347.1K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Deewana Howa (Episode 15)

Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan

رامین کانفرنس روم سے نکلی اور سیڑھیاں اترنے لگی۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کی سوچوں کا تسلسل بار بار گھر کی طرف جا رہا تھا۔

وہ کھوئی کھوئی سی تھی۔

گھر والے تو لسٹ لکھوا چکے تھے۔ اب اسے پورا کیسے کرنا تھا؟ رامین کو یہ فکر ستا رہی تھی۔

انہیں سوچوں میں غلطاں رامین اوپر آتے اویس سے بری طرح ٹکڑائی۔

تصادم اتنا زور دار تھا کہ اسے دن میں تارے نظر آ گئے۔ اگر اویس بروقت رامین کو ہاتھ نہ دیتا تو رامین لڑھکتی ہوئی نیچے جاتی۔

” رامین تم ٹھیک ہو؟” اویس فکرمندی سے پوچھ رہا تھا۔

” ہمم۔۔۔” رامین کو اس کا یہ بے تکلف انداز پسند نہ آیا۔ وہ اپنا ہاتھ چھڑاتی وہاں سے نکل رہی تھی۔

” کیا ہو رہا ہے؟” صارم نے کرخت لہجے میں پوچھا۔

” سر وہ ہم کانفرنس روم سے آ رہے ہیں۔” کسی دوسری سٹاف میمبر نے کہا۔

” ہو گئی نا کانفرنس؟ اب کیا یہیں کھڑے رہنا ہے؟ سب جائیں اپنے کیبنز میں اینڈ کمپلیٹ یور ورک۔” صارم نے غصیلے انداز میں سب کو جھاڑ دیا۔

” اینڈ یو مس رامین کہاں ہے راز انٹرپرائزز کی فائل؟”

رامین جو اپنے کیبن کی چیئر پر بیٹھ رہی تھی۔ صارم کی دھاڑ پر لرز کر رہ گئی۔

” سر پرنٹ آؤٹ رہ گیا ہے۔” رامین نے منمناتے ہوئے کہا۔

” تو وہ میں نکالوں گا؟ فائل اگلے پندرہ منٹ میں میرے ٹیبل پر ہونی چاہیے۔” صارم نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔

” رامین تو گئی اب تیری کمبختی آئے گی۔” اس کے برابر کے کیبن میں بیٹھی سادیہ نے ڈراتے ہوئے کہا۔

رامین جلدی جلدی پرنٹ آؤٹ نکالنے لگی۔ اس کے پندرہ منٹ کا مطلب چودہ منٹ تو ہو سکتا تھا لیکن سولہ منٹ نہیں۔

—————-

” سر یہ فائل۔” رامین دس منٹ میں اس کے سامنے تھی۔

صارم نے فائل لے کر سائیڈ پر کر دی۔

” میں تمہارے کام سے بالکل مطمئن نہیں ہوں۔ میں تمہارا کیبن چینج کر رہا ہوں۔

فلحال یہاں بیٹھ کر کام کرو۔” صارم نے اسے ایک نئی فائل کا کام دیتے ہوئے لیپ ٹاپ اس کے سامنے کیا۔

رامین کام کرنے لگی۔

وہ رامین کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا۔ جو محویت سے اپنا کام کر رہی تھی حالانکہ وہ اپنے اوپر صارم کی نظروں کی تپش محسوس کر رہی تھی لیکن اس نے نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔

صارم گہری سانس بھرتا اپنی چیئر سے اٹھا اور رامین کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔

رامین کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔

صارم رامین پر جھٹکے سے جھکا۔ ایک ہاتھ رامین کے ہاتھ پر رکھا دوسرا رامین کے دوسری طرف سے ٹیبل پر رکھا۔ اس طرح کے رامین اس کے حصار میں تھی۔

رامین نے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا۔

صارم نے اس کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

صارم کے پرفیوم کی خوشبو اس کے حواسوں پر سوار ہونے لگی۔

اے سی کی ٹھنڈک کے باوجود اسے پسینہ آنے لگا۔

” میرا ہاتھ لگانا تمہیں بہت کھلتا ہے۔ صارم نہیں۔۔ پلیز نہیں۔۔ یہ ظلم مت کرو۔۔ اویس کے ساتھ کس خوشی میں ٹکرائی تھی؟ میں نے سہارا دیا تو پوری یونی میں ذلیل کر دیا اور اس کو اپنے حال بتانے لگی۔ جب کہ یہ تمہیں دیکھ کر ٹکرایا تھا. آج کیوں نہیں اسے پورے آفس میں ذلیل کیا؟ کیوں ایک نہیں جڑی؟ کیسے کیٹگرائز کیا اسے اور مجھے؟ جب کہ تمہیں چھونے کا پورا حق موجود ہے میرے پاس۔” صارم ایک ایک لفظ چباتا اس کے کان میں غرا رہا تھا۔ رامین جی بھر کر شرمندہ ہوئی۔ وہ ہل بھی نہ سکی۔

وہ یہ نہ کہہ سکی کہ تمہارے غصے سے ہی یہ سبق لیا ہے کہ خاموشی سے نکل جاؤ۔ مڑ کر دیکھنے پر پتھر کے بن جاؤ گے۔

