Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 5)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 5)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
وہ ٹیرس پر کھڑا کافی پی رہا تھا نظریں ہنوز اس دشمن جان کے گھر پر تھیں کہ بس ایک جھلک دیکھ جائے آج اسکی۔۔۔۔
وہ اسے کتنی محبت کرتا تھا خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔اسنے بہت پہلے ہی اظہار محبت کردیا تھا۔۔۔۔جو اسنے بھی خوشی سے قبول کیا تھا لیکن اچانک ایسا کیا ہوا کہ وہ اسے دور رہنے لگی، اسے چھپنے لگی، بہانے بنانے لگی،۔۔۔۔۔اسنے بہت کوشش کی جانے کی کے کیا وجہ ہے لیکن وہ سہی سے بات کرے تو کچھ پتہ جلے۔۔۔۔
“”آپکو پتا ہے مجھے آپ سے کوئی محبت وحبت نہیں تھی۔۔۔۔ آپ بھی سب کزنز کی طرح ہی تھے میرے لیے۔۔۔۔ لیکن جس دن آپ نے اپنی محبت کا اظہار کیا اس دن کے بعد میری پوری دنیا بدل گئی تھی جیسے۔۔۔۔
میں اس رات سو نہیں پائی بس یہی سوچتی رہی کے کیا واقعی میں محبت کے لائق ہوں۔۔۔۔ کیا سچ میں مجھ سے کوئی محبت کر سکتا ہے: وہ لمحہ بھر کو روکی۔
مجھے نہیں پتہ کے مجھے آپ سے محبت ہے یا نہیں!!!!.۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ ضرور جانتی ہو کہ یہ دل جب بھی دھڑکتا ہے صرف آپ کا نام لیتا ہے۔۔۔۔ آنکھیں ہر جگہ آپ کو ڈھونڈتی ہیں۔۔۔۔ آپ کے ساتھ کیسی اور کا خیال ہی میری جان نکل دیتا ہے۔۔۔۔ : آخری بات کہتے ہوئے اسکی آنکھیں نم ہوئیں!!!۔۔۔””
اسکی باتیں اب تک اسکے کان میں گھوم رہی تھی کتنا خوبصورت لمحہ تھا وہ جب وہ جانتی بھی نہیں تھی کے محبت کیا ہے اور اظہار بھی کر گئی تھی لیکن پھر کیا ہوا کہ سب بدل گیا۔۔۔۔۔۔
وہ ماضی میں گم تھا جب وہ دشمن جان سامنے ہی لان میں کیسی سے فون پر بات کرتی نظر آئی۔۔۔۔
جامنی رنگ کی قمیض شلوار میں ہم رنگ دوپٹہ جو کندھے پر جھول رہا تھا، لمبے بال چوٹی میں قید تھے، معصوم چہرہ افسردو تھا، پھیکی سے مسکراہٹ یہ وہ مسکراہٹ تو نہیں تھی جو اس کے چہرے پر رہتی تھی، وہ آج کتنے دنوں بعد اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اسکی بات کرتے ہوئے جیسے ہی نظر اوپر کی طرف اٹھی وہ ستمگر فرست سے اسے خود کو دیکھتا ہوا نظر آیا۔۔
تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں دو سے چار ہوئیں پھر اس نے چہرا پھیرلیا اور اندر چلی گئی۔
لیا ناتھا آنکھوں میں ایک کی میں بےبسی، التجا، غم، ضبط تو دوسری میں اذیت، تکلیف، الجھن، تھکن۔۔۔۔ دونوں کی آنکھیں بولتی تھی دونوں ہی پڑھتے تھے لیکن ایک بےبس تھا تو دوسرا غلط فہمی کا شکار۔۔۔۔
اسنے گہری سانس خارج کی اور نیچے کی جانب قدم بڑھائے۔
وہ نیچے آیا تو زینب بیگم اسے T.V دیکھتی نظر آئی وہ انکی گود میں سر رکھ کے صوفہ پر لیٹ گیا۔
کیا ہوا بیٹا کوئی پریشانی ہے کیا: انہوں نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلائیں۔
