Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 10)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 10)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
بارات اسپیشل۔۔۔!!!!
آج بارات کا دن تھا۔۔۔ سب بے حد مصروف تھے۔۔۔ چونکہ بارات ہال میں تھی اس لیے لڑکی والوں کو جلدی نکلنا تھا۔۔۔۔۔
عالم صاحب احد کے ساتھ انتطامات دیکھنے جا چکے تھے۔۔۔۔
نورین بیگم گھر میں آئے مہمانوں کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
انہوں نے گھڑی کی طرف نظر گھومائی تو آنکھیں بڑی ہو گئیں۔۔۔۔۔ وہ سب کام چھوڑ کے مسکان کے کمرے کی طرف بھاگئیں۔۔۔
مسکان بیٹا اٹھو 3 بج رہے ہیں تمہیں پالر بھی جانا ہے دیر ہو رہی ہے: انہوں نے سوئی ہوئی مسکان کو ہلایا۔۔۔۔تو اسنے پٹ سے آنکھیں گھولیں۔۔۔
امی 3 بج گئے اور آپ مجھے اب جگا رہی ہیں : وہ جلدی سے فریش ہونے بھاگی۔۔۔
بس بیٹا مہمانوں میں یاد ہی نہیں رہا تم جلدی سے باہر آؤ میں تب تک عروہ کو بھی اٹھاتی ہوں۔۔۔: وہ کہہ کے جانے لگیں۔۔۔
چلو جی ہوگئی شادی: وہ جانتی تھی عروہ کو اٹھانا پہاڑ سر کرنے کے برابر ہے۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا اٹھ جائے گی آج جلدی: وہ کہہ کے باہر نکل گئیں۔
عروہ عروہ بیٹا اٹھو: انہوں نے اسے ہلایا
جو گدھے گھوڑے بیچ کے سو رہی تھی۔۔۔۔
کیا امی سونے دیں نا: وہ لاپرواہی سے بولی جب کے ساتھ سوئی سحر نورین بیگم کی آواز پر آٹھ کے بیٹھ گئی تھی۔
بیٹا تم میرے کمرے میں جاکے فریش ہوجاؤ میں اسے اٹھا کے بھیجتی ہوں: نورین بیگم نے سحر سے کہا تو وہ اونگتے ہوئے باہر نکل گئی۔۔۔ تو وہ عروہ کی طرف متوجہ ہوئیں۔
اٹھو عروہ آج تمہاری شادی ہے: انہوں نے جھنجھوڑا۔۔
سونے دیں نا امی شادی کل کر لیں گے: اسنے کمبل سر تک تانا۔۔۔۔
عروہ اگر تم ابھی نہیں اٹھی نا تو میں تمہارا فون کھڑکی سے نیچے پھینک دوں گی: نورین بیگم نے اسکی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا۔۔۔
میں اٹھ گئی ہوں : انکا طریقہ کام کرگیا تھا۔۔۔ وہ بستر چھوڑ واشروم میں گھس گئی۔۔۔۔
جلدی نیچے آؤ اپنا سارا سامان لے کے: وہ اونچی آواز میں اسے کہتی نیچے چلی گئیں۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ سب لوگ جلدی ہال میں پہنچ گئے تھے۔۔۔ لیکن ابھی دلہنوں کا پالر سے آنا باقی تھا۔۔۔۔
مدثر صاحب کی فیملی آج عالم صاحب کی طرف سے شریک ہو رہی تھی۔۔۔
احد ممانی جان کہہ رہی ہیں عروہ اور مسکان کو پالر سے لے آؤ: مہر نے دروازے کے پاس کھڑے احد سے کہا۔
اوکے: وہ اپنی واسکٹ صحیح کرتا باہر نکل گیا۔
آہ۔۔۔۔ سوری: مہر پیچھے مڑی تو کسی سے ٹکرائی وہ جلدی سے سوری بول کے آگے بڑھ گئی۔۔۔
جب کے دو آنکھوں نے دور تک اسکا پیچھا کیا۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
احد پالر کے باہر ان کا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔۔ وہ فون پر اپنے آنے کی عطلاح دے چکا تھا۔۔۔
چلیں: مسکان نے گاڑی کے پاس آکے کہا۔
وہ جو فون میں نظریں جمائے بیٹھا تھا اسکی آواز پہ سر اٹھایا۔۔۔۔
