Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 7)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 7)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
وہ جب سے کمرے میں آئی تھی بےچینی سے ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔۔ دل گھبرا رہا تھا۔۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کے آگے کیا ہونے والا ہے اسکی زندگی کیا موڑ لینے والی ہے۔۔۔۔۔
وہ اپنی ہی سوچ میں مصروف تھی جب دروازے پہ دستک دے کے عالم صاحب اندر آئے۔۔۔
بابا آپ ؛کوئی کام تھا تو مجھے بولا لیتے۔۔۔۔۔: وہ انکے پاس آئی۔
کوئی کام نہیں تھا بیٹا بس آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔۔۔: وہ اسے لے کے صوفے پر بیٹھے۔۔۔۔
جی بابا بولیں: اسنے گھبراہٹ پر قابو پاتے کہا۔
انہوں نے تحمل سے ساری بات اسکے گوش گزار کی اور شہاب کے پرپوزل کا بھی بتایا۔۔۔۔ وہ اسکے جواب کے منتظر تھے جو سب باتیں سن کر سر جھائے خاموش بیٹھی تھی۔۔۔۔
بیٹا آگر آپ کو اعتراض ہے تو آپ پر کوئی زبردستی نہیں ہے۔۔۔۔ میں بھائی صاحب سے معذرت کرلوں گا۔۔۔۔: اسکی خاموشی کو محسوس کر کے انہوں نے نتیجہ نکالا۔
نہیں بابا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے: اسکو تو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا کے بابا نے شہاب کا نام لیا ہے۔۔۔۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی کے شہاب نے رشتے کے لیے حامی بھی بھرلی ہے۔۔۔۔ اسکی دعائیں یوں قبول ہوں گی اسنے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔۔
خوش رہو میرا بچہ۔۔۔۔ مجھے یقین ہے شہاب تمہارے لیے ایک بہترین ہمسفر ثابت ہوگا: انہوں نے ماتھے پر بوسہ دیا اور کمرے سے نکل گئے۔
بابا کے جانے کے بعد ہو کتنی ہی دیر ایک ہی جگہ بیٹھی رہی۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے لیکن یہ آنسو ، تکلیف یا درد کے نہیں تھے بلکہ یہ تو خوشی کے آنسو تھے ، شکر کے آنسو تھے۔۔۔۔ کے رب اسے اس شخص سے نواز رہا تھا جس کو بچپن سے دعاؤں میں مانگا تھا۔۔۔۔۔
وہ تو دانیال کو اپنے رب کا فیصلہ سمجھ کے قبول کررہی تھی لیکن کون جانتا ہے کے رب نے اپنے بندے کے لیے کیا سوچا ہے۔۔۔۔ وہ اپنے بندے کو آزماتا ہے اسکی من پسند چیز سے۔۔۔ ہمیں اس آزمائش پر صبر کرنا چاہیے بیشک ہر آزمائش کے بعد آسانی ہے۔۔۔۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔۔۔
اللہ سچے دل سے مانگی دعا۔۔۔ پاک جزبہ سے مانگی دعا رد نہیں کرتا۔۔۔
اور جو دعائیں دنیا میں پوری نہیں ہوئیں اسکا اجر آخرت میں ملتا ہے۔۔۔۔
وہ اٹھی وضو کیا اور اپنے پروردگار کے سامنے سجدئے شکر ادا کیا۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
