397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 4)

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

ایک منٹ ایک منت میرا فون تو اندر ہی رہ گیا بابا چابی دیں میں لے کے آتی ہوں: وہ جو حاکم صاحب کے گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھ چکے تھے اور بس نکلنے ہی والے تھے عروہ کہ کہنے پہ رکے۔.

رہنے دو بس کون سا ہم وہاں رکنے جا رہے ہیں اور کون سا تمہیں کوئی ضروری فون آنا ہے جو فون لینا لازمی ہے۔ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے:اس سے پہلے عالم صاحب چابی اس سے دیتے نورین بیگم نے انکار کیا۔

ماں کی بات پہ اس نے رونی صورت بنا کے باپ کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ آپ کو تو پتہ تو ہے میں موبائل کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتی!!!۔۔۔۔

اور باپ تو باپ ہوتا ہے کب اپنے بچوں کو روتا دیکھ سکتا ہے۔

اچھا یہ لو چابی اور جلدی آنا : عالم صاحب نے چابی اس سے دیں جو اس نے جلدی سے لے لی اور ہاں میں سر ہلاتے ہوئے گاڑی سے اتر رہی۔۔۔

دروازہ کھول کے جلدی سے گھر میں داخل ہوئی۔۔۔

شہاب جو ابھی گھر سے باہر نکلا تھا عالم صاحب کی گاڑی دیکھ کے انکی طرف بڑھا۔

چاچو اب ابھی تک گئے نہیں: گاڑی پہ ہاتھ رکھ کے تھوڑا نیچے ہو کے عالم صاحب سے پوچھا۔

نکل ہی رہے تھے بیٹا کہ عروہ اپنا فون بھول گئی اب لینے گئی ہے بس اسکا ہی انتظار کر رہے تھے: انہوں نے وجہ بتائی۔

اچھا آپ لوگ نکل جائے ہم بھی بس نکل ہی رہے ہیں تو عروہ کو ہم ساتھ لے آئے گے: اسنے مسکرا کے کہا۔

ہاں مجھے بھی شہاب کی بات درست لگ رہی ہے ویسے ہی دیر ہو رہی ہے ہم نکلتے ہیں : نورین بیگم شہاب کی بات سے متفق ہوئی۔

ہممم ٹھک ہے یہ بھی اچھا بیٹا پر ہم نکلتے ہیں تم اسے لے آنا: عالم صاحب نے کہا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔

شہاب گاڑی کے پاس آیا جہاں واصف صاحب اور زینب بیگم کھڑی تھیں۔

کیا ہوا بیٹا سب ٹھیک ہے نا: زینب بیگم نے فکرمندی سے چوچھا۔

جی امی سب ٹھیک ہے عروہ اپنا فون گھر پی بھول گئی تھی تو میں نے چاچو سے کہا کے ہو نکل جائیں عروہ کو ہم اپنے ساتھ لے آئیں گے: اس نے رسانیت سے کہا۔

ہم یہ ٹھیک کیا : واصف صاحب کہا اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔

امی آپ بھی گاڑی میں بیٹھیں می. عروہ کو لے کہ آیا: وہ انہیں کہ کے عالم صاحب کے گھر کی طرف بڑھ گیا جہاں عروہ دروازے کو لاک لگا رہی تھی۔

بس آگئی آگئی۔۔۔ ایک تو اتنی دیر لگ گئی فون ڈھونڈنے میں: وہ جلدی سے باہر نکلی اور گھر کو لاک کرنے لگی اس نے جلدی میں یہ بھی نہیں دیکھا کے وہاں تو گاڑی ہی نہیں کھڑی۔

وہ لاک لگا کے جیسے ہی پلٹی شہاب کو اپنے پیچے دیکھ ڈر گئی۔

ایسے کون ڈراتا ہے: اسنے دل تھاما۔

میں نے تو کچھ نہیں کیا تم خود ہی بہت ڈرپوک ہو: وہ پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کھڑا رہا۔

