Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 11)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 11)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
گھر آکے چھوٹی موٹی رسموں کے بعد مسکان کو دانیال کے کمرے میں بیٹھا دیا تھا۔۔۔۔۔
اسنے سر اٹھا کے پورے کمرے کا جائزہ لینا شروع کیا۔۔۔ تبھی دروازہ کھلنے کی آواز پر دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
دانیال خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا وہ کمرے میں آیا تو سب سے پہلے نظر اپنی متاع جان پر گئی جس نے اسے آتا دیکھ نظریں جھوکا لیں تھیں۔۔۔وہ اس ادا پر دھیما سا مسکرایا۔۔۔
دروازہ بند کرکے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے۔
جیسے جیسے وہ بیڈ کے قریب آرہا تھا ویسے ویسے مسکان کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔۔۔۔ ہتھیلیاں پسینے سے نم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم: وہ اس کے قریب بیھٹتا گھمبیر لہجہ میں بولا۔۔۔
وعلیکم اسلام: مسکان نے اتنی آہستہ آواز میں جواب دیا کے وہ با مشکل سن پایا۔
مسکان میں تم سے کوئی بہت بڑے بڑے وعدے نہیں کرو گا صرف یہی کہوں گا کے زندگی کے ہر موڑ پہ تم مجھے اپنے ساتھ پاؤ گی۔۔۔۔ : دانیال نے گود میں رکھے حنائی ہاتھوں کو تھاما۔۔۔۔تو جھوکی پلکیں اور جھک گئیں۔
مسکان میں پہلی نظر کی محبت پر یقین نہیں رکھتا تھا لیکن جب تمہیں دیکھا تو میں خود اپنی کیفیت سمجھ نہیں پارہا تھا۔۔۔۔۔ تم ہر وقت میرے دل و دماغ میں گھومتی رہتی تھیں۔۔۔۔ تمہاری یہ غزالی آنکھیں جس میں میرا دل پہلی نظر میں ہی ڈوب گیا تھا۔۔۔ تب مجھے پتہ چلا کے ہاں میں محبت میں گرفتار ہو چکا ہوں۔۔۔۔: مسکان نے نظریں اٹھا کے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔ جہاں صرف محبت ، عزت ، احترام، چاہت تھی۔۔۔۔ وہ اظہار محبت کر رہا تھا اور مسکان خود کے اندر ایک سکون اترتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔
یہ لو اپنی منہ دکھائی: دانیال نے جیب سے ایک باکس کھول کے اسکے سامنے کیا۔۔۔
بہت خوبصورت ہے: وہ نازک سے بریسلیٹ کو دیکھ مسکرائی اور ہاتھ آگے کیا
تمہاریے ہاتھ پہ اور بھی خوبصورت لگ رہا ہے: دانیال نے ایک دم اسے اپنے قریب کیا تو وہ اس کے سینے سے آلگی۔۔۔۔
دانیال نے ماتھے پر محبت کی پہلی مہر ثبت کی۔۔۔۔۔ شرم و حیا سے پلکیں جھک گئیں۔۔۔
“نہیں آتا وفاؤں سے ہمیں دامن بچالینا٬
تمہی پر جان دیتے ہیں کسی دن آزما لینا”
کان کی لو کو چومتے سرگوشی کی تو وہ اپنا چہرا اسکے سینے میں چھوپا گئی۔۔۔
دانیال نے اسے اپنی باہوں میں نرمی سے سمیٹ لیا۔۔۔۔ آج اسے اسکی محبت مل گئی تھی۔۔۔۔ محبت اور یقین کا سفر شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
عروہ کا استقبال بہت اچھے سے کیا گیا تھا۔۔۔ مدثر صاحب کی فیملی بھی واصف صاحب کے گھر پہنچ گئی تھی۔۔۔۔ کچھ ایک رسموں کے بعد عروہ کو کمرے میں بھیج دیا۔۔۔
