397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 19)

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

سب ناشتے میں مصروف تھے۔۔۔۔۔۔ عادل جلدی پولیس اسٹیشن چلا گیا تھا۔۔۔۔ باقی سب ناشتہ کر رہے تھے جب عاکل نے واصف صاحب کو مخاطب کیا۔

بابا آج آپ لوگ جارہے ہیں نا: عاکل نے ناشتہ کرتے واصف صاحب سے پوچھا۔

کہاں جانا ہے: وہ انجان بنے۔۔۔۔

سحر کے گھر میرا رشتہ لے کے: عاکل حیران ہوا کے وہ اتنی جلدی بھول گئے۔

ہا ہا ہا مجھے سب پتہ ہے تم تھوڑا صبر رکھو ہم ایک آت دن میں جاتے ہیں: انہوں نے اسکی بے صبری دیکھ کہا۔

نہیں بابا آپ لوگ آج ہی جائیں گے: عاکل بضد ہوا۔

عاکل بابا بول تو رہے ہیں کے کچھ دن تک جائیں گے: شہاب نے سمجھایا۔

بھائی آپ نے تو شادی کرلی اب پلیز ہماری بھی جلدی کروادیں: اسنے بیچاری سی شکل بنائی۔

بہت ہی بے شرم ہوتے جارہے ہو بیٹا آپ تو: زینب بیگم نے گھورا۔

تائی امی وہ پہلے سے ہی بے شرم ہے: عروہ نے بتانا ضروری سمجھا۔

بابا آپ بتائیں جائے گے نا آج: عاکل نے سب کو اگنور کرتے ہوئے واصف صاحب سے پوچھا۔

اچھا ٹھیک ہے ہم چلے جائیں گے آج، بیگم میں آپ ، عروہ اور شہاب چلے گے شام میں: واصف صاحب نے پہلے عاکل کو جواب دے کے ان سب کو آگاہ کیا۔

بابا میں تو نہیں جا سکوں گا آج میری بہت اہم میٹنگ ہے: شہاب نے انکار کیا۔

میٹنگ میں دیکھ لوں گا بھائی آپ بھی ساتھ چلے جائیں: عاکل نے جلدی سے کہا۔

اچھا ٹھیک ہے پھر میں شام میں جلدی آجاؤ گا: شہاب نے اٹھتے ہوئے کہا۔ تو واصف صاحب نے ہاں میں سر ہلایا۔

اللہ حافظ اور تم جلدی آجانا : شہاب عاکل کو کہتا باہر نکل گیا۔

باقی سب اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہوئے۔

۔🌺🌺🌺

وہ سب اس وقت سحر کے گھر موجود تھے

واصف صاحب اور شہاب دانش صاحب (سحر کے بابا) کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ جب کے سحر زینب بیگم اور عروہ کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔

سامنے ٹیبل پر لوازمات رکھے ہوئے تھے۔۔۔

تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد واصف صاحب اصل بات کی طرف آئے۔

دانش صاحب میں یہاں ایک ضروری بات کرنے آیا ہوں: انہوں نے بات کا آغاز کیا۔

جی بولیئے: دانش صاحب نے مسکرا کے کہا۔

جب کے سحر نے اپنے ساتھ بیٹھی عروہ کو کہنی ماری اور آنکھوں سے اشارے میں پوچھا کے کون سی ضروری بات اور بدلے میں عروہ نے آنکھوں سے صبر کرنے کا اشارہ کیا۔۔۔

آپ میرے بیٹے عاکل سے تو ملے ہوں گے نا : انہوں نے کہا۔

جی میں ملا ہوں شادی میں ماشاءاللہ بہت اچھا بچہ ہے: انہوں نے دل سے تعریف کی۔

سحر کے کان عاکل کا نام سن کے کھڑے ہوئے۔۔۔۔۔

بس میں اپنے بیٹے عاکل کا رشتہ آپ کی بیٹی کے لیے لایا ہوں: واصف صاحب نے اپنی بات کہی۔

