Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 3)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 3)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
عائشہ نے ایک نظر ڈرائیونگ کرتے عادل کی طرف دیکھا،،۔گندومی رنگت، کھڑی ناک،ہلکی سی بئرڈ، عنابی لب، کسرتی جسم،اور جو چیز اسے سب سے الگ بناتی ہیں وہ ہیں اسکی گہری آنکھیں، عائشہ نے جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلہ۔
لوجی آگیا گھر:اسنے گاڑی روکی۔
اندر آؤ نہ امی آپ سے مل کے بہت خوش ہوں گی: وہ گاڑی سے اتری
۔
نہیں یار پھر کبھی آؤ گا : عادل نے سہولت سے انکار کیا۔
اوکے بائے : اسنے کہا اور گاڑی آگے بڑھالی۔
جب گاڑی نظروں سے اوجھل ہوگی تو وہ کہری سانس خارج کر کے اندر قدم بڑھائے۔
![]()
![]()
۔
یار اگر تمہیں یہی لینا تھا تو دوگھنٹے پہلے کیو نہیں لیا:عاکل سخت جھنجھلایا۔ آخر ایسا ہوتا بھی کیوں نہیں عروہ میڈم نے وہی چیز لی جو اسنے سب سے پہلے دیکھی تھی۔
اوہو بھئی کوئی دودھ، دہی تھوڑی ہے جو کیس بھی دوکان سے لے لو۔اچھے سے دیکھ کے لینا پڑتا ہے کیا پتہ اس سے اچھی چیز مل جاتی تو : وہ سکون سے بولی۔
اچھا اب لے لیا نہ تو چلو اب: وہ باہر کی جانب بڑھا۔
تم یہ لے کے گاڑی میں جاؤ میں آئسکریم لے کہ آتی ہوں۔لاو پیسے دو:وہ سامان اسے دیتے ہوئے بولی۔
میں کیوں دوں: وہ حیران ہوا۔
کنجوس کیا تم اپنی پیاری سی کزن کو آئسکریم بھی نہیں کھلا سکتے: اسنے معصوم شکل بنائی۔
لو اور جلدی آنا: اسنے پتہ تھا بہس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لیے جلدی سے پیسے تھما دیے۔
وہ جلدی سے فوڈ کوڈ کی طرف بڑھ گئی۔
![]()
![]()
۔
ارے او روکو: وہ آئسکریم لے کےابھی نکلی ہی تھی کہ کوئی اس سے ٹکر مار کے گیا جس کی وجہ سے آئسکریم اب زمین کو سلامی دے رہی تھی۔
وہ فون کان سے لگائے اپنے ہی دھیان میں جارہا تھا۔فون سنے میں اتنا مگن تھا کے یہ تک نہ پتا چلا کے وہ کسی سے ٹکرایا ہے۔
لیکن جب اسے نے اپنے پیچھے سے کسی لڑکی کی غصہ سے بھری آواز سنائی دی تو پیچھے مڑا اور اپنے سامنے کھڑی اس نازک لڑکی کو دیکھا جس کا سفید چہرہ غصہ کی وجہ سے لال ہورہا تھا۔
نظر نہیں آتا کیا آنکھوں کی جگہ فیوز بلب فٹ کرے ہوئے ہیں جو اتنی بڑی لڑکی نہیں دیکھی، ہائے میری آئسکریم گرادی اور بلکہ سوری بولنے کی بجائے سیدھے چلے جارہے ہو۔۔۔۔ نہیں بندے میں تھوڑی سی شرم ہوتی ہے کہ کسی کا نقصان کرکے سوری بولے، نقصان کی بھرپائی کرے لیکن تم میں تو وہ بھی نہیں ہے:وہ تو نون اسٹوپ شروع ہی ہوگئی تھی۔
وہ جب بھی کچھ کہنے کے لیے منہ کھولتا وہ پھر کچھ بولنا شروع ہو جاتی اور وہ اسکامنہ دیکھتا رہ جاتا۔
