Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 12)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
” انکل میم آپ سے ملنے آئی ہیں۔” رامین ایک سوبر سی عورت کے ساتھ اندر آئی۔ جو بلو کلر کی ساڑھی پہنے کانوں میں ڈائمنڈ سٹڈ پہنے کندھے تک آتے بالوں کو کھلا چھوڑے پر اعتماد چال چلتیں رامین کے پیچھے ہی آفس میں آئیں۔
” بہت اچھا کیا بیٹا انہیں تم نے آنے دیا۔ اگر تم انہیں یہاں آنے نہ دیتی تو یہ مجھے گھر میں داخل نہ ہونے دیتیں۔” اس کے باس نے ہنستے ہوئے کہا۔
رامین بھی ہنس پڑی۔
” اب میرا بیٹا اچھی سی کافی بھیجو تاکہ انہیں بھی پتا ہو کہ رامین کتنے اچھے سے کافی پلاتی ہے۔”
” جی انکل. “
رامین آفس سے نکل گئی۔
—————–
رامین کی زندگی ایک ڈگر پر چل پڑی تھی۔ اس کی سیلری بہت زیادہ نہیں تھی لیکن ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی تھی۔ اس کی چادر بس اتنی ہی تھی کہ تن ڈھانپا جائے۔ کبھی وہ سر ڈھانپتی تو کبھی پاؤں۔ اس کی زندگی بہت خوشحال نہ سہی لیکن پُرسکون ہو گئی تھی۔
—————–
” صارم اب تم بھی آفس جوائن کر لو اور اپنی لائف کو سیریس لو۔” ثمینہ شاہ صارم کو سمجھا رہی تھیں۔
” جب تمہارے ڈیڈ تمہاری ایج میں تھے تو میرے ہاتھ میں تم تھے۔” ثمینہ شاہ نے ہنستے ہوئے اس کے بال بگاڑے۔
” ریئلی ہاؤ سویٹ مینز آپ کو پوتا چاہیے۔” صارم نے شرارت سے کہا۔
” پہلے بہو چاہیے۔” ثمینہ شاہ نے ہنستے ہوئے اس کے گال پر تھپڑ مارا۔
” بہو نے بھی آ کر پوتا ہی دینا ہے۔”
” باز آؤ صارم مجھے بہو چاہیے۔ آج کے اس ایونٹ میں اپنے لیے لڑکی ڈھونڈو۔”
” مام آپ کو پوتا مل جائے گا۔”
” علی اسے دیکھو کیا کہہ رہا ہے اسے سمجھاؤ۔ “
” ثمینہ تم نے اس کو جو بات کہی ہے اس کے بعد اس کو کچھ اور ہی سمجھ آئے گا۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔” علی شاہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
صارم بھی ہنستے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
” علی یہ کیا کرتا ہے؟ ہر بات کا الٹا مطلب۔” ثمینہ شاہ پریشان ہو گئیں۔
” ثمینہ تمہیں اگر اسے کچھ سمجھانا تھا تو بات صرف شادی تک رکھتی۔ یہ پوتے کا شوشہ چھیڑ کر تم نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔”
” اب کیا کرے گا یہ؟” ثمینہ شاہ علی شاہ کو دیکھ کر رہ گئیں۔
—————–
صارم کو گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ایسا لگا جیسے سبزی کے ایک ٹھیلے کے پاس رامین کھڑی ہے۔ وہ گاڑی یو ٹرن لیتا وہاں پہنچا جہاں اب کوئی نہیں تھا۔
” بابا یہاں ایک لڑکی تھی وہ کس طرف گئی ہے؟” صارم نے بیتابی سے پوچھا.
” وہ اس طرف گئی ہے۔” بابا نے اشارہ کرتے ہوئے راستہ بتایا۔
صارم اندھا دھند اس طرف بھاگا۔ جہاں وہ لڑکی جاتی نظر آ گئی۔
” رامین۔” صارم نے آواز لگائی۔
” رامین۔” صارم نے بے چینی سے پکارا۔
اس لڑکی نے پلٹ کر دیکھا۔
” جی.”
” سوری مجھے لگا آپ رامین ہیں۔”
” لڑکیوں سے بات کرنے کا یہ بہت پرانا طریقہ ہے۔”
” آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں۔ میری بیوی رامین ناراض ہو کر گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے۔” صارم کے منہ سے بے اختیار وضاحت نکلی۔
” تو آپ اس کے گھر جائیں وہ آپ کو سڑکوں پر نہیں ملے گی۔” اس لڑکی نے شاید یقین نہیں کیا تھا۔
صارم کا موبائل اسی وقت رنگ ہوا۔
” یس ڈیڈ.”
” صارم شاہ تمہیں پاکستان آئے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور تم اب تک آفس نہیں آئے۔ اتنی غیر ذمے داری تو تم نے یو ایس میں نہیں دکھائی. جب تم یو ایس میں اکیلے تھے۔” علی شاہ نے ڈپٹتے ہوئے کہا۔
” آ جاتا ہوں ڈیڈ۔” صارم نے گہری سانس لی۔
” جلدی پہنچو۔”
” ابھی؟” صارم حیران ہوا۔
” جی بالکل ابھی۔” علی شاہ کال منقطع کر گئے۔
جب سے وہ کراچی شہر آیا تھا۔ اس نے کراچی کا چپا چپا چھان مارا تھا لیکن رامین کہیں نہیں ملی تھی۔
—————-
” انکل یہ آپ کی فائل۔” رامین نے آ کر ان کی طرف فائل بڑھائی۔
” ایک گھنٹے بعد آپ کی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ میٹنگ ہے۔ اس کے بعد آپ کو سائٹ وزٹ کرنے جانا ہے۔” رامین مدھر سی آواز میں انہیں سکیجؤل بتا رہی تھی۔
” تھینک یو بیٹا۔”
” میٹ مائی سن مائی لائف صارم علی شاہ۔
صارم یہ ہے رامین بہت ہی ٹیلنٹڈ اور اچھی بچی ہے۔ اب سے یہ تمہیں اسسٹ کرے گی.” علی شاہ نے مسکراتے ہوئے ان کا تعارف کروایا۔
صارم علی شاہ کی بات پر چونکا اور نظر جیسے ہی رامین پر گئی تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔
رامین صارم کا چہرہ دیکھتے ہی زلزلوں کی زد میں آ گئی۔ اسے لگا آفس کی چھٹ اس پر گر گئی ہے اور اسے علی شاہ کی آواز آنا بند ہو گئی۔
—————–
