Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj Readelle50321 Muhabbat Zindagi Hai (Episode 17)
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai (Episode 17)
Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj
شہاب میں سوچ رہی ہوں کیوں نا ہم گھر پر سب کی دعوت رکھ لیتے ہیں۔۔۔۔۔ دیکھیں نا اتنے دن ہو گئے ہیں سب اکٹھے نہیں ہوئے اسی بہانے سب ایک دوسرے سے مل بھی لیں گے: عروہ جو بیڈ پر بیٹھی فون یوز کر رہی تھی صوفے پہ بیٹھے شہاب سے بولی۔
ہممم ٹھیک ہے : شہاب جو اپنے کام میں مصروف تھا مختصر سا جواب دیا۔
کل ہفتہ ہے اور پرسوں اتوار تو ہم اتوار کی رکھتے ہیں: عروہ نے بتایا۔
جو تمہیں اچھا لگے: شہاب نے مسکراہٹ پاس کی۔
ٹھیک ہے میں صبح ہی تائی امی سے بات کر کے سب کو فون کر دوں گی: عروہ نے کہا۔
ہممم: شہاب نے مصروف انداز میں بس اتنا ہی کہا۔
آپ کو سونا نہیں ہے: عروہ نے اسے لیپ ٹاپ پر جھکے دیکھ کہا۔
بس تھوڑا سا کام رہ گیا ہے پھر سوتا ہوں جب تک تم سو جاؤ: شہاب نے کچھ ٹائپ کرتے ہوئے کہا۔
آپ کو پتہ تو ہے مجھے اب آپ کے بغیر نیند نہیں آتی: عروہ نے بےچارگی سے کہا۔
شہاب نے اسکی شکل دیکھی جو چھوٹے بچوں کی طرف معصوم سہ منہ بنائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اسے ٹوٹ کے پیار آیا۔
اسنے ایک نظر لیپ ٹاپ کو دیکھا اور ایک نظر اپنی کیوٹ سی بیوی کو جو آنکھیں پٹپٹائے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
اسنے لیپ ٹاپ بند کیا اور اٹھ کے بیڈ پر آیا۔۔۔
کیا ہوا آپ کا کام ہوگیا: اسنے معصومیت کی انتہا کی۔
افففف یار تم اتنے کیوٹ کیوٹ سی شکلیں بناؤ گی تو مجھے تم پر پیار آئے گا اور جب پیار آئے گا تو میں کام کیسے کر پاؤ گا : شہاب نے لیٹتے ہوئے اسے اپنی طرف کینچھا تو وہ اسکے اوپر آ گری۔
مجھے نیند آرہی ہے : عروہ نے نظریں جھکائیں۔
مجھے تو نہیں آرہی: اسنے محبت سے کہہ کے اسکے گال پر لب رکھے۔
پر مجھے تو آرہی ہے نا: اسنے پلکیں اٹھایں کہا۔
ہممم ٹھیک ہے اگر تم پانچ منٹ میں سو جاتی ہو تو صحیح ہے ورنہ پھر مجھ سے شکایت نہیں کرنا: شہاب نے اسکی ناک دبائی اور اسکا سر اپنے سینے پر رکھ حصار قائم کیا۔
تو وہ بھی اسکی دھمکی سے ڈر۔۔۔۔۔۔ مسکراتے ہوئے سونے کی کوشش کرنے لگی۔
۔![]()
![]()
۔
تائی امی کب آئیں گے تایا ابو: عروہ یہی سوال کوئی دسویں بار پوچھ چکی تھی۔ اسنے کل دعوت کی اجازت تو ناشتے کے وقت ہی لےلی تھی اب اسے واصف صاحب اور زینب بیگم سے آگے کی بات کرنی تھی۔۔۔۔ واصف صاحب کچھ دیر کے لیے آفس گئے تھے۔۔۔۔ لیکن عروہ کو صبر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ وہ جلد از جلد بات کرنا چاہتی تھی۔