میں ڈرپوک نہیں ہوں اب اگر کوئی ایسے اچانک پیچھے آکے کھڑا ہو گا تو ڈر ہی جاؤ گی نہ۔۔۔ اب میری چار آنکھیں تو ہیں نہیں جو دو پیچھے ہو تو میں پیچھے کا بھی دیکھ سکوں: اسنے اسکی انفورمیشن میں اضافہ کیا۔

پوئنٹ اب چلیں: اس نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔

کہاں چلیں اور بابا کہاں گئے مجھے چھوڑ کے چلے گئے: اس نے اب غور کیا تو روہانی ہوئی۔

نہیں میں نے ہی بولا تھا انکو کے دیر ہورہی ہے تو وہ لوگ ن جائیں تم ہماری ساتھ آجاؤ گی: اس سے رونے کی تیاری کرتے دیکھ وہ جلدی سے بولا۔

وہ بغیر کوئی جواب دیے جا کے گاڑی میں بیٹھ گئی۔

کیا ہوا بیٹا: نورین بیگم نے اس کی شکل دیکھ کہ کہا۔

بابا مجھے چھوڑ گئے تائی امی: وہ قدرے آہستہ بولی۔

انہیں شہاب نے ہی کہا تھا اور کیا ہماری بچی ہمارے ساتھ نہیں جانا چاہتی: واصف صاحب جو فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے پیچھے مڑے۔

اتنے میں شہاب نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی چلائی۔

نہیں ایسی بات نہیں ہے مجھے بہت اچھا لگتا ہے آپ کے ساتھ جانا: اسنے انہیں دیکھ کے کہا۔

اسکے بعد باقی کا سفر چھوٹی موٹی باتوں میں گزرا۔۔.

۔🌺🌺🌺

اسلام و علیکم: وہ سب گھر میں داخل ہوئے۔

وعلیکم اسلام۔۔۔او آؤ تم لوگوں کاہی انتظار تھا: حاکم صاحب عالم صاحب سے بغلگیر ہوئے۔

کیسے ہیں آپ انکل آئے نہ تشریف رکھیں: دانیال نے انہیں بیٹھنے کا کہا اور حال پوچھا۔

ہم ٹھیک ہے برخودار تم سناؤ بوڑھے باپ کہ پاس آہی گئے: عالم صاحب نے اپنے بہترین دوست کو دیکھ شرارت سے کہا۔

دانیال جس نے باہر ہی پڑھائی کی تھی اور وہی اپنا بزنس اسٹاٹ کر لیا تھا اب کافی سال بعد وہاں سے سارہ بزنس یہاں شفٹ کرلیا تھا۔

وہ اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے اب اپنے ماں باپ کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ وہ انہیں وہی اپنے پاس بولانا چاہتا تھا لیکن انہیں نے جانے سے ساص انکار کر دیا تھا۔ اس لیے وہ یہاں آگیا۔

چپ بوڑھا ہوگا تو: حاکم صاحب نے مصنوعی غصہ سے کہا تو سب نے قہقہ لگایا۔

ارے بھئی ہماری دوسری بیٹی کہا ہے کہی گھر تو نہیں چھوڑ آئے اس سے: آسیہ بیگم (دانیال کی ماں) نے عروہ کو ناپا کہ پوچھا۔

آنٹی وہ تایاابو​ کے ساتھ آرہی ہے: مسکان نے مسکرا کےکہا۔

ابھی تھوری دیر ہی ہوئی تھی کہ واصف صاحب بھی آگئے سب نے ہم آواز سلام کیا۔

دانیال جس کی پشت ان لوگوں کی طرف تھی سلام کہ جواب دیتے ہوئے مڑا تو حیران رہ گیا۔

جب کہ دوسری طرف عروہ کا بھی یہی حال تھا۔

تمم۔۔۔۔: دونوں نے بیک وقت کہا۔

ارے آپ دونوں مل چکے ہو پہلے کیا: واصف صاحب نے دونوں کو حیرت میں ڈوبا دیکھ پوچھا۔

نہیں تایاابو بس غلطی سے ملاقات ہوگئی تھی: عروہ نے دانت پیسے۔ اس سے اپنی آئسکریم یاد آگئی تھی لیکن اپنا بعد کا کارنامہ یاد کر کہ سکون سے صوفہ پہ آسیہ بیگم کے ساتھ بیٹھ گئی۔

