397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 12)

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

تائی امی دیکھیں گھیر بن گئی۔۔۔۔ ٹیس کرکے بتائیں کیسی بنی ہے: عروہ نے آج گھیر بنائی تھی۔انکی شادی کو دس دن ہوگئے تھے۔وہ گھیر لے کے انکے پاس لان میں ہی آگئی تھی۔

باؤل لے کے ٹیس کی۔۔۔۔

ہممم بہت اچھی بنی ہے تمہارا تحفہ مجھ پر ادهار رہا: انہوں نے دل سے تعریف کی۔

شکریہ تائی امی۔۔۔۔اور میں نے دو باولز میں بھی نکال دی ہے ایک امی کی طرف کا اور ایک پھوپھو کا: عروہ نے بتایا۔

ہاں ٹھیک ہے بیٹا ابھی عاکل آئے گا آفس سے تو پھر بھجوا دوں گی میں: انہوں نے کہا۔

تائی امی کیا میں جاکے دے آؤ اس طرح سب سے بھی مل لوں گی: عروہ نے اجازت مانگی۔

ٹھیک ہے بیٹا تم جانا چاہتی ہوتو چلی جاؤ: انہوں نے خوش دلی سے اجازت دی۔

میں جلدی آجاؤ گئی: اسنے کہا اور تیار ہونے چلدی۔۔۔ تو وہ بھی گھیر کی طرف متوجہ ہوئی۔

۔🌺🌺🌺

باجی کچھ لوگ آئے ہیں وہ صاحب جی سے ملنا چاہتے ہیں: واچ میں نے آکے شاہیں بیگم کو عطلاح دی جو صوفے پر بیٹھی کچھ پرانی کتابیں دیکھ رہی تھیں۔

حیا اپنی دوست کے گھر گئی ہوئی تھی اس لیے شاہین بیگم وہ پرانی کتابیں دیکھ رہی تھیں تاکے انہیں ہٹاسکیں ورنا یہ کام حیا کا تھا۔۔۔۔

اچھا چلو میں دیکھتی ہوں: وہ اسکو لیے دروازے تک گئیں۔

ارے آپ آئے نا اندر: شاہین بیگم نے انہیں شادی میں دکھا تھا تبھی پہچان گئیں۔۔۔

آئے بیٹھئے میں ابھی انکو بولاتی ہوں: وہ مہمانوں کو ڈرائنگ روم میں بیٹھاتی مدثر صاحب کو بولانے چلدیں۔

اسلام و علیکم: مدثر صاحب نے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا۔

وعلیکم اسلام کیسے ہیں آپ مدثر صاحب: مقابل نے مصافہ کیا۔

میں ٹھیک لیکن معزرت میں پہچانا نہیں: انہوں نے بیٹھتے ہوئے کہا۔

آپ کیسے پہچانے گے ہم پہلی بار جو مل رہے ہیں۔۔۔۔ میں رحمان ہوں عالم صاحب کا بزنس فرینڈ ہوں ، یہ میری وائف ہیں اور یہ میرا بیٹا علی : انہوں نے تعروف کرایا۔

اچھا اچھا: مدثر صاحب نے سر ہلایا۔

میں بزنس ٹور پر گیا ہوا تھا شہر سے باہر تو عالم صاحب کی بچیوں کی شادی میں آ نہیں سکا لیکن میری بیوی اور بیٹا گئے تھے۔۔۔۔ وہاں میرے بیٹے کو آپکی بڑی بیٹی پسند آگئی۔۔۔ جب ہمیں پتہ چلا کے وہ عالم صاحب کی بھانجی ہے تو ہم فورن آپ کے گھر آگئے : وہ سیدھا مدے کی بات پر آئے۔

میں کچھ سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں: مدثر صاحب نے شاہین بیگم کی طرف دیکھا جو نا سمجھی سے انہیں ہی دیکھ رہی تھیں۔

بھائی صاحب ہم آپ کی بیٹی کا ہاتھ اپنے بیٹے کے لیے مانگنے آئے ہیں: مسسز رحمان نے مسکرا کے کہا۔

مگر اس طرح اچانک: مدثر صاحب کو سمجھ نہیں آیا کے کیا بولیں۔۔

رشتے تو ایسے ہی آتے ہیں اچانک۔۔۔۔۔آپ بیٹی کو تو بلائے: مسسز رحمان نے شاہیں بیگم سے کہا تو انہوں نے مدثر صاحب کو دیکھا۔۔۔۔ مدثر صاحب نے سر کے اشارے سے مہر کو لانے کے لیے کہا۔۔۔ تو وہ اٹھ گئیں۔