توبہ دیکھو تو کیسے بے شرموں کی طرح گھورے جارہے ہو کچھ بولتے کیوں نہیں ہو کہی گونگے تو نہیں ہو یا زبان کی چارجنگ ختم ہو گئی ہے: وہ آنکھیں بڑی کرکے پوچھنے لگی۔
او شٹ اپ محترمہ کب سے آپکی سنے جارہا ہو مانتا ہو مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور میں اسکی بھرپائی کرنے کے لیے بھی تیار ہو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کے آپ مجھے کچھ بھی بولیں گی: وہ سخت سنجیدگی سے گویا ہوا۔
ایک تو وہ لڑکی سمجھ کے کچھ کہہ نہیں رہا تھا تو وہ محترمہ تو چپ ہی نہیں ہورہی تھی۔
او شکر ہے کہ تم بولتے بھی ہو اور رہی بات بھرپائی کی تو۔۔۔ وہ تو تم کرو گے ہی وہ بھی جرمانے کے ساتھ، آخر تم نے میری آئسکریم اور وقت دونوں جو برباد کیا ہے: وہ بنا اس کی بات کا اپر لیے پھر شروع ہو گئی۔
اچھا ٹھیک ہے ٹھیک ہے چلیں میں آپ کے نقصان کی بھرپائی کر دیتا ہوں: وہ اسے لے کے آگے بڑھا جب اسکا فون بجا۔
آپ چلیں میں آتا ہوں: فون پر ضروری کال دیکھتے ہوئےکہا۔
ایسے کیسے میں چلو اگر تم بھاگ گئے تو: اس نے شکی نظروں سے دیکھا۔
اوہو کہا پھس گیا:وہ سخت جھنجھولایا۔
دیکھیں میں نہیں بھاگتا بلکہ ایک کام کریں یہ میرا بیگ آپ پکڑیں اس میں میری اکسپنسو واچ ہے اگر میں بھاگ گیا تو آپ یہ بیچ دینا۔ آپکو آپکی آئسکریم سے زیادہ پیسے مل جائے گے ، اوکے: اس نے بغیر سوچے سمجھے بیگ اسے پکڑایا اور فون کی طرف متوجہ ہوا جہاں ضروری کال آرہی تھی۔
ہمممم یہ بھی ٹھیک ہے: وہ ہمکلام ہوئی اور فوڈ کوڈ کی طرف بڑھ گئی۔
یہ آپکا آرڈر میم: لڑکے نے اسے اسکا آرڈر دیا۔
تھنکیو، وہ جو وہاں کھڑے ہیں نہ میں انکو بھیجتی ہو وہ پیمنٹ کریں گے: اسنے کہا اور فون پہ بات کرتے شخص کی طرف بڑھ گئی۔
یہ آپکا بیگ اور وہاں پیمنٹ کردیں ہممم اللہ حافظ: وہ بیگ پکڑا کے چلتی بنی۔
چلو جلدی۔۔۔۔۔۔ کہاں تھیں اتنی دیر لگادی: وہ گاڑی میں بیٹھتے ہی بولی تو عاکل نے چوچھااور گاڑی آگے بڑھا ئی۔
بہت رش تھا اس لیے دیر ہو گئی::::۔
وہ کونٹر کی طرف گیا اور بل لے کہ دیکھنے لگا تاکے پیمنٹ کر سکے لیکن جب بل دیکھا تو آنکھیں حیرت سے بڑی ہوگئی۔
مھجے ان میڈم کا بل چاہئے جو ابھی آئسکریم لے کے گئی تھی:اس سے لگا شاید غلط بل دے دیا ہے۔
یہ انہی کا بل ہے: لڑکے نے کہا۔
اسنے ایک بار پھر بل دیکھا جہاں 9 برگر، 4 شوارمہ، 6آئسکریم، 2 لارج پزا اور کولڈرنک کا بل تھا۔ یہ سب کیا انہوں نے لیا ہے: اسنے حیرت سے پوچھا۔
نہیں سر انہوں نے تو بس ایک آئسکریم لی ہے باقی جو لوگ یہاں کھڑے تھے میم نے کہا آج انکی برتھڈے ہے تو وہ بل دیں گی: لڑکے نے تفصیل بتائی۔
