397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 13)

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

آپ نے بتایا نہیں کے گھیر کیسی بنی ہے: شہاب بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا جب عروہ نے اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔۔

شہاب نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کے سامنے بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھا جو اسکے جواب کی منتظر تھی۔۔۔۔

اسنے آگے جھک کر اسکی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اپنی طرف کھینچا۔۔۔ وہ اس حملے کے لیئے تیار نہیں تھی اس لیے سیدھا اسکے سینے سے الگی۔۔۔

میں لفظوں سے نہیں عمل سے بتاؤ گا۔۔۔: اسکی آنکھوں میں پل میں خمار اترا تھا۔

عروہ اسکی نظروں سے گھبراتی اپنی نظریں جھکا گئی۔۔۔ پل میں رخصاروں پر لالی اتری تھی۔

اسنے شرم سے سرخ پڑتے گالوں پر اپنا شدت بھرا لمس چھڑا۔۔۔ عروہ نے اسکی شرٹ مٹھیوں میں جکڑی۔۔۔

شہاب نے تھوڑی پر اپنے لب رکھے تو وہ جی جان سے کانپی۔۔۔ وہ دنیا بھولائے ایک دوسرے میں کھوتے چلے گئے۔۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺

عادل رات گئے گھر آیا تھا۔۔۔ وہ پچھلے دو گھنٹے سے گاڑی سڑکوں پر بلا وجہ دوڑا رہا تھا۔۔۔ اسنے مہر کو بھی کئی بار فون کیا لیکن ہر بار وہ یا تو اسکا فون کاٹ دیتی یا اٹھاتی ہی نہیں۔۔۔۔

وہ غصے، بے چینی سے کتنی دیر ہی گھر سے باہر سڑکوں کی خاک چھانتا رہا تھا۔۔۔۔ وہ گھر نہیں جانا چاہتا تھا، کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اس لیے سب کے سونے کے بعد گھر آیا تھا۔۔۔۔

مہر فون اٹھاؤ: عادل کو مہر کا فون نا اٹھانا غصہ دلا رہا تھا۔۔۔۔جب کے اب تو اسکا فون بند جا رہا تھا۔۔۔ اسنے غصے سے فون صوفے پر پھیکا اور اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔

مہر تم اچھا نہیں کر رہیں میرے ساتھ۔۔۔۔ مجھے میرا قصور بتائے بغیر تم مجھے اتنی بڑی سزا نہیں دے سکتیں۔۔۔ میں تمہیں ایسا کرنے نہیں دوں گا ۔۔۔ میں تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دوں گا۔۔۔ : عادل تصور میں مہر سے مخاطب ہوا۔۔۔ آنکھوں سے نیند کوسو دور تھی ۔۔۔۔۔ اسکی باتیں ، یادیں ذہن کے پردوں پر گردش کر رہی تھیں۔۔۔

۔🌺🌺🌺

مسکان کی آنکھ کھولی تو نظر اپنے برابر میں گئی تو جگہ خالی تھی ۔

اسنے لیٹے لیٹے ہی گردن کھوما کے کمرے میں نظر دوڑائی تو دانیال ڈریسنگ کے سامنے کھڑا خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا اسنے کھڑی دیکھتی تو اٹھ بیٹھی۔

دانیال 10 بج گئے اور آپ نے مجھے اٹھایا ہی نہیں۔۔۔۔ میں ابھی ناشتہ بناتی ہوں جلدی سے۔۔۔: اسنے بیڈ سے اترے ہوئے کہا۔

ڈارلنگ تم رات بہت دیر سے سوئی تھیں میری وجہ سے تو مجھے اچھا نہیں لگا کے تم پھر میری وجہ سے اٹھو : دانیال قدم قدم بڑھتا اسکے سامنے روکا۔

اسکی بات پر مسکان کا چہرا پل میں سرخ ہوا۔

ہائے ایسے نا شرماؤ یار ورنہ میں پھر بہک جاؤ کا: دانیال نے کمر کے گرد حصار قائم کیا۔

آپ کو دیر ہو رہی ہے آفس سے: مسکان نے اسکے ہاتھ ہٹانے چاہے۔۔۔

میں بوس ہوں اگر دیر سے جاؤ گا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا: دانیال نے اسکے بال کان کے پیچے گئے۔

