397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 14)

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

(کچھ ماہ پہلے).

وہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنی تیاری پر ایک نظر ڈال رہی تھی۔۔۔۔۔ عادل کے بہت اسرار پر وہ اسکے ساتھ آج لنچ پر جارہی تھی۔

اسنے کبٹ میں سے سینڈلس نکالیں اور صوفے پر بیٹھ کے پہنے لگی۔۔۔۔

ابھی اسنے ایک سینڈل پہنی تھی کے بیڈ پر رکھا فون بجنا شروع ہوگیا۔۔۔۔۔ دوسری سینڈل اٹھائے بیڈ تک آئی۔۔۔۔

عادل کی کال آتے دیکھ اسنے کال یس کرکے فون کان سے لگایا اور ایک ہاتھ سے سینڈل پہنے لگی۔۔۔

میں تیار ہوں بس آرہی ہوں باہر: مہر نے فون کان سے لگاتے ہوئے فورن کہا۔

سوری مہر لیکن مجھے ایک ضروری کام آگیا ہے اس لیے ہم پھر کبھی جائیں گے۔۔۔۔ پلیز یار ناراض نہیں ہونا: عادل کی شرمندہ سی آواز ائی۔۔۔

کوئی بات نہیں۔۔۔۔ میں سمجھ سکتی ہوں آپ کا کام ہی ایسا ہے کوئی بھی کام کبھی بھی آسکتا ہے: مہر نے اسکی بات سمجھتے ہوئے کہا۔

ہممم پھر بات ہوگی,,, بائے: عادل نے فون رکھا تو اسنے بے دلی سے سینڈلس اتارے۔

وہ سینڈلس رکھ کے ڈریسنگ کی طرف بڑھتی کے اتنے میں میسج بیل بجھی۔۔۔۔ اسنے بیڈ پر رکھا فون اٹھایا۔۔۔۔۔ کسی انون نمبر سے میسج آیا تھا۔۔۔۔ اسنے میسج کھولا تو پیروں پلے سے زمین نکل گئی۔۔۔!!!!

اس نمبر سے تین تصویریں آئی ہوئی تھیں۔۔۔ ایک تصویر میں کوئی لڑکی عادل کے گلے لگی ہوئی تھی جب کے عادل کے ہاتھ لڑکی سے الگ تھے لیکن اتنا کس نے دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ تو عادل اور لڑکی کو ایک ساتھ دیکھ کے ساکت ہوگئی تھی ، تو دوسری میں وہ عادل کے کندھے پر ہاتھ رکھے گاڑی میں بیٹھ رہی تھی، اور تیسری میں وہ ایک رسٹورینٹ میں بیٹھے ہوئے تھے عادل کے ہاتھ پر اس لڑکی کا ہاتھ رکھا ہوا تھا۔۔۔ جسے دیکھ مہر پتھر کی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔

نہیں جھوٹی ہیں یہ ساری تصویریں۔۔۔ عا۔۔۔ عادل میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے وہ تو مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں نا!!!! آنسو آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔

ٹون ٹون۔۔۔۔۔ اتنی دیر میں پھر میسج آیا۔۔۔ اسنے جلدی سے وہ میسج کھولا تو۔۔۔۔۔

“”اگر تصویروں پر یقین نہیں ہو تو اس اڈرس پر آجاؤ اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ۔۔۔۔ کیونکہ آنکھوں دیکھے پر تو یقین آئے گانا”!!!۔۔۔۔۔

نیچے ایک رسٹورینٹ کا اڈرس لکھا ہوا تھا۔۔۔۔ اور ساتھ ٹیبل نمبر بھی۔۔۔۔

اڈرس دیکھ کے اسے جانے کی بے چینی ہوئی لیکن وہ شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔ وہ کبھی اکیلی گھر سے باہر نہیں نکلی تھی تو اب کیسے جائے،،، جب کے دل میں بےچینی ہی بےچینی​ تھی۔۔۔۔ دل ڈر رہا تھا کے اگر یہ سب سچ ہوا تو۔۔۔۔

اسنے ہمت کر کے جانے کا فیصلہ کیا۔۔۔ آنسو صاف کرتی خود کو نارمل کرتی اپنا بیگ اٹھا کے نیچے آئی۔۔۔۔۔