عالم صاحب مسکراتے ہوئے نیچے آئے تو سب ہی مطمئن ہوگئے۔۔۔
تمہاری مسکراہٹ بتارہی ہے عالم کے ہماری بیٹی نے ہاں کردی ہے: واصف صاحب نے بھائی کو گلے لگایا۔
جی.۔۔ بھائی میری بیٹی بہت سمجھدار ہے: وہ خوش تھے۔۔۔
بھئی مبارک ہو آپ سب کو۔۔۔۔ اب تو عالم تم اپنی دونوں بیٹیوں کی شادی کی تیاری شروع کردو کیونکہ میں تو جلدی شادی کرو گا۔۔۔: حاکم صاحب نے اپنا منصوبہ بتایا۔
ہاں بھئی عالم ہم بھی منگنی ونگنی کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتے سیدھے شادی کرنا چاہتے ہیں میں تو اگلے مہینے ہی سوچ رہا ہوں: واصف صاحب نے کہا۔
ہاں آپ ٹھیک کہ رہے ہیں میں بھی یہی سوچ رہا تھا: حاکم صاحب کو بھی واصف صاحب کی بات ٹھیک لگی۔
مگر بھائی اتنی جلدی: عالم صاحب تو دونوں بچیوں کو اتنی جلدی رخصت کرنے کا سوچ کے ہی تڑپ گئے۔۔۔۔
ابھی کل کی ہی بات تو لگتی تھی جب وہ چھوٹی چھوٹی بچیاں انکے آگے ضد کرتی تھیں، اپنی بات منواتی تھیں، لاڈ اٹھاواتی تھیں۔۔۔۔
اور آج اتنی بڑی ہوگئیں تھیں کے انکی شادی کی بات ہورہی تھی۔۔۔
عالم ہمیں کون ساہ جہیز وغیرہ چاہیئے جو تمہیں وقت درکار ہے۔۔۔۔ ہمیں تو بس ہماری بیٹی چاہیے۔۔۔: حاکم صاحب نے ناراضگی سے کہا۔۔۔
حاکم ٹھیک کہ رہا ہے عالم بس اب تم شادی کی تیاری کرو۔۔۔۔ ہم اگلے مہینے کی 15 کو بارات لے آئے گے جمعہ بھی ہے مبارک دن ہے کیوں حاکم تم کیا کہتے ہو: واصف صاحب نے حاکم صاحب سے بھی رائے مانگی۔
مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے: حاکم صاحب انکی بات سے متفق ہوئے۔
دانیاں جو ساری کارستانی ملاہزا فرما رہا تھا اور دل ہی دل میں خوش ہورہا تھا جب نظر مسکان پر گئی جو چائے لے کے آرہی تھی ۔۔۔۔
مسکان نے ایک نظر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا تو فورن نظریں جھکا لیں جبکے اسکا یوں نظریں جھکانا دانیال کے دل پر بجلیاں گرا کیا۔۔۔
اب آپ لوگوں کی یہی مرضی ہے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں : عالم صاحب نے رضامندی دے دی۔۔۔
چلو بھئی مبارک ہو سب کو : حاکم صاحب نے خوشی سے کہا۔
جبکے مسکان کو آسیہ بیگم نے اپنے پاس ہی بیٹا لیا تھا۔۔۔۔ جو وہاں بیٹھے دانیال کی نظروں کو باخوبی محسوس کر سکتی تھی۔۔۔
نورین بیگم نے عروہ کو بھی نیچے بولا لیا تھا۔۔۔ تاکے کچن میں انکے ساتھ ہاتھ بٹائے۔۔۔
کیونکہ وقت کم تھا اور انہیں کھانا بنانا تھا۔۔۔
خوشی کے ماحول میں کھانا کھایا گیا۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
ویسے تو حاکم صاحب اور واصف صاحب نے جہیز لینے سے منا کردیا تھا لیکن وہ باپ تھے بیٹیوں کو خالی ہاتھ تو رخصت نہیں کرسکتے تھے۔۔۔