اگر بوس ہی دیر سے جائیں گے تو امپلائز پر کیا اپر پڑے گا: مسکان نے سمجھانا چاہا۔

ہممم کافی سمجھدار ہو تم ۔۔۔ لیکن فکر نہیں کرو اگر انہوں نے ایسا کیا تو میں انہیں ٹھیک کر دوں گا: دانیال نے اسکی پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔۔

ارے ماما آپ: مسکان کو وہاں سے نکلنے کا جب کوئی راستہ نا دکھا تو پیچے دیکھ کے پریشانی سے کہا۔

ماما: دانیال پل میں اسے دور ہوا تو وہ جلدی سے ہنستی ہوئی واشروم میں بھاگ گئی۔۔۔۔

اپنے پیچے کسی کو نا پاکے اور اسکی ہنسی سن کے وہ سمجھ گیا کے اسکی بیوی اسے الو بنا گئی ہے۔۔۔۔

بیٹا بچکے کہاں جاؤ گی آنا تو میرے پاس ہی ہے نا: دانیال نے مسکراتے ہوئے دھمکی دی اور اپنی گاڑی کی چابیاں اور موبائل اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا۔

دروازہ بند ہونے کی آواز پر اسنے زراسا سر باہر نکل کے کمرے کا جائزہ لیا تو کمرہ خالی تھا۔ وہ سکون کا سانس لیتی باہر آئی اور اپنے کپڑے لے کے فریش ہونے چل دی۔

۔🌺🌺🌺

سب جا چکے تھے۔۔۔۔ وہ آج عادل سے بات کرنے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن وی تو سب کے اٹھنے سے پہلے ہی چلا گیا تھا۔۔۔۔

عروہ کھانا بنانا سیکھ رہی تھی تو پہلے اسنے ملازمہ کے ساتھ مل کے کھانا بنایا اور پھر فریش ہونے چلی گئی۔

تائی امی کہاں ہیں؟: وہ فریش ہوکے آئی تو سامنے کام کرتی ملازمہ سے پوچھا۔

جی وہ اپنے کمرے میں ہیں: ملازمہ نے بتایا تو ہو انکے کمرے کی طرف چل دی۔

وہ دروازہ نوک کرتی اندر گئی۔

عروہ آؤ بیٹا: زینب بیگم جو لیٹی ہوئی تھیں اٹھ کے بیٹھیں۔

وہ تائی امی کیا میں پھوپھو کے گھر جاؤ۔۔۔ وہ کیا ہے نا کے مہر کے لیے جو رشتہ آیا تھا اس لڑکے کے بارے میں کچھ ڈیٹیل لینی ہے تاکے عادل کو دے سکوں جس سے اسکی اور مدد ہو جائے گئی: عروہ نے بہانا بنایا۔۔۔۔ اصل میں وہ مہر سے بات کرنے جارہی تھی۔۔۔۔ اسنے سوچ لیا تھا کے اگر جیسا وہ سمجھ رہی ہے ویسا ہی ہے تو وہ مہر اور عادل کے لیے ضرور کچھ کرے گی۔

یاں کیوں نہیں بیٹا ضرور جاؤ: انہوں نے اجازت دی تو وہ خوشی خوشی ان کے کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں گئی وہاں سے اپنا فون لیا اور شاہیں بیگم کے گھر کے لیئے نکل گئی۔

۔🌺🌺🌺

عروہ آپی آپ: حیا جو ہال میں بیٹھی نوڈلز کھارہی تھی عروہ کو دیکھ اسکی طرف بڑھی اور گلے لگی۔

کیسی ہو تم : عروہ نے اسکے ساتھ اندر آتے ہوئے پوچھا۔

میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہو اور گھر میں سب کیسے ہیں: حیا نے پوچھا ۔

سب ٹھیک ہیں ، تم یہ بتاؤ سب ہیں کہاں : عروہ نے گھر میں خاموشی پاکے پوچھا۔

ماما سو رہی ہیں اور مہر آپی اپنے کمرے میں ہیں ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے انہیں ہر وقت کمرے میں ہی رہتی ہیں: حیا نے بتایا۔

ہمم۔۔۔ اچھا میں مہر کے کمرے میں جا رہی ہوں تم میرے لیے چائے بناکے لاؤ۔۔۔ اپنے ہاتھوں​ سے: عروہ نے آخر میں باور کرایا۔

ٹھیک ہے میں ابھی لاتی ہوں: حیا کہتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔ تو عروہ بھی اوپر مہر کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