مہر بیٹا جلدی سے تیار ہوکے نیچے آؤ مہمان آئے ہیں: مہر جو اپنے کمرے میں بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی انکی جلدبازی پر انہیں دیکھنے لگی۔

کون سے مہمان آئے ہیں امی: مہر نے انہیں دیکھا جو الماری سے اسکے کپڑے نکال رہیں تھیں۔

تمہارا رشتہ لے کے کچھ لوگ آئے ہیں​ تم جلدی سے یہ کپڑے پہن کے نیچے آجاؤ جب تک میں کچھ کھانے کا دیکھتی ہوں: وہ کپڑے اسکے ہاتھ میں تھاماتی اسے ساکت چھوڑ کمرے سے باہر نکل گئیں۔

مہر تو رشتے کی بات پر جیسے ساکت ہوگئی تھی پاؤ ہلنے سے انکاری تھی۔۔۔ اسنے تو کسی اور کا سوچا بھی نہیں تھا وہ تو جب سے محبت سے آشنا ہوئی تھی جب سے بس عادل کا ہی سوچا تھا۔۔۔۔۔

مہر بیٹا جلدی کرو: شاہین بیگم کی آواز پر اسنے خالی خالی نظروں​ سے اپنے ہاتھ میں تھامے کپڑوں کو دیکھا پھر ناچاہتے ہوئی بھی مردہ قدموں سے واشروم میں گھس گئی۔۔

۔🌺🌺🌺

عروہ سیدھے مدثر صاحب کے گھر آئی تھی۔۔۔ وہ اندر آئی تو ڈرائنگ روم میں سے مدثر صاحب کے علاوہ بھی کچھ انجانی سی آوازیں​بھی آرہی تھیں۔۔۔۔وہ شاہین بیگم کو ڈوھنڈتی ہوئی کچن میں آئی تو وہ ملازمہ کے ساتھ کام کروا رہی تھیں۔

کیا کر رہی ہیں آپ پھوپھو : عروہ نے باؤل ٹیبل پر رکھا۔

ارے عروہ بیٹا تم۔۔۔ کیسے آنا ہوا: انہوں نے مسکرا کے دیکھا۔

وہ میں نے گھیر بنائی تھی تو سوچا آپ کو چکادوں : عروہ نے باؤل انکے سامنے کیا۔

ماشاءاللہ بہت اچھی بنائی ہے : انہوں نے چکتے ہوئے کہا۔

شکریہ پھوپھو۔۔۔ اور یہ کون آیا ہے: عروہ نے سوال کیا۔

بیٹا یہ عالم بھائی کے بزنس فرینڈ ہیں مہر کا رشتہ لے کے آئے ہیں اپنے بیٹے کے لیے: انہوں نے لوازمات ٹرے میں رکھتے ہوئے بتایا۔

او اچھا۔۔۔ تو مہر کہاں ہے: عروہ نے پوچھا۔

وہ اپنے کمرے میں ہے تیار ہو رہی ہے بیٹا تم جاکے دیکھو زرہ اور نیچے بھی لے آنا اسے میں یہ لے کے جارہی ہوں مہمانوں کے پاس: انہوں نے کہا تو عروہ سر ہلاتی مہر کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

مہر تم تیار ہوگئیں پھوپھو نیچے بلا رہی ہیں: عروہ کمرے میں آئی تو مہر بے دلی سے دوپٹہ صحیح کر رہی تھی۔۔۔

ہممم ہوگئی: اسنے کمزور سی آواز میں کہا۔

کیا ہوا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے: عروہ فکرمند ہوئی.

ہاں میں ٹھیک ہوں چلو چلیں: مہر اپنی حالت عروہ پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ بھول گئی تھی کے سامنے عروہ ہے جو چہرا پڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ہممم ٹھیک ہے چلو: عروہ نکو مہر کی آنکھوں میں چمکتی ہوئی نمی نظر آرہی تھی لیکن بعد میں پوچھنے کا سوچا اور اسے ساتھ لیئے باہر بڑھ گئی۔۔۔

اسلام و علیکم: عروہ نے سلام کیا جب کے مہر سر جھکائے کھڑی تھی۔جب کے علی کی نظر مہر پر تھی۔۔۔