جبکہ اسسے دیکھ کہ دانیال کو اپنے پیسے یاد آگئے۔

تمہاری حیرت ختم ہوگئی ہو تو مجھ سے بھی مل لو: شہاب نے مسکراہٹ دبا کہ اس سے کہا۔ وہ سمجھ گیا تھا عروہ ہی وہ لڑکی تھی جس نے دانیال کو بےوقوف بنایا تھا۔

تو یہ محترمہ تمہاری کزن ہیں تم لوگ اس کو برداشت کیسے کرتے ہو: دانیال اسے لے کہ بیٹھا۔

ہم سمجھدار لوگ ہیں: شہاب کی بات پہ وہ اس سے گھور کہ رہ گیا۔

شہاب اور دانیال ایک بزنس میٹنگ میں ملے تھے تب یہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ انکے والد دوست ہیں جب پتہ چلا تو ان کی دوستی گہری ہو گئی۔

بیگم کھانے کا احتمام کیجئے​: حاکم صاحب نے اپنی زوجہ کو کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتیں کھانا لگانے چلدیں۔

سب اپنی باتوں میں مگن تھے اور عروہ بیٹھی بیٹھی بور ہو رہی تھی تو وہ اٹھ کے لان میں چلی آئی۔۔۔۔۔ تازی ہوا، پھولوں کی خوشبو، نرم گھاس پر وہ ننگے پاؤں چل رہی تھی۔

اسکوزمی: دانیال نے فون پر کال آتی دیکھ کہا اور آٹھ کے باہر آگیا۔

ابھی وہ کال سن کی مڑا ہی تھا کہ اسکی نظر عروہ پر گئی جو آسمان پر ناجانے کیا تلاش کررہی تھی۔۔۔۔

وہ اسکے پیچھے آکے کھڑا ہوگیا۔ اپنے پیچھے کیسی کہ موجودگی محسوس کر کہ اس نے مڑ کے دیکھا جو اس سے مسکرا کہ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

کیسی ہیں آپ مس عروہ۔۔۔۔۔ خیر ٹھیک ہی ہونگی آپ کیوں سہی کہانا: وہ زبردستی مسکرایا۔۔

جی بلکل ٹھیک کہا ویسے آج آپکی آنکھیں اور زبان صحیح کام کر رہی ہے اگر ایسا ہی کام اس دن مال میں کر لیتی تو آپکو جرمانہ نا بھرنا پڑتا: اس نے دل جلا دینے والی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائی۔

بدلہ ادھار رہا مس عروہ: اسنے گھور کہ کہا ۔

شوق سے لینا: اسنے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔

کھانا لگ گیا ہے اندر بلا رہے ہیں۔۔۔ سب: ابھی دانیال کچھ کہتا اس سے پہلے مسکان نے آکے کھانے کی عطلاح دی۔۔۔

عروہ بغیر دانیال کو دیکھے اندر چلد دی۔!!!

سنیں : مسکان ابھی جانے ہی لگی تھی کہ دانیال کی آواز پہ رک کے اس سے دیکھا۔

جی۔۔۔۔

آپ کم بولتی ہیں: دانیال کو اپنا ہی سوال سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔

جییی میں سمجھی نہیں: مسکان نے ناسمجھی سے کہا۔

وہ میرا مطلب ہے کہ اپکی بہن تو کافی بولتی ہے اس لیے پوچھا لگتا نہیں ہیں کہ آپ دونوں بہنیں ہو ایک کم بولتی ہے تو دوسری چپ نہیں ہوتی: وہ مسکرایا۔۔۔

آپ نے کب اسے زیادہ بولتے ہوئے دیکھا: مسکان کو یاد نا آیا کہ یہاں آنے کہ بعد عروہ نے زیادہ بولا کب ہے۔۔۔۔۔

وہ مال۔۔۔۔۔ آآ خیر چھوڑیں چلیں کھانے پر ویٹ کر رہے ہوں گے سب: اسنے بات بدلی ۔۔۔

تو وہ بھی اندر بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔۔

کیوٹ۔۔۔۔: وہ اسکی پشت کو دیکھ کہ دلکشی سے مسکرایا۔۔

ہیں میں کیوں مسکرا رہا ہوں : اسے خود بھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔ وہ سر جھٹکتا اندر بڑھ کیا۔۔۔

کھانا پرسکون ماحول میں کھایا گیا!!!!

