397K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai (Episode 8)

Muhabbat Zindagi Hai By Angel Arooj

وقت جیسے پر لگاکے اڑ رہا تھا۔۔۔۔ شادی کی تیاریوں میں وقت کا پتا ہی نا چلا ۔۔۔ اور شادی سر پر آگئی۔۔۔

کل مہندی تھی۔۔۔۔ ہر کسی کو اپنی تیاری مکمل کرنے کی پڑی تھی۔۔۔۔ جتنا کر رہے تھے وہ بھی کم لگ رہا تھا۔۔!!!

حیا میرے کپڑے تو دے دو مجھے استری کری ہے۔۔۔۔ اور تم اپنے بھی دے دو تمہارے بھی کر دوں گی۔

مہر نے بیڈ پر لیٹے فون یوز کرتی حیا سے کہا۔۔۔۔ جس کی آنکھوں میں نیند بھری ہوئی تھی لیکن وہ بامشکل آنکھیں کھولتی فون چلا رہی تھی۔۔۔۔

الماری میں سے لے لیں آپی::: نیند میں ڈوبی آواز سے آئی۔

اگر نیند آرہی ہے تو سو جاؤ!!! کیوں فون چلا رہی ہو ۔۔۔: مہر نے الماری سے حیا کے کپڑے نکالے۔۔۔

ہممم بس سونے ہی لگی ہوں: اسنے جمائی لی۔

حیا میرے کپڑے کہا رکھے ہیں: مہر کو اپنے کپڑے کہی نہیں دیکھے۔۔۔

وہ آپ کے کمرے میں ہوں گے مجھے کیا پتہ۔: اے سی چلنے کی وجہ سے کمرہ ٹھنڈا ہورہا تھا اسنے کمبل منہ تک تانا۔

کیا مطلب میرے کمرے میں ہوں گے!!؟

کیا تم اپنے کپڑوں کے ساتھ ٹیلر سے لے کے نہیں آئی تھیں: اسکی بات سن کے مہر نے اچھمبے سے دیکھا۔ جو اب سونے کی تیاری کر رہی تھی۔۔

کیا مطلب آپکے کپڑے بھی لانے تھے۔۔۔۔۔ نہیں میرا مطلب ہے آپ کے کپڑے تو امی لے آئی تھیں نا: اسنے کمبل سے منہ نکالا ۔۔۔

امی اپنے لے کے آئی تھیں میرے سلے نہیں تھے جب۔۔۔۔ اور یہ بات ہم نے تمہیں جبھی بتائی تھی۔۔۔۔۔ کل مہندی ہے اب میں کیا پہنوں گی: وہ تو رونے والی ہوگئی تھی۔۔۔۔

سوری آپی مجھے یاد نہیں رہا ۔۔۔۔ آپ ایک کام کریں امی کو اپنے ساتھ لے جائیں ابھی کھلی ہوگی اسکی دوکان: اسنے حل نکالا۔

اپنے مشورے اپنے پاس رکھو میں خود ہی کچھ کروں گی: وہ رونی صورت بتائے کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔

پیچھے حیا نے اپنی عقل پہ ماتم کیا اور ایک بار پھر سے کمبل تان لیا۔

۔🌺🌺🌺

اسنے ماں کو سب بات بتائی تو وہ بھی فکرمند ہو گئیں۔۔۔

ایسا کرو بیٹا تم بڑی بھابھی کے چلی جاؤ وہاں سے کسی کے ساتھ چلی جانا: انہوں نے کہا۔

امی آپ چلے نا میرے ساتھ : وہ وہاں جانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔

بیٹا میرے پاؤں میں درد ہے۔۔۔۔ کل کا دن بہت مصروفیت​ بھرا ہوگا اس لیے میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ تم بڑی ممانی کے چلی جاؤ وہاں عاکل یا شہاب میں سے کوئی ہوگا وہ تمہیں لے جائے گا۔۔۔ : انہوں نے سمجھایا۔