آپ۔۔۔۔۔۔: دانش صاحب کو سمجھ نا آیا کے کیا جواب دیں انہوں نے تو سوچا ہی نہیں تھا کے ایسی کوئی بات ہوگی۔۔۔۔ جب کے سحر یہ بات سن کے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

انکل اگر آپ کو عاکل کے مطابق کوئی چھان بین کروانی ہے تو بیشک کر والیں لیکن ہم بہت ماں سے یہاں آئے ہیں انکار نہیں کرے گا: شہاب نے کہا۔

شہاب بیٹا مجھے عاکل پر بقین ہے۔۔۔۔ میں جب پہلی بار اسے ملا تھا وہ مجھے تب بھی بہت شریف بچہ لگا تھا۔۔۔۔ وہ تو عالم کا بھتیجا بھی ہے میری عالم سے اچھی بات چیت ہے سحر اور عروہ کی دوستی بھی بہت اچھی ہے وہ وہاں آتی جاتی رہتی ہے۔۔۔۔ اور آپ عالم کے بھائی ہیں جب عالم اور اسکے بچے اتنے اچھے ہیں تو آپ لوگ بھی اچھے ہی ہوں گے ۔۔۔۔۔۔ مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن آخری فیصلہ سحر کا ہوگا وہ جو بولے گی میں ہوئی کہوں گا: دانش صاحب نے تفصیل سے جواب دیا۔

تو دیر کس بات کی ہے انکل لڑکی بھی یہیں موجود ہے آپ اس سے پوچھ لیں: عروہ نے مزہ سے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کے سحر کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔

سحر بیٹا: وہ اسے آواز لگاتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔۔۔۔

وہ جو کنفیوز سی بیٹھی تھی ان کی آواز پر دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ جو اب اسی کی طرف آرہے تھے۔

بیٹا تم سن تو چکی ہو کے وہ لوگ کیوں آئے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن میں نے ابھی انہیں کوئی جواب نہیں دیا تمہارا جو بھی فیصلہ ہے تم مجھے بتا دو میں تمہارے ہر فیصلہ کا احترام کرو گا۔

لیکن بیٹا سوچ سمجھ کے جواب دینا مجھے تو عاکل میں کوئی برائی نظر نہیں آتی گھر بار بھی اچھا ہے باقی تمہاری مرضی ہے: انہوں نے پیار سے کہا۔

بابا مجھے شادی نہیں کرنی ۔۔۔۔ عاکل سے تو کیا کسی سے بھی نہیں کرنی۔۔۔۔۔ میں آپ کو چھوڑ کے کہی نہیں جاؤ گی: سحر نم آنکھوں سے انکے سینے سے لگی۔

بیٹا شادی تو ایک نا ایک دن کرنی ہی ہے نا اور مجھے عاکل سے اچھا رشتہ اور کوئی نظر نہیں آرہا۔۔۔۔۔ اور رہی بات مجھے چھوڑ کے جانے کی تو بیٹا یہ تو دنیا کی ریت ہے ایک نا ایک دن ہر بیٹی کو اپنے باپ کا گھر چھوڑ اپنے شوہر کے گھر جانا ہی ہوتا ہے: انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگائے شفقت سے سمجھایا۔

مگر بابا میرے جانے کے بعد آپ بلکل اکیلے ہو جائے گے پھر آپ کا خیال کون رکھے گا۔۔۔۔ اس لیے میں آپ کو چھوڑ کے کبھی بھی کہی نہیں جاؤ گی: وہ سوں سوں کرتے ہوئے ان سے الگ ہوئی۔

میں اکیلا تو نہیں ہوں گا یہاں تمہاری بہت ساری یادیں ہوں گی تمہاری ماما کی یادیں ہوں گی ان کے سہارے میں جیوں گا: ان کی آنکھیں بھی نم ہوئیں۔

مگر بابا۔۔۔۔۔۔۔ بس بیٹا آپ مجھے اپنا فیصلہ بتاؤ۔۔۔۔ آپ کے بابا کو بہت ارماں ہے آپ کی شادی دھوم دھام سے کرنے کا: انہوں نے اسکی بات کاٹتے پیار سے اسے کہا۔

مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے بابا: اسنے مسکراتے ہوئے کہا تو دانش صاحب نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔

مجھے یقیں ہے میری بیٹی وہاں بہت خوش رہے گی: وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے نم آنکھوں صاف کرتے ہوئے باہر نکل گئے۔۔۔۔تو وہ بھی آسودہ سی مسکرادی۔

۔🌺🌺🌺

تو کیا کہا اسنے انکل : ان کے وہاں آتے ہی عروہ نے بےصبری سے پوچھا۔

مبارک ہو آپ سب کو سحر کو کوئی اعتراض نہیں ہے: دانش صاحب نے کہا تو واصف صاحب کھڑے ہوتے ہوئے ان کے گلے لگ گئے۔۔۔۔

شہاب بھی مسکراتا ہوا ان کے گلے لگا۔

میں سحر کو لے کے آتی ہوں: عروہ خوشی سے چہکتی ہوئی زینب بیگم کے گلے لگتی سحر کے کمرے کی طرف بھاگی۔۔

عروہ سحر کو لائی تو زینب بیگم نے اسے اپنے پاس بیٹھا کے اسکا ماتھا چومتے اسے ڈھیر ساری دعائیں دیں۔۔۔

انکے اتنے پیار پر اسکی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔۔ آج اسے اپنی ماں کی کمی بہت محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔ اگر آج وہ ذندہ ہوتی تو بہت خوش ہوتیں۔۔۔۔

تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد انہوں نے جانے کی اجازت چائی اور انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔۔۔۔۔ اور کہا کے جب وہ آئے گے تو تب ہی شادی کی بات بھی کر لیں گے۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺

عاکل تم نے زمین گھس دی ہے : عادل نے عاکل کے مسلسل بے چینی سے چکر کاٹنےپر چوٹ کی۔

یار وہ لوگ ابھی تک آئے کیوں نہیں: عاکل نے اسکی بات اگنور کر اپنی کہی۔

آجائیں گے صبر رکھو۔۔۔۔۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے: عادل نے رمونٹ سے چینل چینج کرتے ہوئے کہا۔

ہاں چاہے اتنی دیر میں پھل سڑ جائے: اسنے جل کے کہا۔

آگئے: ابھی عادل کچھ کہتا کے باہر سے گاڑی کے ہارن کی آواز آئی تو وہ جلدی سے باہر کی طرف مڑا۔

آگئے آپ لوگ: ان کو اندر آتے دیکھ عاکل نے خوشی سے پوچھا۔

آگئے ہیں تبھی نظر آرہے ہیں نا: عروہ نے سیریس انداز میں کہا۔

نہیں میرا مطلب ہے کے کیا بات ہوئی: عاکل نے بے چینی سے پوچھا۔

مت پوچھو یار تمہیں اچھا نہیں لگے گا سن کے: شہاب نے افسوس سے سر ہلایا۔

شہاب کی بات سن کے عادل نے چونک کے عروہ کی طرف دیکھا جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو کہ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔۔ عروہ نے عادل کا سوال سمجھ اسے مسکراہٹ دبا کے آنکھ ماری تو وہ بات سمجھتا ہوا مسکراتے ہوئے سیدھا ہوا۔۔۔

کیا مطلب بھائی: عاکل کو کچھ گڑبڑ لگی۔

بیٹا انہوں نے انکار کر دیا ہے: واصف صاحب نے مسنوئی اداسی سے اسکا کندھا تھپتھپایا ۔

کیا ایسے کیسے وہ انکار کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آخر مجھ میں کمی کیا ہے۔۔۔۔۔ ہنڈسم ہو، پڑھا لگا ہو، اچھا کماتا ہوں، اپنا گھر بار ہے۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر انکی بیٹی سے پیار کرتا ہوں اور کیا چاہیں انہیں: عاکل تو ایسا تھا جیسے ابھی رو دیگا۔۔۔۔۔