وہ تو سن کہ بےہوش ہونے کوتھا۔ اسنے جلدی سے پیمنٹ کی اور وہاں سے نکلا۔
وہ لڑکی تو بہت چالاک نکلی: وہ صرف سوچ ہی سکا اورسر جھٹک کر اپنی گاڑی میں بیٹھا۔
۔![]()
![]()
![]()
مہر T.V دیکھ رہی تھی جب اسکا فون بجا۔۔۔۔
اسنے اسکرین پہ چمکتے نام کو دیکھا تو دل زور سے دھڑکا مگر اسنے کال نہیں اٹھائی۔۔۔۔
ایک بار، دو بار،تین بار اسنے اگنور کیا یکن شاید فون کرنے والا بھی ڈھیٹ تھاجو اب بھی فون کررہا تھا۔۔۔۔آخر اسنے تنگ آکے کاپتے ہاتھوں اور دھڑکتے دل سے کال رسیو کی۔۔۔۔
اسلام و علیکم: اسنے لہجہ نارمل رکھا۔
وعلیکم اسلام کہاں بزی تھیں:سلام کے جواب کےبعد سوال آیا۔
وہ می۔۔میں امی کے ساتھ کچن میں تھی: اسنے جھوٹ بولا۔
میں جانتا ہوں تم جھوٹ بول رہی ہو مجھ سے بات نہ کرنے کی وجہ سے لیکن تم ایساکیوں کر رہی ہو مجھے سمجھ نہیں آرہا:اسنے ماتھا مسلہ۔۔.۔۔۔پر وہ خاموش رہی۔
یار تم جانتی ہو مجھ سے تمہاری یہ بےروخی برداشت نہیں ہوتی۔ میں کال کرتا ہوں تو تم رسیو نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہو تو کوئی بہانہ بنا کے بند کر دیتی ہو، تمہارے گھر آتا ہوں تو تم چھپ جاتی ہو سامنے نہیں آتیں جب کہ جانتی ہو میں صرف تمہیں دیکھنے تم سے ملنے آتا ہوں پھر بھی ایسا کیوں کرتی ہو سمجھ سے باہر ہے میرے: وہ تو آج پھٹ پڑھا۔
ای۔۔سا کچھ نہی۔۔۔یں ہے آپ کو غلط فہ۔۔می ہوئی ہے:آنسو کا گولہ گلہ میں اٹکا تو زبان لڑکہڑائی۔
تمہاری زبان بھی تمہارا ساتھ نہیں دے رہی مہر۔ میں دیکھ سکتا ہوں تم مجھ سے بھاگ نے لگی ہوں مگر کیوں اگر تمہیں کوئی شکوہ یا شکایت ہے تو بولو میں اسے دور کر دوں گا مگر پلیز ایسے چپ رہ کے مجھ سے بھاگ کے مجھے اذیت نہ دو : وہ بےبس ہوا۔۔۔
مہر نے فون بند کردیا اور اپنے ہاتھ پہ گرے ہوئے آنسوں کو دیکھا جو ناجانے کب نکلے۔۔۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر لہرائے وہ باتیں یاد آئیں جو دل تو نہیں مان رہاں تھا لیکن آنکھوں دیکھا جھٹلایا بھی نہیں جا رہا تھا۔
“لیکن کہتے ہیں نہ کہ کبھی کبھی آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا سچ نہیں ہوتا”!!!۔۔۔۔
فون بند ہونے پہ وہ غصہ ضبط کر کہ رہ گیا۔
وہ اسے بات کرنا چاہتا تھا لیکن وہ اسکی کوئی بات سن ہی نہیں رہی تھی۔
۔![]()
![]()
![]()
شہاب آفس میں بیٹھا کوئی فائل ریڈ کررہا تھا جب بغیر اجازت کوئی اندر داخل ہوا۔
اسنے آنے والے کو دیکھا تو اس سے ملنے کے لیے کھڑا ہوا۔
شکر ہے تم آج کی تاریخ میں آگئے: دونوں گرم جوشی سے ملے۔
بس یار نہ پوچھ آج کیا ہوا ہے میرے ساتھ:اسے اپنا دکھ یاد آیا۔
اچھا ایسا بھی کیا ہوگیا: شہاب نے تجسس سے پوچھا۔