ارے واہ میری بہنیں تو شہزادیاں لگ رہی ہیں: اسنے دونوں کو پیار بھری نظروں سے دیکھا۔۔
میرا بھائی بھی کوئی کم نہیں لگ رہا: عروہ نے آنکھ ونک کی۔۔
احد نے ڈارک بلو رنگ کی شلوار قمیض زیب تن کی تھی۔۔. جس کے ساتھ وائٹ واسکٹ پہنی تھی ۔۔۔ وہ کسی بھی لڑکی کا دل دھڑکا سکتا تھا۔۔۔۔
شکریہ ۔۔۔۔ اب چلیں نہیں تو دیر ہو جائے گی: احد نے سر کو خم دے کے تعریف وصول کی۔۔۔اور گاڑی کا دروازہ کھولا۔ تو وہ گاڑی میں بیٹھ کے ہال کے لیے روانہ ہوئے۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
ان دونوں کو لاکے برائڈل روم میں بیٹھا دیا گیا۔۔۔۔ مہر، حیا، اور سحر تینوں ان دونوں کے پاس تھیں۔۔۔۔
ان تینوں نے ایک جیسے لہنگے بنائے تھے بس رنگ کا فرق تھا۔۔۔۔، مہر کا لہنگا وائٹ ، سحر کا گرین اور حیا کا بے بی پنک رنگ کا تھا۔
ارے لڑکیوں تم یہاں کیا کر رہی ہو بارات۔۔۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ: نورین بیگم نے نم آنکھوں سے دونوں کو دیکھ بات ادھوری چھوڑی۔۔۔۔۔
وہ دونوں سرخ رنگ کے لہنگے میں دلہن بنی بہت خوبصورت لگ رہیں تھیں ۔۔۔۔
ارے ارے ممانی جان پلیز روئے گا نہیں ورنا آپ کی بیٹیاں بھی رو دیں گی پھر انکا میک اپ خراب ہو جائے کا اور میرے پیارے دولہا بھائی ان کو پہچھانے گے نہیں : حیا نے انہیں رونے کی تیاری پکڑتے دیکھ۔۔۔۔ شرارت سے کہا۔ تو وہ سب نم آنکھوں سے مسکرادیں۔
اچھا لڑکیوں باہر آؤ پھولوں کی پلیٹیں بنانی ہے بارات آنے والی ہے : نورین بیگم نے انہیں کہا اور باہر نکل گئیں۔
۔![]()
![]()
![]()
تھوڑی دیر بعد بارات کا شور اٹھا۔۔۔۔۔
دانیال بہت دھوم دھام سے بارات لایا تھا۔۔۔
وہ براؤن اور گولڈن شیروانی پہنے شہزادہ لگ رہا تھا۔
ارے آپ ایسے اندر نہیں جاسکتے: حیا، مہر اور سحر نے راستہ روکا۔
تو پھر کیسے جانا ہوگا: دانیال نے آئبرو اچکائیں۔
جیب ہلکی کر کے: مہر نے معصومیت سے کیا۔
اوکے: دانیال نے جیب سے ساری چیزیں پیسے نکال کے ساتھ کھڑے اپنے دوست کو پکڑادیں۔۔۔
اب ہوگئی جیب ہلکی اب جا سکتا ہوں: دانیال نے اطمینان سے کہا۔ تو ان سب نے اسے ہوقوں کی طرح دیکھا جب کے سب بڑے اسکی چالاکی پر مسکرائے۔
دانیال بھائی یہ کیا ۔۔۔۔ آپ ہمیں نیک دیں اور اندر جائیں۔۔۔: حیا نے صاف بات کی۔
تو ایسے کہو نا: دانیال نے انہیں نیک دیا تو وہ راستہ سے ہٹ گئیں۔۔۔۔
چلو جی ایک بارات تو آگئی۔۔۔۔۔ : سحر نے آکے عطلاح کی۔۔۔
کس کی آئی ہے: عروہ نے بےصبری سے پوچھا۔
اوہوووو۔۔۔ بہت بےصبری ہورہی ہو: اسنے کندھے سے کندھا مارا۔۔
ہاں ہورہی ہوں تو: وہ بے شرموں کی طرح بولی۔
ہممم ابھی تمہیں ویٹ کرنا ہوگا کیونکہ دانیال بھائی بازی لے گئے ہیں : سحر نے مسکان کی طرف دیکھ کے شرارت سے کہا۔ تو وہ شرما کے سر جھوکا گئی۔
سحر آپی چلیں دوسری بارات آگئی ہے: حیا عطلاح دے کے بھاگ گئی۔۔۔۔۔
چلو اب دوسرے دولہے کو لوٹنے کی باری آگئی: سحر نے باہر نکلتے ہوئے کہا۔
خبردار جو میرے انکو لوٹا تو: عروہ نے شہادت کی انگلی دیکھا کے کہا۔۔۔
دوست ہوئے پرائے:وہ مسنوئی آنسوں صاف کر کے باہر نکل گئی۔۔۔۔
ڈرامے بازی: عروہ نے اسکی ایکٹنگ پر خطاب سے نوازا۔
۔![]()
![]()