ارے عروہ بیٹا کیسی ہو آپ۔۔۔ رحمان یہ عالم بھائی کی بڑی بیٹی ہے: مسسز رحمان نے پہلے عروہ سے پوچھا پھر رحمان صاحب کو بتایا۔ تو انہوں نے سر ہلایا۔

میں ٹھیک ہوں آنٹی: اسنے مسکرا کے جواب دیا۔

مہر بیٹا میرے پاس آکے بیٹھو: مسسز رحمان نے مہر کو کہا۔

مہر نے سر اٹھا کے دیکھا تو علی کو دیکھ کے حیران ہوئی جب کے علی ڈھیٹوں کی طرح مہر کو ہی تک رہا تھا۔

مہر نے ماں کو دیکھا جو اسے انکے پاس بیٹھنے کا اشارہ کر رہی تھیں۔۔۔ وہ بوجھل قدموں سے جاکے انکے پاس بیٹھ گئی۔۔۔

ماشاءاللہ مدثر صاحب آپکی بیٹی تو بہت پیاری ہے: رحمان صاحب نے تعریف کی۔۔۔

تو آپ لوگوں نے کیا سوچا ہے اس رشتے کے بارے میں: رحمن صاحب مدثر صاحب کی طرف متوجہ ہوئے۔

انکی بات پر مہر کی آنکھوں میں نمی گھلنے لگی۔۔۔ دل گھبرا رہا تھا، ہاتھ پاؤں بے جان ہو رہی تھے ، آنسو آنکھوں​ سے نکلنے کے لیے بےتاب ہو رہے تھے۔۔۔

دیکھیں ہمیں تھوڑا وقت چاہیئے ہم اتنی جلدی تو کوئی جواب نہیں دے سکتے نا : مدثر صاحب نے رسانیت سے کہا۔

ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے آپ لوگوں کو جتنا وقت چاہیئے لے لیں لیکن جواب ہاں ہونا چاہیے: مسسز رحمان نے مہر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

اچھا اب ہم چلتے ہیں : رحمان صاحب کھڑے ہوئے۔

ارے بیٹھے نا کھانا کھا کے جائے گا: مدثر صاحب نے کہا۔

نہیں انکل پھر کبھی: علی جو کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا آخر کار بول اٹھا۔۔۔

اللہ حافظ: مدثر صاحب انہیں دروازے تک چھوڑنے گئے۔۔۔۔

مہر اٹھ کے اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔۔۔۔۔

عروہ کو اسکا یوں بھاگنا بہت کچھ سمجھا رہا تھا لیکن فلوقت وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔

لوگ تو اچھے لگ رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر عالم بھائی کے جاننے والے ہیں: مدثر صاحب اندر آئے تو شاہین بیگم نے اپنی بات کہی۔

ہمم آپ کہہ تو ٹھیک رہی ہیں لیکن ہمیں لڑکے کے بارے میں تو زیادہ نہیں پتہ نا : مدثر صاحب نے بیٹھتے ہوئے کہا۔

جی پھوپھو مجھے بھی آنٹی انکل تو اچھے لگے ہیں۔۔۔ لیکن انکا بیٹا مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آیا: عروہ نے اپنی رائے دی اسے علی کا مہر کو یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھنا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔

بیٹا ایک کام کرنا عادل سے کہنا وہ لڑکے کے بارے میں پتہ کروائے کے وہ کیساہے اور میں بھی عالم بھائی سے بات کرو گا۔۔: مدثر صاحب نے عروہ سے کہا۔۔۔

جی پھوپھا جان میں کہہ دوں گی.: اسنے جواب دیا اور آٹھ کھڑی ہوئی..

کہا جارہی ہو بیٹھ جاؤ کھانا کھا کے جانا: شاہین بیگم نے اسے جانے کی تیاری پکڑتے دیکھ کہا۔

پھر کبھی پھوپھو ابھی دیر ہو رہی ہے میں تائی امی سے جلدی آنے کا بول کے آئی تھی اور ماما کے گھر بھی جانا تھا لیکن اب سیدھا گھر جاؤ گی۔۔۔ شہاب بھی آنے والے ہوں گے: اسنے کہا تو شاہین بیگم نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔ تو وہ ان سے ملتی باہر نکل گئی۔