شہاب اپنے کچھ دوستوں کو رخصت کر کے اپنےکمرے کی طرف بڑھا تو عاکل مہر اور حیا کو دروازے کے پاس کھڑا پایا۔۔۔
تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو: شہاب حیران ہوا۔
آپ کا انتظار: حیا نے مزہ سے کہا۔
اور وہ کس لیے: شہاب نے دونوں ہاتھ کمر کے پیچے باندھے۔
کمرے میں جانے سے پہلے آپ جو ہمیں پیسے دیں گے اس کے لیے: مہر نے بتایا۔
ہمممم اور تم یہاں کس لیے کھڑے ہو: شہاب نے عاکل سے پوچھا ۔۔۔
میں آپ کا چھوٹا بھائی ہوں تو میں بھی یہ رسم کرو گا: عاکل نے دانت دیکھائے۔۔۔
یہ لو گڑیا آپ لوگوں کے اور تم جا کے سو جاؤ کل تمہیں آفس جانا ہے۔۔۔: شہاب نے حیا کو پیسے پکڑائے اور عاکل کو کمرے کا راستہ دیکھایا۔
مگر بھائی یہ کیا بات ہوئی میں بھی تو آپکا بھائی ہونا: عاکل نے منہ بتائی۔
اچھا یہ تو اب رونا نہیں : شہاب نے اسکے ہاتھ پر 500 کا نوٹ رکھا اور برابر سے نکلتے ہوئے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔ جب کے مہر اور حیا پہلے ہی اسے منہ چڑاتی ہوئی بھاگ گئی تھیں۔
بس 500سو۔۔۔!!!! چلو کوئی نہیں یہ بھی بہت ہیں: اسنے نوٹ چوم کے جیب میں ڈالا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
۔ ![]()
![]()
![]()
شہاب مسکراتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تو نظر بیڈ پر لہنگا پھیلائے بیٹھی اپنی بیوی پر گئی جو اسی کی منتظر تھی۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے گھبراہٹ سے انگلیاں مڑوڑ رہی تھی۔۔۔۔ دروازہ کھولا پھر بند ہوا۔۔۔۔ قدموں کی آواز جیسے جیسے قریب آرہی تھی اسکی دھڑکنیں اسپیڈ پکڑتی جا رہی تھیں۔
اسلام و علیکم: شہاب اسے نظروں کے حصار میں لیے اسکے قریب بیٹھا۔
اسنے سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیا۔۔۔
شہاب نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے پکڑا جب شہاب کے ہاتھ پر کچھ نم سا گرا۔۔۔
تم رو رہی ہو : اسنے تھوڑی سے پکڑ کے چہرا اپر کیا تو وہ آنکھیں بند کیے آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا عروہ : وہ فکرمند سا تھوڑا اور قریب ہوا۔
عروہ نے بند آنکھوں سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
آنکھیں کھولو : اسنے نرمی سے کہا۔۔۔
عروہ نے آنسو بھری آنکھیں کھولیں تو شہاب کو اپنا دل ان میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔
کیا ہوا کیوں رو رہی ہو؟؟؟۔۔۔ گھر والے یاد آرہے ہیں: اسنے انگلیوں کے پوروں سے آنسوں صاف کیے۔
وہ پھر نفی میں سر ہلاتی اسکے چوڑے سینے پر سر رکھ گئی۔۔۔۔
کیا ہوا عروہ کچھ بتاؤ تو: شہاب نے اسنے گرد حصار باندھا۔
تھوڑی دیر اسکے حصار میں وہ اسکو محسوس کرتی رہی۔۔۔ پر سیدھی ہوئی۔۔۔
آپ کو پتہ ہے یہ شکر کے آنسو ہیں۔۔۔۔۔ میرا ہر آنسو، میرا دل اپنے رب کا شکر گزار ہے کے اسنے مجھے آپ سے نوازہ۔۔۔۔۔ وہ خاموشی سے اسکی سن رہا تھا جو اپنے دل کی بات اسے کر رہی تھی۔