پھر جیسے جیسے وہ بتاتا گیا تو شہاب کو اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔۔۔
یار دانی تو اتنا سمجھدار ہو کے بےوقوف بن گیا وہ بھئی:اسنے قہقہ لگایا۔
اچھا بس زیادہ ہنس نہیں یہ لے اور میں چلتا ہوں کل شام میں جلدی آجانا: اسنے ایک گفٹ اسکی طرف بڑھا یا اور آٹھ کھڑا ہوا۔
ارے بیٹھ تو صحیح یا کچھ کھا پی تو لے: وہ بھی ساتھ کھٹرا ہوا۔
پھر کبھی ابھی جلدی جانا ہے:اسنے ہاتھ ملایا وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
اور ہاں یاد سے کل جلدی آجانا سب کے ساتھ: اس نے دروازے پر روک کہ ایک بار پھر یاد دلایا۔
ہممم اوکے:شہاب سر ہلاتا بیٹھ گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
اس نے عشاء کی نماز پڑھ کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے آنسوں آنکھوں سے جاری تھے۔
وہ لبوں سے کچھ نہیں بول رہی تھی کیوں کہ وہ جانتی تھی اللہ سب جانتا ہے وہ خاموش لبوں کی بھی سنتا ہے۔ اس کے لیے کچھ ناممکن نہیں ہے وہ اسکے دل کے حال سے واقف ہے اسے اپنے رب پہ پر پورا یقین تھا ،وہ اسکی ضرور سنے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا مانگ کے اٹھی، جائے نماز رکھ کھی اور بستر پر لیٹ گئی۔
رات کا وقت تھا، چار سو اندھیرا تھا، تنہائی تھی، اور وہ اپنے رب سے گفتگو کر رہی تھی۔
خود کو ہلکا پھولکا محسوس کر رہی تھی کہ کب اسکی آنکھ لگئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں نے خدا کی سمت جو بھیجا ہے خالی خط
کچھ بھی نہیں بتایا کہ سب جانتا ہے وہ”!!!
۔![]()
![]()
![]()
آج اس کی آنکھ معمول سے بھی دیر میں کھولی تھی جب گھڑی پر نظر گئی تو آنکھیں پوری کھول گئیں،جلدی سے بستر چھوڑ کے فرش ہونے بھاگی۔
فرش ہو کے نیچے آئی تو گھر میں خاموشی کا راج تھا۔
کہاں گئے سب امی۔۔۔امیییی۔۔۔۔مسکان۔۔۔۔کوئی ہے بھی کہ نہیں۔۔۔۔مجھے بتائے بغیر کہا چلے گئے: وہ خود سے باتیں کرتے ہوئے کچن میں گئی لیکن کچن بھی خالی تھا۔
یہاں بھی نہیں ہیں۔۔۔ شاید لان میں ہوں گے: وہ لان کی طرف بڑھ گئی۔
جب سامنے ہی احد کان میں ہینڈ فری لگائے بیٹھا نظر آیا۔ وہ فورن اس کے سے پر پہنچی اور ہینڈ فری کھینچی۔
وہ جو اپنے میں ہی مگن تھا ایک دم گڑ بڑا گیا۔
بجو یہ کیا۔۔۔۔۔ کہاں ہیں سب: عروہ نے اسکی بات کاٹ کہ اپنا سوال دگا۔
ابو آفس، مسکان امی کے ساتھ گئی ہے امی کی کیسی دوست کی طرف انکی عیادت کرنے: اسنے تفصیل سے بتایا۔
عروہ اور مسکان میں زیادہ فرق نہیں تھا لیکن عروہ نے بچپن سے ہی احد سے بجو کہلوایا تھا جب کہ وہ مسکان کو نام سے ہی بولاتا تھا۔