سب کے جانے کے بعد وہ لوگ عالم صاحب کے کمرے میں بیٹھ کے سامان کی لسٹ بنارہے تھے۔۔۔۔تاکے کل سے ہی شوپنگ شروع کر سکیں۔۔۔
امی میں تو روٹی میکر بھی لوں گی: عروہ کے چہرے سے خوشی ہی خوشی جهلک رہی تھی کچھ دن پہلے والی خاموش سی عروہ جا چکی تھی۔۔۔۔اب تو خوش اور مطمئن عروہ تھی۔
بیٹا جی ایک کام کرو میں تمہیں کچھ بھی نہیں دیتی بس ایک ملازمہ دے دیتی ہوں جہیز میں : نورین بیگم تنگ آکے بولیں۔۔۔
وہ کتنی دیر سے وہ ساری چیزیں بو رہی تھی جس سے اسے زیادہ کام نا کرنا پڑے۔
ارے امی اسکی تو آپ فکر ہی نہیں کریں وہ تو میں تائی امی سے بول کے رکھ والوں گی: عروہ نے اپنا منصوبہ بتایا۔
ہاں اور تمہارا تو اچار ڈلے گا: انہوں نے گھورہ
بابا دیکھ رہے ہیں آپ کیسے گھور رہی ہیں مجھے۔۔۔۔ اب تو ویسے بھی بس کچھ دنوں کی مہمان ہو۔۔۔ اس گھر میں :اسنے ڈرامائی انداز میں کہا۔
اسکی بات سن کے عالم صاحب کی آنکھیں نم ہوئیں انہوں نے دونوں کو اپنے پاس بلایا اور سینے سے لگایا۔۔۔۔
باپ کے سینے سے لگ کے دونوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔۔۔۔
جس باپ کی آگوش میں بیٹیاں بڑی ہوتی ہیں۔۔۔ جس باپ کی انگلی پکڑ کے چلنا سیکھا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ جس ماں کے ہاتھوں کے نوالہ کھائے ہوتے ہیں۔۔۔ جس گھر میں بچپن گزارہ ہوتا ہے۔۔۔ ایک دن وہ گھر، اس گھر کے لوگوں کو چھوڑ کے پیا دیس چلی جاتی ہیں۔۔۔
اچھا بس کرو اور جا کے سو جاؤ کل سے ویسے بھی شوپنگ شروع کرنی ہے ٹائم بہت کم ہے: نورین بیگم نے اپنی بھیگی آنکھیں صاف کیں۔
ہاں بچوں جاؤ شاباش کل سے بہت کام شروع ہونے والے ہیں: عالم نے کہا۔
جی بابا: وہ دونوں شرافت سے اٹھ کے کمرے سے نکل گئیں۔۔۔
بیٹا اتنی جلدی بڑی ہوجاتی ہیں پتہ ہی نہیں چلتا: عالم صاحب نے نم آنکھوں صاف کیں۔۔
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔ (بس اللہ ہم سب کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے) آمین۔۔۔: وہ دھیرے سے مسکرائی۔
۔![]()
![]()
![]()
اگلی صبح کا سورج اپنے ساتھ مصروفیت لے کے آیا تھا ۔۔۔۔ آج ان سب کو شوپنگ پر جانا تھا۔۔۔
مدثر صاحب کو واصف صاحب نے بتا دیا تھا جس پھر وہ سب بھی بہت خوش تھے۔۔۔۔
حیا کی تو شوپنگ لسٹ ہی ختم نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ جب کے مہر بچاری کا تو جو دے دو پہنے والا حصاب تھا۔۔
ماما ہم شوپنگ پر کب جائیں گے: حیا نے بے صبری دکھائی۔
چلے جائیں گے ابھی بہت وقت ہے: انہوں نے کہا۔
آپی ایک کام کرتے ہیں ہم دونوں چلتے ہیں ماما کو تو بہت وقت لگ رہا ہے جبکے شادی اگلے 17 دن میں ہے: حیا نے مہر کو دیکھا جو اپنے فون پر ناجانے کیا دیکھ رہی تھی۔۔۔
