Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 23)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
” شکر ہے اب صارم ٹھیک ہے ورنہ مجھے بہت فکر تھی۔ میری جان نکل گئی تھی وہ خبر سن کر۔”
” جان تو میری بھی نکل گئی تھی۔ اللّٰہ میرے صارم کی لمبی زندگی کرے۔” علی شاہ نے دل سے دعا کی۔
” آمین۔” دونوں نے یک زبان کہا۔
” علی میرا دل دہل رہا ہے۔ یہ پوتے کی ضد لے کر بیٹھ گیا ہے۔ یہ کوئی گڑبڑ تو نہیں کر چکا جو میری بات ہی پکڑ لی ہے۔ یو ایس سے بھی آنے کو تیار نہیں تھا۔ کیا پتا کوئی میم پھنسا لی ہو۔” ثمینہ شاہ متفکر نظر آ رہی تھیں۔
” فکر مت کرو صرف تمہیں تنگ کر رہا ہے۔ کافی زمے دار ہو چکا ہے۔ اب وہ کوئی گڑبڑ نہیں کرے گا۔ مجھے پوری امید ہے۔ اسے اپنی ویلیوز پتا ہیں۔ تم اچھی اچھی امیدیں رکھو۔”
ثمینہ شاہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
” علی آج تک ہم اس کے بلنڈرز سمیٹتے آئے ہیں اور یہ بات تم بخوبی جانتے ہو۔ اگر اب ایسا کچھ کر دیا تو کیا کریں گے؟”
” تب کی تب دیکھیں گے لیکن ثمینہ مجھے شدت سے احساس ہے صارم کی تربیت میں ہم سے بہت سی جگہوں میں کمی رہی ہے۔ اگر ہم اسے ٹائم دیتے تو وہ ایسا نہ ہوتا۔ وہ اپنی اہمیت جتانے کو تمہیں تنگ کرتا ہے۔ اپنا نظر انداز کیا جانا اسے آج بھی ہضم نہیں ہوتا۔”
——————–
وہ آج کافی دن بعد آفس آیا تھا اور اسے جلدی اپارٹمنٹ میں لے آیا تھا۔ رامین کو اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس کا کیا ارادہ ہے لیکن اسے یہ کہہ دیا تھا کہ گھر میں لیٹ آنے کا کہہ دے۔ رامین اس کی پلاننگ سے انجان گھر کال کر چکی تھی۔
” یہاں آنا تھا؟”
” ہاں کافی ٹائم سے باتیں نہیں کیں۔ کیوں اینی پرابلم؟”
” تمہارا زخم کیسا ہے؟”
رامین نے اس کی بات نظر انداز کی۔
صارم نے شرٹ کے بٹن کھول کر اسے دکھایا۔
رامین نے سٹپٹا کر رخ پھیر لیا۔
” مسیحائی تو تم ہی نے کرنی ہے دیکھو تو۔” اس نے رامین کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑا۔
رامین نے تکلیف سے اسے دیکھا۔
” دیکھو تو تم تو ایسے کر رہی ہو جیسے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ ویسے تم نے تو مجھے مس بھی نہیں کیا ہو گا؟”
” ہاں میں تو بہت خوش تھی۔ نہ کوئی ڈانٹنے والا تھا، نہ رعب ڈالنے والا، نہ کوئی سزا تھی، نہ انعام، نہ کوئی زبردستی کرنے والا تھا۔۔ میں نے بہت سکون سے یہ ٹائم انجوائے کیا۔” رامین نے اپنے دل کی اصل کیفیت چھپاتے ہوئے کہا۔
” اے تمہیں سزا اور انعام دینے کا حق صرف میرا ہے۔ کوئی اور تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر تو دیکھے۔ اس کی آنکھیں نکال دوں گا۔” صارم نے غصیلے لہجے میں کہا۔
رامین اس کا غصہ دیکھ کر ڈر گئی۔