![]()
ان تینوں نے راستہ روکا ۔
چلیں بھائی نکالیں نیک: حیا اور سحر نے ایک ساتھ ہاتھ آگے کیا۔
جب کے مہر خاموش پیچھے ہی کھڑی تھی۔۔۔۔ کیونکہ عادل کی نظریں اسی پر تھیں۔ جو نیلے رنگ کے کرتا پاچامہ میں بہت پیارا لگ رہا تھا۔
کسی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی شہاب نے انکے ہاتھ پر نیک رکھ دیا۔۔۔۔
شہاب نے کولڈن رنگ کی شیروانی پہنی تھی ۔۔۔۔ جس میں وہ بہت ڈیشگ لگ رہا تھا۔۔۔
یاہوووو: انہوں نے خوشی سے نارہ لگایا۔
یہ کیا بھائی آپ نے اتنی آسانی سے دے دیا۔۔۔۔ جب کے میں نے آپ کو سمجھایا بھی تھا کے آسانی سے کسی بھی رسم میں نہیں ماننا آپ نے : عاکل کو اپنے بھائی سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔ وہ شہاب کو گھر سے ہی سمجھا کے لایا تھا کے کوئی بھی نیک جلدی سے نا دے!!!!
عاکل نے بھی عادل کی طرح ہلکے ہرے رنگ کا کرتا پاجامہ پہنا تھا۔۔۔
انہیں چھوڑیں بھائی آپ آئے: انہوں نے راستہ چھوڑا۔
بارات کا استقبال بہت زور و شور سے کیا گیا تھا۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
عالم صاحب اور احد مولوی صاحب کو نکاح کے لیے برائڈل روم میں لے کے آئے۔۔۔
پہلے عروہ کا نکاح ہونا تھا پر مسکان کا۔
مولوی صاحب شروع کیجئے: عالم صاحب نے اجازت دی۔۔۔
عروہ عالم ولد عالم جہان آپ کو شہاب واصف ولد واصف جہان سے حق مہر ایک لاکھ سکہ رائج الوقت کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟
قبول ہے: عروہ کی آنکھیں جھلملا اٹھیں۔۔۔۔ بچپن سے لے کر جوانی کی ساری یادیں، سب کے ساتھ گزارا ہوا ہر پل آنکھوں کے پردے پر لہرا گیا۔۔۔۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟؟
قبول ہے: ایک آنسو بہہ نکلا۔۔۔۔۔ اب وہ اپنے بابا کا گھر چھوڑ دے گی۔۔۔ جس گھر میں پیدا ہوئی اس گھر کو چھوڑ دے گی۔۔۔۔ آج اسکے بابا کا نام ہٹ کے اسکے شوہر کا نام آجائے گا۔۔۔۔ آج اسکا حق دار بدل گیا ہے۔۔۔۔
کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟: مولوی صاحب نے تیسری بار پوچھا۔۔۔۔
قبول ہے::: آج وہ پرائی ہوگئی تھی۔۔۔۔ پرائے گھر کی ہو گئی تھی ۔۔۔۔
عالم صاحب نے نم آنکھوں سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا کئی آنسو اسکی آنکھوں سے نکلے۔۔۔۔
اسنے کاپتے ہاتھوں سے سائن کیے۔۔۔۔ اور دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا کے آج وہ اسکی ہو گئی تھی جسے بچپن سے مانگا تھا۔۔۔
پھر مسکان کی باری آئی۔۔۔۔۔
مسکان عالم ولد عالم جہان آپ کو دانیال حاکم ولد حاکم شاہ سے حق مہر ایک لاکھ سکہ رائج الوقت کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟
قبول ہے: آنکھیں پہلے سے ہی برس رہی تھیں۔۔۔ اپنے گھر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا دکھ ہو رہا تھا۔۔۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟؟
قبول ہے: اسنے کاپتے لبوں سے کہا۔۔۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟؟ : مولوی صاحب نے آخری بار پوچھا۔
قبول ہے: اسنے آنکھیں بند کر کے اپنے آپ کو اپنے ہمسفر کے نام کردیا۔۔۔