سب کو اسکی شکل دیکھ اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل لگی تو سب ایک ساتھ قہقہ لگا اٹھے۔

آپ سب ہنس کیوں رہیں ہیں یہاں میری جان پر بنی ہے: عاکل کچھ زیادہ ہی جزباتی ہو رہا تھا۔

بیٹا یہ سب تمہیں پریشان کر رہے ہیں۔۔۔۔۔تم پریشان نہیں ہو انہوں نے ہاں ہی کی ہے بھلا کوئی میرے بیٹے کو انکار کر سکتا ہے: زینب بیگم کو اس پر ترس آیا تو اسے بتا دیا۔

کیا واقعی ماما: عاکل کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔

ہاں بھئی تو کیا اب تمہیں لکھ کے دیں: عروہ نے طنز کیا۔

ماما میں بہت خوش ہوں لیکن بابا بھائی مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی کے آپ دونوں ایسا مزاق کریں گے: اسنے نروٹھے پن سے کہا۔

ارے بھئی ہماری بیٹی نے کہا تھا تو ہمیں کرنا پڑا: واصف صاحب نے سکون سے کہا۔

مجھے پتہ تھا یہ سب اسکا ہی آئیڈیا ہوگا: عاکل نے یقین سے کہا۔

خیردار جو مجھ سے بدتمیزی کی تو ورنہ ابھی انکل کو فون کرکے انکار کروا دوں گی : عروہ نے انگلی اٹھا کے دھمکی دی ۔

سوری بھابھی جی غلطی ہوگئی لیکن پلیز ایسا نہیں کرے گا: اسنے گویا منت کی۔

اونہہ ڈرپوک: عروہ نے ناک چڑائی۔

اچھا جاؤ اب آرام کرو سب لوگ: واصف صاحب کہتے ہوئے اٹھ کے اپنے کمرے میں چل دئے تو وہ سب بھی باری باری اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔

۔🌺🌺🌺

مسکان گیس واٹ کے کیا ہوا ہے: عروہ نے مسکان کو بتانے کے لئے فون کیا تھا۔

کیا ہوا ہے: مسکان صوفے پر آلتی پالتی مار کے بیٹھی۔

عاکل اور سحر کا رشتہ ہوا ہے:عروہ کے خوش سے بتایا۔

کیا واقعی اتنی جلدی ہو گیا : مسکان کے چہرے پر خوشی دیکھ اسکے ساتھ بیٹھے موؤی دیکھتے دانیال نے اشارے سے بات پوچھی تو مسکان نے بعد میں بتانے کا بول کے چوپ کروا دیا۔

ہاں ہم آج ہی رشتہ پکا کر کے آئے ہیں۔۔۔۔۔ یار کتنا مزہ آئے گا نا شادی میں ۔۔۔ میں تو ٹھیک سے اپنی شادی بھی انجوائے نہیں کر پائی تھی اب عادل اور عاکل کی شادی کھل کے انجوائے کرو گی،۔۔۔۔ : وہ آیکسائیڈڈ ہوئی۔۔۔

ساتھ بیٹھا شہاب اسکی ایکسائڈمنت دیکھ گہرا مسکرایا۔

ہاں یہ تو ہے اور میں تو ساڑی پہنوں گی اور تم: مسکان نے دلچسپی سے پوچھا۔

میں بھی یہی سوچ سہی تھی: عروہ نے اپنی سوچ بتائی اور پر ان دونوں کی نا ختم ہونے والی گفتگو شروع ہوگئیں۔

اور بیچارے انکے شوہر حضرات ان کا منہ تکتے رہ گئے۔۔۔

تقریباً ایک گھنٹے بعد عروہ نے فون رکھا تو شہاب کو خود کو گھورتے ہوئے پایا۔

کیا ہوا: عروہ نے لبوں پر زبان پھیری۔

بہت جلدی نہیں بات ختم ہوگئی: شہاب نے طنز کیا۔

ہیں نا مجھے بھی یہی لگ رہا ہے ابھی تو آدھی باتیں رہ گئی ہیں: عروہ نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کہا۔

