397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 15)

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

عادل جان بوجھ کے رات دیر سے گھر آیا تھا۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کے اس سے کوئی کچھ پوچھے اس لڑکے کے بارے میں۔۔۔۔ وہ علی کے بارے میں سب معلوم کروا چکا تھا۔۔۔۔ علی میں کوئی ایسی برائی نہیں تھی جس کی وجہ سے انکار کیا جائے۔۔۔۔

وہ انہیں سب باتوں سے بچ رہا تھا وہ نہیں بتانا چاہتا تھا کسی کو کچھ بھی۔۔۔۔

اب بھی وہ صبح ہوتے ہی نکل گیا تھا پولیس اسٹیشن جانے کے لیئے۔۔۔۔

اس کے دماغ بھی ہر وقت صرف مہر کو کھونے کا ڈر سوار تھا۔۔۔۔ وہ اسے کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ اسکا عشق تھی۔۔۔ وہ جب سے محبت سے آشنا ہوا تھا جب سے بس مہر سے ہی محبت​ کی تھی۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺

مسکان کی آنکھ کھولی تو نظر اپنے برابر میں لیٹے دانیال پر گئی جو سکون کی نیند سورہا تھا۔۔۔۔۔

اسے ایک دم رات کا واقعہ یاد آیا تو اٹھ کے بیٹھی۔۔۔۔۔

رات کو میں وہی سو گئی تھی۔۔۔۔اور دانیال نے مجھے اٹھایا بھی نہیں۔ ۔۔۔ اب پتہ نہیں​ دانیال نے کھانا کھایا بھی ہوگا یا نہیں : اسکو فکر لاحق ہوئی۔۔۔۔

دانیال اٹھیں صبح ہوگئی ہے آپ کو آفس جانا ہے نا: اسنے دانیال کو ہلکا سا ہلایا۔

ہممم پانچ منٹ اور : نیند میں کہتے اسنے کروٹ بدلی۔

دانیال آپ نے رات کو کھانا کھا لیا تھا نا: اسنے پھر ہلایا۔

اونہہ یار سونے بھی نہیں دیتیں تم تو بہت ظالم بیوی ہو : دانیال نے برا سا منہ بنا کے اسے دیکھا۔

آپ نے کھانا کھایا تھا نا رات کو: وہ اسکی بات نظر انداز کرتے ہوئے بولی۔

نہیں: اک لفظی جواب دے کے وہ بیک گراؤنڈ سے ٹیک لگا کے بیٹھا۔

کیوں نہیں کھایا مجھے جگا دیتے: مسکان فکرمندہوئی اور شرمندہ بھی کے وہ اسکی وجہ سے بغیر کھانا کھائے سوگیا۔

ایک بات بتاؤ جب میں نے کاکروچ کو مار دیا تھا پھر تم نیچے کیوں نہیں اتریں: دانیال کو جاننے کا تجسس ہوا۔

آپ نے اسے تو مار دیا تھا لیکن اسکی لاش تو نہیں ہٹائی تھی نا۔۔۔۔

اور میں نے آپ کو کتنی آوازیں دیں لیکن آپ نے میری ایک آواز نہیں​ سنی۔۔۔۔۔

اور تو اور شاور لے کے بھی اتنی دیر سے نکلے کے مجھے نیند آگئی اور میں وہیں سو گئی۔: مسکان انگلیاں مڑوڑتے ہوئی بولی۔

کیا مطلب یار تم ایک مرے ہوئے کاکروچ سے بھی ڈرتی ہو ۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا تم کتنی ڈرپوک ہو: دانیال نے قہقہ لگایا۔

ہی ہی ہی بہت ہنسی آرہی ہے آپ کو۔۔۔۔ اگر آپ کے سامنے شیر آجائے نا!!!! تو پوچھو آپ سے : مسکان نے خفگی سے کہا۔

