Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 21)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
رامین صارم کے ساتھ میٹنگ سے فارغ ہو کر ابھی آفس میں آئی ہی تھی کہ اس کا موبائل بلنک کرنے لگا۔
رامین نے ان دیکھا کر دیا اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گئی۔
صارم جو صبح سے اس کی غائب دماغی نوٹ کر رہا تھا۔ کال کو ایک بار پھر نظر انداز کرنا سمجھ نہ آیا۔
” کیا بات ہے رومی؟ کہاں دھیان ہے تمہارا؟ صبح سے پریشان ہو اور کالز بھی نہیں لے رہی۔ میٹنگ میں بھی اس کال نے بہت ڈسٹرب کیا۔”
صارم نے بلنک کرتے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔
” چیک تو کرو کوئی پرابلم نہ ہو گھر میں۔” صارم نے فکرمندی سے کہا۔
” بعد میں دیکھ لوں گی۔”
صارم کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا۔
” تمہارا قصور نہیں ہے۔ ہر شخص میں اتنا ظرف نہیں ہوتا کہ وہ بغیر ماتھے پر شکن ڈالے کسی کی ضرورتوں کا خیال رکھے۔” صارم نے چبھتے لہجے میں طنز کیا۔
رامین نے تکلیف سے اسے دیکھا۔
” تم کچھ نہیں جانتے۔”
” اسی لیے تو کہہ رہا ہوں کال اٹھاؤ پتا چلے۔”
” بعد میں سن لی گی۔”
” ابھی سنو میں بھی تو دیکھوں۔” صارم نے اس کی کال اٹینڈ کر کے موبائل لاؤڈ سپیکر پر ڈالا اور اسے بولنے کا اشارہ کیا۔
” یار رامین اب تم خود یونیورسٹی سے نہیں پڑھی ہو تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم اس طرح سے کرو۔”
” رانی تمہیں اندازہ ہے تم کیا کہہ رہی ہو؟” رامین نے دکھ سے کہا۔
رامین نے موبائل صارم سے کھینچ کر لیا اور سائیڈ پر ہو گئی۔
” یونیورسٹی میں تم پڑھو یہ کس کی خواہش ہے یہ بات تم بھی اچھے سے جانتی ہو اور میں بھی۔ تمہارے لیے میں کھڑی ہوں۔ میرے لیے کوئی بھی نہیں تھا۔”
رانیہ کو اپنی بات کی سختی کا احساس ہوا۔
” سوری یار میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔”
” رانی میں کر لوں گی ارینج کتنے چاہئیں؟” رامین نے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی۔
” رامین وہ رابعہ آپی نے سارے لے لیے ہیں۔”
” رانی۔۔ اتنی بڑی اماؤنٹ میں کیسے کروں گی؟” رامین کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
” یار رابعہ آپی کو ضرورت تھی۔”
” یہ اتنی چھوٹی اماؤنٹ نہیں تھی کہ ہمارے جیسے لوگ ایک ساتھ نکال سکیں۔ میں ہر مہینے تمہارے لیے سیونگ کر رہی تھی۔ مجھے تمہیں بتانا نہیں چاہیے تھا غلطی میری ہے کیونکہ میرے لیے بہت بڑی مصیبت کھڑی ہو چکی ہے۔”
” رامین تم جب رابعہ آپی کو نہیں دو گی تو میں کیا کرتی۔”
” رانی میں نے اسے دیے ہیں۔ کچھ پیسے اگلے مہینے دینے والی تھی۔” رامین نے روتے ہوئے کہا۔
” یار رامین وہ بہت رو رہی تھیں۔ تم نہیں دیتی وہ کہہ رہی تھیں۔”
” میں اسے شرمندگی سے بچا رہی تھی لیکن نہ تمہیں نہ امی کو میری بات کا یقین آتا ہے۔ اگر تم اور امی چاہتے ہو کہ تم لوگوں کے سامنے دوں تو اب سے سامنے دے دوں گی۔”
” مجھے بہت تکلیف ہوئی رانی میرے آنسو کسی کو نظر نہیں آتے۔ پاپا کے جانے کے بعد تو میں نے اپنا ہر رشتہ کھو دیا۔”
” را۔۔۔”
” میں کچھ نہ کچھ کر کے ارینج کر لوں گی تمہاری فیس۔ تم پڑھائی پر کانسنٹریٹ کرو۔”
” اب مجھے کال مت کرنا اور کوشش کیا کرو مجھے آفس میں کال مت کیا کرو میں نے گھر ہی آنا ہے۔”
کال کاٹتے ہی رامین نے قطار کی صورت میں بہتے آنسو صاف کیے۔
” میں باقی کام اپنے کیبن میں کر لیتی ہوں سر۔” رامین نے فائل اٹھائی اور صارم کے کچھ بھی کہنے سے پہلے وہاں سے نکل گئی۔