بیٹا آجائیں گے: اور زینب بیگم ہر بار یہی جواب دیتیں۔۔۔
پتہ نہیں کب آئیں گے میں نے فون بھی کرا تھا کہہ رہے تھے بس تھوڑی دیر میں آرہا ہوں اور اب تو فون کرے ہوئے بھی آدھا گھنٹا ہوگیا ہے: گھٹنوں پر کہنیاں رکھ ہاتھوں کے پیالے میں منہ رکھا۔
بیٹا ایسی کیا ضروری بات ہے جو آپ بات کرنے کے لیئے اتنی بےچین ہیں: زینب بیگم جو اسکے پاس ہی بیٹھی تھیں اسکے چہرے کو دیکھا جو بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔
تایا ابو آجائیں پھر ساتھ ہی بتاتی ہوں۔۔۔۔ بہت ضروری بات ہے: عروہ نے رازداری سے کہا۔
ہاں بھئی کوئی بےصبری سے ہمارا انتظار کر رہا ہے: واصف صاحب جو اندر آرہے تھے اسکی بات سن چکے تھے۔
شکر اللہ کا۔۔۔۔۔ آپ آئے تو: اسنے دونوں ہاتھ منہ پر پھیرے اور اٹھ کے انکے پاس گئی۔
تو آپ ہمارا انتظار کیوں کر رہی تھیں: وہ اسے اپنے ساتھ لے کے بیٹھے۔۔۔
پہلے آپ فریش ہوجائیں پھر بتاتی ہوں: عروہ نے کہا۔
ارے ہم تو ایک دم فریش ہیں آپ بتائیں کیا بات کرنی ہے آپ کو : وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے۔
تایا ابو، تائی امی ہمیں نا اب عادل کی شادی کے بارے میں بھی سوچنا چاہیئے: اسنے دونوں کو مخاطب کیا۔
وہ تو ٹھیک ہے بیٹا لیکن کوئی اچھی لڑکی بھی تو ملے: زینب بیگم نے مسلہ بتایا۔
اوہو بس اچھی لڑکی کا مسلہ ہے۔۔۔۔۔ تو وہ میں ابھی حل کردیتی ہوں۔۔۔۔۔: عروہ نے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔
کیا مطلب آپ کی نظر میں کوئی لڑکی ہے: زینب بیگم نے پوچھا۔
جی اور اس لڑکی کو آپ لوگ بھی جانتے ہیں: اسنے مسکراتے ہوئے کہا۔ تو دونوں نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
مہر: اسنے چہکتے ہوئے کہا۔
لیکن مدثر تو مہر کے آئے ہوئے رشتے پر غور کررہا ہے: واصف صاحب کو عروہ کی بات اچھی لگی تھی۔
تو کون سا ابھی رشتہ پکا ہوگیا ہے اور اگر رشتہ پکا بھی ہوجاتا تو کون سا منگنی ہوئی تھی اور اگر منگنی ہو بھی جاتی تو گیا ہوا منگنی تو توڑ بھی سکتی تھی۔۔۔۔ لیکن ابھی تو ایسا کچھ نہیں ہوا تو ہم پھوپھا جان سے بات کر سکتے ہیں: عروہ نے تفصیل سے وضاحت دی۔
ہممم ٹھیک کہا آپ نے بیٹا : واصف صاحب اسکی بات سنتے مسکرائے۔
تائی امی آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے نا: عروہ نے خاموش بیٹھی زینب بیگم سے پوچھا۔
نہیں بیٹا مجھے کیوں اعتراض ہوگا مہر بہت اچھی بچی ہے مجھے وہ پسند ہے: زینب بیگم نے پیار سے کہا۔
جی بلکل وہ بہت اچھی ہے لیکن مجھ سے کم : عروہ نے ادا سے کہا تو وہ دونوں مسکرا دیئے۔
اچھا تایا ابو آپ ہاتھ منہ دھو لیں میں کھانا لگواتی ہوں: عروہ نے کہا تو وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھتے اٹھ گئے تو وہ بھی مسکراتی کچن میں چلدی۔