وہ لوگ مزید تھوڑی دیر بیٹھ کہ اپنے گھر آنے کا کہ کے روانہ ہو گئے۔۔۔۔

🌺🌺🌺۔

وہ بستر پر لیٹا کب سے سونے کی کوشش کر رہا تھا لیکن جب بھی آنکھیں بند کرتا ایک ہی چہرا نظر آتا۔۔۔۔۔ تو وہ جلدی سے آنکھیں گھول دیتا۔۔

گندومی رنگت، کرلی بال، چھوٹے سے ہونٹ، گہری آنکھیں جو ہر بار اسکی آنکھیں بند کرنے پر سامنے آجاتی تھیں۔۔۔۔

افففف دانیال کیا ہوگیا ہے یار تجھے کیوں وہ بار بار آنکھوں کہ سامنے آ رہی ہے: وہ بڑبڑا یا۔

وہ اپنی ہی کیفیت سمجھنے سے انجان تھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے یا وہ سمجھ کہ بھی نہیں مجھ رہا تھا۔

وہ لندن میں رہا تھا اسنے ایک سے ایک خوبصورت لڑکی دیکھی تھی لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا تھا جو اب اس کے ساتھ ہو رہا تھا۔

اس نے تکیہ میں منہ دیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا جس میں وہ کامیاب بھی ہو گیا۔۔۔۔

اس سے پتہ نہیں تھا کہ وہ ایک ایسے راستے پہ نکل آیا ہے جس کی منزل ہے بھی یا نہیں ۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺.

اس کی آنکھ کھولی تو گھڑی پر نظر گئی۔.

9بج گئے اور میں اتنی دیر تک سوتی رہی: وہ جلدی سے اٹھی اور باتھ روم گھس گئی۔

منہ دھو کے چہرہ شیشے میں دیکھا تو آنکھیں رونے کی وجہ سے سوجی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ وہ رات کو اس ستمگر کو یاد کرتے کرتے کب سوگئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔

وہ سب باتیں بھول جانا چاہتی تھی لیکن وہ منظر جو اسنے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا وہ کیسے بھول تھی۔۔ وہ چاہ کے بھی نہیں بھول پارہی تھی۔۔۔۔۔وہ معصوم سی لڑکی شاید محبت کو سمجھی ہی نہیں تھی۔۔۔

ٹاول سے منہ صاف کر کہ وہ روم سے باہر نکلی اور رخ ڈائنگ روم کی طرف کیا جہاں سے شاہین بیگم اور حیا کی باتوں کی آواز آرہی تھی۔

ارے تم یونی نہیں گئیں: وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھی۔

فسٹ لیکچر اوف تھا تو آج دیر سے جارہی ہوں۔۔۔۔۔ آپی آپکی آنکھیں کو کیا ہوا اتنی سوجی ہوئی کیوں لگ رہی ہیں : حیا نے فکرمندی سے پوچھا۔

ہاں بیٹا کیا ہوا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے: شاہین بیگم بھی فکرمند ہوئیں۔

جی امی میں ٹھیک ہوں بس رات کو سر میں درد تھا تو صحیح سے سو نہیں پائی ایسی لیے بس: مہر نے نظریں چرائیں۔

تو آرام کرنا تھا نا بیٹا نیچے کیوں آگئ۔۔۔۔ اور اگر ابھی بھی سر میں درد ہے تو دوائی لے لو: انہوں نے پیار سے کہا۔