نہیں ماما بس تھک گیا تھا آج اوف تھا تو سوچا آپکے ساتھ ٹائم اسپنڈ کرلوں۔۔۔: اسنے سکون سے آنکھیں موند لیں۔
تھک گئے ہوتو آرام کرو بیٹا: انہوں نے پیار سے کہا۔
ایسے ہی آرام مل رہا ہے پلیز ایسے ہی انگلیاں پھرتے رہیں: اسنے لاڈ سے کہا جب بھی وہ پریشاں ہوتا تھا ایسے ہی ماں کی گود میں سر رکھ کر ساری پریشانیاں دور کردیتا تھا۔۔۔
اب بھی سکون سے نیند کی وادی میں چلا گیا تھا۔۔۔۔
ماں تو نام ہی سکون کا ہے جیسے دیکھ کہ سکون ملتا ہے، تھکن اوتر جاتی ہے، درد دور ہوجاتے ہیں۔۔۔۔، مسکراہٹ آجاتی ہے۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
دانیال گاڑی سے اوتر کے جلدی میں گھر میں داخل ہوا۔۔ اسکی فلائٹ میں کچھ ہی وقت تھا۔۔۔
امی میرا بیگ ریڈی کردیا تھا آپ نے: اسنے سامنے بیٹھی اپنی ماں سے پوچھا۔ وہ پہلے ہی فون کر کے بیگ ریڈی کرنے کا بول چوکا تھا۔
ہاں بیٹا کردیا ہے: انہیں نے کہا۔
وہ روم میں جاکے جلدی سے فریش ہوا۔
وائٹ تھیری پیس، بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ، ہاتھ میں ریسٹ واچ پہنے وہ بہت ڈیشگ لگ رہا تھا۔
بیگ لے کے نیچے آیا تو آسیہ بیگم کو اپنا منتظر پایا۔
اچھا امی میں چلتا ہوں پرسوں واپسی ہوگئی: دانیال نے انہیں گلے لگایا۔
بیٹا میں اور تمہارے بابا عالم بھائی کے گھر جانا چارہے ہیں۔: انہوں نے کہا۔
جی تو جلے جائیں۔۔۔۔ ایک منٹ: اسنے فون پر کال آتی دیکھ کہا۔
اوکے میں آرہا ہوں۔۔۔۔۔۔
اچھا امی میں چلتا ہوں آپ اپنا اور بابا کا خیال رکھے گا: فون بند کر کے۔۔۔ وہ بیگ اٹھا کے انکی پوری بات سنے بغیر گاڑی کی طرف چل دیا۔
ابھی اسے گئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کے حاکم صاحب گھر میں داخل ہوئے۔
آگئے آپ۔۔۔ آپ فریش ہو جائیں میں کھانا لگواتی ہوں: وہ انہیں کہ کے کچن کی طرف بڑھ گئیں۔
دانیال گیا : حاکم صاحب نے روم میں جاتے ہوئے رک کے پوچھا۔
جی چلا گیا ہے اور میں نے اسے بتایا تھا کے آپ عالم بھائی کے گھر جانے کا بول رہے تھے تو اسنے کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن اسنے پوری بات نہیں سنی: کچن میں جاتیں آسیہ بیگم نے رک کے بتایا۔
ہمم ویسے بھی وہ آپکو رضامندی دے چکا ہے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا اس لیے میں نے عالم کو فون کر کے بول دیا ہے ہم کل آئے گے: وہ اپنی بات کہ کے روم میں چلے گئے۔
تو وہ بھی سر ہلاتیں کچن میں کھانا لگوانے چلی گئیں۔
۔![]()
![]()
![]()
ارے بھئی کہاں ہو سب لوگ: عالم صاحب نے گھر میں داخل ہوتے ہی خاموشی محسوس کر کے کہا۔
وہ جو اپنے روم میں لیٹی موبائل میں ناول پڑھ رہی تھی اپنے باباکی آواز پر سب چھوڑ چھاڑ کے نیچے بھاگی۔۔
مسکان جو نورین بیگم کے ساتھ انکے کمرے میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی وہ دونوں بھی باہر نکلیں۔۔۔
بابا آج آپ اتنی دیر سے کیوں آئے ہیں: عروہ عالم صاحب کے پاس بیٹھی۔