اسنے ایک نظر گھڑی کو دیکھا جہاں 7 بج رہے تھے کیونکہ عادل 8 بجے تک آتا تھا اسنے یہ سوچ کے وہاں جانے کی حامی بھرلی۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺

عاکل تم گئے نہیں ابھی تک ڈیکوریشن والے کے پاس۔۔۔ ٹائم دیکھو کیا ہورہا ہے وہ بند ہوجائے گا: واصف صاحب نے عاکل کو مزے سے بیٹھے دیکھ ٹوکا۔

جی بابا بس جا ہی رہا ہوں تھوڑی دیر میں۔۔۔۔۔ نہیں مطلب ابھی : اسنے سکون سے کہا لیکن جب انہیں خود کو گھورتا ہوا پایا تو جلدی سے باہر نکلا۔۔۔

عادل تم نے چھٹیوں کہ درخواست دے دی تھی نا: واصف صاحب نے عادل سے پوچھا جو کچھ دییر پہلے ہی کیٹرنگ والوں کے پاس سے آیا تھا۔۔۔

جی بابا دے دی تھی: اسنے جواب دیا۔۔۔ وہ آج جلدی گھر آگیا تھا کام کی وجہ سے۔۔۔

انہوں نے ہاں میں سر ہلایا ۔

عادل بیٹا پھولوں کے زیورات کا آرڈر دے دیا تھا نا : زینب بیگم نے وہاں آتے ہوئے پوچھا۔

بس امی وہی جارہا تھا: وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ اسے بولنا کے پھول ایک دم تازے ہونے چاہئیں اور وقت کا خاص خیال رکھے: انہوں نے ہدایت دی۔

ہممم: وہ اپنے کمرے میں گیا گاڑی کی چابیاں لینے۔

اسلام و علیکم: مہر نے حال میں بیٹھے واصف صاحب اور زینب بیگم کو کہا۔

وعلیکم اسلام بیٹا آؤ: زینب بیگم نے پیار سے اسے اپنے پاس بولایا۔

وہ ممانی جان مجھے ٹیلر سے اپنے کپڑے لینے جانا تھا۔۔۔ بابا گھر پر ہیں نہیں ورنا میں انکے ساتھ چلی جاتی۔۔۔ گھر پہ عاکل یا شہاب بھائی تو ہوں گے نا۔: اسنے آنے کی وجہ بتائی۔

بیٹا شہاب تو ابھی آفس سے نہیں آیا وہ سارا کم آج ہی کرکے آئے گا تو دیر ہوجائے گی اسے، اور عاکل ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ڈیکوریشن والوں کے پاس گیا ہے، لیکن تم فکر نہیں کرو عادل گھر پر ہی ہے وہ پھولوں والوں کے پاس ہی جارہا ہے تم اسکے ساتھ چلی جاؤ: انہوں نے مسکرا کے کہا۔

آہہہ نہیں رہنے دیں ممانی جان میں کل صبح لے آؤ گی انہیں کیوں پریشان کرنا: اسنے بوگھلا کے کہا وہ اس شخص کے ساتھ تو کیا اسکے سامنے بھی جانا نہیں چاہتی تھی۔

یہ کیسی باتیں کر رہی ہو بیٹا اپنے ہی اپنوں کے کام آتے ہیں آئندہ نا سنوں ایسی بات میں: واصف صاحب نے ڈانٹا۔

عادل جو وہاں ابھی آیا تھا اسکی آخری بات سن لی تھی لیکن انجان بن گیا۔

ارے واہ آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں: عادل نے مسکراہٹ دبائی۔

عادل بچی کو لیکے جاؤ اسے ٹیلر سے کپڑے لینے ہیں: واصف صاحب نے کہا۔

جی کیوں نہیں بابا۔۔۔۔ آجاؤ میں باہر انتظار کر رہا ہوں: وہ کہہ کے روکا نہیں باہر نکل گیا۔