انکے پیار سے کہنے پر مہر کی آنکھیں نم ہوئیں جنہیں وہ جلدی سے چھپا گئی۔

وہ جانتی تھیں وہ سب کا خیال رکھتی تھی پر اپنے معاملے میں بہت لاپرواہ تھی۔

امی میں اب بلکل ٹھیک ہوں آپ پریشان نہ ہوں: مہر نے ماں کو مسکرا کہ تسلی دی۔

اچھا امی میں چلتی ہوں : حیا نے اٹھ کے اپنا بیگ اٹھایا۔

کیس کہ ساتھ جاؤ گی: شاہین بیگم نے پوچھا۔

ویسے تو وہ وین میں جاتی تھی یا پھر کبھی کبھی مدثر صاحب چھوڑ آتے تھے لیکن آج وہ دیر سے جارہی تھی تو مدثر صاحب بھی جا چکے تھے۔

امی اپنے سنا تو ہوگا کہ وقت پڑھنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے بس ایسی گدھے کے ساتھ جاؤ گی: اسنے افسوس سے کہا۔

کتنی بار کہا ہے ایسے نہیں بولتے۔۔۔ ویسے بھی وہ بہت اچھا بچہ ہے: شاہین بیگم نے اس سے جھڑکا۔

وہ اتنا بڑا اونٹ آپکو بچہ لگتا ہے خیر چھوڑیں میں اسکی تعریف وہ نہیں کر سکتی اس لیے اللہ حافظ: شاہین بیگم کچھ کہتی وہ جلدی سے انکے پھر مہر کہ گلے لگ کہ باہر بھاگی۔۔۔۔

پتہ نہیں کب سدھرے کی یہ لڑکی: وہ بھی سر جھٹک کہ کام کہ طرف متوجہ ہوئے۔

مہر انکی بات پر پھیکا سہ مسکرائی۔

۔🌺🌺🌺

وہ سب میٹنگ میں شریک تھے آج اسکی شہاب کے ساتھ میٹنگ تھی۔۔۔۔۔ عاکل پریزنٹیشن دے رہا تھا سب کی نظریں اسکرین پر تھیں لیکن وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھا۔۔۔۔ نظریں سامنے تھیں لیکن دماغ کہی اور تھا۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے دل کی کیفیت سمجھ چکا تھا۔۔۔۔ اس کے دل نے عتراف کر لیا تھا کہ اسے محبت ہوگئی ہے۔۔۔ہاں پہلی نظر کی محبت ۔۔۔۔۔۔وہ سمجھ گیا تھا کہ محبت کے بغیر اسکی زندگی ادھوری ہے۔۔۔۔۔

جب کچھ دن پہلے اسکی ماں نے اسے شادی کا پوچھا تو اسنے کے دیا کہ جیسے آپکی مرضی۔۔۔ جب وہ خود میں اپنی کیفیت سمجھ نہیں پارہا تھا۔ اور یہں اسکی غلطی تھی۔

وہ میٹنگ کی سلسلے میں اسلام آباد جا رہا تھا اسنے سوچ لیا تھا کہ وہاں سے آتے ہی وہ اپنی امی کو مسکان کے بارے میں بتائے گا اسے یقین تھا کے اسکی ماں کبھی انکار نہیں کریں گی۔

میٹنگ ختم ہوئی تو شہاب نے اسے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے کب سے مسکراتے دیا تو اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔۔۔

“تم جو یوں بے وجہ مسکرا رہے ہو

کچھ تو ہے جو ہم سے چھپا رہے ہو”!!!!