ہاں بیٹا بس کام تھوڑا زیادہ تھا تو دیر ہوگئی لیکن فکر نہیں کرو احد کا یہ لاسٹ ایئر مکمل ہو جائے پھر واہی سب دیکھے گا اور میں زیادہ وقت گھر پر ہی رہوں گا: کمرے سے نکلتے احد کو دیکھ عالم صاحب نے سکون سے کہا۔
آپ نے ٹھک کہا ویسے بھی یہ گھر میں رہ رہ کے کام چور ہوگیا ہے۔ بس جیسے ہی پڑھائی مکمل ہو اسے آفس میں گھسا دے گا: مسکان نے بھی عالم صاحب کے برابر میں جگہ سنبھالی۔
زیادہ نہیں بولوں۔۔۔ بس ایک بار میری پڑھائی مکمل ہو جائے پھر میں سب دیکھ لوں گا اور بابا آپ بس آرام کرے گا: اسنے مسکرا کے کہا۔
ہاں ہمیں پتا ہے تم بہت اچھے ہو۔۔ بابا آپ ایسے چھوڑیں جلدی سے منہ ہاتھ دھو لیں بہت بھوک لگ رہی ہے: عروہ نے مسکین شکل بناکے پیٹ پہ ہاتھ رکھا۔
کیا مطلب آپ لوگوں نے کھانا نہیں کھایا: انہیں نے حیرت سے پوچھا۔
نہیں آپکے بچوں کو آپ کے ساتھ کھانا تھا اور مجھے آپ سب کے ساتھ اس لیے کیسی نے بھی نہیں کھایا: نورین بیگم نے وجہ بتائی۔
اپنے پہلے کیوں نہیں بتایا ہم ابھی فریش ہوکے آتے ہیں : وہ کہ کے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔۔۔۔ تو وہ سب بھی آٹھ کے ڈائنگ ٹیبل کی طرف چل ریے۔
عالم صاحب ڈائنگ ٹیبل روم میں آئے تو کھانا لگ چکا تھا اور وہ سب انکا کی انتظار کر رہے تھے۔
انہوں نے اپنی جگہ سنبھالی تو سب کھانے کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔
بیگم کل اچھا سا کھانے کا احتمام کیجئے گا کیوں کے کل حاکم اور بھابھی آئیں گے: عالم صاحب نے کھانے کے درمیان کہا۔
کیوں: عادت سے مجبور عروہ سوال کیے بغیر نا رہ سکی۔
کیا مطلب کیوں اگر کوئی گھر آرہا ہے تو پہلے اس سے پوچھیں کے کیوں آرہے ہو: نورین بیگم نے اس کے بےتکے سوال پر جھڑکا۔
نہیں میں تو ایسی پوچھ رہی تھی: وہ منمنائی۔
دانیال بھائی نہیں آئے گے: احد نے پوچھا۔
نہیں وہ اسلام آباد کیا ہوا ہے کیسی کام کے سلسلے میں: عالم صاحب نے نیوالہ بناتے ہوئے کہا۔
ہمممم۔
کھانے سے فارغ ہو کے سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ روز کی طرح نماز پڑھ کے اپنے رب سے گفتگو کر کے لیٹی تھی۔۔۔ سوچوں کا بھنور اس شخص کی طرف تھا جیسے پتا ہی نہیں تھا کے ایک لڑکی اسکی محبت میں گوتے گوتے ڈوب چکی ہے۔۔۔۔
آنکھیں بند کی تو بچپن کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ جب وہ اسکے ساتھ کھیلتی تھی کیسی بھی لڑکی کو اسکا دوست نہیں بنے دیتی تھی، اپنی ہر بات شئیر کرتی تھی۔۔۔ اور ان سب میں کب محبت ہوگئی اسے پتا ہی نا چلا کے کب وہ اسکی بچپن کی محبت بن گیا۔
بچپن کی باتوں کو یاد کرکے مسکرا دی۔۔۔۔اور اپنے رب سے دعا کی کے اسے میرا نصیب کردے۔
۔![]()
![]()
![]()
ایک نئی صبح کا آغاز بہت خوبصورت ہوا تھا۔ خوشیوں کے ساتھ، مصروفیات کے ساتھ لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کے اختتام کیسا ہوگا۔۔
