان ہونے کی بلکل ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے عادل سے اچھا ہمسفر میری بیٹی کے لیے اور کوئی نہیں لگ رہا: مدثر صاحب نے عروہ کی بات سے اتفاق کیا۔
تو پھر ہم یہ رشتہ پکا سمجھیں: عروہ نے جوش سے پوچھا۔
ہاں بلکل آپ یہ رشتہ پکا سمجھیں: مدثر صاحب نے اسی کے انداز میں کہا تو سب کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔۔
مہر بیٹا آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا : مدثر صاحب نے خاموش نظریں جھکائے بیٹھی مہر سے پوچھا تو وہ آہستہ سے نا میں سر ہلا گئی۔۔۔
چلو بھئی لڑکی تو راضی ہے کیا آپ راضی ہیں عادل بھائی: مسکان نے شرارت سے پوچھا۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے: عادل کا جواب سن کے ساتھ بیٹھے عاکل نے کس کے گلے لگایا۔
مدثر اس خوشی کے موقع پر میں بھی تم سے کچھ مانگنا چاہتا ہوں: نورین بیگم کے اشارہ کرنے پر عالم صاحب نے اپنی بات شروع کی۔
بولو یار کیا چاہئے تمہیں: مدثر صاحب نے پوچھا۔
مجھے حیا بیٹی چاہیں احد کے لیئے: عالم صاحب نے بہت مان سے کہا۔ تو شاہین بیگم کی آنکھیں نم ہوئیں وہ اپنی بیٹوں کے لیئے اتنے اچھے رشتے دیکھ مطمئن ہوئیں ۔۔۔۔۔ جب کے احد اور حیا کو 440 ولٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔۔۔
ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے: شاہین بیگم نے کیا تو احد اور حیا نے ایک جھٹکے سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
کیااااااااااا: دونوں نے بیک وقت کہا۔ تو سب انکی طرف متوجہ ہوئے۔
میری شادی وہ بھی اس اونٹ سے : حیا نے صدمہ سے چور لہجہ میں کہا۔
مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تم جیسی چڑیل سے شادی کرنے کا: احد نے دوبدو کہا۔
بس بہت ہوا آخر مسلہ کیا ہے تم دونوں کو شادی کرنے سے: عروہ نے دونوں کو چپ کرواتے گھورتے ہوئے پوچھا۔ باقی سب کے لئے انکی لڑائی نئی نہیں تھی لیکن انہیں یہ امید نہیں تھی کے وہ سب کے سامنے منا کر دیں گے۔
بجو کوئی ایک وجہ ہو تو بتاؤ نا: حیا نے معصومیت سے کہا۔
سیم بجو کوئی ایک وجہ ہو تو میں بھی بتاؤ نا: احد نے حیا کو گھورتے ہوئے کہا۔
عالم صاحب اور مدثر صاحب نے عروہ کی طرف دیکھ التجا کی کے اب وہی کچھ کرتے کیوں کے دونوں کے والدین کو کوئی اعتراض نہیں تھا ۔۔۔۔۔ لیکن بچے تھے کے مان ہی نہیں رہے تھی۔۔۔۔۔۔ عروہ نے انہیں آنکھوں سے تسلی دی اور دونوں سے سوال کیا۔
حیا پہلے تم بتاؤ کے تمہیں کیا مسلہ ہے لیکن اس سے پہلے تم دونوں میری بات کان گھول کے سن لو اگر وجہ قابلِ قبول ہوئی تو ہی یہ رشتہ نہیں ہوگا اور اگر ایسی کوئی وجہ نہیں ہوئی رشتے سے انکار کی تو تم لوگ چپ چاپ مان جاؤ کے۔ ۔۔۔۔۔۔مجھ گئے!!!!: عروہ نے آگاہ کیا۔
چلو حیا بتاؤ تمہاری کیا وجہ ہے: عروہ نے حیا سے سوال کیا۔
بجو یہ مجھے بہت تنگ کرتا ہے: حیا نے وجہ بتائی۔
یہ کوئی وجہ نہیں ہوئی دوسری بناؤ: عروہ نے لاپرواہی سے کہا۔
یہ مجھ سے بدتمیزی بھی کرتا ہے: حیا نے ایک اور کمزور سے وجہ پیش کی۔
اور تم تو جیسے مجھ سے بہت ادب سے بات کرتی ہونا: احد نے جلدی سے کہا۔
احد تمہیں بعد میں موقع ملے گا ابھی چپ رہو۔۔۔۔۔ اور حیا بد تمیزی کی بات ہے تو تم بھی کوئی کم نہیں ہو شادی کے بعد سارے بدلے لے لے نا: عروہ نے یہ وجہ بھی ہوا میں اڑائی۔
بجو یہ بے زورگار ہے: حیا نے اپنے تحت مظبوط وجہ بتائی۔تو سب ہی زیرے لب مسکرا اٹھے۔۔۔
