397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 1)

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

سورج اپنے آبوتاب سے چمک رہا تھا۔ پرندے اپنے اپنے آشیانوں سے نکل کر کھلے آسماں تلے چہچہاتے پھر رہے تھے۔

لیکن ان میں کوئی تھی جو دنیا جہاں سے بے خبر اپنے کمرے میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔

عروہ یار اٹھ جاؤ امی کب سے تمہارے اٹھنے کا انتظار کر رہی ہیں پتہ ہے آج کتنا کام ہے: مسکان کمرے میں داخل ہوتی انچی آواز میں بولی۔

مگر عروہ میڈم کے تو کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

عروہ کو ٹس سے مس نا ہوتے دیکھ مسکان سمجھ گئی کے وہ ایسے نہیں​ اٹھے گی وہ ڈریسنگ کے پاس گئ اور وہاں سے ہیر برش اٹھا کے زور سے زمین پر پھینکا اور ساتھ تیز سے چلائی،

عروہ تمہارا فون۔۔۔۔۔

ایک یہی تو کمزوری تھی اسکی، اسکا جان سے عزیز فون جس کو اگر ایک خروچ بھی آجائے تو وہ پورا گھر سر پہ اٹھا لیتی تھی۔

پھر بس یہ سنے کی دیر تھی اور عروہ میڈم کی ساری نیند بھگ سے اڑگئ۔ 120کی اسپیڈ سے بیڈ سے نکل کے مسکان کے پاس پہنچی۔

کہاں ہے میرا فون، کیسے پھینک دیا، کہاں سے پھینک دیا اس معصوم کو: وہ زمین پر فون تلاش کرتے ہوئے بولی۔

یہ لو اپنا فون اور اب تم آٹھ گئی ہو تو نیچے آجاؤ امی انتظار کر رہی ہیں: مسکان نے نیچے گرا ہوا برش اٹھا کے اس کے ہاتھ میں تھمایہ

اور کمرے سے باہر دوڈ لگادی۔

عروہ نے ہاتھ میں پکڑا برش اس کی طرف مارا لیکن بروقت اس کے روم سے نکل جانے پر اس کی بچت ہوگئی۔

گھڑی پر ایک نظر ڈال کے مسکان پر دو حرف بھیجتی اپنے کپڑے لے کے باتھ روم میں گھس گئی۔

۔🌺🌺🌺🌺

جمیل صاحب آپ چاہتے ہیں کہ یہ کونٹرک ہمیں ہی ملے:وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے سنجیدگی سے سوال کر رہا تھا۔

اوف کورس سر میں یہی چاہتا ہو کہ یہ ہمیں ہی ملے: جمیل صاحب بغیر اس کے لہجے پر غور کیے مسکرا کے بولے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ کونٹرک ہمیں ہی ملے تو وہ اس پرزنٹیشن سے تو نہیں مل سکتا: وہ فائل ان کے سامنے کرتا آہستہ مگر سخت لہجہ میں بولا۔

جب انہوں نے فائل پڑھی تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

سوری سر غلطی سے ہوگیا میں ابھی ٹھیک کردیتا ہوں: انہوں ہے اپنی غلطی تسلیم کی۔

ہمممم دھیان سے اسی غلطی پھر نہیں ہونی چاہیے اب آپ جاسکتے ہیں: انہوں جانے کہ کے وہ لیپ ٹاپ کھول کے بیٹھ گیا۔

وہ ایسا ہی تھا غصہ کم کرتا تھا۔ لیکن جب غصہ کرتا تھا تو سب کاپ جاتے۔

جمیل صاحب کو گئے ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی جب دروازہ کھولااور واصف سکندر بارعب شخصیت کےمالک​ اندر آئے۔

ارے بابا آپ یہاں: وہ اپنے باپ کے احترام میں کھڑا ہوا۔

کیوں صاحبزادے ہم نہیں آسکتے یہاں: مسنوئی غصہ سے گھورتے ہوئے اسکے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھے۔