عالم ہاؤس میں اس وقت سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ حاکم صاحب اور آسیہ بیگم بھی آگئے تھے۔ جب حاکم صاحب نے بات کا آغاز کیا۔
عالم میں تم سے اور بھابھی سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں: انہون نے کہا۔
ضروری بات کا سن کے نورین بیگم نے مسکان اور عروہ کو باہر جانے کا اشارہ کیا مسکان تو خاموشی سے باہر نکل گئی جب کے عروہ ڈھیٹ بنی بیٹھی رہی۔۔ اسکو ڈھیٹ بنے دیکھ انہوں نے آنکھیں دیکھائیں تو وہ منہ بناتی آٹھ گئی۔۔۔۔ جب کے احد کو انہوں نے باہر نا بھیجا تھا۔۔۔
انہوں نے ایک عمر گزاری تھی وہ حاکم صاحب کی باتوں کا مفہوم سمجھ رہیں تھیں۔
عالم آج میں تم سے کچھ مانگنے آیا ہوں۔ مجھے امید ہے تم منا نہیں کرو گے۔۔۔۔
عروہ جو باہر جاکے دروازے کے ساتھ کان لگا کے کھڑی تھی انکی بات سن کے اور دروازے کے ساتھ چپک گئی تاکے صحیح سے سنائی دے۔ جب کے مسکان آرام سے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
ہاں ہاں بولو کیا چاہیے تمہیں میرے بس میں ہوا تو ضرور دوں گا تمہیں: عالم صاحب نے مسکرا کے کہا۔
مجھے عروہ بیٹی چاہئے اپنے بیٹے دانیال کے لیے: انہوں نے سکون سے کہا جیسے یقین ہو کے انکا دوست انہیں منا نہیں کرے کا۔
یہ الفاظ تھا یا پگلتا ہوا سیسہ۔۔۔۔۔ عروہ کو اپنے پیر بے جان ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔۔۔ چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔۔۔ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا۔۔۔
عالم صاحب نے ایک نظر نورین بیگم کو دیکھا تو انہیں نے آنکھوں سے ہاں کا اشارہ کیا۔
یار یہ تو ہماری خوش قسمتی ہوگی کے میری بیٹی تمہارے گھر جائے: عالم صاحب نے خوشی سے کہا۔
تو مطلب میں ہاں سمجھو: حاکم صاحب نے کنفورم کرنا چاہا۔
ہاں بلکل: عالم صاحب کے کہنے پر حاکم صاحب انسے جوش سے گلے ملے ۔
مجھے یقین تھا کے تم مجھے انکار نہیں کرو گے لیکن میں چاہتا ہو تم ایک بار عروہ سے بھی پوچھ لو: وہ چاہتے تھے کے وہ بھی اس رشتے کو دل سے قبول کرے۔۔۔
مجھے پتا ہے میری بیٹی کبھی انکار نہیں کرے گی لیکن تمہاری تسلی کے لیے میں پوچھ لیتا ہوں۔۔۔۔۔ جاؤ احد عروہ کو بولاکے لاؤ۔: انہوں نے فخر سے کہا پھر احد سے کہا جو خوشی سے آٹھ کے عروہ کو بلانے چلدیا۔۔
عروہ تو اپنے بابا کے الفاظ پہ پتھر کی ہو گئی تھی اسکے بابا نے ہاں کردی تھی۔۔۔ وہ انکار تو پہلے بھی نہیں کرتی کیونکہ اسکے بابا کی عزت کا سوال تھا۔۔۔۔۔ لیکن دل تھا کے مان ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ آنسو آنکھیں سے نکلنے کو بیتاب تھے۔۔۔۔
وہ ابھی اپنے کمرے میں جانے کے لیے مڑی ہی تھی کہ احد نے عالم صاحب کا پیغام دیا۔۔۔۔
اسنے آنکھیں بند کرکے کھولیں گہرا سانس خارج کر کے خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ٹھہری۔
مرے مرے قدموں سے اندر داخل ہوئی۔
