Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 23) Last Episode

397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 23) Last Episode

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

عاکل کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی وہ پری پیکر اسکے نام کا ہار سنگھار کئے بیک گراؤنڈ سے ٹیک لگائے شاید سو گئی تھی۔۔۔۔ عاکل شیروانی اترتا بیڈ پر سوئی اپنی نئی نویلی دلہن کی طرف بڑھا۔۔۔۔

بیڈ پر اسکے پاس بیٹھ مسکراتی نظروں سے دیکھتا اسکی ناک میں پہنی باریک نتھ کو انگلیوں کے پاروں سے چھوا تو وہ جس کی عاکل کے انتظار میں آنکھ لگ گئی تھی کسی کا لمس اور نگاہوں کی تپش خود پر محسوس کر ایک دم آنکھیں​ کھول گئی۔۔۔

عاکل کو اپنے اتنے قریب دیکھ سیدھی ہوکے بیٹھی۔۔۔۔ دل نے اسپیڈ پکری۔۔۔

آپ کب آئے:وہ نظریں اٹھا کے بولی تو عاکل اسکی کاجل سے سجی آنکھوں میں کھوسا گیا۔

جب تم میری نیندیں اڑا کے سورہیں تھیں تب آیا: عاکل اسکی طرف جھکا۔

سو۔۔۔۔سوری وہ مجھے پتا ہی نہیں چلا کے کب آنکھ لگ گئی: اسکے قریب آنے پر وہ گھبراتی اٹک کے بولی۔

ہممم ابھی اپنی نیند پر قابو رکھو کیوں کے یہ وقت اب میرا ہے: وہ معنی خیزی سے بولا تو اسکی بات کے پیچھے کا مطلب سمجھ شرم سے نظریں جھکاگئی۔

یہ میری طرف سے چھوٹا سا تحفہ: عاکل نے مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ سونے کے کنگن پہنائے۔۔۔۔

یہ بہت خوبصورت ہیں: سحر نے دوسرے ہاتھ سے کنگن چھوئے۔

میں کبھی تمہاری آنکھوں میں آنسوؤں کا سبب نہیں بنوں گا۔۔۔۔ ہمیشہ تمہیں​ خوش رکھوں گا یہ وعدہ ہے میرا: عاکل نے سحر کی پیشانی پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی۔

میں بھی کوشش کرو گی کے آپ کو اور گھر والوں کو شکایت کا موقع نا دوں: مسکرا کے کہا۔

تمہیں پتہ ہے میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں: عاکل نے سوال کیا تو وہ نا میں سر ہلاگئی۔

آسمان پر جتنے تارے ہیں، سمندر میں جتنا پانی ہے، صحرا میں جتنی ریت ہے، اسے کئی زیادہ محبت مجھے تم سے ہےوہ اسکے چہرے کا ایک ایک نقوش چھوکے دلفریبی سے بولا۔۔۔

وہ اتنے پیارے اظہارِ محبت پر قربان ہوئی۔۔۔ عاکل اسے اپنی محبت کی بارش میں بھیگوتے ہوئے سرشار کرتا چلا گیا اور وہ اس میں بھیگتی ہوئی اپنی باہیں اسکی گردن میں ڈالے سکون سے آنکھیں موند گئی۔

انکی نئی زندگی کی شروعات ہوئی۔ خوشیوں سے بھری زندگی کی۔۔۔

۔🌺🌺🌺

وقت کا کام ہے گزر جانا اور وہ گزر جاتا ہے۔۔۔ اور پیچھے صرف یادیں چھوڑ جاتا ہے۔۔۔

(چار سال بعد)

میم کوئی پیشنٹ آئے ہیں: وہ اپنے سینئر کے ساتھ کوئی کیس ڈسکس کر رہی تھی جب نرس نے اندر آکے عطلاح دی۔

کون آیا ہے نام نہیں بتایا انہوں نے: حیا نے پوچھا۔

نہیں میم ارجنٹ میں آئے ہیں وہ کہہ رہے تھے کے آپ سے فون پر بات ہوگئی ہے: اسنے تفصیل سے بتایا۔

