Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 6)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 6)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
آپ کے بہت اسرار کرنے پر لانگ ایپیسوڈ آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ نیکسٹ ایپیسوڈ آپ کے لائکس اور کمنٹس پر ڈیپینڈ کرتی ہے کہ کتنی لانگ ہو۔ سو اپنے لائکس سے شو کریں۔۔
——————
رامین کی آنکھ کھلی تو وہ غائب دماغی سے ارد گرد دیکھنے لگی۔ خود کو کسی نامانوس جگہ پر پایا۔ حواس بیدار ہوتے ہی اسے سب یاد آتا چلا گیا۔ خود دوپٹے سے بغیر دیکھتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ دوپٹے کی تلاش میں ارد گرد نظریں دوڑائیں۔ تکیے کے پاس پڑا دوپٹہ نظر آیا تو کھینچ۔ کر لیا اور خود کو کور کرنے لگی۔
سامنے ہی کرسی پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر اسے چار سو چالیس واٹ کا جھٹکا لگا۔
” صا۔۔ صارم۔۔۔۔۔ “
” تین گھنٹے ضائع کر دیے تم نے میرے۔ بہت نازک مزاج ہو تم۔” صارم نے ناراضگی سے کہا۔
وہ اٹھ کر قدم قدم چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔
” تم انتہائی گھٹیا قسم کے انسان ہو۔ کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟”
” سویٹ ہارٹ غصہ مت کرو کیونکہ تم اس وقت غصہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو۔” صارم اس کے پاس بیٹھا۔
رامین ڈر کر پیچھے ہونے لگی ارادہ بیڈ سے اترنے کا تھا۔ جب صارم نے اسے بیڈ پر اپنے قریب کھینچا۔
” پلیز صارم مجھے جانے دو۔ میرے ماں باپ میرا انتظار کر رہے ہیں۔” رامین نے خوف سے روتے ہوئے کہا۔
” کیسی باتیں کر رہی ہو تم رامین اگر میرا ارادہ تمہیں چھوڑنے کا ہی ہوتا تو تمہیں لاتا ہی کیوں؟” صارم نے ہنستے ہوئے کہا۔
رامین خوف سے کانپ رہی تھی۔
” تمہیں میرے ساتھ نکاح کرنا ہو گا پھر ہی تم جا سکتی ہو۔”
” تمہارا دماغ ٹھیک ہے میں تم سے نکاح کبھی نہیں کروں گی۔”
” ٹھیک ہے پھر میں ایسے ہی اپنا کام کر لیتا ہوں۔”
صارم نے اس کے دوپٹے کا پلو ہکڑا۔
” پلیز۔۔ پلیز۔۔ صارم نہیں میں ایک شریف لڑکی ہوں۔ تم مجھے پہلے دن سے غلط سمجھ رہے ہو۔ میرے ماں باپ شرمندگی سے مر جائیں گے۔ یہ ظلم مت کرو۔”
صارم اس کی طرف جھکا۔
” یہ تو میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ تم مجھے اول روز سے غلط سمجھ رہی ہو۔”
صارم اس کے گال کے قریب جھکا۔ اس کی گرم سانسیں اس کا چہرہ جھلسا رہی تھیں۔
” پپ۔۔ پلیز صارم۔۔” رامین نے ٹوٹے پھوٹے لفظ ادا کیے اور پیچھے کو کھسکی۔
اس کا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔
” ایک بار پھر سوچ لو۔” صارم نے فیاضی کا مظاہرہ کیا۔
” مم۔۔ میں تیار ہوں۔”
” گڈ مجھے تم سے اسی سمجھ داری کی امید تھی۔”
” پھر تم مجھے جانے دو گے نا؟”
” ہاں مجھے تمہیں رکھ کر کیا ملے گا؟”
” پھر تم یہ نکاح کرنا ہی کیوں چاہتے ہو؟”
صارم نے جھٹکے سے اس کا دوپٹہ کھینچ کر پرے اچھالا اور اس کے کان کی لو پر جھکا۔
” ٹھیک ہے میں اپنا کام ویسے ہی کر لیتا ہوں۔”
” نن۔۔۔ نہیں۔۔ نہیں پلیز میں نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں۔” رامین روتے ہوئے ہاتھ جوڑنے لگی۔
” گڈ۔” صارم نے اس کی کان کی لو پر دانت گاڑھے۔ رامین کی سسکی نکلی۔
—————-
وہ اب رامین خالد سے رامین صارم بن چکی تھی۔ بےتحاشا آنسو اس کی آنکھوں سے بے مول ہوئے۔