” تم نے مجھے مس بھی نہیں کیا تو سزا تو بنتی ہے۔” صارم نے اسے جھٹکے سے کھینچا اور اسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دینے سے پہلے ہی اس کے لبوں پر جھک گیا۔
آج اس کے لمس میں شدت تھی۔ رامین کو وہ پہلے دن والا صارم یاد آیا۔ جس کے لمس میں نفرت اور غصہ واضح تھا۔
رامین نے اس کی شرٹ کو کندھوں سے پکڑ کر خود کو گرنے سے بچایا۔
صارم نے اس کی کمر کو پکڑ کر اسے مزید خود سے قریب کیے گھیرا مزید تنگ کیا۔ ایک ہاتھ اس کی گردن میں ڈالے وہ اس پر جھکا اسے نڈھال کر چکا تھا۔
رامین نے اپنے منہ میں خون کا ذائقہ گھلتا محسوس کیا۔
رامین کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔
اس نے بالآخر اس کے لبوں کو آزادی بخش دی۔ رامین نڈھال سی اس کے کندھے پر سر ٹکا گئی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔
صارم نے اس کا دوپٹہ کھینچ کر اتارا اور اس کی گردن پر جھکا اور بائٹ کیا۔
رامین کی سسکی نکلی۔
صارم اس کی گردن پر جھکا جا بجا اپنے غصے کا اظہار کر رہا تھا۔
اس کے لمس میں غصہ اور اشتعال واضح تھا۔
صارم نے بالآخر اسے دور دھکیلا اور جا کر بیڈ پر گر گیا۔
رامین اسے کچھ دیر یونہی دیکھتی رہی۔ جو اس کی موجودگی بھلائے بیڈ پر چہرے پر بازو رکھے ہوئے تھا۔
رامین قدم قدم چلتی اس کے پاس جا کر بیڈ پر ہی بیٹھ گئی۔
” صارم میں نے تمہیں مس کیا تھا۔” رامین نے لب چباتے ہوئے اعتراف کیا۔
صارم کے چہرے پر پُرمسرت مسکراہٹ آئی۔ اس کی آنکھیں چمکیں۔ اس نے اپنے چہرے پر سے بازو ہٹا کر اس کی پشت کو دیکھا۔
جس کی پونی کمر پر جھول رہی تھی۔
رامین نے اس کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
صارم نے اگلے ہی پل اسے بالوں سے پکڑ کر کھینچا اور اپنے برابر بیڈ پر گرا لیا۔
وہ اس کے اوپر جھکا۔
” اگر ایسا ہے تو پھر انعام بھی بنتا ہے۔”
صارم اس کی گردن پر اسی جگہ جھکا جہاں تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے دانت گاڑھے تھے۔ اب مرحم بھی تو رکھنا تھا۔
” نہیں ٹھیک ہے۔” رامین نے گڑبڑا کر اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔
” بالکل بھی نہیں۔ جب سزا فوراً ملتی ہے تو انعام میں تاخیر کیوں؟ میں انصاف سے چلتا ہوں۔” صارم نے اس کے بال پونی کی قید سے آزاد کیے۔
وہ اس کی گردن پر جھکا۔ جہاں جہاں اس نے اپنا غصہ نکالا تھا۔ اب وہیں وہ محبت سے مرحم رکھ رہا تھا۔
” تم مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئی؟” صارم نے اس کے بالوں میں چہرہ چھپائے پوچھا۔
” کس حیثیت سے آتی؟”
” اسی حیثیت سے آتی جس حیثیت سے یہاں ہو۔”
” ہمت نہیں ہوئی تھی۔”
” آنا چاہیے تھا میں نے بہت انتظار کیا تھا۔ اگر تم آتی تو یہ سزا بھی نہ ملتی۔”
” صارم۔۔۔”
” ہمم۔۔۔” صارم نے اس کی خوشبو محسوس کرتے ہوئے کہا۔
” تم انکل آنٹی کو کب بتاؤ گے؟”
صارم کے لب مسکرائے۔