آپ کو تو پتہ بھی نہیں ہوگا کے آپ میری بچپن کی محبت ہو: اسنے اظہار محبت کیا۔۔۔
شہاب تو اس انکشاف پر دنگ رہ گیا کے وہ اسے بچپن سے چاہتی ہے۔۔۔۔
میں نے اپنی محبت کو ہمیشہ پاک رکھا۔۔۔ صرف اپنے رب سے مانگا آپ کو اپنا محرم بناکے۔۔۔۔ میں نے خاموش محبت کی ہے آپ سے۔۔۔۔ میں نے آپکو اس ذات سے مانگا تھا جو سب کو دیتا ہے۔۔۔۔ مجھے یقین تھا کے میرا رب میرے پاک جزبہ سے مانگی دعا رد نہیں کرے گا۔۔۔۔ بہت آزمائشیں آئی شاید وہ میرا امتحان تھا جس میں میں نے صبر سے کام لے کے پاس کیا۔۔۔۔ اور اسکے نتیجے میں مجھے آپ مل گئے۔۔۔: عروہ نے اپنا دل کھول کے شہاب کے سامنے رکھ دیا تھا۔۔۔۔
وہ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ اسکے اظہار پر گہراسا مسکرایا۔۔۔۔ کے اسکی ہمسفر اسے اتنا چاہتی ہے۔۔۔۔ اس نے عروہ کو اپنی باہوں میں قید کر شدت سے ماتھے پر بوسا دیا۔۔۔
وہ اسکی باہوں میں سکون محسوس کر آنکھیں موند گئی۔
تمہیں پتا ہے میں نے کبھی کسی لڑکی کے بارے میں نہیں سوچا تھا لیکن جب سے ہماری شادی کی بات چلی تو میرے دل کی دنیا بدلنی شروع ہوگئی۔۔۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔۔ لیکن جب نکاح ہوا تو مجھے پتہ چل گیا کے مجھے محبت ہوگئی ہے: شہاب کے الفاظ سے وہ خود کو سرشار سا محسوس کر رہی تھی کے وہ بھی اسے محبت کرتا ہے۔۔۔
شہاب نے اسے بھاری دوپٹے کی قید سے آزاد کیا شرم و حیا سے چہرا چھپاگئی۔۔۔
شہاب آہستہ آہستہ اسے اپنی باہوں میں قید کرتا چلاگیا۔۔۔ اور وہ اسکی پناہوں میں کھونے لگی۔۔۔۔۔
آج سے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا تھا۔۔۔محبت کے سفر کا۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
ایک نئی صبح ایک نیا دن۔۔۔۔
اسنے کربٹ لینے کی کوشش کی لیکن مڑا ہی نہیں گیا۔۔۔ اسنے آنکھیں کھول کے دیکھا تو دانیال اسے خود میں بھیجے سکون کی نیند سورہا تھا۔۔۔۔ اسنے ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھا تو گھڑی صبح کے 11 بجا رہی تھی۔۔۔
دانیال اٹھ جائے: اسنے کندھے ہلایا۔
سونے دونا یار: دانیال نے اسے اور خود میں بھیجا۔
دانیال پلیز دیکھیں ٹائم کیا ہورہا ہے انکل آنٹی ویٹ کر رہے ہوں کے ہمارا: مسکان نے پھر کوشش کی۔۔۔
کیا یار سونے بھی نہیں دیتیں تم تو صحیح سے: اسنے خفگی سے آنکھیں کھولیں لیکن چھوڑا ابھی بھی نہیں تھا۔
اونہہہ مجھے تو چھوڑیں فریش ہونا ہے میں نے۔۔۔۔ آج ولیمہ بھی ہے بھول گئے آپ: مسکان نے اسکا حصار توڑنا چاہا تو وہ اور مضبوط کرگیا۔۔۔۔
ٹھیک ہے ایک شرط پہ چھوڑو گا پہلے مورننگ کس دو: دانیال نے گال آگے کیا۔۔۔
شرط لگانے سے گناہ ملتا ہے: مسکان نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا۔۔۔
اور شوہر کو پیار کرنے سے ثواب ملتا ہے: اسنے اسی کے انداز میں کہا۔
پہلے آنکھیں بند کریں: مسکان نے اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔
کرلین بند: دانیال نے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹاکے لبوں سے لگایا۔
