Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 9)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
رامین تیز دھوپ میں پیدل چل رہی تھی۔ آج بھی اس نے چار جگہ انٹرویو دیا تھا مگر کہیں سے بھی مثبت جواب نہیں ملا۔
” رامین اب گھر میں راشن ختم ہو گیا ہے۔ آتے ہوئے کچھ کے کر آنا تاکہ کچھ پکا سکیں۔” فرح بیگم نے پریشانی سے کہا۔
فرح بیگم کی بات یاد کرتے ہی اس کی آنکھوں میں نئے سرے سے آنسو بھرنے لگے۔
رامین چلتی چلتی فٹ پاتھ پر ڈھے گئی۔
ایک طرف اس کی مجبوریاں تھیں۔ دوسری طرف بہن کا خواب اور یہ خالی ہاتھ۔ رامین نے اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھا۔
ناجانے اب اللّٰہ نے اس کے نصیب میں کیا لکھا تھا؟
” یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے صارم شاہ۔
خدا تمہیں تباہ و برباد کرے۔ تم ایک ہی وقت میں پیروں سے زمین نکلنے کا اور سر سے آسمان چھننے کا مزہ چکھو۔ میری دعا ہے تم جس سے محبت کرو وہ تمہارے پاس ہو کر بھی تمہاری دسترس میں نہ ہو اور تمہاری آنکھوں سے تڑپ اور درد بھرے آنسو میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔”
رامین اپنی آنکھوں سے بے دردی سے آنسو صاف کرتی ایک بار پھر ہمت باندھتی گھر کی طرف قدم بڑھائے۔
——————–
صارم کے دوستوں نے صارم کا موڈ بحال کر دیا تھا۔ آج ساری رات ان کا ہینگ آؤٹ کا پلان تھا۔
خوب انجوائے کرتے، سیگریٹ پیتے اسے ایک بار بھی رامین کا خیال نہیں آیا۔
—————-
” رابعہ کل جاؤ اور پیسے لے کر آؤ مجھے دودھ والے کو پیسے دینے ہیں۔ شمع کا وقت بھی قریب کھڑا ہے۔ بچے کے کپڑے کھلونے سسرال والوں کے لیے تحائف سب دینا ہوتا ہے۔ اب تمہارے گھر والے نہیں دیتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی نہیں دیتا۔ بیٹیوں کا لینا دینا کرنا پڑتا ہے۔ ” حسن نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔
” ایسا مت کہیں حسن جب تک پاپا زندہ تھے۔ وہ آپ کو دیتے رہتے تھے۔ صرف یہی نہیں آپ جتنا مانگتے تھے جو مانگتے تھے وہ اتنا دیتے تھے۔” رابعہ تڑپ اٹھی۔
” رہنے دو رابعہ ہمیشہ انکل کا احساس کیا ہے۔ اب تم بہتان نہ لگاؤ اور جا کر پیسے لے کر آؤ۔” حسن ہتھے سے اکھڑ گیا۔ رابعہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔
” کہاں سے لے کر آؤں؟ ان کے پاس تو خود کھانے کے پیسے نہیں ہیں۔ انہیں اس وقت چھت کے لالے پڑے ہیں۔ رامین اپنا بہت پریشان ہے۔” رابعہ زچ ہو گئی۔
” یہ دن بھی تمہاری بہن نے ہی دکھایا ہے انہیں۔ اب بھی وقت ہے اس کو بولو ناک نیچے کر لے اور میرے بھائی سے شادی کی حامی بھر لے۔ وہ کوئی شہزادی نہیں ہے جس کے لیے شہزادہ آئے گا۔ میرا بھائی اگر خود اسے اپنی عزت بنانا چاہتا ہے تو قدر کر لے۔ اس کی شادی ہو گئی تو آنٹی اور رانی بھی ہمارے ساتھ رہ لیں گی۔ خرچہ کم ہو جائے گا۔”
” وہ نہیں مان رہی تو کیا کروں؟”
” بھلائی کا زمانہ ہی نہیں ہے۔ اپنے ہی اپنوں کے کام آتے ہیں۔ باقی مرضی اس کی۔ میرے بھائی کو لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں۔ تم آنٹی سے کہو پیسے دیں کوئی زیور تو ہو گا ہی۔ تمہیں ضرورت ہے پیسوں کی دیں تمہیں۔”
” جاتی ہوں کرتی ہوں ان سے بات۔” رابعہ رضامند نظر آ رہی تھی۔ حسن کے چہرے پر کمینی سی مسکراہٹ تھی۔
—————–
” رامین کچھ بنا جاب کا؟” فرح بیگم رامین کے گھر آتے ہی اس کے سر ہو گئیں۔
” امی روز روز ایک ہی سوال مت پوچھا کریں۔ جب جاب ملے گی تو آپ کو میری شکل خود ہی بتا دے گی۔” رامین نے روتے ہوئے دوپٹہ سر سے اتار کر پھینکا۔
” ایسے کیسے بات بنے گی؟ کچھ ہی دنوں میں نیا مہینہ کھڑا ہے پھر نئے خرچے سر اٹھا لیں گے۔”
” مجھے پتا ہے امی۔ میں روز دن میں کئی بار کیلنڈر دیکھتی ہوں۔ “
” تمہیں ہی شوق تھا اپنے باپ کا بیٹا بننے کا۔”
” شوق تھا امی لیکن میں نے انہیں اس شوق کے حصول کے لیے نہیں مارا۔ میں ان کی زندگی میں بھی بیٹا بننے کا خواب پورا کر سکتی تھی۔
مجھے سب نظر آ رہا ہے امی۔ گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، راشن، رانی کی پڑھائی لیکن میں بے بس ہوں۔”
” میں کیا کہتی ہوں تم ایاز سے شادی کی حامی بھر لو رامین۔ سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔” فرح بیگم کو جیسے ان مسائل سے نمٹنے کا ایک ہی راستہ نظر آیا تھا۔
” شادی ہونے سے کون سے مسئلے حل ہوتے ہیں؟ کبھی کبھار شادی وبال جان بن جاتی ہے۔ ہمارے گھر میں کھانے والے بہت ہیں۔ میں ایک اور شخص کو افورڈ نہیں کرتی۔” رامین واش روم میں گھس گئی۔
——————–