اسنے شاہین بیگم کی تلاش میں نظریں دوڑائیں تو وہ اسے کہی نہیں دکھیں۔۔۔۔ انہیں کہی نا پاکے اسکے قدم انکے کمرے کی طرف بڑھے۔۔۔۔

امی میں عروہ کی طرف جارہی ہوں تھوڑی دیر میں آجاؤ گی: اسنے دروازے میں کھڑے ہی بتایا۔۔۔۔

ٹھیک ہے: انکے جواب پر وہ دروازہ بند کر جلدی سے باہر کی جانب بڑھی۔۔۔

رکشے والے کو پتہ بتاتی رکشے میں بیٹھی۔۔۔۔۔ رسٹورینٹ اسکے گھر سے 15 منٹ کی دوری پر تھا۔۔۔۔ رسٹورینٹ کے سامنے رکشے روکا اسنے اتر کے پیسے دیے۔۔۔

ہر اٹھتے قدم کے ساتھ اسکی دھڑکنیں بھی تیز ہو رہی تھیں۔۔۔ اسنے رسیپشن سے ٹیبل نمبر پوچھا تو اسنے اوپر ٹیرس پر دائیں جانب سب سے لاسٹ والی بتائی۔۔۔ تو وہ اوپر کی جانب تیز قدموں سے بڑھی۔۔۔۔

اسنے سیڑھیوں کے پاس رکھ کے دائیں جانب دیکھا تو عادل اسی تصویر والی لڑکی کے ساتھ بیٹھا کچھ کھا رہا تھا۔۔۔۔۔

اسکی آنکھیں ایک دم سے جلنے لگیں وہ بائیں جانب کی ایک ٹیبل پر آکے بیٹھ گئی وہ ایسے بیٹھی تھی کے وہ لوگ اسے ساف نظر آرہے تھے لیکن وہ لوگ اسے نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔۔

آنسو آنکھوں سے نکل رہے تھی منظر دھندلا رہا تھا اسنے کاپتے ہاتھوں سے فون اٹھا کے عادل کو کال کی۔۔۔۔ وہ دیکھ رہی تھی دو بیل پر بھی اسنے فون نہیں اٹھایا تھا۔۔۔۔

ہیلو مہر سب خیریت ہے: تیسری بیل پر فون اٹھائے عادل نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔۔

کہاں ہیں عادل آپ: مہر کو اسکا فکر کرنا دکھاوا لگا۔

میں نے بتایا تھا کے میں کسی کام سے جارہا ہوں۔۔۔۔ : عادل نے نرمی سے کہا۔

اوکے : مہر نے بغیر کچھ سنے فون رکھ دیا۔۔۔۔

آنسوں تواتر سے اسکی آنکھوں سے بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ لوگ اٹھ کے نیچے چلے گئے۔۔۔۔

مہر نے جلدی سے اپنی آنکھیں ساف کیں اور ٹیرس سے نیچے دیکھا۔۔۔۔ جہاں رسٹورینٹ کے باہر کا منظر صاف نظر آرہا تھا۔۔۔۔

وہ لڑکی عادل کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ رہی تھی ۔۔۔۔ گاڑی جاچکی تھی لیکن مہر کی نظریں ابھی بھی اسی جگہ پر تھی جہاں سے گاڑی گئی تھی۔۔۔۔

اسنے بےدردی سے آنسو صاف کیے اور سیڑھیاں اترتی تیزی سے رسٹورینٹ سے باہر نکلی۔۔۔۔ باہر نکل کے گھر کے لیئے رکشہ کیا۔۔۔۔

وہ گھر آئی تو سد شکر کے ہال میں کوئی نہیں تھا وہ سیدھے اپنے کمرے میں آئی۔۔۔۔ دروازہ بند کر غم و غصے سے صوفے پر بیگ پھیکا اور اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ کر رونے لگی۔۔۔۔

اور اس کے بعد کئی بار اسی نمبر سے تصویریں آتی رہیں۔۔۔۔۔ اور یہ بھی لکھا ہوتا تھا !!!! (عادل صرف میرا ہے، مجھ سے محبت کرتا ہے، وہ تمہیں صرف دھوکا دے رہا ہے)۔۔۔۔

اور وہ بچاری معصوم پوری بات جانے بغیر صرف اپنے دیکھے پر یقین کر کے عادل سے بدگمان ہونے لگی۔۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺

(حال).