اللہ حافظ: وہ انکار کرتی لیکن وہ روکا ہی نہیں۔۔۔ تو مجبوراً اسے جانا پڑا۔

۔🌺🌺🌺

افففف تھک گیا یار: احد لائٹگ کا کام کروا کے بیٹھا تھا۔

یہ لو پانی: مسکان نے اسکے آگے پانی کا گلاس کیا۔

ہیہہہ میں خواب تو نہیں دیکھ رہا : اسنے بےیقینی سے آنکھیں مسلیں۔

حقیقت ہے: اسنے آنکھیں گھومائیں۔

ارے واہ بہت پیار آرہا ہے اس بندر پہ: عروہ نے مسکان سے کہا۔

میں پیارا ہی اتنا ہوں کے سب کو پیار آتا ہے: احد نے مسنوئی کالر کھڑے گئے۔

جی نہیں۔۔۔ کل سے تو تمہیں سب کام خود ہی کرنا ہے تو سوچا آج میں تھوڑی سی خدمت کر دیتی ہوں: مسکان نم آنکھوں سے مسکرائی۔

مسکان کی بات سن کے احد اور عروہ کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔۔۔

بہنیں چھوٹی ہوں یا بڑی بھائیوں کی جان ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔ ماں باپ کے بعد دنیا میں بہن بھائی کا رشتہ سب سے خوبصورت ترین رشتہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بہن بھائی کا رشتہ سب سے خوبصورت اور ناباب رشتہ ہے۔۔۔

نورین بیگم جو کمرے سے نکل کے انہیں کی طرف آرہیں تھیں مسکان کی بات پہ وہی روک گئی بیٹیوں کی بدائی کا سوچ کے آنسو آنکھیں میں بھر آئے

امی آپ میری بھی شادی کردیں یہ تو کچھ دنوں میں چلی جائیں گی۔۔۔۔ تو پھر سارے کام آپکو کرنے پڑیں گے اس لیے بول رہا ہوں بہو لے آئیں: احد نے ماحول میں چائی اداسی کو دور کرنے کے لیے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔

کوئی ضرورت نہیں ہے امی اسکی شادی کرنے کی۔۔۔۔۔ ویسے بھی میں کونسا دور جارہی ہوں روز چکر لگاؤ گی۔۔۔: عروہ نے مزہ سے کہا۔

کیا مطلب بجو آپ شادی کے بعد بھی ہماری جان نہیں چھوڑیں گی: احد نے حیرت سے کہا جب کے آنکھیں میں شرارت بھری تھی۔

بلکل بھی نہیں : عروہ نے ناک چڑائی۔

ہائے یہ تو زیادتی ہے ہمارے ساتھ: اسنے معصوم شکل بنائی۔

اچھا چلو میں کھانا لگا رہی ہوں تم اٹھ کے فریش ہو آؤ اور تم دونوں میرے ساتھ آؤ: نورین بیگم پہلے احد سے اور پھر ان دونوں سے کہہ کے کچن کی طرف بڑھ گئیں۔

تو وہ لوگ بھی انکی بات پر عمل درآمد ہوئے۔

۔🌺🌺🌺

وہ مرے مرے قدموں سے باہر آکے گاڑی کے پاس رک گئی۔۔۔

بیٹھو: عادل نے سرد لہجہ میں کہا۔

وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تو اسنے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی۔

مہر نے اسے اڈرس بتایا ۔۔۔۔اور خاموش ہوگئی۔

گاڑی کی خاموشی کو عادل کی سرد آواز نے توڑا۔۔۔۔

کیا میں پوچھ سکتا ہو کے مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے جو تم مجھ سے بھاگ رہی ہو…

آپ مجھ سے کچھ کہہ رہے ہیں: وہ تو پہلے ہی اپنے دل کو قابو میں کر رہی تھی۔۔۔ اس کے سوال پر زور سے دھڑکا۔