” آج ہی بس تمہاری طرف سے رضامندی کا انتظار تھا۔”
” وہ مان جائیں گے؟” رامین کے لہجے میں ہزاروں اندیشے تھے۔
” پتا نہیں۔” صارم نے غیر دلچسپی سے جواب دیا۔
” اگر وہ نہ مانے تو؟”
” تب کی تب دیکھیں گے۔ ابھی تو انجوائے کرو۔” صارم نے اس کے کندھے پر لب رکھے۔
” نہیں صارم مجھے گھر جانا ہے۔ بہت دیر ہو گئی ہے۔” رامین نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے مزید کچھ کرنے سے باز کیا۔
” ابھی تو آفس ٹائم نہیں ختم ہوا پھر آج تو تم اوؤر ٹائم کر رہی ہو۔ ابھی بہت ٹائم ہے۔” صارم نے اس کے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں الجھائیں۔ وہ اس کے لبوں پر جھکا اور اپنی من مانیاں کرنے لگا۔
——————–
صارم کے آفس کا دروازہ ناک کر کے وہ اندر داخل ہوئی۔
” آپ کو یاد آ گیا آفس آنے کا؟ یہ کوئی ٹائم ہے آنے کا؟” صارم رامین کی شکل دیکھتے ہی دھاڑا۔
” صارم تم آج مجھے پک کرنے ہی نہیں آئے میں کب سے تمہارا ویٹ کر رہی تھی۔” رامین نے اس کے غصے سے خائف ہوتے اور سنبھلتے ہوئے کہا۔
” ایکسکیوز می یہ آپ مجھ سے کس ٹون میں بات کر رہی ہیں؟ یہ آفس ہے کوئی کیفے ٹیریا نہیں جہاں آپ گلے شکوے لے کر بیٹھ گئی ہیں۔ اپنی شکایات اس سے کریں جس نے آپ کے ساتھ کمٹمنٹ کی تھی۔ میری آپ کی ایسی کوئی بے تکلفی نہیں ہے۔ سو اپنی لمٹس میں رہیں۔ آج کی آپ کی ہاف ڈے کی سیلری کٹے گی تاکہ نیکسٹ ٹائم آپ وقت کا خیال رکھیں۔”
” کسی بات پر ناراض ہو؟” رامین نے اس کے پاس جا کر اس کا ہاتھ پکڑا۔
صارم نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچا۔
” گیٹ آؤٹ۔” صارم دھاڑا۔
رامین ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی اور تیز تیز قدم اٹھاتی باہر نکل گئی۔ آنکھوں سے آنسوں تیزی سے گرنے لگے۔
——————–
رامین صارم کے رویے سے پریشان تھی۔ اس کا رویہ یکدم بدلا تھا۔ پک اینڈ ڈراپ تو دور وہ اس کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا۔ نہ وہ رامین کی کالز اٹھاتا تھا۔
صرف یہی نہیں اس نے اپنا کہا نبھایا تھا۔ اس نے اس کی ہاف ڈے کی ہے کاٹی تھی اور بھی بہت سارے دنوں کی پے کاٹی تھی۔ جس کی تک رامین کو سمجھ نہ آئی کیونکہ وہ باقاعدگی سے آفس آتی تھی۔ اپنا کام کرتی تھی۔ کئی بار تو وہ آفس میں دیر تک بیٹھ کر کام کرتی تھی۔ اس کے باوجود پے کا کٹ جانا اسے سمجھ نہیں آیا۔
وہ صارم جو اس کی خوشبو اور لمس کے بغیر بےچین ہو جاتا تھا۔ اسے اچانک کیا ہو گیا تھا۔
رامین جو اس سے یہ پوچھنے کا ارادہ رکھتی تھی کہ اس نے اپنے پیرینٹس سے بات کی؟ کیا بنا؟ وہ مانے؟ اس نے ان سوالوں کا کیا جواب دینا تھا۔ وہ تو خود اس سے نظریں پھیر چکا تھا۔
——————–
رامین تیز تیز اپنا کام کر رہی تھی۔ جب وہ اس کے آفس گئی تھی تو وہ کسی سے محو گفتگو تھا اور پروگرام سیٹ کر ریا تھا۔ اس کا آج اپنے اپارٹمنٹ میں جانے کا پلان تھا۔