اپنے رسوا ہونے کا غم تھا یا ماں باپ کے مان ٹوٹنے کا دکھ تھا یا اپنے ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں کی چُبھن تھی؟ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ وہ کس کس بات کا غم مناتی؟
وہ اپنے غموں کے شمار میں مصروف تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز اسے ہوش میں لائی۔
اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا صارم دروازہ لاک کر رہا تھا۔
” لل۔۔ لاک کیوں کر رہے ہو؟ مجھے گھر جانا ہے۔” رامین تیزی سے اٹھی۔
” چلی جانا اتنی جلدی کیا ہے؟” صارم قدم قدم چلتا اس کے قریب آیا۔
” نکاح کے بعد بھی کچھ ہوتا ہے جو ابھی میرے اور تمہارے بیچ ہو گا گولڈن ٹائم۔”
” صارم پلیز میرے گھر والے پریشان ہو رہے ہوں گے۔”
” تم تو اپنے شوہر کے ساتھ ہو۔”
” شٹ اپ میں تمہیں اپنا شوہر نہیں مانتی۔ تم نے وعدہ کیا تھا تم مجھے نکاح کے بعد جانے دو گے تو اب اس ڈرامے کا کیا مقصد؟”
” نکاح کے بعد ہم دونوں میاں بیوی ہی بنے ہیں۔” صارم نے آرام سے کہا۔
” میں پہلے اپنا حق تو لے لوں۔ صارم نے جھٹکے سے رامین کو اپنی طرف کھینچا۔ وہ اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس کے ساتھ جا لگی۔
وہ تڑپ کر رہ گئی۔
وہ اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔
” صارم چھوڑو مجھے پلیز۔۔” رامین بلبلائی۔
” پلیز صارم یہ ظلم مت کرو میں تم سے معافی مانگتی ہوں۔ ساری یونیورسٹی کے سامنے بھی مانگ لوں گی۔”
” اب بہت دیر ہو گئی ہے۔” صارم نے تاسف سے کہا۔
صارم اس کے لبوں پر جھکا اور شدت بھرا لمس چھوڑنے لگا۔ وہ اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا۔
رامین بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ اٹھی۔
اس نے صارم کو دور دھکیلنا چاہا لیکن ناکام ٹھہر رہی تھی۔
صارم نے اس کا دوپٹہ کھینچ کر دور پھینکا۔
اس کا نازک سراپا اس کے سامنے تھا۔ پنک ڈریس میں اس کا نازک سراپا اپنی تمام تر رعنائیوں بکھیر رہا تھا۔ صارم کی نیت خراب ہونے لگی۔
اس نے رامین کو بیڈ پر پھینکا اور اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی اس کے اوپر قابض ہوا۔
رامین جھٹپٹا کر رہ گئی۔
وہ اس کی گردن پر جھکا
شدت بھرے لمس چھوڑنے لگا۔ اس کے لمس میں شدید نفرت تھی۔
رامین بلبلا رہی تھی اور اپنے بچاؤ کی بھیک مانگ رہی تھی۔
” پلیز صارم مجھے معاف کر دو۔ پلیز یہ ظلم مت کرو۔” رامین روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
اس نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اس کی کمر سے باندھ دیے۔
ایک ہاتھ سے اس کا سر پکڑے وہ اس پر قابض تھا۔
صارم نے اس کی گردن پر نفرت سے دانت گاڑھے۔
صارم اس کے لبوں پر پھر جھکا اور شدت بھرا لمس چھوڑنے لگا۔ رامین تڑپ کر رہ گئی۔ جب دورانیہ لمبا ہوتا گیا تو مقابل کی نفرت اس کی مزاحمت پر جیت رہی تھی۔
اس کو لگا وہ اب کبھی سانس نہیں لے پائے گی۔ تبھی صارم شاہ کو اس پر ترس اور اس نے رامین کی سانسوں کو آزاد کیا۔ وہ بیڈ پر بےسدھ پڑی گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ اس میں مزید مزاحمت کی ہمت باقی نہ رہی۔
ابھی وہ سنبھلی نہیں تھی جب صارم ایک بار پھر اس پر جھکا اور اس کی سانسوں کو قید کر لیا اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔
منہ میں گھلتے خون کے ذائقے کی پروا کیے بغیر وہ اپنی ہی من مانی کر رہا تھا۔
رامین کے اعصاب شل ہو گئے۔