۔![]()
![]()
![]()
ہیلو کیا کر رہے ہیں: دانیال کے فون اٹھاتے ہی مسکان نے پوچھا۔
آرام کر رہا ہوں: دانیال نے شرارت سے جواب دیا۔
آپ آفس کام کرنے جاتے ہیں یا آرام کرنے: مسکان نے حیرت سے پوچھا۔
آرام کرنے: وہ مسکرایا۔
اچھا خیر میں نے یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کے عروہ کا فون آیا تھا کل تایا ابو کے گھر ڈنر پر جانا ہے: مسکان نے بتایا۔
تو یہ بات تو تم میرے گھر آنے پر بھی بتاسکتی تھیں: اسنے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے کہا۔
ہممم بتا تو سکتی تھی لیکن میں نے سوچا ابھی بتا دیتی ہوں اور یاد بھی دلا دیتی ہوں کے میری چاکلیٹ ختم ہوچکی ہیں تو وہ لیتے آئے گا: مسکان مدے پر آئی۔
او تو اس لیے فون کیا۔۔۔ میں بھی سوچو آج میری یاد کیسے آگئی بیگم صاحبہ کو: دانیال نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔
ایسی بات نہیں ہے: مسکان نے جلدی سے صفائی دی۔
تمہیں اپنے شوہر کو یاد نا کرنے کے جرم میں سزا ملے گی: وہ شرارت سے بولا۔
کیسی سزا: مسکان منمنائی۔
وہ میں گھر آگے بتاؤ گا بس تم رات کو تیار رہنا سزا برداشت کرنے کے لیئے:دانیال نے گمبھیر لہجہ میں معنی خیزی سے کہا۔۔۔ تو اسکی بات کا مطلب سمجھ مسکان شرم سے سرخ پڑی۔
بائے : مسکان نے جلدی سے کہا اور اسکی سنے بغیر فون رکھ دیا۔۔۔
افففف: ادھر دانیال بند فون دیکھ دلکشی سے مسکرایا۔
۔![]()
![]()
![]()
بجو آپ۔۔۔۔۔ آئے آئے: احد جو لان میں بیٹھا فرنچ فرائز کھارہا تھا عروہ کو آتا دیکھ خوشی سے اٹھا۔
میں آچکی ہوں اور تم کو کوئی کام وام بھی ہے یا سارا دن بس بیٹھ کے کھاتے ہی رہتے ہو:عروہ نے گلاس لی اور ساتھ فرنچ فرائز کی پلیٹ چھین لی۔
بجو آپ تو آتے ہی شروع ہوگئیں: احد نے برا سا منہ بنایا۔
اچھا بس بس ایسے عجیب و غریب سے منہ نہیں بناؤ یہ بتاؤ امی کہاں ہیں: عروہ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے فرنچ فرائز منہ میں رکھا۔
وہ کمرے میں ہیں اپنے: احد نے شرافت سے جواب دیا۔
ہممم ٹھیک ہے میں امی کے کمرے میں جا رہی ہوں تم میرے لیے چائے بناکے لاؤ اور ہاں آلو کے سموسے بھی لے آنا: عروہ اسے آرڈر دیتی شانے بےنیازی سے اندر بڑھ گئی۔۔۔
پیچھے احد صدمے میں کھڑا رہ گیا۔۔۔۔۔
کیا اب چائے میں بناؤ گا۔۔۔۔ افففف اب تو بجو نے کہہ دیا ہے بنانی تو پڑے گی: وہ خود سے بڑبڑاتا ہوا سموسے لینے گھر سے باہر نکل گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
امی کیا میں اندر آجاؤ: عروہ نے کمرے کے اندر آکے پوچھا۔
تم پہلے ہی آچکی ہو: نورین بیگم نے بتایا۔