اچھا میں آتی ہوں: حیا نے نرس سے کہا اور اپنے سینئر ڈاکٹر سے اکسکیوز کرتی اپنے کیبن کی طرف بڑھ گئی۔

حیا کمرے میں داخل ہوئی تو ٹھٹک کے روکی وہ ہمیشہ کی طرح آج پھر آ پہنچا تھا۔

احد پھر سے: اسنے آنکھیں بڑی کیں۔

یار یہ مجھ سے سمبھل نہیں رہا تھا بہت رو رہا تھا امی بھی سو رہی تھیں اس لئے میں اسے یہاں لے آیا: احد نے اپنے 7 ماہ کے روتے ہوئے بیٹھے کو رونی صورت بنائے حیا کو پکڑایا۔

حیا کی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد انکی شادی ہوگئی تھی، وہ ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئی تھی اور احد اپنے بابا کا بزنس جوائن کرچکا تھا۔۔۔ انکی شادی کو دو سال ہوئے تھے اور آج انکا سات ماہ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام انہوں نے آہان رکھا تھا۔۔۔ آیان کے پانچ ماہ کے ہونے کے بعد حیا نے اپنی جوب دوبارہ جوائن کر لی تھی۔۔۔ اسنے آہان کی وجہ سے ہی اپنا ڈیوٹی ٹائم بہت کم کروایا تھا۔۔۔ وہ صبح نو سے ایک بجے تک ڈیوٹی کرتی تھی۔۔۔ جب تک احد آہان کو سمبھالتا تھا پھر حیا کے گھر آنے کے بعد وہ آفس جاتا تھا۔۔۔ لیکن جب آہان اسے سمبھلتا نہیں تھا تو وہ اسے حیا کے پاس کسی نا کسی بہانے سے لے آتا۔۔۔۔ اب تو اسپتال میں سب ہی اسے جان گئے تھے لیکن جو نرس حیا کو بلانے آئی تھی وہ نئی تھی اس لئے اسے پہچان نا سکی۔

احد ابھی مجھے یہاں آئے دو گھنٹے ہوئے ہیں اور اس میں بھی یہ تم سے سمبھلا نہیں: حیا اسے گھورتے ہوئے اپنے بیٹے کو چپ کروانے لگی اور وہ بھی ماں کی گود میں آتے ہی چپ ہوگیا۔

دیکھا یہ بھی تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا میری طرح: احد اسکے قریب آیا۔

میرے بیٹے کو مجھ سے محبت ہی اتنی ہے: حیا نے اپنی گود میں موجود اس گول مٹول سے بچے کا گال چوما۔

اور مجھے تم سے: احد نے حیا کا گال چوما تو وہ اسکو گھورنے لگی۔

یار ہر بار اپنی یہ بڑی بڑی آنکھیں دیکھانی ضروری ہیں کیا: احد نروٹھے پن سے بولا۔

تو تم کام ہی ایسے کرتے ہو۔۔۔۔ اور زرا فاصلے پر ہو ہم اپنے کمرے میں نہیں ہیں اسپتال میں ہیں: حیا نے باور کرایا۔

اوکے ڈاکٹرنی صاحبہ​: وہ سر کو خم دے کے بولا۔

اچھا لو اسے یہ سوگیا ہے آب دو گھنٹے بعد ہی اٹھے کا جب تک میں آجاؤ گی اور اب تم جاؤ: حیا نے آہان کے ماتھے پر پیار کرتے اسے احتیاط سے احد کو دیا۔

ٹھیک ہے جلدی آنا میں انتظار کرو گا: احد بھی اسکا ماتھا چومتا آہان کو لئے باہر بڑھ گیا۔۔۔۔ تو حیا سر جھٹکتی مسکرا کے واپس اپنے سینئر کے کیبن میں چل دی۔