بابا یہ آپ کا اپنا ہی آفس ہے آپ کو بھلا کون روک سکتا ہے: وہ مسکرایا۔

ہممم بس اپنے ایک دوست سے مل کے جارہا تھا تو سوچا اپنے بھلکڑ بیٹے کو یاد دلاتا جاؤ کے آج تمہارے چاچو کے گھر ڈنر پر جانا ہے تو جلدی گھر آجانا: انہوں نے آنے کی وجہ بتائی۔

۔🌺🌺🌺

اوہاں اچھا کیا آپ نے یاد دلا دیا ورنہ میرے تو دماغ سے ہی نکل گیا تھا: اسنے ہاتھ سر پر مارا۔

میں جنتا تھا: وہ کھڑے ہوئے۔

ارے بابا آپ جارہے ہیں بیٹھے تو میں کچھ کھانے کے لیے منگواتا ہوں: وہ بھی ساتھ کھڑا ہوا۔

برخوردار ہم مہمان نہیں ہیں: انہوں نے آئی برو اچکائی۔

سوری بابا : چہرے پر وہی مسکراہٹ جو اپنوں کے لیے آتی تھی۔

اچھا اب میں چلتا ہوں اور ہاں شام کو یاد سے آجانا جلدی: وہ جاتے ہوئے پھر سے یاد کرانا نہیں بھولے۔

اوکے بابا: اسنے سر ہلایا ۔

ایک کپ چائے بھیجو: ان کے جانے کے بعد چائے کا بول کے سر کرسی کی پشت سے ٹکا کے آنکھیں موندلیں۔

۔🌺🌺🌺🌺

حیا روک جاؤ اور میرا ڈریس واپس کرو: گھر میں ایک شور مچا ہوا تھا حیا آگے آگے اور مہر پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی۔

میں نہیں دونگی آج یہ ڈریس میں پہن کے جاؤ گی: مدثر صاحب جو صوفے پر بیٹھے​چائے پی رہے تھے حیا انکے پیچھے کھڑی ہوئی۔

بابا اس سے بولیں کہ میرا ڈریس مجھے واپس کرے یہ میں نے اپنے لیے نکالا تھا: مہر انکے پاس رونی صورت بناکے بیٹھ گئی۔

نہیں بابا یہ ڈریس میں پہنوں گی: وہ باضد ہوئی۔

بیٹا یہ تو آپ پر اچھا بھی نھیں لگے گا اس لیے یہ آپ آپی کو دے دو: مدثر صاحب نے اپنی چھوٹی شہزادی کو اپنے پاس بٹھاتے ہوئے پیار سے بہلایا۔

سچی بابا کیا یہ واقعی مجھ پہ اچھا نہیں لگے گا: اسنے ڈریس اپنے ساتھ لگایا۔

بلکل سچ بلکے آپ پر تو وہ لیمن والا ڈریس بہت پیارا لگے گا جو آپکی آپی نے آپکو برتھ ڈے پہ دیا تھا: ویسے تو وہ ہر سوٹ میں ہی گڑیا لگتی تھی لیکن انہیں وہ اس سوٹ میں کانچ کی گڑیا لگتی تھی۔

ہممم آپ ٹھیک کہ رہے ہیں میں اس میں زیادہ پیاری لگوگی۔ یہ لیں آپی آپکا ڈریس یہ مجھ سے زیادہ آپ پر ہی اچھا لگے گا: وہ مہر کے گال کھینچ کر اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔

اسکے گال کھینچنے پر مہر اور بابا مسکرادیے۔

وہ دونوں ایسی ہی تھیں بڑی خاموش تو چھوٹی چلبولی سی۔

کچن کے دروازے پہ کھڑی شاہیں بیگم اپنی چھوٹی سی دنیا کو دیکھ کے مسکرادیں اور اس سب کے لیے دعاگو​ ہوئی۔🌺