ایک منٹ۔۔۔ شیر اور کاکروچ کا کیا لینا دینا۔۔۔۔ شیر سے تو ہر کوئی ڈرتا ہے۔: دانیال کو سمجھ نہیں آیا کے وہ کہنا کیا چاہتی ہے۔

بلکل اسی طرح نائنٹی نائن پوائٹ نائن فیصد لڑکیاں​ کاکروچ تو کیا کاکروچ کی لاش سے بھی ڈرتی ہیں : اسنے مطلب سمجھایا جو کچھ کچھ دانیال کے سمجھ میں آگیا۔

او اچھااااا: اسنے ہونٹوں کو o شیپ دی۔

کہاں چلیں: اسے اٹھتا دیکھ دانیال نے اسکا ہاتھ پکڑا۔

فریش ہونے پھر آپ کے لیے ناشتہ بھی تو بنانا ہے نا۔۔۔۔ اب نے رات کو بھی کچھ نہیں​ کھایا تھا : مسکان نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکلا اور واشروم کی طرف بڑھ گئی۔

ہممم ویسے بھی اب تو پیٹ میں چوہے بھی گودنا شروع ہوگئے ہیں: اسنے پیٹ پر ہاتھ رکھ بے بسی سے کہا تو وہ مسکراتی ہوئی واشروم میں گھس گئی۔

کاکروچ کی لاش۔۔۔۔۔ افففف میری ڈرپوک بیوی: اسنے مسکرا کے سر جھکا۔

۔🌺🌺🌺

عروہ جب صبح نیچے آئی تب اسے پتہ چلا کے عادل تو آج بھی جلدی چلا گیا ہے لیکن اسنے سوچ لیا تھا کے آج وہ ہر حال میں عادل سے بات کر کے رہے گی تبھی پوری بات پتہ چلے گی۔۔۔۔

وہ ہال میں بیٹھی سوچ رہی تھی جب عاکل اسکے سامنے آکے بیٹھا۔۔۔۔۔

تم آج آفس نہیں گئے: عروہ نے اسے بیٹھتے دیکھ پوچھا۔

جاؤ گا لیکن تھوڑی دیر سے : عاکل نے مسکرا کے جواب دیا۔

اچھا بھابھی جی ایک کپ چائے مل سکتی ہے: عاکل نے پوچھا۔

نہیں: عروہ نے ٹکا سا جواب دیا۔

کیوں: عاکل نے حیرت سے پوچھا۔

میری مرضی یوں: عروہ نے مزے سے کہا۔ لیکن انداز ایک دم سیریس تھا۔

اچھا ایک گلاس پانی تو مل سکتا ہے نا ۔۔۔۔۔ دیکھو اب منا نہیں کرنا ۔۔۔۔ پانی پلانے سے ثواب ملتا ہے: اس سے پہلے وہ منا کرتی عاکل نے ثواب کا بول کے بات ہی ختم کردی۔۔۔

لاتی ہوں : وہ اسے گھورتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

اسکے جانے ہی عاکل نے پھرتی سے عروہ کا فون اٹھایا۔۔۔۔ وہ تو شکر ہے کے اسنے لوک نہیں لگایا ہوا تھا تو اسے آسانی ہوگئی۔۔۔ کونٹک میں جاکے سحر کا نمبر سرچ کرنے لگا۔۔۔ بار بار نظر کچن کی طرف بھی جا رہی تھی کے کہیں وہ آنا جائے۔۔۔۔

سحر کا نمبر سامنے آتے ہی جلدی سے اپنے نمبر پر سینڈ کیا۔۔۔۔ لیکن نمبر جاہی نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔

افففف ہو یہ نیٹوک: وہ بڑبڑایا۔ کے اتنی دیر میں عروہ پانی لے کے آئی تو اپنا موبائل عاکل نے ہاتھ میں دیکھ ٹھٹکی۔۔۔