نکاح کے دو بول میں بہت طاقت ہوتی ہے جو دو لوگوں کو ایک مضبوط رشتے میں باندھ دیتا ہے۔۔۔ یہ ایک پاک رشتہ ہے جس میں لوگوں سے زیادہ اللہ کی مرضامندی شامل ہوتی ہے تو اس پاک رشتے میں محبت نا ہو یہ تو ممکن ہی نہیں۔۔۔ جو کل تک ایک دوسرے سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔ ایک دوسرے سے لڑنے مرنے کے لئے تیار رہتے تھے آج ایک دوسرے کے لئے جان دینے کو تیار تھے۔۔۔۔ ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺

دامش ادھر آؤ نہیں تو میں بہت برا پیش آؤ گی:مسکان تھک چکی تھی تین سالہ دامش کے پیچھے بھاگتے بھاگتے جو لان سے کپڑے گندے کر آیا تھا اور اب چینج بھی نہیں کروا رہا تھا۔۔۔ جو اب اپنی دادی کے پہلو میں چپ گیا تھا۔

کیا ہوا بیٹا: انہوں نے اسکا تھکا ہوا چہرہ دیکھ پوچھا۔

ماما دیکھیں نا سارے کپڑے گندے کر لئے ہیں اور چینج بھی نہیں کروا رہا: وہ کپڑے صوفے پر پٹخھتے ہوئے بولی۔

دامش بری بات بیٹا ماما کو تنگ نہیں کرتے نا جاؤ ماما کے پاس اور کپڑے چینج کرواو: انہوں نے دامش کے بال سہلاتے ہوئے سمجھایا۔

چھوڑ دیں ماما جب بڑے نہیں سمجھتے تو یہ تو پھر بچا ہے یہ ابھی کہاں سمجھے گا: مسکان نے جھنجھلا کے کہا۔

اور کون نہیں سمجھتا؟؟؟ : انہوں نے پوچھا۔

آپ کا بیٹا اور کون۔۔۔ دونوں بچوں کے ساتھ وہ بھی بچے بن جاتے ہیں: مسکان نے افسوس سے کہا۔

خبر دار بیگم جو آپ نے مجھے یا میرے بچوں کو کچھ کہا: دانیال اپنی تین سالہ بیٹی انابیہ کو گود میں اٹھائے ہال میں داخل ہوا۔۔۔ وہ اسے باہر لے گے گیا تھا جبکے دامش اس وقت سورہا تھا۔۔۔ وہ دونوں جڑوہ تھے اور بلا کے شرارتی بھی ان کے آنے سے گھر میں رونق آگئی تھی۔

میں بھلا آپ لوگوں کی شان میں گستاخی کر سکتی ہوں: مسکان نے چڑکے کہا۔۔۔ وہ دونوں مسکان کو خوب تنگ کرتے تھے اور انکا پورا ساتھ دانیال بھی دیتا تھا جس سے مسکان بہت چڑتی تھی۔

بلکل بھی نہیں کر سکتیں۔۔۔ تم میں اتنی ہمت ہی نہیں​ ہے: دانیال نے انابیہ کو گود سے اتارا تو وہ دامش کے پاس بھاگ گئی جو اپنی ماں کو ستانے کے بعد دادی سے کپڑے پہن رہا تھا۔

مسکان دانیال کو ناک چڑاتی کچھ کہے بغیر اٹھ کے کچن میں چل دی۔۔۔۔ دانیال نے ایک نظر اپنی ماں اور بچوں کو دیکھا جو آپس میں مصروف تھے اور اٹھ کے مسکان کے پیچھے چل دیا۔

میری جان ناراض ہوگئی: دانیال نے مسکان کو پیچھے سے اپنی باہوں میں بھرا تو وہ سٹپٹا کے پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔ لیکن دانیال کی گرفت مضبوط تھی۔

دانیال کیا کررہے ہیں کوئی آ جائے گا: مسکان نے اسکی طرف مڑتے ہوئے کچن کے دروازے پر دیکھا۔

کوئی نہیں آئے گا سب بیزی ہیں۔۔۔۔ تم بتاؤ ناراض ہو: دانیال نے مسکرا کے پوچھا۔

میں کیوں ناراض ہو گئی بھلا آپ سے: وہ اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتے ہوئے بولی۔