میں خود سے تو باتیں کرو گا نہیں اور تمہارے علاوہ گاڑی میں کوئی اور ہے نہیں تو تم سے ہی پوچھو گانا: عادل کو اب غصہ آرہا تھا۔

ج۔۔۔جی میں آپ کا سوال نہیں سمجھی: وہ اسے کچھ نہیں بتانا چاہتی تھی۔

میں نے ایسا کوئی مشکل سوال بھی نہیں پوچھا۔۔۔ بس تمہارے بہویر کی وجہ جانا چاہتا ہوں جو تم نے میرے ساتھ رکھا ہوا ہے۔۔۔۔ پہلے تو ایسا نہیں تھا پھر ایسا کیا ہوا جو تم نے مجھے اجنبی کردیا۔۔۔۔۔ تم نے ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا کے میں کس اذیت سے گزر رہا ہوں۔۔۔: عادل جیسے پھٹ پڑا۔

وہ غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن آج وہ بےبس ہوگیا تھا۔۔۔ وہ تھک گیا تھا اس چھوپن چھوپائی سے۔

عادل آپکو اگر اپنی غلطی کا نہیں پتہ تو میں بھی نہیں بتاؤ گی: اسنے دل میں ٹھانی ۔۔۔ اور یہی اسنے غلطی کی۔

ایسا کچھ نہیں ہے: وہ منمنائی۔

ہاں میں اندھا ہوں نا: عادل نے گھور کے اسنے دیکھا جو گاڑی سے باہر دیکھ رہی ۔

بس شوپ آگئی۔۔۔: مہر نے کہا تو اسنے گاڑی روکی۔۔۔

وہ جلدی سے اتر کے دوکان کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔ پیچھے وہ آنکھیں بند کر کے غصہ ضبط کرتا رہ گیا۔

کچھ دی ہی گزری تھی جب شیشہ بجنے کی آواز پہ اسنے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔ اسنے دیکھا عائشہ شیشہ بجا رہی تھی تو وہ گاڑی سے اتر۔

ارے S.Pصاحب آپ یہاں کیا کر رہے ہیں : اسنے چہکتے ہوئے پوچھا۔

وہ کزن کو ٹیلر کے پاس لایا تھا۔۔۔۔: عادل نے مسکرا کے کہا۔

اچھا اگر آپ برا نہیں مانے تو کیا آپ مجھے گھر تک چھوڑ سکتے ہیں۔۔۔ وہ کیا ہے نا کے میں گاڑی لائی نہیں ہوں اور بہت دیر سے یہاں کھڑی ہوں لیکن کوئی کیب وہاں جانے کو تیار نہیں ہے اس لیے۔۔۔۔۔: عائشہ نے مہر کو آتے دیکھ جلدی سے جھوٹ بولا۔

ہاں ضرور کیوں نہیں آؤ: عادل نے ایک دوست ہونے کی حیثیت سے کہا لیکن کوئی نہیں جانتا کے سامنے والے کے دماغ میں کہا چل رہا ہے۔۔۔۔

اسے تو جیسے ہاں کا انتظام تھا۔۔۔ وہ جلدی سے فرنٹ ڈور کھول کے بیٹھ گئی۔۔۔

عادل نے ایک نظر عائشہ کو دیکھا پھر حیران کھڑی مہر کو۔۔۔۔۔

مہر کو پہچاننے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگا تھا کے یہ وہی لڑکی ہے۔۔۔۔ اسے یوں عادل کی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھے دیکھ اسکی آنکھیں لبالب پانی سے بھر گئیں جو عادل سے چھوپی نہ رہ سکیں۔

مہر نے جلدی سے آنکھیں صاف کیں اور پیچھے بیٹھ گئی۔

عادل نے ٹھنڈی سانس خارج کی اور گاڑی میں بیٹھا۔

مہر یہ عائشہ ہے میری دوست۔۔۔ ایک کیس میں اسنے میری بہت مدد کی تھی۔۔:عادل نے بیک مرر میں اسے دیکھ کے بتایا جو چہرا موڑے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