آؤ بیٹا یہاں میرے پاس بیٹھو: عالم صاحب اسی کے منتظر تھے۔
بیٹا ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ آپ کا رشتہ دانیال سے کردیں: عالم صاحب نے اپنی بات مکمل کر کے اسکی طرف دیکھا جو سر نیچھے کیے بیٹھی تھی۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے بابا جیسی آپکی مرضی: آنسوں کا گولہ گلے میں اتارہ۔
مجھے پتا تھا میرا بچہ یہی کہے گا۔۔۔ خوش رہو ہمیشہ!!! : انہوں نے نم آنکھوں سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔
اسکے لیے بہت مشکل ہورہا تھا آنسوں کو روکنا اس لیے۔۔۔ کیسی کی بھی طرف دیکھے بغیر اٹھ کے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔
اب تو خوش ہونا۔۔۔۔: انہوں نے حاکم صاحب سے کہا۔
ہاں بہت بھابھی ایسی بات پر منہ تو میٹھا ہونا چاہیے نا: انہوں نے کہا تو نورین بیگم اٹھ کے باہر نکل گئیں۔۔۔۔
امی کیا ہوا سب خیریت ہے نا۔۔۔ عروہ ابھی بھاگتی ہوئی کمرے میں گئی ہے: مسکان سے فکرمندی سے پوچھا۔
ہاں سب خیریت ہے بل کے خوشی کی بات ہے۔۔۔ عروہ کی بات پکی کردی ہے دانیال سے اس لیے وہ شرما کے اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔۔۔۔ اچھا اب جاؤ اور کیک لے آؤ منہ میٹھا کروانا ہے سب کا: وہ اسے کہ کے واپس چلی گئی تو وہ بھی خوشی سے کچن کی طرف بڑھ گئی۔
کیا تم نے دانیال سے بات کی ہوئی ہے: عالم صاحب نے پوچھا۔
نہیں اسے نہیں پتا لیکن وہ انکار نہیں کرے گا یہ مجھے پتا ہے: حاکم صاحب نے سکون سے کہا ۔
پھر بھی ایک بار اسکی مرضی بھی پوچھ لو۔۔۔۔
عالم صاحب کے کہنے پر انہوں نے دانیال کو فون ملایا جو تیسری بیل پر ہی اٹھا لیا۔۔۔۔۔
جی بابا خیریت: وہ میٹنگ میں مصروف تھا جب فون آتا دیکھ معزرت کرتا سائڈ میں آیا۔
ہاں بیٹا سب ٹھیک ہے ہم نے کچھ پوچھنا تھا تم سے۔۔۔۔
جی بابا بولیں: اسنے جلدی سے کہا
ہم نے تمہارا رشتہ عالم کی بیٹی سے پکا کردیا ہے تمہیں کوئی عتراض تو نہیں ہے: انکی آواز میں مان تھا۔۔۔۔
دانیال تو عالم کہ بیٹی میں ہی گھوگیا تھا۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے مسکان کا چہرا لہرایا۔۔۔ وہ اس وقت یہ بھی بھول گیا تھا کے عالم صاحب کی دو بیٹیاں ہیں۔۔۔ ضروری تو نہیں مسکان کے ساتھ ہی کیا ہو۔۔۔۔
جیسی آپکی مرضی: اسنے گھوئے گھوئے انداز میں کہا۔۔۔
شاباش میرے بیٹے: انہوں نے فون بند کیا اور عالم صاحب کی طرف متوجہ ہوگئے جو سمجھ گئے تھے کے اسکو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔
دانیال نے خوشی سے فون کو دیکھا اور سب کی طرف چل دیا جہاں سب اسکا انتظام کر رہے تھے۔۔۔۔
وہ بہت خوش تھا۔۔۔ خوشی میں یہ بھی نہیں سوچا کے عالم صاحب کی کون سی بیٹی سے رشتہ کیا ہے۔۔۔۔۔
وہ اس وقت صرف مسکان کو ہی سوچ رہا تھا اس کے علاوہ دماغ کچھ اور سوچنے کی اجازت ہی نہیں دے رہا تھا اور یہ اسکے لیے غلط ثابت ہونے والا تھا۔۔۔۔
۔![]()
![]()
.