اور میں کب سے آوازیں دے رہیں ہوں یہ لگا کے بیٹھنا ضروری ہے جب پتہ ہے کی گھر پر کوئی نہیں ہے :اس نے ڈنٹا۔
سوری غلطی ہو گئی مجھ سے : اس نے جان چھڑائی۔
اور ہاں یاد آیا امی بول کے گئی ہیں کہ کپڑے استری کر دیگا سب کے کیوں کہ شام کو حاکم انکل(عالم صاحب کے دوست) کی طرف جانا ہے: بول کہ دوبارہ ہینڈ فری کان میں لگائی۔
کیوں جانا ہے: اسنے ہینڈ فری کھینچی۔
اوہو بجو انکا بیٹا واپس آگیا ہے لندن سے ہمیشہ کے لیے اس لیے انہوں نے ڈنر رکھا ہے اپنے گھر پہ اور کوئی سوال: احد نے پوچھنا ضروری سمجھا۔
اچھاااا۔۔۔ کیا تم نے دیکھا ہے ان کے بیٹے کو: سوال حاضر تھا۔
دو سال پہلے آئے تھے نا گھر جب آپ گھر پر نہیں تھیں اپنی دوست کی شادی میں گئی ہوئی تھیں بس جب کا ہی دیکھا ہوا ہے: اسنےجواب دیا۔
اچھا ٹھیک ہے میں جاری ہوں اور تم اس میں گم نہیں ہوجانا آس پاس کا بھی ہوش رکھنا: وہ بول کہ اندر چلدی تو وہ بھی سر جھٹک کر اپنے میں مصروف ہو گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ آج جلدی گھر آگیا تھا اور اب تیار ہو کے نیچے آرہا تھا۔ بلیک پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ، ہاتھ میں ریسٹ واچ ، نفاست سے بنائے ہوئے بال وہ ہمیشہ کی طرح بہت ہنڈسم لگ رہا تھا۔۔۔
ماما بابا کہاں ہے کیا وہ نہیں جا رہے: حال میں بیٹھی زینب بیگم سے پوچھا جو تیار ہو کے بیٹھی ہوئی تھیں۔
جائے گے بیٹا لیکن پہلے تیار تو ہو جائیں۔۔۔
عادل نہیں جارہا ماما: اس نے عادل کو نہ پا کے پوچھا۔
نہیں وہ بزی ہے دیر سے آئے گا اور عاکل کسی دوست کی طرف گیا ہے اور اپر سے تمہارے بابا بھی اتنی دیر لگا رہے ہیں جب کہ بھائی صاحب نے جلدی آنے کا کہا تھا: انہوں نے کہا۔
زوجہ محترمہ آپ بھول گئیں جب آپ اتنی دیر کرتیں تھیں تو ہم کچھ بولتے تھے اور آج ہم نے تھوری سی دیر کردی تو آپ ناراض ہو رہیں ہیں: واصف صاحب نے کمرے سے نکلتے ہوئے کہا۔
توبہ کرہیں میں کہاں دیر کرتی تھی: انہوں نے حیرت سے کہا جب کہ شہاب اپنے ماں باپ کی نوک جھوک پر مسکرائے جارہا تھا۔
بیگم آپ لڑکی تھیں جب اب عمر کہ ساتھ آپکی یاداشت کمزور ہوتی جارہی ہے اس لیے آپ بھول گئیں ہیں لیکن ہم ابھی بھی جوان ہیں اس لیے ہمیں سب یاد ہے: وہ مسکراہٹ دبا کہ بولے۔
شہاب دیکھ رہے ہو تم اپنے بابا کو: انہوں نے خفگی سے کہا۔
بابا میری ماما ابھی بھی جوان ہیں اس لیے آپ انہیں کچھ نہ کہیں: شہاب نے ماں کے گرد گہرا بنایا۔
اب دیر نہیں ہو رہی دونوں ماں بیٹے کو: واصف صاحب نے دونوں کو سکون سے بیٹھے دیکھ کہا۔
ہو رہی ہے آپ دونوں جلدی سے باہر آجائے میں جب تک گاڑی نکال رہا ہوں: وہ باہر نکلا۔
تو وہ دونوں بھی باہر چل دیے۔
۔![]()
![]()
![]()