۔ 🌺🌺🌺

وہ ساکت لیٹی چھت کو گھور رہی تھی جب عروہ دروازہ کھول کے اندر آئی۔۔۔۔ جب مہر کی پوزیشن میں دروازے کی آواز سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا تو عروہ نے تھوڑی زور سے دروازہ بند کیا۔۔۔۔ تو اسنے خالی خالی نظروں سے دروازے کو دیکھا۔۔۔

دروازے کے سامنے خود کو گھورتی عروہ کو دیکھ جلدی سے اٹھ بیٹھی۔

عروہ تم کب آئیں: وہ گڑبڑائی۔

جب تم کھوئی ہوئی تھیں تب آئی: عروہ اسکے ساتھ بیڈ پر بیٹھی۔

میں تو کسی کی یاد میں نہیں کھوئی ہوئی تھی: مہر کے منہ سے اچانک نکلا۔

تو میں نے کب کہا کے تم کسی کی یاد میں ہی کھوئی ہوئی تھیں: عروہ نے باغور اسکا چہرہ دیکھا جو بھوجا بھوجا سا لگ رہا تھا۔

نہ۔۔ نہیں وہ میں سمجھی تمہارا مطلب وہی ہوگا: وہ گڑبڑائی۔

ہممم اچھا۔۔۔۔اور تم نے اس رشتے کے بارے میں کیا سوچا: عروہ پاؤں اوپر کرکے بیٹھی۔

کچھ نہیں : اسنے آہستہ آواز میں کہا۔

پھوپھا جان نے عادل سے بولا ہے کے وہ لڑکے کے بارے میں چھان بین کروائے۔۔۔۔ ویسے مجھے تو وہ لڑکا ٹھیک ہی لگ رہا ہے: عروہ نے سکون سے کہا۔

پھر عادل نے کچھ کہا کیا۔۔۔۔ می۔۔میرا مطلب ہے کے اس لڑکے کے بارے میں کچھ بتایا: مہر نے سنبھلتے ہوئے پوچھا۔

نہیں ابھی تو کوئی جواب نہیں دیا: عروہ نے کندھے اچکائے۔تو وہ ہاں میں سر ہلاگئی۔

جب کے دل میں ہول سے اٹھ رہے تھے۔۔۔۔وہ رات کو ہی سمجھ گئی تھی کے عادل کو سب کچھ پتہ چل گیا ہے۔۔۔۔ اس لیے وہ اتنی کالز کر رہا تھا۔

ویسے عادل کے لیئے بھی ایک بہت اچھی لڑکی کا رشتہ آیا ہے ہم سوچ رہے ہیں کے ہاں کردیں: عروہ کی نظریں اسی پر تھیں وہ اسکے ہر ایک ریئکشن نوٹ کر رہی تھی۔

ایسے کیسے وہ کسی سے بھی شادی کر سکتے ہیں: مہر کی آنکھیں نم ہونی شروع ہوئیں۔

جیسے تم کسی سے بھی کر سکتی ہو ویسے ہی: عروہ سنجیدہ ہوئی۔ تو وہ اسکی بات پر اسے دیکھنے لگ گئی۔ اور پھر سمجھ آیا کے وہ جلدی میں کیا بول گئی ہے۔

مہر مجھے ایک بات سچ س۔۔۔۔۔۔۔۔ چائے آگئی۔: عروہ ابھی بات شروع کرتی کے حیا چائے لے کے اندر آئی ۔ تو دونوں خاموش ہوگئی۔۔۔

مہر کو تو عروہ کی باتوں نے اور پریشان کر دیا تھا۔۔۔۔

شکر ہے تم چائے لے کے تو آگئیں ورنا مجھے تو لگا تھا کے آج مجھے بغیر چائے پییے ہی جانا پڑے گا: عروہ نے چائے کا کپ اٹھایا۔

اب لے آئی ہوں تو ٹیس کر کے بتائیں کیسی بنی ہے: حیا نے چہکتے ہوئے کہا۔

ہمم بہت اچھی بنی ہے۔۔۔۔ تم ایک کام کرو چائے کا ڈھابہ کھول لو بہت کمائی ہوگی: عروہ نے مفت مشورے سے نوازا۔