خیر چھوڑیں آپ یہ بتائیں کے کیسی ہیں اور بابا وہ کیسے ہیں: عروہ نے انکے گلے میں باہیں ڈالیں۔
میں بھی ٹھیک ہوں اور تمہارے بابا بھی ٹھیک ہیں.۔۔۔۔ تم بتاؤ وہاں سب کیسے ہیں: نورین بیگم نے پیار سے پوچھا۔
کیا بتاؤ امی بلکل بھی مزا نہیں آتا۔۔۔۔ اتنی بور ہوجاتی ہوں میں تو کے پوچھوئیں مت۔۔۔۔ ایک تو ساس بھی اتنی اچھی ملیں ہیں کے لڑتی ہی نہیں ہیں مجھے سے جو چلو اسی بہانے کوئی انٹرٹین ہوجائے اور نند تو ہے ہی نہیں : عروہ نے مسنوئی اداسی سے کہا۔
تو بیٹا اللہ کا شکر ادا کرو اتنا اچھا سسرال ملا ہے: نورین بیگم نے اسکے سر پر ہلکی سی چپت رسید کی۔ تو وہ مسکرادی۔
اچھا تم بیٹھو میں کچھ کھانے کے لیئے لاتی ہوں: نورین بیگم اٹھنے لگیں۔
آپ بیٹھی رہیں میں نے احد کو سموسے اور چائے کا بول دیا ہے وہ لاتا ہی ہوگا: اسنے انہیں واپس بیٹھایا۔
ارے تو میں گھر میں چائے بتادیتی ہوں باہر سے منگانے کی کیا ضرورت ہے: نورین بیگم نے کہا۔
آپ کو کس نے کہا کے چائے باہر سے آئے گی صرف سموسے باہر سے آئے گے اور چائے گھر میں ہی بنے گی احد بتائے گا: عروہ نے مزے سے بتایا۔
کیا۔۔۔۔۔ احد کیسے بنائے گا اسے تو پانی گرم کرنا نہیں آتا چائے کیا خاک بنائے گا۔۔۔۔ وہ تو کچن میں جاتے ہی پورا کچن بکھیر دیگا : نورین بیگم نے ماتھے پہ ہاتھ مارا۔
کچھ نہیں ہوتا کرنے دیں اور میری بات سنے کل ہمارے گھر سب نے ڈنر پر آنا ہے۔۔۔۔ میں یہں کہنے آئی ہوں : عروہ نے انہیں اپنے آنے کی وجہ بتائی۔
تو بیٹا فون کردیتیں: انہوں نے آسان حل بتایا۔
کون سا بہت دور گھر ہے یہ سامنے چار گھر چھوڑ کے تو گھر ہے اس لیے میں خود آگئی۔۔۔
اور میں نے سوچا آپ اکیلی بور ہو رہی ہوں گی تو اسی بہانے آپکا دل بھی لگ جائے گا: عروہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں بور تو ہوجاتی ہوں لیکن اکثر حیا آجاتی ہے تو اسکے ساتھ دل لگ جاتا ہے: نورین بیگم نے محبت سے حیا کا ذکر کیا۔
یہ تو اچھی بات ہے : عروہ نے خوشی سے کہا۔
مہر کے رشتے کا کیا ہوا تمہارے بابا بتا رہے تھے کے لڑکے میں کوئی برائی نہیں ہے: نورین بیگم نے پوچھا۔
جی امی وہ تو ٹھیک ہے لیکن اب ان باتوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تایا ابو اور تائی امی مہر کو عادل کے لیے سوچ رہے ہیں۔۔۔۔۔ اور اچھا ہے نا گھر کی بچی گھر میں ہی رہے گی: عروہ نے بڑھوں کی طرح کہا۔
ہاں یہ بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔ اور تمہیں پتہ ہے کے تمہارے بابا اور میں احد کے لیے حیا کو سوچ رہے ہی : نورین بیگم نے عطلاح دی۔
اچھا یہ تو اچھی بات ہے لیکن کیا احد مان جائے گا اور حیا کیا وہ مانے گی کیونکہ ان دونوں کا تو چھتیس کا آکڑا ہے: عروہ نے پریشانی سے کہا۔