مسکان نے جلدی سے اسکے گال پر لب رکھے اور تیزی سے اسکا حصار توڑ کے واشروم میں بھاگ گئی۔
دانیال نے حصار پہلے ہی ڈھیلا کردیا تھا ورنہ اسکا حصار توڑنا آسان کام نہیں تھا۔۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا آٹھ کے بیٹھ گیا۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
کھڑکی سے پردا تھوڑا سا ہٹا ہوا تھا جس کی وجہ سے اندھیرے کمرے میں ہلکی سی روشنی ہو گئی تھی۔۔۔۔
شہاب کی آنکھ گھولی تو نظر اپنے سینے پر سر رکھے سوئی عروہ پر گئی جو سوتے ہوئے معصوم سی بچی لگ رہی تھی۔۔۔
شہاب نے اسکے کرلی گھنگرالے بالوں میں انگلیاں چلائیں تو وہ تھوڑا سا کھسمسائی۔۔۔
نئی زندگی کی پہلی صبح مبارک ہو میری جان: شہاب نے جھوک کے کان میں سرگوشی کی۔
آپ کو بھی : تھوڑی سی آنکھوں کھول کے دیکھا۔۔۔۔
چلو اٹھ جاؤ اب سب انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔: شہاب نے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتی اٹھ کے فریش ہونے چلی گئی۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
اسلام و علیکم: مسکان نے ڈائنگ ٹیبل کی طرف آتے ہوئے کہا۔
وعلیکم اسلام۔۔۔۔ ماشاءاللہ آؤ بیٹا بیٹھو ناشتہ کرو : آسیہ بیگم نے کہا۔
بابا عادل کا میسج آیا تھا وہ ہال کے انتظامات دیکھنے چلا گیا ہے: دانیال نے بیٹھتے ہوئے ناشتہ کرنے حاکم صاحب سے کہا۔۔۔
کیونکہ شہاب، دانیال کے ساتھ انکے والد بھی بہت اچھے دوست ہیں تو دونوں نے ایک ساتھ ولیمہ رکھا تھا۔۔۔۔
ہممم ٹھیک ہے: حاکم صاحب نے سر ہلایا۔
بیٹا پالر کی بوکنگ 4 بجے کی ہے آپ اپنا سامان سارہ رکھ لینا دانیال چھوڑ آئے گا: آسیہ بیگم نے آگاہ کیا۔
جی آنٹی: مسکان نے کہا۔
ارے یہ آنٹی کیا ہوتا ہے ماما بولو دانیال کی طرح: انہوں نے ٹوکا۔
صحیح کہہ رہیں ہیں یہ اب سے آپ ہمیں ماما بابا ہی بولو گئی: حاکم صاحب نے سمجھایا۔
جی ماما بابا: مسکان نے پیاری سی مسکان کے ساتھ کہا تو وہ سب بھی مسکرا دیے۔
۔![]()
![]()
![]()
آپ نے میری منہ دکھائی تو دی نہیں: عروہ شیشے کے سامنے کھڑی بالوں میں کنگھا کر رہی تھی جب شہاب کو واشروم سے شرٹ پہنتے نکلتا دیکھ کہا۔
شہاب نے بیڈ کی رائٹ سائد کی دراز سے ایک لمبا سا باکس نکالا اور اسکے سامنے آیا۔
یہ رہی تمہاری منہ دکھائی: اسنے باکس کھول کے اسکے آگے کیا جس میں ایک جوبصورت سا چین میں ہاٹ شیپ لوکٹ جس کے بیچ میں S.U لکھا تھا۔
شہاب یہ تو بہت پیارا ہے: عروہ نے ہاتھ میں لیا۔
میری پیاری سی بیوی کے لیے پیارا سا تحفہ۔۔۔۔۔: شہاب نے محبت سے کہا۔
پہنادیں: عروہ نے اسکی طرف بڑھایا۔۔۔ اسنے تھام لیا۔
عروہ نے بال آگے کرے تو شہاب نے لوکٹ پہناکے پیچے سے ہی اپنے حصار میں لیا۔
شہاب ہم ایک ساتھ مکمل لگ رہے ہیں: عروہ نے شیشے میں اسکا اور اپنا عکس دیکھتے ہوئے کہا۔
پرفیکٹ کپل : شہاب نے گھمبیر آواز میں کہہ کے اسکی گردن پر لب رکھے۔۔۔۔
شہاب نیچے چلیں دیر ہو رہی ہے : وہ گھبرائی۔۔۔۔