تم کیا کر رہے ہو میرے فون کے ساتھ: وہ عاکل کے سر پر پونچی۔

عاکل جو نمبر سینڈ نا ہونے کی وجہ سے اسکی طرف متوجہ تھا اسکی آواز پر کڑبڑا کیا اور فون ایک دم ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا۔

ہائے الله۔۔۔۔۔ عاکل ابھی میرا فون گر جاتا تو۔۔۔۔ وہ تو الله کا شکر ہے کے اسنے بچا لیا۔: اسے فون عاکل کے ہاتھ سے جھپٹا۔

ویسے تم کر کیا رہے تھے میرے فون کے ساتھ: عروہ نے شکی نظروں سے دیکھا۔۔

وہ۔۔۔۔ وہ میں ت۔۔ تو کچھ نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔ بس ایسے ہی دیکھ رہا تھا کہ کیا کیا ہے تمہارے فون میں: عاکل اسکے ایک دم آجانے سے گھبرا گیا تھا۔

تو اتنا کیوں گھبرا رہے ہو جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو: عروہ نے آنکھیں چھوٹی کیں۔

نہیں تو ایسا تو کچھ نہیں ہے : وہ سنبھل کے بولا۔

ہممم لو پانی: عروہ نے گلاس اسکے سامنے کیا۔۔۔۔

اسنے گلاس تھام ایک ہی سانس میں پانی حلق میں اتارا

یہ کیا ہے۔۔۔۔ تم سحر کا نمبر کیوں لے رہے تھے: عروہ نے واٹس ایپ چیک کی تو حیران ہوئی۔

می۔۔۔ میں تو نہیں لے رہا تھا: عاکل ہکلایا۔

میری شکل پر پاگل رکھا ہے یا میں اندھی ہو جو دیکھ نہیں رہا مجھے: عروہ نے بھنویں سوکیڑیں۔

پاگل لکھا نہیں لیکن تم ہو: اسنے بات گھومنے کی کوشش کی جو عروہ کے سامنے ناممکن تھی۔

اسکا جواب میں تمہیں بعد میں دوں گی۔۔۔۔ پہلے یہ بتاؤ کے تم سحر کا نمبر کیوں لے رہے تھے اور اس بار میں کوئی بہانا نہیں سنوں گئی۔۔۔۔: عروہ نے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔

ایسے ہی بس۔۔۔۔ وہ کافی اچھی لڑکی ہے تو سوچا​ بات کرلوں: عاکل نے آنکھیں پٹپٹا کے​ کہا۔

چلو یہ تو ہوگیا جھوٹ, اب سچ بتاؤ: عروہ نے آنکھیں دکھائیں۔

ہاااااا : اسنے ٹھنڈی سانس خارج کی اور بتانے کا فیصلہ کیا کیوں کے عروہ تو سچ جانے بغیر پیچھا نہیں چھوڑنے والی تھی۔

مجھے پسند ہے وہ: عاکل نے بلآخر بودیا۔

پسند یا محبت: عروہ نے پھر پوچھا لیکن گھورنا ابھی بھی بند نہیں کیا تھا۔

محبت: عاکل سحر کو سوچتا مسکرا کے بولا۔

اچھا تو تم اسکا نمبر لے کے کیا کرتے: عروہ اب پرسکون پوئی۔ وہ جانتی تھی شاید کے وہ کیا جواب دے گا۔

اسے بتاتا کے میں اس سے محبت کرتا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں: عاکل نے فٹ سے کہا۔

اور تمہیں لگتا ہے کے وہ مان جاتی: عروہ نے ایک آئبرو اچکائی۔

پتہ نہیں: اس بار وہ تھوڑا سا اداس ہوا۔

کمال کرتے ہیں آپ دیور جی۔۔۔۔ آپ کو اتنا بھی نہیں پتہ: عروہ نے جیسے مزاق اڑایا۔

جیسے تمہیں تو بہت پتہ ہے نا : عاکل نے طنز کیا۔۔۔

وہ میری بسٹی ہے: عروہ نے جتلایا۔

تو پھر تمہیں بتاؤ کے مجھے کیا کرنا چاہیے: عاکل نے معصوم شکل بنائی۔

تمہارا نام عاکل کس نے رکھا!!!! جب کے تم میں عقل نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔۔۔۔۔ بھئی لڑکی کو پرپوز کرنے سے پہلے یہ تو جان لیتے کے وہ کس نیچر کی لڑکی ہے۔۔۔۔۔