تو پھر ایسے اٹھ کے کیوں آگیں: وہ اسکے چہرے پر آئی لٹ کو پیچھے کرتے بولا۔

میں تو بچوں کے لئے کچھ کھانے کو لینے آئی تھی: مسکان نے اسکی آنکھوں میں دیکھاتے ہوئے کہا۔

اپسسس۔۔۔۔ہی۔ہی۔ہی : دانیال اس کے چہرے پر جھکنے ہی لگا تھا کے پیچھے سے دونوں بچوں کی آواز پر جھٹکے سے دور ہوا۔۔۔ دونوں نے ہڑبڑا کر دروازے کی طرف دیکھا تو وہ دونوں کھڑے منہ پر ہاتھ رکھے ہنستے ہوئے باہر بھاگ گئے۔

دیکھا میں نے بولا تھا نا کوئی آجائے کا لیکن نہیں آپ تو میری سنتے ہی نہیں ہیں۔۔۔ اگر بچے کچھ دیکھ لیتے تو کیا اثر پڑتا ان پر:مسکان نے تھوڑے غصہ سے کہا۔

اچھا ہے میرے بچوں کو بھی پتہ چل جاتا کے ان کے بابا کتنے رومنٹک ہیں: دانیال نے آنکھ دبا کے شرارت سے کہا۔

دانیال پلیز جائے اور مجھے کام کرنے دیں: مسکان نے منت بھر انداز میں کہا۔

پہلے ایک کس کرنے دو پھر چلا جاؤ گا: دانیال نے مصنوئی سنجیدگی سے کہا۔

دانیال۔۔۔۔۔: وہ دانت پیس کے بولی تو دانیال جلدی سے اسکا گال چومتا تیزی سے باہر بھاگ گیا۔۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلاتی کام میں مصروف ہوگئی۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے پیار میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔۔۔بچوں سے ان کی شرارتوں سے زندگی حسین سے حسین تر ہوتی جا رہی تھی!!!!…

۔🌺🌺🌺

یار یہ کیا ہے مجھے تمہارے پاس بھی نہیں آنے دے رہا اب: عاکل نے جھنجھلا کے کہا۔۔۔

تو آپ کو بول کون رہا ہے میرے پاس آنے کا: سحر مسکراتی ہوئے عاطف کو لئے آگے بڑھ گئی۔۔۔۔

یار تم میری بیوی پہلے ہو پھر اسکی ماں ہو تو اس حصاب سے میرا حق زیادہ ہے تم پر: عاکل اسکے پیچھے آتا اپنے چھوٹے نواب کو گھور کے بولا جو مزے سے ماں کا ہاتھ پکڑے اچھلتے کودتے ہوئے کھلونوں کی شوپ میں جارہا تھا۔۔۔۔

وہ محض تین سال کا تھا لیکن بہت ہوشیار تھا۔۔۔ وہ جب بھی عاکل کو سحر کے پاس آتے دیکھتا تو دوسری طرف آکے سحر کا ہاتھ پکڑ کے بیچ میں دیوار بن جاتا۔۔۔ وہ گھر میں بھی اپنی ماں کو کسی کے ساتھ برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔ سب کے ساتھ ساتھ وہ اپنے باپ کو بھی اپنی ماں کے پاس نہیں آنے دیتا تھا۔۔۔

عاکل آپ میرے معصوم بچے سے حصاب کتاب کریں گے اب: سحر نے کھلونے دیکھتے ہوئے کہا جو عاطف اسے دیکھا رہا تھا۔

یہ معصوم نہیں ہے میسنا ہے پورا: عاکل نے اسے آنکھیں دیکھیں تو بدلے میں وہ بھی اسے آنکھیں دیکھاتا اپنی ماں کے پاس گیا جو گھر کے باقی بچوں کے لئے بھی کھلونے دیکھ رہی تھی۔