تو ابھی میں پڑھ رہا ہوں ایک بار پڑھائی مکمل ہوجائے تو میں بھی کمانے لگ جاؤ گا: احد اس الزام پر تڑپ اٹھا۔
ہممم اس بار احد ٹھیک ہے حیا وہ ابھی پڑھ رہا ہے۔۔۔۔ جیسے ہی اسکا یہ آخری سال ختم ہوگا وہ بابا کا بزنس جوائن کر لے گا۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی وجہ انکار کی: عروہ نے اس بار نرمی سے پوچھا۔ تو وہ سر جھکائے نا میں سر ہلاگئی۔۔۔۔
اب احد تمہاری باری تم بتاؤ: عروہ اب احد کی طرف گھومی۔۔۔۔۔ جب کے سب اس لمحے کو مسکرا کے انجوائے کر رہے تھے۔
بجو اسکی زبان بہت لمبی ہے ہر بات پر مجھ سے زبان چلاتی ہے: احد نے پہلی وجہ بیان کی۔
چھوٹی تو تمہاری زبان بھی نہیں ہے: عروہ نے بےزاریت سے کہا۔
یہ مجھے اونٹ کہتی ہے: احد نے بے بسی سے ایک اور وجہ بتائی۔
تم بھی چڑیل کہتے ہو تو اس حصاب سے””حصاب برابر ہوا”‘:!!!! عروہ نے آرام سے دوسری وجہ بھی رد کی۔
بجو یہ ۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔مجھے: احد کو سمجھ نا آئی کے آخر وہ ایسی کون سی وجہ بتائے کے شادی سے انکار ہوجائے۔
بس بہت ہوا تم لوگوں کی یہ بچکانا وجوہات کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔۔ یہ وجوہات بلکل بھی ایسی نہیں ہیں کے شادی سے انکار کیا جائے تو اب ہماری ڈیل کے مطابق تم دونوں کو اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔۔ کیوں ٹھیک کہا نا میں نے: عروہ نے دونوں سے پوچھا تو دونوں نے بے بسی سے ہاں میں سر ہلادیا۔
چلیں جی بابا اور پھوپھا جان لڑکا لڑکی راضی ہیں: عروہ نے فاتحانہ مسکراہٹ سے کہا تو وہ بھی اسکی سمجھداری پر مسکرا دیئے۔
مبارک ہو آپ سب کو: شہاب نے سب کو مبارکباد دی تو سب نے ایک دوسرے کو مبارکبادی پیش کی۔
واہ بھئی میرے ساتھ والے اور مجھ سے چھوٹے سب کے رشتے ہو رہے ہیں اور کسی کو میرا خیال نہیں آرہا: عاکل نے ناراضگی سے کہا۔
تو بھائی تو بھی کوئی لڑکی بتا دے تیری بھی ابھی بات کر دیتے ہیں: دانیال نے بھی حصہ ڈالا۔
عروہ جانتی ہے لڑکی کو: عاکل نے کہا تو سب نے ایک ساتھ عروہ کو دیکھا تو وہ کڑبڑا گئی۔
آپ سب مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں: عروہ سب کو ٹیڑی نظروں سے دیکھا۔
عروہ تم نے کیا رشتے کرانے کا بزنس شروع کردیا ہے: مسکان نے تجسس سے پوچھا۔
ایسا ہی سمجھ لو: اسنے آنکھیں گھومائیں۔
عروہ بیٹا کون ہے وہ لڑکی: زینب بیگم نے پریشانی ہوئی کے پتہ نہیں عاکل نے کس لڑکی کو پسند کیا ہے۔
وہ لڑکی میری دوست سحر ہے: عروہ نے سکون سے بتایا۔
او اچھا وہ تو بہت اچھی بچی ہے: زینب بیگم مطمئن ہوئی کے عاکل نے اچھی لڑکی پسند کی ہے۔
تو ماما پھر کیا خیال ہے کب چل رہی ہیں رشتہ لے کے: عاکل نے بےصبری سے پوچھا۔
برخوردار بہت جلدی ہے: واصف صاحب نے ائبرو اچکائے کہا۔
جلدی تو پوچھے ہیں نہیں تایا ابو اگر اسکا بس چلتا تو پہلے ہی رشتہ لے کے پہنچ جاتا اور انکار لے کے واپس آجاتا: عروہ نے مزہ سے کہا۔
کیا مطلب: شہاب نے ناسمجھی سے پوچھا۔
مطلب یہ کے۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ،،،کچھ مطلب نہیں ہے بس ایسے ہی بول رہی ہے: عاکل نے منت بھری نظروں سے دیکھ التجا کی۔
ہاں میں تو ایسے ہی بول رہی تھی آپ لوگ بتائیں کے رشتہ لے کے کب جائیں گے سحر کے گھر: عروہ نے اس پر ترس کھاتے بات گھومائی۔
ایک دو دن میں چلتے ہی : واصف صاحب نے کہا تو اسنے ہاں میں سر ہلایا۔