اور میری دوست تو ہے بھی ایک پکی مشرقی لڑکی جو اپنے بابا کے کہنے پر ہی شادی کرے گی جس سے وہ چاہیں کے ۔۔۔

وہ تو شکر ہے میں نے تمہیں پکڑ لیا نہیں تو تم نے تو پہلے سے ہی رجیکٹ ہونے کا پروگرام بنا لیا تھا۔۔۔۔: عروہ نے آخر میں افسوس سے سر ہلایا۔

تو اب میں کیا کرو : عاکل نے پریشانی سے پوچھا۔

تم کچھ نہیں کرو۔۔۔ اب اس میں بھی مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا: عروہ نے بےزاریت سے کہا ۔

اس میں بھی کا مطلب: عاکل سمجھا نہیں تھا۔

کچھ نہیں : وہ کہہ کے اٹھ کھڑی ہوئی تو عاکل نے بھی کندھے اچکا دیے۔

اور ہاں مسٹر بےوقوف کسی کو واٹس ایپ پر میسج بھیجنے سے پہلے ڈیٹا یا وائی فائی کھولا جاتا ہے۔۔۔۔ سمجھے : عروہ نے جاتے جاتے مڑ کے کہا اور پھر واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔

اف توبہ عاکل۔۔۔۔:عاکل کو جب اسکی بات سمجھ آتی تو ہاتھ سر پر مارا۔

۔🌺🌺🌺

اسلام و علیکم۔۔۔۔ ممانی جان کیسی ہیں آپ اور کیا کر رہیں ہیں : حیا نے لان میں بیٹھی سبزیاں کاٹتی نورین بیگم سے پوچھا۔

وعلیکم اسلام۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں بیٹا اور کھانا بنانے کی تیاری کر رہی ہوں : نورین بیگم نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔

لائیں میں آپ کی ہیلپ کرواتی ہوں: حیا نے انکے سامنے سے سبزیاں اٹھائیں۔

ارے نہیں بیٹا میں یہ کر لوں گی تم رہنے دو: نورین بیگم نے مناکیا۔

ارے امی کرنے دیں نا ویسے بھی کوئی کام تو کرتی نہیں ہے اسی بہانے کچھ کر تو رہی ہے: احد جو اپنے کمرے کی بالکونی پر کھڑا ہوا تھا انہیں دیکھ بولے بغیر نا رہ سکا۔

اور تم گھر پر فارغ ہوتے ہوئے بھی ممانی جان کی مدد نہیں کروا رہے کتنے شرم کی بات ہے: حیا نے حساب برابر کیا۔

کام ہوتا ہے مجھے اب تمہیں دیکھا کے تو نہیں کرو گا نا: احد کو آگ لگی۔

ممانی جان آج کا پورا دن میں آپ کے ساتھ گزاوں گی اور کھانا بھی کھا کے جاؤ گی: حیا نے احد کی بات اگنور کی تو وہ جیسے جل بھن گیا۔

کیوں نہیں بیٹا ضرور: انہیں نے پیار سے کہا۔۔۔۔

اس سے زیادہ پیار احد سے دیکھا نہیں جا سکتا تھا اس لیے جلتا بھنتا کمرے میں چلا گیا۔

حیا نے اوپر دیکھا تو اسے وہاں نا پہ کے مسکرا دی….