ہممم چلو اسکا شرمایا گھبرایا روپ آنکھوں میں بسائے اسے ساتھ لیئے نیچھے بڑھ گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
اسلام و علیکم: ان دونوں نے سلام کیا۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔: واصف صاحب اور زینب بیگم نے پر جوش جواب دیا۔
میرے بچے کتنے پیارے لگ رہے ہیں اللہ نظرے بد سے بچائے: زینب بیگم نے عروہ کو پیار کیا۔
عادل اور عاکل نظر نہیں آرہے: شہاب نے انہیں نا پاکے پوچھا۔
عادل تو ہال کے انتظامات دیکھنے گئے ہوئے ہے اور میں یہاں ہوں : عاکل صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔
اور عروہ کیسی ہو: عاکل نے خوشگوار لہجے میں حال پوچھا۔
ارے یہ عروہ کیا ہوتا ہے مانتی ہوں عمر میں چھوٹی ہوں لیکن اب رشتے میں تو بڑی ہوں نا تو بھابھی بولو مجھے: عروہ نے حکم دیا جیسے۔
ہی ہی ہی ویری فنی۔۔۔۔ میں اور تمہیں بھابھی لوں کبھی نہیں: عاکل نے جیسے مزاق میں بات اڑائی۔
تایا ابو کیا میں نے کچھ غلط بول دیا ہے: عروہ نے معصومیت سے انہیں دیکھا۔
نہیں بیٹا آپ نے کچھ غلط نہیں بولا بلکے ٹھیک بولا ہے آپ رشتے میں بڑی ہو تو بھابھی ہی بولنا چاہیے: واصف صاحب نے اسکی سائد لی۔
مگر بابا یہ کیا بات ہوئی: عاکل نے حیرت سے کہا۔
اگر مگر کچھ نہیں عروہ صحیح کہہ رہی ہے: زینب بیگم نے آنکھیں دکھائیں۔
کوئی صحیح نہیں کہہ رہی کیوں بھائی: عاکل نے شہاب سے پوچھا جو عاکل کی حالت پر ہنسی دبا رہا تھا۔
عاکل عروہ کی بات ٹھیک ہے: شہاب کے کہنے پر عاکل نے آنکھیں بڑی کرکے اسے دیکھا۔
مطلب ایک دن بھی نہیں ہوا ابھی اسے یہاں آئے ہوئے اور آپ سب اسکی سائد ہو گئے: عاکل نے سامنے بیٹھی عروہ کو گھورا جو جلا دینے والی مسکراہٹ سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
پہلے کوئی تھا تمہاری سائد جو اب ہوگا: نے مزاق اڑایا۔۔۔۔
بلکل بھابھی جی آپ کے ہوتے ہوئے ایسا ہوئی نہیں سکتا: اسکے بھابھی جی پر زور دیا۔۔۔ تو سب ہنس پڑے۔
اچھا چلو میں ناشتہ لگواتی ہوں آپ سب آجاؤ: زینب بیگم سب کو کہتی اٹھ گئی تو سب نے ہاں میں سر ہلایا۔
۔![]()
![]()
![]()
دلہنوں کو عادل پالر سے لے آیا تھا۔۔۔ اور
اس وقت سب ہال میں موجود تھے۔۔۔
عالم صاحب بھی اپنے مہمانوں کے ساتھ اگئے تھے۔۔۔۔ سب آکے دونوں کپلز کو مبارکباد اور تحفے تحائف دے رہے تھے۔۔۔
عروہ بلیک میکسی پہنے بڑی آنکھوں پر اسموکی آئز میک اپ کیئے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
شہاب بلیک تھری پیس میں ملبوس چہرے پر نرم مسکراہٹ سجائے جھنجھنلائی ہوئی عروہ کے ساتھ سٹیج پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
کیا ہوا تمہیں: اسنے سامنے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
یہ دلہن بنا بھی کتنا مشکل کام ہے میں تو تھک گئی ہوں ایک جگہ بیٹھے بیھٹے: وہ سخت بے زار ہوئی۔
بس تھوڑی دیر کی بات ہے: شہاب نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو وہ سمجھنے کے انداز میں سر ہلا گئی۔۔۔!!!