۔🌺🌺🌺

عادل آپ نے مجھے کس دوراہے پر لاکے گھڑا کر دیا ہے۔۔۔ میں کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکتی اور بتاتی بھی کیا کہ میں ایک ایسے شخص سے دل لگا بیٹھی ہوں جو مجھے سے جھوٹ بولتا ہے۔۔۔۔ دو چہرے رکھتا ہے اور میں جانتی بھی نہیں کے کون سا چہرا اصل​ی ہے : وہ بیڈ سے ٹیک لگائے زمین پر گھٹنوں میں سر دیے زارو قطار رو رہی تھی۔۔۔

اس ستمگر سے دور جانے کی سوچ ہی جان لے رہی تھی۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺

بیٹا بہت دیر کر دی آنے میں : زینب بیگم نے اسے کچن میں آتے دیکھ کہا۔

جی وہ وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :اسنے ساری بات انہیں بتائی۔

اچھا ۔۔۔۔ : زینب بیگم نے ایک لفظی جواب دیا۔

اپنے گھر نہیں دینے جارہی گھیر : وہ فرج کی طرف جا رہی تھی انکے سوال پر روکی۔

نہیں تائی امی شہاب آنے والے ہیں۔۔۔ میں احد کو بولا کے بھجوا دوں گی: عروہ نے مسکرا کے جواب دیا ۔۔

چلو جیسی تمہاری مرضی: وہ بھی مسکرائیں۔

آپ کیا کر رہیں ہیں لائیں میں کر دیتی ہوں: عروہ نے انہیں سیلڈ بناتے دیکھا تو لینا چاہا۔

نہیں یہ میں کرلوں گی تم جاکے تیار ہو شہاب آنے والا ہے : انہوں نے کہا تو وہ شرماتی ہوئی ہاں میں سر ہلاتی اپنے کمرے کی طرف چلدی۔۔

۔🌺🌺🌺۔

سب کہا ہیں: شہاب گھر میں داخل ہوا تو سامنے کام کرتی ملازمہ سے پوچھا ۔۔۔

شہاب بھائی بڑی بی بی جی تو کچن میں ہیں اور باقی سب اپنے اپنے کمروں​ میں: ملازمہ نے احترام سے کہا۔ تو وہ سر ہلاتا اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

عروہ بیڈ بیٹھی انگوٹھیاں پہن رہی تھی جب شہاب کمرے میں داخل ہوا۔۔۔

آگئے آپ: وہ اٹھ کے اسکے پاس گئی۔ تو شہاب نے مسکرا کے اپنے لب اسکے ماتھے پر رکھے۔

بہت پیاری لگ رہی ہو : شہاب کو اسکا اپنے لیے سجنا سنورنا بہت بھایا تھا۔

آپ کے کپڑے نکال دیے ہیں فریش ہو جائیں: عروہ نے اسکے چہرے پر نظریں جمائی۔

ماتھے پر بگھرے بال، گہری کالی آنکھوں میں اپنے لیے محبت، گھنی داڑھی ، مونچھوں تلے عنابی لب ۔۔۔ وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔۔ وہ خوبرو شخص اسکا تھا۔۔۔ صرف اسکا جسے دیکھنے کا پورا حق اسے حاصل تھا۔

کیا دیکھ رہی ہو: شہاب نے اسکی آنکھوں پر ہلکی سی پھوک ماری تو وہ ہوش کی دنیا میں آئی ۔

دیکھا رہی ہوں دعاہیں یوں بھی قبول ہوتی ہیں۔۔۔: وہ مسکرائی۔

شہاب نے ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالا ، دوسرے ہاتھ سے چہرا تھاما اور اپنے لبوں سے اسکے چہرے کا ایک ایک نقوش چھونے لگا۔۔۔۔

عروہ نے سکون سے آنکھیں بند کرلیں ۔

لب چہرے سے گردن کا سفر کرنے لگے تو عروہ نے آنکھیں کھولیں۔

شہاب آپ فریش ہو جائیں سب نیچے کھانے پر انتظار کر رہے ہوں گے: عروہ نے دور ہونا چاہا لیکن شہاب کی پکڑ مضبوط تھی۔۔۔

اسنے گردن پر لب رکھے تو عروہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔۔۔ وہ مدہوش ہوتا جا رہا تھا۔

شہاب پلیز چلیں: عروہ نے کپکپاتی آواز میں کہا اور ساتھ اسکا کندھا ہلایا تو وہ ہوش میں آیا۔

ہمم اوکے۔۔۔ لیکن رات کو یہی سے کنٹینیو کریں گے: شہاب مسکراتے ہوئے کھمبیر آواز میں کہتا اسکا گال تپھتپھپا تھا ہوا کپڑے لے کے واشروم میں گھس گیا۔