عالم صاحب نے اس کے سر پر بھی ہاتھ رکھا اور نم آنکھیں صاف کرتے مولوی صاحب کو باہر لے گئے۔۔۔
نورین بیگم بھی اپنی دونوں بیٹیوں کے سر پر بوسہ دیتیں باہر نکل گئی۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
پہلے شہاب نے نکاح قبول کیا۔۔۔۔، پھر دانیال نے۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد ہر طرف مبارکبادی کا شور اٹھا۔۔۔
عالم صاحب اور نورین بیگم کے ہمراہ دونوں دلہنوں کو سٹیج پر بیٹھایا گیا۔۔۔۔
شہاب نے ایک نظر عروہ کو دیکھا جو سر نیچے جھوکائے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔ جب کے عروہ نے ابھی تک ایک نظر بھی نہیں دیکھا تھا۔
دانیال تو جیسے مسکان میں کھو گیا تھا اسکی نظریں مسکان کے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہیں تھی جب کے وہ اسکی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی۔۔۔
چلیں دولہا بھائیوں پیسے دیں اور یہ دودھ لیں: وہ تینوں دودھ پلائی کی رسم کے لیے آگئی تھیں۔
بھائی کو نہیں پینا: عاکل نے فورن انکار کیا۔
پینا تو پڑے گا ورنہ ہم دلہن نہیں لے جانے دیں گے: سحر نے کندھے اچکائے ۔
نہیں نہیں ایسے نہیں پہلے پیسے: دانیال نے دودھ کا گلاس لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو حیا نے جلدی سے گلاس دور کر دیا۔۔۔
دانیال نے انہیں پیسے دیے۔۔۔
بس دس ہزار۔۔۔۔۔ بہت ہی کوئی کنجوس ہیں آپ تو۔۔۔۔۔ : حیا نے پیسے دیکھ کے کہا۔۔۔
تو تم ہی بتا دو کتنے چاہیے: اسنے ہار مانی۔
بیس ہزار: عادل وہاں نہیں تھا تو مہر نے فورن کہا۔
اوکے: دانیال نے پیسے سحر کے ہاتھ پر رکھے اور دودھ کا گلاس اٹھا کے لبوں سے لگالیا۔۔۔۔ آخر میں تھوڑا سا بچا کے مسکان کو دیا۔
اب تو میں اپنی دلہن لے جا سکتا ہوں نا: اسنے کنفورم کرنا چاہا۔
جی جی بلکل۔۔۔۔ اور شہاب بھائی آپ کا کیا خیال ہے: حیا نے دانیال کو یقین دلا نے کے بعد شہاب کی طرف متوجہ ہوئی۔
یہ لو گڑ۔۔۔۔۔ ایک منٹ بھائی!!!! کیا مطلب تمہارا اب تو عروہ ویسے بھی ہماری ہے تو تم لوگ روک نہیں سکتے: عاکل ایسے اپنے بھائی کو لٹنے نہیں دے سکتا تھا۔ اس لیے اسکی بات کاٹ کے بولا۔
شہاب بھائی کیا آپ اپنی اتنی اچھی سالیوں کی بات نہیں مانے گے اب تو اتنے اچھے ہیں نا : مہر نے مسکا لگاتا۔
ہم بھی بہت اچھے ہیں: عادل جو ابھی ابھی وہاں آیا تھا مہر کی بات سن کر اسکی طرف پیسے بڑھائے۔۔۔۔ مہر تو اسکی اچانک آمد پر ہی گڑبڑا گئی تھی۔
آپ سے کیوں لیں ہم تو اپنے دولہا بھائی سے لیں گے: سحر نے کہا۔
سحر کو عروہ نے بتایا تھا کے عادل اور عاکل میں آنکھوں کا فرق ہے۔۔۔۔عادل کی ہزل براؤن اور عاکل کی گرے ہیں۔۔۔
کوئی ضرو۔۔۔۔ بس عاکل یہ لو لڑکیوں: شہاب نے عاکل کو چپ کرایا تو وہ اپنا سہ منہ لے کے رہ گیا۔
یہہہہہ: سحر نے عاکل کو منہ چڑایا اور شہاب کو دودھ کا گلاس پکڑایا جو اسنے پی کے تھوڑا سا بچا کے عروہ کو دے دیا۔
سحر سٹیج سے نیچے اتری تو عاکل اسکے پیچے گیا۔۔۔۔
کیا ہوا: وہ روک کے ایک دم مڑی۔۔۔۔ سحر نے اسے اپنے پیچے آتے دیکھ لیا تھا۔
عاکل اسکے یوں مڑنے سے کڑبڑا یا۔۔
سوری!!!!!