دانیال پلیز نہیں کریں نا: دانیال ہر تھوڑی دیر بعد کوئی معنی خیز بات اس کے کان میں کرتا جس پر مسکان شرما کے سر جھوکا لیتی۔۔۔
دانیال نے وائٹ تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا جب کے مسکان نے وائٹ رنگ کی میکسی، سوفٹ سا میک اپ کئے۔۔۔۔ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
اچھا نہیں کرتا : اسکی رونی شکل دیکھ کے اسکو تر آہی گیا۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
ہیلو: وہ کسی سے بات کر رہی تھی جب پیچھے سے عاکل کی آواز آئی۔
(سب لڑکوں نے تھری پیس سوٹ پہنے تھے جو ان پر بہت جچ رہے تھے)!!!!
جی کوئی کام تھا: سحر نے سنجیدگی سے پوچھا۔ جو اورنج رنگ کی لائٹ سے کام کی میکسی پہنے بالوں کا جوڑا بنائے ہوئی تھی۔
نہیں کام تو نہیں تھا میں سوچ رہا تھا کے اگر آپ کا نم۔۔۔۔۔۔۔۔
روکو احد کے بچے ابھی بتاتی ہوں: عاکل کی بات پوری ہوئی نہیں تھی جب احد اور حیا لڑتے ہوئے پہنچ گئے۔
ہائے کہاں ہیں میرے بچے: احد نے اردگرد دیکھا۔
میں بتاتی ہو نا : حیا اسکی طرف بڑھی تو سحر نے اسکا ہاتھ پکڑا۔
(حیا نے باربی فروک کے ساتھ لائٹ سا میک اپ، بالوں کی پونی ٹیل کیئے چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی)۔
روکو اور یہ بتاؤ کے لڑائی ہو کیوں رہی ہے: سحر نے وجہ جاننا چاہی ۔
یہ۔۔۔ یہ جلتا ہے مجھ سے ایک آنٹی میری تعریف کر رہی تھی تو انکو معصوم شکل بناکے بولتا ہے!!!! آنٹی اسکی شکل خوبصورت شکل پر نہیں جائے گا یہ دن میں خوبصورت جبکے رات میں اس پر چڑیل کا سایہ آجاتا ہے: حیا نے اسکی نکل اتر کے دکھائی۔
تو کچھ غلط تو نہیں کہا نا۔۔۔۔۔ بلکے شکر کرو یہ نہیں بولا کے تم خود چڑیل ہو: احد نے ایسے کہا جیسے احساس کیا ہو نا بول کے۔
حیا کے تو آگ ہی لگ گئی۔۔۔۔
تیری تو میں۔۔۔۔۔
اچھا بس حیا چلو ہم عروہ اور مسکان کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں۔۔۔ چلو:حیا کچھ بولتی اس سے پہلے سحر اسے لے گئی۔۔۔
جبکے بیچارا عاکل اپنی بات بیچ میں رہ جانے کا افسوس کرتا رہ کیااور وہ سب چلے گئے۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
سنے: مہر جو اسٹیج کی طرف جارہی تھی کسی کے پکارنے پر روکی۔
آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں: مقابل نے کہا۔۔
سوری میں آپکو نہیں جانتی: مہر نے سخت لہجہ میں کہا اور جانے کے لیے مڑ گئی۔۔۔
(مہر نے پرپل رنگ کی فروک پہنی ہوئی تھی ہوئی تھی، بالوں کا جوڑا کئے جس سے چند شرارتی لٹیں چہرا چھو رہی تھیں، اوپر سے اسکی معصوم اسے سب سے الگ بنا رہی تھی)
میں علی ہو: مقابل نے اسکے سامنے آتے نام بتایا۔
تو میں کیا کرو: مہر کو ناگوار گزرا اسکا یوں روکنا۔
میں عالم انکل کے بزنس فرینڈ کا بیٹا ہوں: وہ زبردستی فری ہوا۔