بالآخر صارم شاہ نے اسے زندگی بخشی اور بیڈ سے زمین پر دھکا دیا۔
وہ منہ کے بل ماربل کے فرش پر گری۔
” یہ ہے اس تھپڑ کی سزا اور تمہاری اصلی اوقات۔
اور جب چاہوں جیسے چاہوں جہاں چاہوں تم سے اپنا حق وصول کر سکتا ہوں اور تم تو کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت مجھے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی۔”
” تمہارے نام کے ساتھ میرا نام جڑ چکا ہے۔ صارم شاہ تمہاری زندگی کا وہ گرہن ہے جس سے تم کبھی چھٹکارا نہیں پا سکتی۔”
” میں چاہتا تو یہ سب بغیر نکاح کے اور اس سے بھی بہتر طریقے سے بہت کچھ کر سکتا تھا پر کیا ہے نا صارم شاہ لوکل چیزوں کو منہ نہیں لگاتا اور اس سے زیادہ تمہیں میں اس قابل نہیں سمجھتا کہ میرا ٹیسٹ تمہارے لیول کا نہیں۔ اس لیے تمہیں اپنا نام دے کر برینڈڈ کیا ہے سو مائی ڈیئر وائف میکے جانا ہے تو دو منٹ میں نیچے آ جاؤ۔” صارم شاہ نفرت اور حقارت سے کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا نکل گیا۔
پیچھے رامین زمین پر گری پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ صارم شاہ کی آخری بات یاد آتے ہی دوپٹہ لے کر نیچے بھاگی۔
—————-
خالد صاحب اور فرح بیگم سبھی پریشان تھے۔ رامین کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔ فنکشن کب کا ختم ہو چکا تھا۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ تھی کہ وہ کسی فنکشن میں گئی ہی نہیں تھی تو پھر وہ کہاں رہ گئی تھی؟ سب کو یہ بات ہولا رہی تھی۔
” یااللہ میری بچی کی حفاظت کرنا، میرا مان میرا غرور سلامت رکھنا، میری عزت کی حفاظت کرنا۔” خالد صاحب اپنے رب کی بارگاہ میں دعا گو تھے۔
——————
گاڑی کافی دیر سے سنسان راستوں پر گامزن تھی۔
رامین کی آنکھوں سے بے آواز آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ دروازے سے چپکی بیٹھی تھی۔
” کہاں رہتی ہو؟”
رامین نے بہتی آنکھوں سے ایڈریس بتایا۔
گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی تھی۔
رامین بار بار غیر محسوس طریقے سے اپنا دوپٹہ ٹھیک کر رہی تھی اور زور سے تھاما ہوا تھا۔
متوسط طبقے کے محلے میں صارم نے ایک زوردار جھٹکے سے گاڑی کو بریک لگائی۔
رامین ایک دم متوجہ ہوئی۔ یہ اسی کا محلہ تھا۔
” اترو گاڑی سے۔” صارم کے لہجے میں حقارت واضح تھی۔
رامین نے دروازہ کھولا اور اترنے لگی۔ تبھی صارم نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
” نہیں صارم پلیز۔”
صارم نے پچھلی سیٹ پر پڑا اس کا بیگ اٹھا کر اس کی گود میں پٹخا۔
” یہ تمہارے ملازم لے کر جائیں گے؟”
رامین نے فوراً پکڑ لیا۔
” اب جب میں بلاؤں تو تمہیں شرافت سے آنا ہے۔ کیا ہے نا کبھی بھی مکمل حق وصولنے کا موڈ ہی بن سکتا ہے۔” صارم نے کمینی سی مسکراہٹ لیے کہا۔
” اب دفع ہو جاؤ۔” صارم نے اس کے بازو کو دھکا دیا۔
وہ کانپتی ٹانگوں سے اتر گئی اور گلی کے اندر بھاگ گئی۔
صارم کافی دیر وہیں کھڑا رہا پھر گہری سانس بھرتا آگے گاڑی بڑھا دی۔
—————-
رامین نے وقت کا اندازہ لگانا چاہا تو اسے محلے کے مرد حضرات کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔
یعنی دس بج چکے تھے۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کی طرف بڑھی۔ جہاں ایک نیا کہرام اس کا منتظر تھا۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے دروازہ پیٹ ڈالا۔
خالد صاحب نے دروازہ کھولا۔
————————