ہمم ٹھیک ہے یہ لو فون اور کرتی رہو کسی نا کسی سے باتیں میں تو سو رہا ہوں: شہاب نے ناراضگی سے فون اسکے ہاتھ میں تھمایا اور دوسری طرف کروٹ کرکے لیٹ گیا۔

عروہ نے مسکرا کے اسکی پشت دیکھ اس پر پیچھے سے اپنا حصار بنائے اپنی تھوڑی اسنے کندھے پر رکھ اسکے ساتھ لیٹی۔

دور ہو جاؤ مجھ سے میں سو رہا ہوں: وہ خفگی سے بولا۔

تو میں بھی سو رہی ہوں: وہ معصوم بنی۔

نہیں جاؤ اور فون پر بات کرو: اسکے ناراضگی سے کہنے پر عروہ کو ہنسی آئی لیکن وہ لب دبا کے روک گئی۔

اچھا سوری: اسنے کان میں سرگوشی کی۔

نہیں چاہیئے: اسنے باضاہر سیریس کہا تھا لیکن اندر سے وہ خوش ہورہا تھا کے اسکی بیوی اسے منا رہی ہے۔

پلیز نا مان جائے۔۔۔۔۔ اچھا میں آپ کے ہوتے ہوئے کبھی اتنی لمبی بات نہیں کرو گی آپ کے پیچے کرلوں گی: عروہ نے کہتے ساتھ اپنے لب اسکے گال پر رکھے تو شہاب ایک جھٹکے میں مڑا۔

مجھے یقیں نہیں آرہا تمہاری بات پر۔۔۔۔۔ ایک کس یہاں بھی کرو پھر یقین آئے گا: شہاب نے دوسرا گال آگے کیا۔

اب آپ زیادہ ہی فری ہو رہے ہیں : وہ منہ بناکے بولی۔

تمہارے ساتھ فری ہونے کا حق ہے مجھے: شہاب نے خمار آلود لہجہ میں کہا۔

شہاب مجھے نیند آرہی ہے: اسکے بدلتے لہجہ سے گھبراتی وہ اسے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔

پہلے کس کر کے شروع تم نے کیا تھا اب ختم میں کرو گا: وہ کہتا ہوا اسے سمجھنے کا موقع دئے بغیر اسکے لبوں پر جھوکا۔۔۔۔

عروہ نے اسے دور کرنے کی کوشش کی لیکن جب اسکی کوشش ناکام ہوئی تو اسکی گردن کے گرد حصار قائم کئے خود کو اسکے حوالے کرتی آنکھیں موند لیں۔

۔🌺🌺🌺

اور کر لیتیں باتیں: دانیال عام سے لہجہ میں بولا۔

نہیں باقی کی بعد میں کر لوں گی: مسکان نے گویا احسان کیا۔

ارے آپ نے موؤی روک کیوں دی: T.V پر نظر پڑتے ہی کہا۔

ہم نے ساتھ دیکھنی تھی: دانیال نے یاد کرایا۔

اوہ ہاں : مسکان نے موؤی پلے کی اور اسکے کندھے پر سر ٹھکایا تو وہ اسکے گرد اپنا حصار بنا گیا۔

یار تمہیں بھی اسکی طرح رومنٹک ہونا چاہیے: تھوڑی دیر بعد دانیال نے موؤی میں رومنٹک سین دیکھتے ہوئے مسکان سے کہا۔

لیکن کوئی جواب نا پاکے اسنے سر جھکا کے اسکا چہرہ دیکھا تو وہ سو چکی تھی۔

اسنے T.V بند کیا اور آہستہ سے اسے اپنی باہوں میں بھرے بیڈ پر لاکے لیٹایا اور خود دوسری طرف سے آگے اپنے جگہ پر لیٹ اسے اپنے حصار میں لے کے خود بھی مسکرا کے آنکھیں بند کر گیا۔۔۔۔

اور کچھ دیر بعد خوابوں کی وادیوں میں گھو گیا جہاں وہ اور اسکی ہمسفر تھی۔

۔🌺🌺🌺