وہ ساری بات عروہ کو بتاکے ہاتھوں میں چہرا چھوپائے رو دی۔۔۔۔

عروہ نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔ جب وہ تھوڑی پرسکون ہوئی تو اس سے الگ ہوئی۔

عروہ میں کیا کرو اب دل عادل کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچنے ہی نہیں دیتا۔۔۔: اسنے افسردگی سے کہا۔

کیا تم نے یہ سب عادل کو بتایا۔۔۔ نہیں نا!!!! مہر تم نے تصویر کا ایک رخ دیکھ کے عادل کو جج کرلیا۔۔۔۔ : عروہ نے افسوس سے کہا۔

لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے میں اسے کیسے جھٹلاؤ: رونے کی وجہ سے اسکی آواز بھاری ہوئی۔

صحیح کہہ رہی ہو تم۔۔۔ اس میں تمہاری بھی کوئی غلطی نہیں مہر۔۔۔۔ کیونکہ انسان ہمیشہ اسی بات پر یقین کرتا ہی جو اسنے دیکھا ہو اور تم نے بھی بس وہی کیا۔۔۔ لیکن مہر تم اپنے دل پر ہاتھ رکھا کے پوچھو کیا عادل ایسا ہو سکتا ہے!!!…. کیا وہ تمہیں دکھوکا دے سکتا ہے۔۔۔۔۔: عروہ نے نرمی سے سمجھایا۔

دل مان نہیں رہا اور دماغ وہ منظر بھول نہیں رہا: اسنے بےبسی سے کہا۔

“تمہیں پتہ ہے مہر؛ محبت کو اندھا کیوں کہا جاتا ہے کیونکہ محبت میں محبوب کی کوئی غلطی نظر نہیں اتی، ہر جھوٹ سچ لگتا ہے، یہاں تک کے آنکھوں دیکھا بھی جھٹلا دیا جاتا ہے کیونکہ آنکھوں دیکھا ہمیشہ سچ نہیں ہوتا، محبت میں​ محبوب​ کی ہر بات پر لبیک کہا جاتا ہے!!! لیکن اسکے لیے شرط ہے کے محبت سچی ہو،” ۔۔۔

اب یہ تمہیں سوچنا ہے کے تمہاری محبت سچی ہے یا پھر تم نے محبت کو سمجھا ہی نہیں ہے۔۔۔

مہر میں یہ نہیں کہہ رہی کے تم غلط ہو لیکن. تم نے عادل سے اس بارے میں بات نا کرکے خود اپنی رائے قائم کی یہ غلط ہے۔۔۔۔: عروہ نے تحمل سے سمجھایا۔۔۔۔

مہر کو اب اپنے رویہ پر شرمندگی ہو رہی تھی ۔۔۔ اسکو عادل سے بات کرنی چائیے تھی۔۔۔۔ وہ بے قصور بھی تو ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔وہ کتنی بار اپنی غلطی پوچھتا رہا ۔۔۔۔ بےروخی کی وجہ پوچھی لیکن اسنے ہر بار اپنے لب سی لیے تھے….

عروہ اب میں کیا کروں: مہر نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑے۔

عادل سے بات کرو اسے بتاؤ یہ سب۔۔۔: عروہ نے مشورہ دیا۔

میں۔۔۔۔ عروہ میں عادل کو کچھ نہیں بتا سکتی میری ہمت نہیں ہے۔۔۔۔: مہر نے سر جھکایا۔

تو میں بات کرلیتی ہوں: عروہ نے جلدی سے کہا۔

نہیں پلیز تم ان سے کوئی بات نہیں کرنا: وہ اٹکتے ہوئے بولی۔

تم خود بات نہیں کر رہیں مجھے نہیں کرنے دے رہیں تو پھر پتہ کیسے چلے گا کے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے: عروہ نے گھور کے کہا۔

خیر پتہ تو میں لگا لوں گئی تم یہ نمبر مجھے دو اور تصاویریں جب میں تم سے مانگو تو بھیج دے نا۔ : عروہ نے اسکے فون سے نمبر اپنے فون میں سیو کیا۔