ماما بھوت(بھوک) : وہ اپنی توتلی زبان میں پیٹ پر ہاتھ رکھے اپنی ماں سے مخاطب ہوا۔

او میرے بیٹے کو بھوک لگ رہی ہے چلو ہم چل کے کچھ کھاتے ہیں۔۔۔۔۔ عاکل آپ ان کھلونوں کی پیمنٹ کر کے آجائے گا : عاطف کو کہتے اپنی گود میں اٹھایا اور پھر عاکل کو بولتی شوپ سے باہر نکل گئی۔۔۔ پیچھے بیچارہ عاکل منہ بنائے پیمنٹ کرتا انکے پیچھے ہولیا۔۔۔

فوڈ کوڈ پہنچ کر عاکل نے عاطف کی پسند کے چپس اور آئسکریم لیں اور اپنی ٹیبل کی طرف آیا جہاں اسکی بیوی اور چھوٹے نواب اسکا انتظار کررہے تھے۔۔۔ہستے مسکراتے زندگی بہت خوبصورت ہوگئی تھی۔۔۔اور دور گھڑی خوشیاں انکی منتظر تھیں۔

۔🌺🌺🌺

عادل آج لیٹ گھر آیا تھا۔۔۔ اسے پتہ تھا اسکی شریکِ حیات اور اسکی ننی سی جان اس وقت کیا کر رہے ہوں گے۔۔۔ وہ آہستہ سے دروازہ گھولتا کمرے میں داخل ہوا تو کمرا نائٹ بلب کی ہلکی سی روشنی میں نہایا ہوا تھا۔۔۔ اسنے پہلے ہی فون کر کے بتا دیا تھا کے وہ آج دیر سے گھر آئے گا اس لئے وہ دونوں سکون سے سو رہی تھیں۔۔۔

وہ اپنا نائٹ ڈریس لیتا شاور لے نے چلا گیا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد باہر آیا تو ایک نظر اپنی معصوم بیوی کو دیکھا اور دوسری نظر اپنی دو سال کی بیٹی کو جو سوتے ہوئے چھوٹی سی پری لگ رہی تھی۔۔۔ تبھی انہوں نے اس کا نام پری ہی رکھا تھا۔

وہ اپنے بال صاف کرکے بیڈ پر آیا اور آرام سے اپنی ننی پری کو اٹھا کے اپنے سینے پر لیٹا لیا۔۔۔ پری نیند میں تھوڑا سا کھسمسائی اور عادل کے داڈھی کے بال اپنی چھوٹی سی مٹھی میں پکڑ لئے۔۔۔ عادل نے مسکرا کے اسکے سر پر بوسہ دیا پھر ہاتھ بڑھا کے مہر کو اپنے پاس آہستہ سے کھینچا۔

مہر کسی کی گرفت خود پر محسوس کرتے پٹ سے آنکھیں گھول گئی۔۔۔ اپنے ساتھ لیٹے عادل کو دیکھا تو سکون کا سانس لیا۔

آپ آگئے ۔۔۔ کھانا کھائیں گے ۔۔۔ کھانا لاؤ: مہر نے فکر مندی سے پوچھا۔۔۔ وہ اسکی فکر پر مسکرا دیا۔

نہیں میں کھا کے آیا ہوں تم پریشان نہیں ہو اور سو جاؤ: عادل نے اسکی پیشانی پر لب رکھے تو وہ مسکراتے ہوئے ہولے سے آنکھیں بند کر گئی۔۔۔۔ عادل اپنی قل کائنات کو دیکھتے ہوئے خود بھی انکھیں موند گیا۔۔۔

اگر مہر عادل کی جان تھی تو پری عادل کا دل۔۔۔وہ لوگ ایک دوسرے کے بغیر ادھورہ تھے۔۔۔

۔🌺🌺🌺

شہاب بیڈ پر بیٹھا ڈیڑھ سال کی عروش کے بالوں میں انگلیاں چلاتا اس کو سولا رہا تھا جب کے نظریں کبھی نماز پڑھتی عروہ تو کبھی اپنی ننی سی جان پر تھیں جو بلکل عروہ کی کاپی تھی۔۔۔۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں اسکے بال کندھے سے تھوڑے نیچھے تک آتے تھے۔۔۔ اس نے لمبے بال اپنی ماں سے چرائے تھے۔۔۔