عاکل کا بھی ہوجائے پھر میں ان دونوں کی بھی جلد ہی شادی کردوں گا: واصف صاحب نے مسکرا کے کہا۔
ہمم آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں بھائی صاحب: عالم صاحب نے ہاں میں ہاں ملائی۔
آج کا دن سب کے لیئے خوشی لے کے آیا تھا۔۔۔ سب کی منزلیں آسان ہو گئی تھیں۔۔۔ سب خوش اور مطمئن تھے۔۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
مہر بیڈ پر لیٹی ہوئی آج کے دن کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کے اتنی جلدی اتنی آسانی سے سب کچھ ہوجائے گا اسنے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن عادل کا نظر انداز کرنا اسے بہت چبھا تھا۔۔۔
اسنے فون اٹھایا اور عادل کا نمبر ڈائل کرکے کان سے لگایا۔۔۔۔
بیل جارہی تھی لیکن وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔۔ اسنے ایک بار پھر کوشش کی لیکن جواب ندارد۔۔۔۔
اسنے بے دلی سے فون سائڈ میں رکھا اور عادل کی ناراضگی کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔۔۔ وہ جانتی تھی وہ اسے ناراض ہے اور اسکا ناراض ہونا بنتا بھی تھا۔۔۔
ابھی تو اسے اپنی غلطی کی بھی صفائی دینی تھی۔۔۔۔ جو وہ عادل کے ساتھ کرتی آئی ہے اسکے جواب بھی دینے تھے۔۔۔۔ عادل کو سوچتے ہوئے کب اسکی آنکھ لگ گئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔
۔![]()
![]()
![]()
اسنے مہر کا فون خود نہیں اٹھایا تھا وہ اسے اپنی ناراضگی کا احساس دلانا چاہتا تھا۔۔۔۔
اسے اسکی غلطی بتانی تھی۔۔۔۔
وہ مہر کی تصویر سینے سے لگائے آنکھیں موند گیا۔۔
تم صرف میری ہو مہر۔۔۔۔۔۔۔ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں میں خود بھی نہیں جانتا۔۔۔۔ میری زندگی تمہارے بن ادھوری ہے مہر جلدی سے میری زندگی میں آکے اسے محبت کے رنگوں سے بھر دو۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں بند کیئے مسکراتے ہوئے خیالوں میں اس سے گویا ہوا!!!!
۔![]()
![]()
![]()
بیگم صاحبہ آج تو بہت خوش لگ رہی ہیں آپ: شہاب نے اسے مسکراتے ہوئے جولری اتارتے دیکھا پوچھا۔
کیوں نا خوش ہوں آج دن ہی اتنی خوشی کا ہے!!!! سب کے رشتے پکے ہوئے ہیں: عروہ نے شیشے سے بیڈ پر لیٹ شہاب کو دیکھ مسکرا کے کہا۔
ہممم یہ تو ہے۔۔۔۔ ویسے تمہیں بھی بہت ثواب ملے کا دیکھا جائے تو سب کے رشتے تم نے ہی کرائے ہیں : شہاب مسکرایا۔
وہ تو ملے گا میں نے پیار کرنے والوں کو جو ملایا ہے: عروہ نے فخر سے کہا۔
پیار کرنے والوں کو: شہاب چونکا۔
ہاں عادل اور مہر کو وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔۔۔ اور اب عاکل اور سحر کو بھی ملا دوں گی ویسے سحر عاکل سے محبت تو نہیں کرتی لیکن عاکل تو کرتا ہے نا تو اسکا ہی ثواب مل جائے گا: وہ شہاب کے پاس آتی اسکے کندھے پر سر رکھے لیٹ گئی۔
تو محترمہ کو سب کا پتہ ہے اور اپنے شوہر کا پتہ ہے کے وہ آپ سے کتنی محبت کرتا ہے: شہاب اسکا سر تکیہ پر رکھ اسکے اوپر آیا۔
میرے شوہر نے مجھے کبھی بتایا ہی نہیں : وہ اسکے بالوں سے چھیڑچھاڑ کرتے ہوئے منہ بناکے بولی۔۔۔۔
ہممم تو آج میں اپنی بیوی کو اپنے عمل سے بتاؤ گا کے وہ میرے لیئے کیا ہے: وہ اسے بولنے کا موقع دئے بغیر اس پر جھکا اور جھکتا ہی جلاگیا۔۔۔۔۔۔
عروہ نے خاموشی سے خود کو اسکے حوالے کردیا۔۔۔۔۔وہ اپنے ہر عمل سے اسے بتا رہا تھا کے وہ اسکے لیئے کتنی خاص ہے ۔۔۔۔ وہ اسکی زندگی میں کیا معنیٰ رکھتی ہے۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