وہ جلدی جلدی کام مکمل کر رہی تھی۔ صارم تو چار بجے ہی نکل گیا تھا اور اسے جانے سے پہلے خاصا مصروف کر گیا تھا۔ رامین نے گھڑی میں ٹائم دیکھا۔ چھ بج چکے تھے۔ اسے مزید ایک گھنٹے میں یہ کام کمپلیٹ کرنا تھا۔
——————–
علی شاہ تیزی سے آفس کے ایگزٹ ڈور سے نکلے۔
” سب جا چکے ہیں؟ آفس لاک کر دو۔ چیک کر کے لاک کرنا۔” علی شاہ نے گارڈ کو ہدایات دیں۔
” سر ابھی صارم سر کی سیکریٹری اوپر ہی ہے۔ وہ جائے گی تو لاک کروں گا۔”
” وہ کب تک جائے گی؟”
” سر ہر روز سات بجے کے بعد ہی جاتی ہے۔” گارڈ نے سنجیدگی سے بتایا۔
علی شاہ کے ماتھے پر بل پڑے۔ وہ دوبارہ آفس کی بلڈنگ میں داخل ہوئے۔
صارم کو کہا بھی تھا صرف سیلری بڑھانی ہے ٹائم نہیں۔ بات نہیں سنتا۔
علی شاہ رامین کے سر پر پہنچ گئے۔
” بیٹا کیا کر رہی ہو؟ سارا آفس خالی ہو چکا ہے۔”
رامین جو اپنے کام میں مگن تھی۔ اچانک سے علی شاہ کی آواز پر ڈر گئی۔ سامنے ہی علی شاہ کو کھڑے دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔
” انکل بس تھوڑا سا کام رہ گیا ہے۔ سر دے کر گئے ہیں۔ یہ کر لوں پھر چلی جاؤں گی۔” رامین نے کھڑے ہو کر جواب دیا۔
” نہیں رامین بیٹا اس کو بند کرو اور گھر چلو۔ سارا آفس خالی ہو چکا ہے۔”
” نہیں انکل سر غصہ کریں گے۔”
اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ صارم نے اس کی پے کاٹ لینی تھی۔ پہلے ہی وہ اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کی پے کاٹ چکا تھا کہ اب اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ مزید کوئی نقصان برداشت کر پاتی۔
” صارم کو کہہ دینا میں نے کہا ہے۔ مجھ سے آ کر بات کرے۔” علی شاہ نے رعب سے کہا۔
علی شاہ اسے ساتھ لے کر ہی نکلے۔ وہ ان کے ساتھ لفٹ میں داخل ہوئی۔
” لڑکیوں کی عزت بہت نازک ہوتی ہے رامین بیٹا۔ سب ایمپلائز کے ساتھ نکلا کرو۔ آئندہ میں آپ کو اکیلے نہ دیکھوں۔” علی شاہ نے اسے سمجھایا۔
” انکل میری جاب ٹائمنگ آٹھ بجے تک کی ہے۔ ورنہ میری پے کٹے گی۔ پچھلے دنوں بھی میرے سات بجے جانے کی وجہ سے میری بہت پے کٹی ہے۔”
” میں صارم سے خود بات کروں گا۔”
” انکل انہیں لگے گا کہ میں نے آپ سے ان کی کمپلین کی ہے۔”
” میں بات کر لوں گا ڈونٹ وری بیٹا وہ میرا ہی ہے۔”
——————–
رامین کلفٹن سے پہلے ہی اتر گئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں گلاب کا ایک پھول تھا۔ وہ پرجوش سی تیزی سے قدم اٹھاتی آگے بڑھ رہی تھی۔
صارم کے اپارٹمنٹ تک کسی بس نے نہیں جانا تھا۔
اپارٹمنٹ میں پہنچ کر وہ بیل دینے ہی والی تھی کہ اندر سے آتی آوازوں نے اسے دروازہ کھلا ہونے کا پتا دیا۔
وہ مسکراتے ہوئے اندر قدم رکھنے ہی والی تھی کہ اپنے نام کی پکار پر تھم گئی۔
——————-