۔🌺🌺🌺

ہیلو عادل کیا کر رہے ہو اس وقت: عروہ کال یس ہوتے ہی بولنا شروع ہوئی۔

کام کر رہا ہوں : عادل جو کوئی فائل ریڈ کررہا تھا اسے بند کی۔

کب تک فری ہوگے: عروہ نے پوچھا۔

پتہ نہیں: مختصر جواب آیا۔۔۔

رات کو کب گھر آؤ گے: عروہ نے ایک اور سوال پوچھا۔

پتہ نہیں: پھر وہی جواب۔

مجھے تم سے مہر کے بارے میں کچھ بات کرنی ہے: عروہ جانتی تھی وہ ایسے ہاتھ نہیں آئے گا۔

کیا بات کرتی ہے۔۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا: وہ جو سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا مہر کے نام پر سیدھا ہوا۔

فون پر نہیں بتا سکتی ملو گے تو بتاؤ گی: عروہ نے کہا۔

میں ابھی گھر آتا ہوں: عادل نے جلدی سے کہا۔۔۔۔

وہ پہلے ہی بہت پریشان تھا مہر کو لے کے اب عروہ کی بات سے اور بھی پریشان ہوگیا تھا کے پتہ نہیں عروہ ایسی کیا بات کرنا چارہی ہے جو فون پر نہیں ہو سکتی۔

نہیں تم تو بزی ہونا: عروہ نے طنز کیا۔

نہیں میں اب فری ہوگیا ہو۔۔۔۔ بس تھوڑی دیر میں گھر آتا ہوں پر بیٹھ کے بات کریں گے: عادل نے سنجیدگی سے کہا۔

نہیں گھر پر یہ بات کرنا صحیح نہیں ہوگا۔۔۔۔ ایک کام کرو تم پہلے گھر آؤ پر ہم کہیں باہر چلیں گے۔۔۔۔۔ تاکے سب کو لگے کا کے ہم ایسی گھومنے گئے ہیں۔۔۔۔ کیونکہ یہ بات کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیں۔۔۔: عروہ بھی سیریس ہوئی,.

ہممم ٹھیک ہے : عادل نے ہامی بھر اور فون رکھ اپنا چھوٹا موٹا کام نمٹانے لگا۔

یا اللہ!!! ساری مشکلایں حل فرماں۔۔۔۔ : عروہ فون بند کرتی نیچے چل دی۔۔۔

۔🌺🌺🌺

تائی امی میرا آئسکریم کھانے کا بہت دل کر رہا ہے: عروہ زینب بیگم کے پاس بیٹھی ان سے باتیں کر رہی تھی۔

تو شہاب کو بلالو اور چلی جاؤ: انہوں نے حل بتایا۔

نہیں نا تائی امی وہ صبح بول کے گئے تھے کے آج تھوڑی دیر سے آئے گے کسی کلائنٹ کے ساتھ میٹنگ ہے: اسنے شہاب کی صبح بولی گئی بات بتائی۔

اچھا چلو عاکل آجائے تو اسکے ساتھ چلی جانا: انہیں نے مسکرا کے کہا۔

ارے بیٹا تم آج کافی جلدی آگئے: زینب بیگم نے ہال میں داخل ہوتے عادل کو دیکھ کے کہا۔

جی ماما بس کام کم تھا تو سوچا جلدی گھر چلا جاتا ہوں: عادل صوفے پر انکے ساتھ بیٹھا۔

شکر ہے اللہ آپ کا آپ نے میری سن لی اور آئسکریم کھانے جانے کے لیے عادل کو بھیج دیا۔: عروہ نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کے شکر ادا کیا۔ تو اسکی حرکت پر زینب بیگم مسکرادیں۔

عادل تم فریش ہو جاؤ پھر ہم آئسکریم کھانے چلیں گے: عروہ نے عادل کو دیکھ جوش سے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتا اپنے کمرے میں چل دیا۔

وہ فریش ہوکے آیا تو عروہ اسی کے انتظار میں کھڑی تھی۔

وہ دونوں زینب بیگم کو اللہ حافظ بولتے ہوئے نکل گئے۔

۔🌺🌺🌺