ایک کپ کافی ملے گی: عروہ کو نماز ادا کر کے اٹھتا دیکھ بولا۔

جی: عروہ مسکرا کے کہتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔ کچھ دیر بعد کافی کا مگ لئے کمرے میں داخل ہوئی تو شہاب کمرے میں موجود نہیں تھا اسنے نظریں گھومائی تو بالکونی کا گلاس ڈور کھلا ہوا تھا وہ سمجھ گئی شہاب وہاں ہے۔۔۔

آپ کی کافی: عروہ نے اسکی طرف مگ بڑھایا۔۔۔

وہ عروہ کی آواز سے اپنی سوچوں سے باہر آیا اور مسکرا کے اسکے ہاتھ سے کافی لی۔

کیا سوچ رہے تھے: عروہ وہی اسکے پاس کھڑی ہوئی۔

یہی کے زندگی کتنی حسین ہوگئی ہے تمہارے سنگ۔۔۔۔ میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کے میری زندگی میں ایسی لڑکی آئے گی جو مجھ سے بچپپن سے پیار کرتی ہو گی۔۔۔ میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت محسوس کرتا ہوں کے مجھے تم جیسی جیون ساتھ ملی۔۔۔ تھینکیو میری زندگی میں آنے کے لیے،،، تھینکیو مجھے اتنی پیاری بیٹی دینے کے لئے۔۔۔ میری دنیا مکمل کرنے کے لئے: شہاب نے عروہ کے گرد اپنا حصار بنایا تو وہ آسودہ سی مسکراتی اسکے کندھے پر سر رکھ گئی۔

میں نے سچے دل سے آپ کو پانے کی دعا کی تھی اور اس مالک نے میری دعا سنی۔۔۔ میں اسکا جتنا شکر ادا کروں اتنا کم ہے۔۔۔۔:وہ آسمان پر چمکتے آدھے چاند پر نظریں ٹکائے بولی۔

میں بھی ہر روز اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں کے مجھے تم ملیں: شہاب نے اسکے سر پر محبت سے بوسہ دیا۔

زندگی میں محبت ہونا بہت ضروری ہے ۔۔۔ اگر زندگی میں محبت نا ہو تو زندگی بے رونق ہوجاتی ہے۔۔۔ میرے لئے تو “محبت زندگی ہے” شہاب۔: عروہ سکوں سے آنکھیں موند گئی۔

ما۔۔۔ ما۔۔۔: اندر سے عروش کی رونے کی آواز آئی جو ماں کو پکار رہی تھی ۔ وہ دونوں اسکی طرف متوجہ ہوئے اور کمرے میں قدم بڑھایا۔

عروہ اسکے پاس آتی اسے اپنی باہوں میں بھرے لیٹ گئی۔۔۔ شہاب دونوں کو دیکھتا مسکرا کے اپنی جگہ پر لیٹ عروہ اور عروش کے گرد حصار قائم کئے سونے لگا۔۔۔۔ عروہ اسکی باہوں کے حصار میں ہمیشہ کی طرح پرسکون ہوئے آنکھیں بند کر گئی۔۔۔

ایک اچھا ہمسفر ہی زندگی کو خوشیوں سے بھرتا ہے جو محبت کے ساتھ آپ کی عزت و احترام کرے ہر قدم پر ساتھ کھڑا رہے تو زندگی کی ہر آزمائش با آسانی گزر جاتی ہے اور زندگی خوشگوار ہوجاتی ہے۔

۔🌺🌺🌺

تسلیم کا نام ہے محبت!!!

محبت زندگی ہے,,,

محبت انسان اور حیو+ان میں فرق کرتی ہے۔۔۔

اس کائنات پہ محبت سب سے خوبصورت جذبہ ہے❤️⁩ پھر چاہے محبت بانٹی جائے، سکھائی جائے، برتی جائے یا اوڑھ لی جائے۔۔۔!

ہر رشتے میں محبت لازم ہے!!!

(اختتام)

🌺🌺🌺۔