کیوں: اسنے ائبرو اچکائی۔
وہ مجھے نہیں پتہ تھا کے آپ کی ماما کی ڈیتھ ہوگئی ہے جب احد نے بتایا تب پتہ چلا اس لیے سوری: اسنے شرمندگی سے کہا۔
کوئی بات نہیں: اسنے مسکرا کے کہا۔
تو کیا ہم دوست بن سکتے ہیں : وہ فری ہوا۔
نہیں : وہ ٹکا سا جواب دے کے آگے بڑھ گئی۔
عزت ہی نہیں ہے کوئی: اسنے افسوس سے سر ہلایا۔
۔ ![]()
![]()
![]()
کھانے کے بعد روخصتی کا شور اٹھا تو ہر آنکھ بھر آئی۔
احد نے عروہ جب کے عادل نے مسکان کے سر پہ قرآن کا سایہ کیا۔۔۔
وہ باری باری سب سے ملیں۔۔۔۔ لیکن جب باپ سے ملنے کی باری آئی تو آنسوں میں روانی آگئی۔۔۔۔ وہ دونوں عالم صاحب کے سینے سے لگی رو رہی تھیں۔۔۔۔ عالم صاحب کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔
انکے آنگن کی دو دو چڑیا ایک ساتھ اڑ رہی تھیں انکا آنگن سونا کرکے ۔۔۔۔!!!!
بچوں میری بیٹیوں کا خیال رکھنا اگر ان سے کوئی غلطی ہوجائے تو معاف کر دینا۔۔۔: عالم صاحب نے دونوں دامادوں سے کہا۔۔۔ تو ان دونوں نے مسکرا کے تسلی دی۔۔۔
عالم ہم بیٹی لے کے جا رہے ہیں بہو نہیں : حاکم صاحب نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
بلکل عالم یہ ہماری بیٹیاں ہیں تم پریشان نہیں ہو: واصف صاحب نے بھائی کو تسلی دی۔
بھائی میری بہنوں کو کبھی رولائیے کا نہیں : احد نے نم لہجہ میں کہا تو وہ دونوں احد کے گلے لگیں۔۔۔۔ جب کے دانیال اور شہاب نے احد کا کندھا تھپتھپایا۔
احد امی ، بابا ، اور اپنا بہت خیال رکھنا: مسکان نے اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔
ہممم اور میں تو ویسے بھی روز چکر لگاؤ گی: عروہ نے کہا تو سب نم آنکھوں سے مسکرا دیے۔۔۔۔
مسکان دانیال کے ساتھ اور عروہ شہاب کے ساتھ اپنی نئی منزل کی طرف روانہ ہوگئیں۔۔۔
تو وہ سب بھی اپنے گھر کے لیے نکل گئے۔۔۔۔
والدین کے لیے اپنی بیٹی کو رخصت کرنا بہت مشکل کام ہے۔۔۔۔ پوری زندگی مضبوط رہنے والا باپ بیٹی کی رخصتی پر اپنے آنسو نہیں روک پاتا۔۔۔۔ اپنی ہر تکلیف کو ہنس کے سہنے والا اپنے جگر کے ٹکڑوں کو کسی اور کو سونپ دیتا ہے ۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