عاکل نے معنی خیز نظروں سے دیکھا۔۔

ارے یار ایسا کچھ نہیں ہے بس ایسی پرانی بات یاد آگئی تھی : اسنے بہانا بنایا۔۔۔

اچھااااا: عاکل نے اچھا کو کہنچا۔۔۔

اچھا اسکو چھوڑو یہ بتاؤ اسلام آباد کب جارہے ہو :شہاب نے میٹنگ روم سے باہر نکلتے ہوئے پوچھا۔

آج شام کو: دانیال نے جواب دیا اور وہ عاکل کے ساتھ باہر نکلا

ہممم اوکے: شہاب کے روم میں آکے کچھ کام کی باتوں کے بعد شہاب اپنے آفس کے لیے نکل گیا

۔🌺🌺🌺

اسلام و علیکم ممانی جان: اسنے حال میں بیٹھی نورین بیگم کو سلام کیا اور انکے پاس بیٹھ گئی۔

وعلیکم اسلام۔۔۔ آج صبح صبح یہاں کیسے اور یونی نہیں گئیں: انہوں نے پیار سے پوچھا۔

یونی جانے کے لیے ہی تو آئی ہوں: اسنے آنے کی وجہ بتائی۔

مطلب۔۔۔۔۔۔۔

مطلب یہ کہ میرا فسٹ لیکچر اوف تو میں نے سوچا دیر سے جاؤ گی لیکن ویں اور بابا تو چلے گئے ہیں تو میں سوچہ احد تو دیر سے ہی جاتا ہے تو اسکے ساتھ چلی جاؤ گی: اسنے تفصیل سے بیان کیا۔

ہمم پھر تو بلکل ٹھیک وقت پر آئی ہو کیونکہ وہ بس ابھی نکلنے ہی لگا ہے: انہوں نے کہا۔

اوہو صبح صبح کس کی شکل دیکھ لی پورا دن برا گزرے گا : حال میں حیا کو دیکھ احد نے برا سا منہ بنایا۔

تم نے منہ نہیں دھویا: حیا نے حیرت سے کہا۔

دھویا ہے کیوں: احد نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرا۔

شیشا نہیں دیکھا: حیا نے اسی انداز میں کہا۔

نورین بیگم اسکی چالاکی سمجھ کے زیرِ لب مسکرائیں۔

دیکھا ہے: احد کو سمجھ نا آیا کے وہ کہنا کیا چاہتی ہے۔

پھر تو واقع دن برا گزرے گا تم نے صبح صبح اپنی شکل جو دیکھی ہے: حیا مزح سے بولی تو اسکی بات سمجھ کہ احد کو آگ لگی۔۔۔

تممممم۔۔۔۔۔۔۔

اچھا ہم بعد میں لڑلیں گے ابھی دیر ہو رہی ہے یونی سے جلدی چلو: حیا مدے پر آئی۔

او ہیلو میں تو نہیں لے کی جارہا تمہیں۔۔۔۔ رکشہ میں جلی جاؤ: اسنے صاف انکار کیا۔

ممانی جان دیکھیں یہ اگر مجھے اپنے ساتھ لے جائے گا تو اسکا پیٹرول زیادہ لگ جائے گا کیا۔۔۔۔ ایک ہی جبکہ جانا ہے ۔۔۔۔۔ اب گھر کے لوگوں کے ہوتے ہوئے میں رکشوں میں جاتی اچھی لگو گی: اسنے معصومیت کے تمام رکوڈ توڑے۔

احد نے اپنا ہاتھ سر پر مارا۔۔۔۔

نورین بیگم جو پہلے ہی اسے گھور رہی تھیں حیا کی بات سن کہ اسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا۔

احد تم بچی کو اپنے ساتھ لے کے جاؤ گے : نورین بیگم نے سخت لہجہ میں کہا۔

لیکن امی یہ زبان چلاتی ہے: احد نے ایک کوشش اور کی۔

تو تم اسے چھیڑنا نہیں تو وہ بھی کچھ نہیں کہے گی: انہیں نے یہاں بھی اسکی ہی غلطی بتائی۔۔۔۔

چلو اب جاؤ دیر ہورہی ہے : احد کچھ کہتا وہ بات ختم کر کے اندر کچن کی طرف بڑھ گئیں۔

چلو میڈم یا آپکو الگ سے انویٹیشن کاڈ دینا پڑے گا: صوفے پر بیٹھی حیا کو دیکھ کہ احد نے دانت پیسے۔۔۔

ارے نہیں ۔۔۔ تم نے کہ دیا یہی بہت ہے چلو چلتے ہیں: حیا شانے بےنیازی سے باہر نکل گئی۔