اسکا نام عائشہ ہے۔۔۔۔ جب میں عادل کے ساتھ تمہاری مہندی کے کپڑے ٹیلر سے لے نے گئی تھی تب بھی عادل نے اسے گھر تک چھوڑا تھا۔۔: عروہ نے نام بتانا ضروری سمجھا۔

مطلب تمہیں​ اسکے گھر کا پتہ ہے : عروہ نے آنکھیں بڑی کریں۔

نہیں میں نے اتنا غور نہیں کیا تھا جب: مہر نے آہستہ سے بتایا۔

ہمم کوئی بات نہیں انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ اور تم یہ زیادہ جزباتی کوئین نہیں بنو سب ٹھیک ہوگا۔۔۔۔ اچھا اب میں چلتی ہو دیر ہو رہی ہے: عروہ بیڈ سے اتری۔۔۔۔

کھانا کھا کے جانا : مہر نے روکنا چاہا۔۔۔۔

بہن میں اب شادی شدہ ہوگئی ہوں اپنے میاں کے ساتھ ہی کھانا کھاتی ہوں اور ویسے بھی میرے میاں جی آنے والے ہوں گے۔۔۔ انہیں آتے ہی میری صورت دیکھنی ہوتی ہے: عروہ نے فخر سے کہا۔

ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی: مہر مسکرائی۔۔۔۔۔ عروہ سے بات کر کے اسے اچھا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔

ہممم اللہ حافظ: عروہ اسے مل کے کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔

بجو آپ جارہی ہیں کھانا کھا کے جائے گانا: حیا جو ہال میں بیٹھی T.Vدیکھ رہی تھی عروہ کو نیچھے آتے دیکھ کہا۔

نہیں گڑیا پھر کبھی، ابھی دیر ہو رہی ہے: عروہ اس سے ملتی اپنے گھر کے لیے نکل گئی۔

۔🌺🌺🌺

مسکان۔۔۔۔۔ مسکان یار کہاں ہو: دانیال گھر آیا تو مسکان کو کہی نا پاکے آواز لگائی۔

جی جی میں یہاں ہوں : مسکان اپنے دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتی کچن سے باہر آئی۔

یار ایک کپ کافی تو بنا دو سر میں درد ہو رہا ہے: دانیال گرنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھا۔

جی میں ابھی بناتی ہوں جب تک آپ فرش ہو جائیں۔۔۔ : مسکان کہہ کے جانے لگی جب اسکی آواز آئی۔

گھر میں اتنا سناٹا کیوں ہے ماما بابا کہاں ہیں: دانیال نے پوچھا۔

ماما بابا تو کسی کہ شادی پر گئے ہوئے ہیں : مسکان نے بتایا۔

اچھا۔۔۔ میں فریش ہو لوں جب تک تم کافی بناؤ: وہ اسکا گال تھپتھپاتا کمرے کی طرف بڑھ گیا تو وہ بھی مسکراتی ہوئی کافی بنانے چل دی۔۔۔۔

آہ ه ه ه ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔: وہ کمرے کے دروازے پر ہی پہنچا تھا کے مسکان کی چیخ سن کے الٹے قدم کچن کی طرف بھاگا۔۔۔۔۔

کیا ہوا مسکان تم ٹھیک ہو: اسنے کچن میں آکے دیکھا تو مسکان شلف پہ چڑی ہوئی تھی۔۔۔ اسنے فکرمندی سے پوچھا۔

کا۔۔۔۔۔۔۔کاکروچ: اسنے ہکلاتے ہوئے کہا۔

کیا کاکروچ تم اس کی وجہ سے اتنی زور سے چیخی تھیں۔۔۔۔۔ پتہ ہے تمہاری چیخ سن کے میں کتنا گھبرا گیا تھا: دانیال نے ڈانٹا۔

آپ مجھے بعد میں ڈانٹ لیجیئے گا ابھی تو اسے ماریں مجھے کافی بنانی ہے: اسنے جیسے منت کی۔

حد ہے ۔۔۔۔ اب کس سے ماروں: دانیال جھنجھولایا۔

وہ وہاں جھاڑو رکھی ہے اس سے ماریں: مسکان نے ایک طرف کونے میں رکھی جھاڑو کی طرف اشارہ کیا۔