دیکھیں آپ کسی کے بھی بیٹے ہوں مجھے کوئی لینا دینا نہیں ہے: وہ کہتی بغیر کچھ سنے آگے بڑ گئی۔۔۔۔
کیوٹ: وہ مسکرا۔۔۔۔۔
دور کھڑے عادل نے یہ منظر لال آنکھوں سے دیکھا تھا وہ تن فن کرتا مہر کے سر پر پہچا۔
ادھر آؤ: عادل نے اسکا ہاتھ پکڑا اور سائد پر لے گیا۔
یہ کیا بد تمیزی ہے: مہر کو غصہ آیا وہ پوری محفل میں اس سے چھپتی رہی تھی۔۔۔ لیکن اب وہ اسکے سامنے تھا۔
کون تھا وہ اور کیا کہہ رہا تھا: عادل نے سخت لہجہ میں پوچھا۔
کون کس کی بات کر رہے ہیں آپ: مہر کو سمجھ نا آیا۔
وہی جس کے ساتھ تھوڑی دیر پہلے باتیں کر رہی تھیں: اسنے دانت پیس کے کہا۔
آپ کو مطلب۔۔۔۔ میں نے کبھی پوچھا کے عادل آپ کہاں ہوتے ہیں ، کس سے باتیں کرتے ہیں، کہاں جاتے ہیں،۔۔۔۔ نہیں نا تو آپ کو بھی مطلب نہیں ہونا چاہئے: ایک آنسو آنکھ سے لڑک کر گال پہ گرا۔۔۔۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن اس شخص کے سامنے کمزور پڑ جاتی تھی ۔۔۔۔ وہ کہتی تیزی سے سب کی طرف بڑھ گئی ۔
عادل نے ہاتھ کا مکہ بناکے پاس رکھی ٹیبل پر مار کے غصہ کم کرنا چاہا۔۔۔۔ جب غصہ کم نا ہوا تو تیر قدموں ہال سے باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد۔۔۔۔۔آخر کار ولیمہ اختتام ہوا تو سب نے گھر کے لی۔۔۔۔
سحر اپنے بابا کے ساتھ اپنے گھر روانہ ہوئی۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
آسماں نے کالی چادر اوڑھ رکھی تھی۔۔۔۔ اندھیرے نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔۔۔۔ چھوٹا سا چاند، چمکتے ہوئے ستاروں میں گھرا ہوا تھا۔۔۔۔
ہر سو سناٹا تھا آج کی تقریب کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں تھکے ہوئے سو رہے تھے جب کے وہ۔۔۔۔ٹیرس پر کھڑا سگریٹ انگلیوں میں دبائے جو انگلیوں میں ہی سلگ رہی تھی۔۔۔ سامنے اس دشمن جان کے گھر پر نظریں جمائے سوچوں میں گم تھا۔
وہ سگریٹ پیتا نہیں تھا لیکن جب الجھنیں حد سے زیادہ بڑھ جاتی تو کچھ کش لگا لیتا تھا۔۔۔۔
اسے اس کے رویے نے الجھا دیا تھا۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کے گیا ہو رہا ہے۔۔۔ اسنے ہر طریقے سے ، ہر طرف سے وجہ ڈھونڈی لیکن کچھ ایسا نہیں ملا جس سے وہ ایسے ریئکٹ کرے۔۔۔۔
وہ بھی تو اس سے محبت کرتی تھی۔۔۔۔ اسکی ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیا ہوا جو وہ دور بھاگ نے لگی۔۔۔۔چپ نے لگی۔۔
آہ۔۔۔ : سگریٹ نے جب انگلی جلائی تو وہ ہوش میں آیا۔۔۔۔ ایک آخری نظر اسکی بالکونی پر ڈالتا نیچھے اتر گیا۔۔۔
” تیرے خیالوں سے فرصت نہیں ملتی،
اک پل کے لیئے ہمیں راحت نہیں ملتی،
یوں تو سب کچھ ہمارے پاس ہے،
بس دیکھنے کو آپ کی صورت نہیں ملتی!!!
۔![]()
![]()
![]()