صارم لیپ ٹاپ پر جھکا پتا نہیں اور کیا کیا کر رہا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہ آئی۔

صارم سیدھا ہوتا ایک غصیلی نظر اس پر ڈالتا واپس اپنی چیئر پر بیٹھ گیا۔

رامین بظاہر اپنا کام کر رہی تھی لیکن اس کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔

——————-

رامین گھر کے لیے نکل رہی تھی۔ اپنا سامان بیگ میں رکھ رہی تھی۔ جب اسے بیگ میں ایک انویلپ پڑا نظر آیا۔

رامین نے نکال کر دیکھا۔ اس میں لم سم پیسے پڑے تھے۔

رامین نے صارم کے آفس کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اور اس کے دیکھنے پر نگاہیں پھیر گیا۔

رامین کی آنکھوں میں آنسوں جمع ہونے لگے۔

وہ اسے یہ احساس دلا رہا تھا کہ وہ کتنی بے بس اور مجبور ہے۔

وہ آنکھوں میں آنسوں لیے تیزی سے باہر نکلی۔

وہ غائب دماغی سے چلنے لگی۔

میں صارم شاہ کو اپنی مجبوریوں سے نہیں کھیلنے دوں گی۔ رامین نے فیصلہ کن انداز میں سوچا۔

اپنے علاقے میں آ کر وہ کریانہ سٹور سے سامان لینے لگی۔ وہ سامان لے کر پلٹی تو اس نے بلا ارادہ ہی ارد گرد نگاہیں دوڑائیں تو اپنے عین سامنے صارم کی گاڑی دیکھ کر رامین ٹھٹک گئی۔

اوہ گاڈ اسے اس کے گھر کا نہیں پتا چلنا چاہیے تھا۔

وہ گہری سانس لیتی آگے بڑھ گئی۔

وہ مختلف جگہوں پر رک کر سامان لینے لگی۔ اس دوران وہ چور نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتی تو اس کی گاڑی وہیں کھڑی تھی۔

اب رامین نے ایک گھر کے باہر رک کر دروازہ بجایا۔

صارم کی گاڑی باہر روڈ پر کھڑی تھی۔ وہ رامین کو گلی میں جاتا دیکھ کر اس کے پیچھے چلنے لگا تھا۔ یہ گلی تنگ تھی۔ اس میں صارم کی مرسیڈیز نہیں جا سکتی تھی۔

وہ کچھ فاصلے پر رک گیا۔

یہ گلی بند تھی۔

دروازہ کھلنے پر ایک چھوٹی عمر کی لڑکی باہر آئی۔ شاید وہ رانی تھی رامین کی چھوٹی بہن۔

وہ لڑکی مسکراتے ہوئے رامین سے پتا نہیں کیا کیا کہہ رہی تھی۔ رامین بھی مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے گھر میں چلی گئی۔ دروازہ بند کرنے سے پہلے رامین نے گردن نکال کر ایک بار پھر اسے دیکھا تھا۔ وہ اب بھی وہیں تھا۔ رامین سٹپٹا کر دروازہ بند کر گئی۔

صارم کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے واپسی کی طرف قدم بڑھائے۔

تو رامین خالد صرف شو کرتی تھی کہ اسے صارم شاہ کی موجودگی سے کوئی غرض نہیں۔ جب کہ وہ رامین کے دل و دماغ میں موجود تھا۔ صارم نے گاڑی مین روڈ پر ڈال دی۔

رامین کا گھر نسبتاً غریب علاقے میں تھا۔ پچھلا گھر نسبتاً بہتر علاقے میں تھا۔ یقیناً رامین وہ گھر افورڈ نہیں کر سکی تھی۔ صارم کا دل خراب ہونے لگا۔

——————-

صارم کوٹ ہاتھ میں ڈالے گھر میں داخل ہوا۔ اس کا پہلا سامنا ثمینہ شاہ سے ہوا تھا۔

” کیسا رہا دن؟” ثمینہ شاہ نے محبت سے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھا۔

” ٹھیک رہا بہت تھک گیا ہوں۔” صارم نے محبت سے اپنی ماں کو ساتھ لگایا۔

” تم فریش ہو جاؤ میں کھانا لگواتی ہوں۔” ثمینہ شاہ نے محبت سے اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔

” نہیں صرف کافی بھجوا دیں۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔ مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔” صارم بیزاری سے کہتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

صارم یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اسے یہ بیزاری رامین کے حالات دیکھنے پر تھی یا رامین کا صارم سے دور بھاگنے کی کوشش پر تھی۔ صارم یہ بھی سمجھنے سے قاصر تھا کہ آج تو اس کے پاس پیسے تھے تو وہ پیدل گھر کیوں گئی تھی؟

بے وقوف سڑک پر بدحواس سی چل رہی تھی۔ کوئی ایکسیڈنٹ ہو جاتا تو؟ وہ یہ کیوں نہیں سمجھ رہی تھی کہ اس کا صارم سے دور جانا صارم کی ایگو کو ہرٹ کرتا تھا اور اس کے طیش کو ہوا دیتا تھا۔

صارم نے غصے سے واز اٹھا کر زمین پر پھینکا۔

——————