صارم کو ڈھیروں ملال ہوا۔ وہ رامین سے کس طرح روڈ ہو جاتا تھا۔ ایک تو پہلے اس نے خود اسے طعنہ مارا اور پھر زبردستی کال اٹھوائی۔ صارم نے دکھ سے چہرہ موڑ کر رامین کو دیکھا جو بہتی آنکھوں سے تیزی سے ٹائپنگ کر رہی تھی۔
صارم گہری سانس لے کر رہ گیا۔
رانی کو اس طرح نہیں کہنا چاہیے تھا۔
———————-
رامین آج آفس سے جلدی نکل آئی تھی گھر میں ایمرجنسی کا کہہ کر۔ اسے پورا ٹائم دماغ کے گھوڑے دوڑا کر ایک حل یہی نظر آیا تھا کہ وہ اپنے ہاتھ میں پہنی رنگ بیچ دے۔ اس رنگ کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں بے تحاشا آنسو آ گئے تھے۔ یہ رنگ اس کے لیے بہت قیمتی اور خاص تھی۔ یہ اس کے پاپا نے اسے انٹر میں اچھا رزلٹ آنے پر گفٹ کی تھی۔ اس کے پاس اپنے پاپا کی آخری نشانی کے طور پر ایک یہی رنگ بچی تھی اور وہ اسے کسی صورت کھونے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی لیکن اس کے پاس اس کے علاؤہ اور کوئی حل نہیں تھا۔ فرح بیگم تو اس کی ساری جیولری رابعہ کو دے چکی تھیں۔
وہ جیولری شاپ کا دروازہ دھکیل کر اندر آئی۔
” اسلام و علیکم مجھے یہ انگوٹھی بیچنی ہے۔” رامین نے خود کو کمپوزڈ کرتے ہوئے اپنی انگلی میں پہنی انگوٹھی اتار کر شیشے کے کاؤنٹر پر رکھی۔
سنار اس انگوٹھی کا جائزہ لینے لگا۔
” انگوٹھی تو خالص ہے۔” اس نے تبصرہ کیا۔
اس کے تبصرے سے زیادہ رامین کو اس کی قیمت جاننے میں دلچسپی تھی۔
جو قیمت اس نے بتائی۔ رامین کچھ لمحے سوچ میں پڑ گئی۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ایک شخص تیزی سے پلٹا اور کاؤنٹر پر پڑی انگوٹھی اٹھا لی۔
” ہمیں نہیں بیچنی۔” صارم نے رامین کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے۔
” تم میرا پیچھا کر رہے تھے؟” رامین نے لفظ چبا چبا کر کہا۔
صارم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھول کر اسے اندر دھکیلا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
صارم اس کے آفس سے نکلتے ہی اس کے پیچھے نکلا تھا۔ اسے کچھ کچھ اندازہ تھا کہ وہ گھر میں ایمرجنسی کا بہانا کر کے نکلی ہے لیکن کسی اور کام کے لیے اور وہ کیا کرنے والی ہے؟ وہ اسے جا کر ہی پتا لگنا تھا۔
اسے جیولری شاپ میں گھستا دیکھ وہ بھی اس کے پیچھے گھس گیا۔
جیولری شاپ میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا۔
وہ اس وقت اتنی ڈسٹرب تھی کہ اپنے پیچھے صارم کا آنا محسوس نہ کر سکی۔
صارم اس سے رخ پھیر کر دوسرے کاؤنٹر پر کھڑا ہو گیا۔
——————
” یہ تم کیا کر رہی تھی رومی؟ پیسوں کی ضرورت تھی تو مجھے بتاتی۔” صارم نے ناراضگی سے کہا۔
” تم میرے معاملات سے دور کیوں نہیں ہو جاتے صارم؟” رامین پھٹ پڑی۔
” کیوں میرا پیچھا نہیں چھوڑتے؟ میری زندگی پہلے ہی بہت مشکل ہے اور یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہے۔ اسے مزید مشکل مت بناؤ۔” رامین نے روتے ہوئے کہا۔
” کیونکہ تم میری بیوی ہو۔ تمہارے مسئلے میرے بھی مسئلے ہیں۔ جس وجہ سے تمہاری آنکھوں میں آنسوں آتے ہیں وہ وجہ مجھے بھی تکلیف دیتی ہے۔
مانتا ہوں تمہاری زندگی کا ہر مسئلہ میری وجہ سے شروع ہوا ہے۔ میں اس کے لیے بہت شرمندہ ہوں اور گلٹی بھی ہوں۔” صارم نے اس کے گرد حصار باندھا۔
رامین مسلسل رو رہی تھی۔
” رانی تمہاری ہی نہیں میری بھی بہن ہے۔ اس کو ڈاکٹر بنانا صرف تمہاری ہی نہیں اب میری بھی خواہش ہے۔
میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا تم رانی کی طرف سے فکرمند مت ہوا کرو۔ تم مجھے بتاؤ تمہیں کتنے پیسے چاہئیں؟ ہم اسے مل کر ڈاکٹر بنائیں گے اور اب تو میں چاہتا ہوں وہ گائناکالوجسٹ بنے۔ کچھ فائدہ ہمیں بھی تو ہو ایڈوانس انویسٹمنٹ۔” صارم نے آخر میں شرارت سے کہا۔
” اب بس تمہارا فلرٹ شروع۔” رامین نے چڑتے ہوئے کہا۔
” یہی مسئلہ ہے تمہارا۔ تم میری محبت کو فلرٹ لیتی ہو اور یہی چیز مجھے غصہ دلاتی ہے۔ حالانکہ تمہیں بھگتنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی تم باز نہیں آتی۔”
رامین نے اس کے ہاتھ سے انگوٹھی لینی چاہی۔ صارم نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔
” یہ انگوٹھی اب سے میرے پاس رہے گی۔ تمہیں اس کی قدر نہیں ہے۔” صارم نے وہ انگوٹھی لبوں سے لگائی۔
” نہیں صارم یہ انگوٹھی میرے لیے بہت قیمتی ہے۔ مجھ پر جتنے بھی تنگ حالات آئے۔ میں نے یہ نہیں بیچی کیونکہ یہ میرے پاپا کی آخری نشانی ہے۔”
” قیمتی تو میں بھی تمہارے لیے ہوں۔”
رامین نے ہاتھ جھلایا۔
” جتنا مرضی تم مجھے اگنور کر لو اگر میں امپورٹینس نہیں رکھتا ہوں تو پھر اسے کیوں نہیں بیچا؟” صارم نے اس کے گلے پہنی چین میں انگلی پھنسا کر اسے اپنی طرف کھینچا۔
” یہ میں تمہیں واپس کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔” رامین نے نگاہیں چرائیں۔
” سیریسلی؟ سینے سے لگائے لگائے ایسے پھرتی ہو جیسے یہ کوئی قیمتی متاع ہو۔ تمہیں کیا لگتا ہے دوپٹے میں چھپا کر رکھنے سے مجھے پتا نہیں چلے گا کہ تم نے پہنا ہے۔”
” اس لیے تاکہ میں تمہیں واپس کر سکوں۔”
” یہ غلطی بھی مت کرنا ورنہ نتائج کی ذمے دار تم خود ہو گی۔”
صارم نے والٹ سے چیک نکال کر اسے فل کیا اور رامین کے ہاتھ میں پکڑایا۔
” ڈاکٹر صاحبہ سے کہنا کہ فیس ہے کرے اور تمہاری آنکھوں میں آنسوں اب اس کی وجہ سے نہیں آنے چاہئیں اور تمہیں آئندہ تنگ نہ کرے۔ اس کے لیے میں بہت ہوں۔” صارم نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
رامین کی آنکھوں سے آنسوں ٹپ ٹپ بہنے لگے۔
صارم نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
” تھینک یو سو مچ۔” رامین نے شرمندگی سے کہا۔
” پلیز رومی اس طرح شرمندہ مت کرو۔ یہ تمہیں ڈاؤن کرنے کے لیے نہیں کر رہا۔ یہ میں ڈائیریکٹ بھی رانی کو دے سکتا ہوں لیکن میں نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی بات بنے۔” صارم نے اس کے آنسو صاف کیے۔
” آئی لو یو۔” صارم نے محبت سے اس کی آنکھوں پر لب رکھے۔
رامین کے آنسوؤں میں شدت آ گئی اور اپنا ضبط کھو بیٹھی۔ جیسے اسے آج کوئی سہارا ملا تھا۔
” مجھے یہ انگوٹھی دے دو پلیز۔” رامین نے آنسوؤں کے درمیان کہا۔
” بالکل بھی نہیں۔ تمہیں نہیں ملے گی۔ یہ سزا ہے تمہاری۔ تاکہ اب جب بھی تمہیں ضرورت ہو تو تم میرے پاس آؤ۔” صارم نے اس کی کمر سہلائی۔
صارم اس کی گردن پر جھکا۔
رامین کچھ نہیں بولی۔
صارم حیران ہوا۔
” ایسے مزہ نہیں آئے گا۔ کچھ تو کہو روکو مجھے۔
یہ قیمت نہیں ہے رومی کسی بھی چیز کی۔” صارم نے چیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
” تمہاری نفرت سر آنکھوں پر اور یہ دونوں بالکل الگ چیزیں ہیں احتجاج کرو۔”
رامین نے سر نفی میں ہلایا۔
” مجھے گھر جانا ہے۔” رامین نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا۔
” بالکل ایسے۔۔ گھر بھی چلے جاتے ہیں اتنی کیا جلدی ہے۔” صارم نے اسے بیڈ پر گرا لیا اور اس کے لبوں پر شدت سے جھکا۔
——————