اچھا : آنسو کو گلے میں اتارتی بامشکل بولی۔

اچھا یہ ہے آپکی کزن بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کے: عائشہ نے پیچھے دیکھ کے جلادینے والی مسکراہٹ سجائی۔

انکو گاڑی نہیں مل رہی تھی تو اس لیے می۔۔۔۔۔۔۔ عادل میرے سر میں درد ہورہا ہے پلیز چلیں: مہر نے عادل کی بات کاٹی۔۔

عادل نے ایک نظر اسے دیکھا جو نم آنکھیں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی پھر ہاں میں سر ہلاتے گاڑی آگے​بڑھائی۔

وہ سمجھ رہا تھا کے مہر کو عائشہ کا ہوں گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا اچھا نہیں لگا۔۔۔۔۔ لیکن وہ پوری بات نہیں جانتا تھا۔

پھول والے کہ دوکان راستے میں ہی تھی تو اسنے دوکان سے توڑی دور گاڑی روکی۔۔۔

میں ابھی آیا: اسے کہا اور گاڑی سے اتر گیا۔

کیسی ہو مہر: عائشہ کی خوش باش سی آواز آئی۔۔۔۔

تم سے مطلب: وہ جو سیٹ سے سر ٹکائے آنکھیں بند کری ہوئی تھی سیدھی ہوئی۔

ڈیئر مجھے ہی تو مطلب ہے۔۔۔۔۔ بہت بھولی ہو تم۔۔۔۔ عادل تم سے محبت نہیں کرتا یہ بات تو تم بھی سمجھ رہی ہونا۔۔۔: عائشہ نے ہمدردی سے کہا۔

یہ غلط فہمی ہے آپ کی وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں: مہر نے اس سے زیادہ اپنی غلط فہمی دور کی۔

اچھا اگر میری غلط فہمی ہے تو جو تم نے خود اپنی آنکھیں سے دیکھا تھا وہ گیا تھا۔۔۔۔ اسے کیسے جھٹلاؤ گی: اسنے شیطانی مسکراہٹ سجائی ۔۔۔

اور یہی ایک بات تھی جس کا جواب مہر کے پاس نہیں تھا۔۔۔۔اسل لیے وہ خاموش رہی۔

ابھی عائشہ کچھ کہتی کے عادل گاڑی میں بیٹھا۔۔۔۔

عادل نے گاڑی عائشہ کے گھر کے باہر روکی تو وہ اسے تھنکس کہتی گھر میں چلی گئی۔۔۔

عائشہ کے گھر سے کچھ دور آکے عادل نے گاڑی روکی۔

آگے آؤ: اسنے نرم لہجے میں کہا۔

مہر کا سر درد سے پٹ رہا تھا اس لیے بغیر کچھ بولے اتر کے آگے بیٹھ گئی۔

سوری۔۔۔ میں اسے منا نہیں کر سکا : عادل نے صفائی دی۔۔۔لیکن وہ خاموش رہی۔۔۔۔

مہر پلیز کچھ بولو آخر بات کیا ہے کیوں ایسا ریئکٹ کر رہی ہو ۔۔۔ ہوا کہا ہے : عادل نے محبت سے پوچھا۔

کچھ نہیں ہوا عادل پلیز جلدی چلائیں سب ویٹ کر رهے ہوں گے : اسنے آنسو صاف کیے جو گال پر لڑک گئے تھے۔۔۔

مہر میں۔۔۔۔۔ عادل پلیز۔۔: اسکی روندی آواز سن کے وہ خاموش ہوگیا۔۔۔

گاڑی ایک جھٹکے سے گھر کے آگے روکی تو وہ جلدی سے شوپر اٹھاتی گاڑی سے اتر کے گھر میں بھاگ گئی۔

عادل نے بےبسی اسے اسے جاتا دیکھا۔۔۔۔ پھر قدم اندر کی طرف بڑھا لیئے۔

۔🌺🌺🌺