ماما ٹھیک کہہ رہی ہیں ابھی ٹائم ہے ہم کچھ دن بعد جائیں گے: مہر نے موبائل سے سر اٹھایا۔
سوری آپی میں بھی کس سے بول رہی ہوں جنہیں کہی بھی جانے کا شوق نہیں : حیا نے افسوس سے کہا۔
تمہیں بہت شوق ہے تو تم چلی جاؤ میرا دماغ نہیں کھاؤ: وہ غصہ سے کہتی وہاں سے واک آؤٹ کر گئی۔
سچ تو کڑوا ہوتا ہے: اسنے سر ہلایا۔
امی میں جاری ہوں ممانی کے گھر وہاں سے آگر کوئی جا رہا ہوگا تو اسکے ساتھ چلی جاؤ گی۔۔۔۔ امی پلیز روکے گا نہیں کیونکہ میں روکوں گی ہی نہیں: وہ دانت دیکھاتی باہر بھاگ گئی۔
اور شاہین بیگم بس سکی پشت دیکھتی ہی رہ گئیں۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ گھر میں داخل ہوئی تو گھر خالی تھا۔۔۔
کوئی ہے یہاں : اسنے اونچی آواز میں پکارا۔
کوئی نہیں ہے یہاں اس لیے تم جا سکتی ہو: احد جو شوپنگ پر نہیں گیا تھا گھر پر ہی رک گیا تھا۔۔۔ ہاتھ میں فروٹ چاٹ کا باؤل لے کے کچن سے نکلا۔
تم سے مجھے بات نہیں کرنی یہ بتاؤ ممانی جان، مسکان آپی اور عروہ بجو کہاں ہیں: اسنے پوچھا لیکن وہ چپ رہا۔۔۔۔
بولو بھی کچھ پوچھ رہی ہوں تم سے: احد کو چپ دیکھ کے وہ چیخی۔
تم نے ہی تو کہا تھا کے مجھے سے تمہیں بات نہیں کرنی: اسنے کندھے آچکائے۔۔۔
فرمانبردار!!! اب میں ہی کہہ رہی ہوں کے مجھے بتاؤ کے سب کہاں ہیں۔: اسنے سانس خارج کی۔
شوپنگ پہ: وہ فروٹ چاٹ کا چمچہ بھر کے بولا۔
یانی میں لیٹ ہوگئی: اسے افسوس ہوا۔
اچھا ہے تم ساتھ نہیں گئیں ورنا مال والے تمہیں اندر ہی نہیں جانے دیتے پھر تمہاری وجہ سے وہ سب بھی اندر نہیں. جا پاتے: احد اسکی بات سمجھ گیا تھا کے وہ شوپنگ پر جانے کے لیے آئی تھی۔
تم اونٹ کہی کے۔۔۔۔ میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں: پہلے تو اسے سمجھ نہیں آئی کے وہ کیا بول رہا ہے پھر جب سمجھ آئی تو اسکے لمبے قد پر خطاب دیا اور منہ پھولاتی گھر سے نکل گئی۔۔۔
میں نے کیا کیا۔۔۔: وہ سر جھکتا کھانے میں مصروف ہوگیا۔
وہ غصہ سے گھر میں داخل ہوئی۔۔۔
کیا ہوا اتنی جلدی آگئیں: شاہیں بیگم نے مسکراہٹ دبا کے کہا۔۔۔ انہوں پتہ تھا کے وہ لوگ شوپنگ پر گئے ہوئے ہیں۔۔۔ لیکن انکی اولاد تو انکی سنے سے پہلے ہی بھاگ گئی تھی۔۔۔ اور اب منہ پھولائے آئی تھی۔
جی۔۔۔۔ وہ لوگ جا چکے ہیں : اسنے اداسی سے کہا۔
پتہ ہے مجھے صبح ہی بھابھی کا فون آیا تھا شوپنگ پر جانے کا پوچ رہی تھیں لیکن میں نے منا کردیا کے ہم بعد میں جائیں گے۔۔۔ تم رکتیں تو میں تمہیں کچھ بتاتی نا ۔۔۔۔ لیکن نہیں تم تو تیز گام بنی نکل گئیں: انہوں نے سکون سے اسے اسکی غلطی بتائی۔۔۔
تو اسے اپنی جلد بازی پر جی بھر کے غصہ آیا۔۔۔۔ نا وہ جلد بازی دیکھاتی اور نا اس احد سے بہس ہوتی۔۔۔۔
وہ منہ بنائے کمرے میں چلدی۔
۔![]()
![]()
.