وہ مان جائے گا تم فکر نہیں کرو: نورین بیگم نے تسلی دی۔
کون مان جائے گا: احد جو چائے اور سموسے لے کے آیا تھا انکی آخری بات سن کے بولا۔
تم اور کون: عروہ نے آنکھیں گھومائیں۔
مجھے کیوں منانا ہے: احد کو سمجھ نا آیا۔
جب وقت آئے گا پتہ چل جائے گا۔۔۔۔ خیر شکر ہے تم کھانے کے لیئے لے تو آئے ورنا مجھے تو لگا تھا کے میں انتظار میں ہی بوڑهی ہوجاؤ گی: عروہ نے گرما گرم سموسہ منہ کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔
بجو پہلے آپ چائے پی کے بتائیں کیسی بنی ہے: احد نے اسکا منہ میں جاتا سموسے والا ہاتھ روک سموسہ لے کے چائے کا کپ ہاتھ میں تھمایا۔
یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔ میں بعد میں بھی تو بتا سکتی تھی نے: عروہ کو گرما گرم سموسہ نا کھانے پر غصہ آیا۔
غصہ بعد میں پہلے چائے پئیں اور امی آپ بھی پی کے بتائیں کیسی بنی ہے: اسنے نورین بیگم کو کپ دیا۔
چییییی۔۔۔۔۔ یہ کیا بنایا ہے: عروہ نے ایک گھونٹ ہی بھرا تھا کے سارہ منہ جل اٹھا۔ نورین بیگم نے عروہ کو دیکھ منہ تک جاتا کپ واپس رکھ دیا۔
مصالحہ چائے بنائی ہے کیا اچھی نہیں لگی: احد نے معصومیت سے پوچھا۔
اچھی۔۔۔۔۔۔ اگر اس میں چاول، گوشت، نمک، تیل ڈال دو نا تو یہ بریانی بن جائے گی: عروہ نے گھورا۔
سوری بجو پہلی بار بنائی تھی نا تو جو جو سمجھ آیا سب ڈال دیا: احد کے کہنے پر عروہ نے آنکھیں بڑی کرکے اسے دیکھا۔
اچھا تم بیٹھو میں دوسری بناکے لاتی ہو: نورین بیگم عروہ کو شروع ہوتے دیکھ اٹھنے لگیں۔
نہیں رہنے دیں میں سموسے ہی کھا لوں گی۔۔۔۔ آپ بس میرے پاس بیٹھ جائیں : عروہ نے انہیں منا کیا اور احد کو گھورتے ہوئے واپس سموسہ اٹھا لیا۔ اور ان سے ادھر ادھر کی باتوں میں مصروف ہوگئی۔
۔![]()
![]()
![]()
عادل کب سے فون ہاتھ میں لیئے شش و پنج میں مبتلا تھا کے وہ مہر کو فون کرے یا نہیں۔۔۔۔
مہر میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کے تم مجھے ایک ناکردہ گناہ کی سزا دیتی رہی ہو۔۔۔۔ شکوہ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔
پوچھنا چاہتا ہوں کے کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں تھا جو ایک بار بھی مجھ سے بات نہیں کی مجھے میرا قصور نہیں بتایا۔۔۔ اگر مجھے بتاتی تو میں اپنی صفائی میں کچھ بول تو پاتا۔۔۔ لیکن تم نے موقع ہی نہیں دیا۔۔۔۔
لیکن تم فکر نہیں کرو میں اپنے سارے حصاب برابر کرو گا: عادل نے فون ٹیبل پر رکھا اور کام کی طرف متوجہ ہوگیا۔۔۔۔لیکن سوچوں کا تسلسل مہر ہی تھی۔
وہ اب شادی تک اسے کوئی بات نا کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