وہ بھی جلتا بھنتا اسکے پیچھے ہی نکلا۔

۔🌺🌺🌺

گاڑی کو ٹرین سمجھ کہ نہیں چلانا: اسنے فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے ٹوکا۔

وہ جو پہلے ہی جلا ہوا تھا اسکی بات سے تو آگ ہی لگ گئی۔

اگر اتنا ہی مسلہ ہے میری ڈرائیونگ سے تو خودی چلی جاؤ: وہ گاڑی میں بیٹھا۔

حیا نے اسکی بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔ اور باہر دیکھنے لگی۔۔۔۔

اپنی بات کے اگنور ہونے پر وہ ضبط کر کے رہ گیا۔۔۔

صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے سڑک پر گاڑیاں اکا دُکا تھی۔۔۔ احد جانتا تھا کہ حیا کو تیز اسپیڈ سے ڈر لگتا ہے اسلیے اسے ڈرانے کے لیے اس نے اسپیڈ تیز کی۔۔۔۔۔

لیکن وہ تو سکون سے سیٹ سے سر ٹکائے سامنے دیکھنے میں مصروف رہی۔۔۔۔۔

اسنے اسپیڈ تھوڑی اور تیز کی لیکن اس بار بھی وہ ٹس سے مس نا ہوئی ۔۔۔۔

وہ تو جتنا حیران ہوتا کم تھا۔۔۔۔۔۔

وہ جانتی تھی وہ صرف اسے ڈرانے کے لیے ایسا کر رہا ہے اس لیے وہ بھی ڈھیٹ بنی رہی مگر اندر سے دل 240 کی اسپیڈ سے دھڑک رہاتھا۔

اسکے سکون میں کوئی کمی محسوس نا کر کہ احد نے گاڑی روکی اسے زیادہ اسپیڈ میں تو احد کو بھی ڈر لگتا تھا۔۔۔۔۔

ہاااں کیا ہم پہنچ گئے: وہ ادھر ادھر دیکھ کر انجان بنی

ایک پل کے لیے مجھے ایسا لگا کہ تمہارا انتقال ہوگیا ہے: احد نے حیرانگی سے کہا۔۔۔

نہیں تو میں تو زندہ ہوں۔۔۔ خدا کا شکر ہے۔۔۔۔ لیکن تم نے ایسا کیوں کہا۔۔۔۔۔ کہیں میں واقع تو نہیں مرگئی: اسنے ڈرامائی انداز میں اپنی نس چیک کی۔

میری ڈرائیونگ سے سڑک چیخیں مار رہی تھی لیکن تم بلکل بت بن کے بیٹھی تھی تو مجھے​لگا جیسے تم اوپر پہنچ گئی: احد نے کندھے اچکائے۔

آہاں اتنی تیز ڈرائیونگ کر رہے تھے تم مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا: وہ لاپرواہی سے بولی۔

واہ واہ واہ جانی میرے میٹر کی سوئی ٹوٹ جائے گی پھر تمہیں پتہ چلے گا: آج یہ لڑکی اسے حیران پر حیران کر رہی تھی۔۔۔

دیکھو مسٹر مانتی ہوں میں ایک ڈاکٹر بن رہی ہوں مجھے پتہ ہے زندگی کتنی انمول شہ ہے لیکن اسکا مطلب یہ تو نہیں ہے کے مجھے اسپیڈ پسند نہیں ہے: وہ گہرا مسکرائی۔

اسے مزح آرہا تھا احد کو حیران دیکھ کے۔۔۔۔

تمہیں کب سے اسپیڈ پسند ہوگئی: احد نے اچھمبے سے اسے دیکھا۔

ہم یہ بہس بعد کے لیے رکھتے ہیں ابھی دیر ہورہی ہے تو چلیں: اسنے گھڑی سامنے کی۔

احد نے ایک نظر گھڑی پر ڈال کہ گاڑی چلادی۔۔

پھر سارہ سفر خاموشی سے گزرا

۔🌺🌺🌺.