بہت شکریہ آپ کے مشورے کا۔۔۔ لیکن یہ مشورہ آپ کو تین سال پہلے دینا چاہیے تھا جب میں نے میڈیکل نہیں لیا تھا لیکن اب تو میں آدھی ڈاکٹر بن چکی ہوں۔۔۔۔ تو یہ مشورہ اب میرے لیے بیکار ہے: حیا نے افسوس سے کہا۔

ہممم کوئی بات نہیں تم مجھے ہی چائے بنا بنا کے پلاتی رہنا: عروہ نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔

آپی آپ کے لیے لاؤ چائے : حیا نے سر جھکائے بیٹھی مہر سے پوچھا۔

نہیں میرا دل نہیں ہے ابھی: مہر نے اسکی بات پر سر اٹھایا۔

اوہو آپی میں مانتی ہوں آپ شروع سے ہی بورنگ تھیں لیکن اب تو کچھ زیادہ ہی ہوگئی ہیں: حیا نے اپنی بہن کو دیکھا جو واپس سر جھکائے بیٹھ گئی تھی۔

ہمم میں ابھی اسی بات پر اسکی کلاس لینے لگی تھی لیکن اتنی دیر میں تم ٹپک پڑیں: عروہ نے حیا کے سر پر ہلکے سے ہاتھ مارا۔

تو ٹھیک ہے آپ لیں انکی کلاس میں جا رہی ہوں۔۔۔۔اور اچھے سے لیجیے گا : حیا نے خالی ٹرے اٹھائی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

میں بہت اچھے سے کلاس لوں گی تم فکر نہیں کرو: عروہ نے تسلی دی تو وہ کمرے سے نکل گئی۔

ہاں تو کہاں تھی میں۔۔۔۔۔۔: اسنے سوچتے ہوئے کہا۔

ہاں یاد آیا۔۔۔۔ تو مہر مجھے سچ سچ بتاؤ کے تمہارے اور عادل کے بیچ میں کیا چل رہا ہے۔۔۔۔۔ : عروہ نے انگلی دیکھا کے پوچھا۔

کچھ نہیں : وہ منمنائی۔۔۔

دیکھوں میرے سامنے یہ منمنانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں اندھی نہیں ہو سب نظر آتا ہے مجھے۔۔۔۔ پہلے تمہارا پھر عادل کا تمہارے رشتے کی بات پر ریئکٹ کرنا سب سمجھا رہا ہے مجھے: عروہ نے اسے گھورتے ہوئے سختی سے کہا۔

مہر کی تو جان ہوائی تھی۔۔۔۔ وہ تو اس بارے میں کسی کو کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ لیکن اب عروہ کے تیور دیکھ کے لگ رہا تھا کے وہ سب جان کے ہی دم لے گی۔

دیکھو مہر اگر تم اس بات کو بتانے سے اس لیے ڈر رہی ہو کے پھوپھا​اور پھوپھو کیا بولے گے تو تم بلکل نہیں ڈرو میں ہوں نا میں ایسے بات کرو گی سب سے کے کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا: عروہ کو یہی لگا کے وہ اس وجہ سے ڈر رہی ہے اس لیے پیار سے سمجھایا۔

ایسی بات نہیں ہے: آنسوں کبھی بھی باہر نکل سکتے تھے۔

تو پھر کیا بات ہے: وہ جھنجھولائی۔

مہر کچھ بولے بغیر فون میں تصویریں کھول کے اسکے سامنے کردیں۔۔

عروہ تو تصویروں میں عادل کے اتنے پاس کسی لڑکی کو دیکھ کے دنگ رہ گئی۔

یہ کون ہے مہر: عروہ نے مہر سے پوچھا جو بامشکل آنسوں پر بندھ بندھی ہوئی تھی۔ اسکے پوچھنے پر اسکے گلے لگ کے رونے لگی۔۔۔۔

عادل جھوٹے ہیں عروہ۔۔۔۔ انہوں نے مجھے دھوکا دیا ہے۔۔۔۔ میرے سامنے پیار محبت کے دعوے کرتے ہیں اور میرے پیچھے کسی اور کے ساتھ گھومتے ہیں۔۔۔۔ عروہ مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا: وہ زارو قطار رو رہی تھی عروہ کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کے یہ سب عادل کر سکتا ہے۔

مہر چپ ہو اور مجھے پوری بات بتاؤ: عروہ نے اسے خود سے الگ کیا تو وہ آنسو صاف کرتی پیچھے ہوئی اور بتانا شروع کیا۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