دانیال نے جھاڑو اٹھائی اور دو تین بار اسکو ماری تو وہ مر گیا۔۔۔۔

آجاؤ نیچے مر گیا ہے وہ بیچارہ: دانیال نے اسے ویسے ہی بیٹھے دیکھ کہا۔

اسکے بھی تو بیوی بچے ہوں گے آپ نے اسے مار ڈالا اب انکا کیا ہوگا: وہ کاکروچ پر نظریں جمائے بلکل سیریس انداز میں بول رہی تھی۔۔۔اسے اب افسوس ہو رہاتھا۔۔۔

دانیال نے اسے اچھمبے دیکھا جیسے اسے اسکی دماغی حالت پر شک ہورہا ہوں۔۔۔

بیگم تم نے مروایا ہے اسے اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے سمجھی۔۔۔۔۔۔ اور اب نیچے اترو کیا بچوں کی طرح اوپر بیٹھ گئی ہوں: دانیال اسے کہتا کمرے کی طرف چلا​گیا۔

مسکان ہوش میں آئی تو دیکھا دانیال تو وہاں سے جا چکا ہے لیکن کاکروچ کی لاش تو وہی پڑی ہے نا…… دانیال اسے تو ہٹاکے جائیں ۔۔۔ سن رہے ہیں آپ: مسکان نے اونچی آواز میں بولا لیکن وہ تو فریش ہونے جا چکا تھا تو اسکی آواز کیسے سن تا۔۔۔۔۔

وہ تقریباً آدھا گھنٹے بعد شاور لے کے نکلا۔۔۔۔ کمرے میں مسکان کو نا پاکے باہر بڑا۔۔۔۔ وہ باہر بھی کہی نہیں تھی تو وہ اسے دیکھتا ہوا کچن میں آیا اور یہ دیکھ کے حیران ہوگیا کے وہ ابھی تک شلف پر بیٹھی ہوئی ہے بلکے اب تو سو بھی گئی ہے بیٹھے بیٹھے ہی۔۔۔۔

مسکان۔۔۔۔۔۔۔ ہممم: دانیال نے آواز دی تو اسنے نیند میں ہی ہممم کیا۔

وہ آگے بڑھا اور اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔۔۔۔۔ وہ شاید گہری نیند میں اتر گئی تھی تبھی نہیں اٹھی اور نا ہی اسنے اٹھایا۔۔۔۔

اسنے کمرے میں لاکے بہت آرام سے اسے بیڈ پر لیٹایا اور خود بھی اسکے برابر میں لیٹ کے اسکا سر اپنے سینے پر رکھ خود بھی آنکھیں موند گیا۔۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺

ارے آگئے آپ : عروہ گھر آئی تو شہاب آچکا تھا۔

جی محترمہ میں تو آگیا لیکن آپ کہاں گھومتی پھر رہی ہیں: شہاب کو زینب بیگم نے بتا دیا تھا لیکن پھر بھی وہ عروہ سے پوچھ رہا تھا۔

وہ میں پھوپھو جان کے گھر گئی تھی اس لڑکے کے بارے میں کچھ ڈیٹیلز لینے لیکن وہاں جاکے پتہ چلا کے پھوپھا جان تو گھر پر ہیں نہیں تو میں مہر سے باتیں کرنے بیٹھ گئی اور وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔: عروہ نے آرام سے بتایا۔

ہممم اوکے : شہان نے سر ہلایا۔

آپ فریش ہو جائیں میں کھانا لگواتی ہوں: وہ کہتی کچن میں چلی گئی تو شہاب بھی اٹھتا کمرے میں فریش ہونے چلا گیا۔

اسکا سارا دھیان عادل اور مہر کی طرف تھا۔۔۔ وہ جلد از جلد عادل سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ وہ ایک طرف کی بات سن کے کسی کو جج نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔ کھانے کے دوران بھی اسنے عادل کا بہت ویٹ کیا لیکن وہ آیا ہی نہیں۔۔۔۔

وہ رات کو کتنی ہی دیر اسکا انتظار کرتی رہی لیکن جب وہ نہیں آیا تو سونے چلی گئی۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