جب کے عروہ کا چہرہ لہو جھلکا رہا تھا وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپاگئی۔

۔🌺🌺🌺

وہ فریش ہوکے آیا تو عروہ کمرے میں نہیں تھی۔۔۔ وہ نم بالوں کو ہاتھ سے ٹھیک کرتا کمرے سے نکلا۔۔۔ اسنے رخ ڈائنگ روم کی طرف کیا۔۔۔۔ وہ وہاں پہنچا تو کھانا لگ چکا تھا۔۔۔

سربراہی کرسی پہ واصف صاحب بیٹھے تھے ، ان کے دائیں جانب عاکل اور عادل بیٹھے تھے جب کے بائیں جانب زینب بیگم اور عروہ بیٹھی تھیں۔۔۔۔

سب کھانا شروع کر چکے تھے سوائے عروہ کے جو یقیناً اسی کا انتظار کر رہی تھی۔

بھائی آپ جلدی نہیں آسکتے تھے ہماری بھابھی جی کب سے انتظار کر رہی تھیں: عاکل نے شہاب کو عروہ کے برابر والی کرسی پہ بیٹھتے دیکھ شرارت سے کہا۔لیکن بھابھی جی پر زور دیا نہیں بھولا تھا۔۔

تم اپنا کھانا کھاؤ: شہاب نے گھورا۔۔۔ تو وہ مسکراہٹ دباتا کھانے پر جھک گیا۔

تایا ابو یہ گھیر چکیں میں نے بنائی ہے: عروہ نے گھیر ایک چھوٹے سے باؤل میں ڈال کے انکی طرف بڑھائی۔۔۔

ہممم بہت مزہ کی ہے تم لوگ بھی کھاؤ بھئی: انہوں نے دل سے تعریف کی۔۔۔۔

افففف کھیر سے یاد آیا۔۔۔۔ آج میں پھوپھو جان کے گھر گھیر دینے گئی تو وہاں کچھ لوگ مہر کا رشتہ لے کے آئے تھے:عروہ نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے جوش سے کہا۔

عادل کا چمچہ منہ میں جاتا ہاتھ بیچ میں ہی روک گیا۔۔۔۔ کسی نے یہ دیکھا ہو یا نا دیکھا ہو عروہ کی تیز نظروں نے باخوبی دیکھا تھا۔

ویسے تو لڑکے کے بابا میرے بابا کے بزنس فرینڈ ہیں لیکن پھر بھی پھوپھا جان چاہتے ہیں کے عادل ایک بار لڑکے کی ساری معلومات نکل والے: عروہ نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔۔

اچھا۔۔۔ اچھی بات ہے یہ تو : واصف صاحب نے کہا۔

عادل میں تمہیں لڑکے کے بارے میں تھوڑا بہت بتا دوں گی تم پتہ کروا لینا : عروہ نے باغور اسکے اکسپریشن دیکھے جو سخت ہوتے جارہے تھے۔۔۔۔

ہمم ٹھیک ہے: عادل کو یہاں اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تو اٹھ کھڑا ہوا۔

کیا ہوا عادل کہاں جارہے ہو کھانا تو صحیح سے کھاؤ: زینب بیگم نے اسے اٹھتا دیکھ کہا۔

ماما کوئی ضروری کام یاد آگیا ہے تھوڑی دیر میں آتا ہوں: وہ کہہ کے روکا نہیں تھا۔۔۔۔

اسے اچانک کون سا ضروری کام یاد آگیا: عاکل مشکوک ہوا۔

ہوگا کوئی کام۔۔۔۔ ویسے بھی اسکا کام بھی تو ایسا ہے کوئی نا کوئی کام کسی بھی وقت آسکتا ہے۔۔: شہاب نے کھانا کھاتے جواب دیا تو وہ سمجھ کے سر ہلاگیا۔

عروہ کی نظریں عادل کی خالی کرسی پر ہی جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔ سب کھانے میں مصروف تھے اور وہ اپنی سوچوں میں۔۔۔۔۔ پہلے مہر کا بھوجا ہوا لہجہ، اسکی نم آنکھیں اور اب یہاں مہر کے رشتے کی بات پر عادل کا ساکت ہونا، سخت تاثرات ، یوں اٹھ کے چلے جانا: عروہ کو بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔۔۔۔۔ وہ دونوں سے بات کرنے کا پکا ارادہ کر چکی تھی۔۔۔

۔🌺🌺🌺