Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 11)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
رامین گھٹنوں میں سر دیے آج پھر اپنے سود و زیاں کے شمار میں مصروف تھی۔ مسئلے تھے کہ آئے دن بڑھ رہے تھے اور نجات ندارد۔۔
اس دن کا ایک ایک لمحہ اس کی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح گھوم رہا تھا کہ اچانک اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ اسے کچھ یاد آیا۔
اپنے پاپا کے ہاسپٹل میں ہونے کا تصور آتے ہی اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ اسے کچھ یاد آیا۔ اسے اس مہربان شخص کا خیال آیا۔ جس نے اس وقت اس کی مدد کی تھی۔
اس شخص کا خیال آتے ہی رامین نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔
وہ ننگے پاؤں اٹھ کر وارڈروب کی طرف بھاگی اور اپنا بیگ نکال لائی اور بیڈ پر اپنا بیگ کھول کر الٹا دیا۔
مختلف سامان کے ساتھ ایک کارڈ بھی گر گیا۔ رامین نے جھٹکے سے وہ کارڈ اٹھایا اور کال ملائی۔
تیسری بیل پر کال ریسیو کر لی گئی۔
” ہیلو۔”
” ہیلو انکل میں رامین خالد بات کر رہی ہوں۔”
” کون رامین خالد؟” انتہائی اجنبی آواز میں پوچھا گیا۔
رامین کا دل دھک سے رہ گیا۔
” وہی جس کی آپ نے اس رات ہاسپٹل میں دس لاکھ دے کر میرے پاپا کا ٹریٹمنٹ شروع کروایا تھا۔” رامین نے ہمت مجتمع کر کے کہا۔
” اوہ ہاں بیٹا کیسے ہیں اب تمہارے پاپا؟” اس شخص نے اپنائیت سے پوچھا۔
ان کے لہجے میں اپنائیت محسوس کر کے رامین کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس پورے عرصے میں کسی کا لہجہ اس سے اتنا نرم نہیں رہا تھا۔
” انکل وہ ہمارے بیچ نہیں رہے۔” رامین نے بےدردی سے آنسو رگڑنے ہوئے کہا۔
” اوہو سوری بیٹا بہت افسوس ہوا۔ اللّٰہ تمہیں صبر دے۔”
” انکل مجھے آپ سے ایک فیور چاہیے۔”
” بتاؤ بیٹا۔”
” انکل مجھے جاب چاہیے۔ آپ اس معاملے میں میری کوئی مدد کر سکتے ہیں؟”
” کل آ جانا میرے آفس۔ سمجھو حل ہو گیا تمہارا یہ مسئلہ۔ ایڈریس کارڈ پر موجود ہے۔”
” ابھی آ جاؤں؟”
” نہیں کل آنا یہ جاب تمہاری ہی ہے۔”
ان کی کال منقطع ہو گئی۔
——————
اگلے دن رامین جلدی جلدی تیار ہو کر بغیر ناشتے کے ہی نکل گئی۔ فرح بیگم اسے روکتی رہ گئیں لیکن وہ کچھ بھی کہے اور بتائے بغیر نکل گئی۔
صبح نو بجے وہ اس کارڈ میں لکھے ایڈریس پر موجود تھی۔
ریسیپشنسٹ کو بتاتے ہی اسے دس منٹ کے اندر بلا لیا گیا۔
دروازہ ناک کرتے ہی اجازت مل گئی تو وہ اندر بڑھ گئی۔
رسمی علیک سلیک کے بعد اس شخص نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
اسے اس کی جاب سمجھائی اور آج سے ہی جوائن کرنے کا کہا۔
رامین کے چہرے پر چمک آ گئی۔
” تھینک یو سر۔” رامین نے مشکور ہوتے ہوئے کہا۔
” تم مجھے انکل ہی کہو گی۔ اپنائیت کا احساس رہتا ہے۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ساتھ ڈراؤر سے ایک پیکٹ نکالا اور اس کی طرف بڑھایا۔
” نہیں انکل تھینک یو آپ پہلے ہی میرے لیے بہت کچھ کر چکے ہیں۔”
” رکھ لو کام آ جائیں گے۔” رامین نے ہچکچاتے ہوئے لے لیے۔
اس شخص نے اپنے مینیجر کو بلایا اور رامین کو سارا کام سمجھانے کی ہدایت دی۔
رامین نے گھر آتے ہی فرح بیگم کو سب بتایا۔ وہ لوگ بہت خوش تھے۔ ان کے حالات اب بدلنے والے تھے۔
—————–
” رامین کی جاب لگ گئی ہے۔” فرح بیگم نے خوش ہوتے ہوئے بتایا۔
یہ تو بہت ہی اچھا ہوا۔ اب آپ کے دن بھی سنور جائیں گے.”
لیکن امی مجھے مت بھولیے گا۔
کیسی باتیں کر رہی ہو؟ فرح بیگم نے ٹوکا۔
” امی پاپا کے بعد میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں اور پھر پاپا کے بعد اس گھر کا نظام رامین سنبھالے گی۔ اسے میں جلد ہی بوجھ لگنے لگوں گی اور عنقریب آپ سے پیسے پیسے کا حساب لے گی۔”
” رامین ایسی نہیں ہے۔ آج اسے پیسے ملے ہیں سارے مجھے لا کر دیے ہیں۔”
” امی مجھے پیسوں کی ضرورت ہے مجھے دے دیں۔
” مالک مکان کو اس نے فون کر دیا ہے۔ بہت کان کھا رہا تھا۔” فرح بیگم نے عاجز آتے ہوئے کہا۔
” امی وہ تو جب سیلری آئے گی تو تب بھی دیے جا سکتے ہیں۔”
” آ کر لے جاؤ میں رامین سے کہہ دوں گی۔”
——————-
صارم کے شب و روز سست روی سے گزر رہے تھے۔
آج وہ پھر بیچ پر آیا تھا اور رومی سے باتوں میں مصروف تھا۔ رامین کے تصور سے باتیں کرتے ہوئے وہ کب رومی بن گئی۔ اسے خود بھی پتا نہیں چلا۔
آج اس کی فلائٹ تھی۔ وہ پانچ سال بعد پاکستان واپس جا رہا تھا۔
اسے رومی کو ڈھونڈنا تھا۔ اس کی تڑپ دن بہ دن بڑھ رہی تھی۔
رومی اب تم مجھ سے نہیں بچ سکتی۔ میرے ایک ایک دن کی تڑپ کا حساب دینا ہو گا۔ صارم انتقامی انداز میں رامین سے مخاطب تھا۔
—————
” امی مالک مکان آدھے گھنٹے تک آ رہا ہے۔ اسے کرایہ دے دیجیے گا۔” رامین کندھے پر بیگ ڈالتی باہر آئی۔
” اسے منع کر دو وہ رابعہ لے گئی ہے۔”
” امی مالک مکان کی کال آئی ہے وہ آدھے گھنٹے میں آ رہا ہے.” رامین نے بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔
” آپ نے کیوں دیے؟ میں نے آپ کو کہا بھی تھا۔”
” جب سیلری آئے گی تو دے دینا۔ رامین رابعہ کو ضرورت تھی۔ اب تم اس طرح مت کرو۔ اسے کر دو منع نہ آئے۔ آ کر بہت بولتا ہے۔” فرح بیگم ہتھے سے اکھڑ گئیں۔
رامین نے روتے ہوئے موبائل نکالا اور کال ملائی۔
” انکل کچھ دن رک جائیں جیسے ہی سیلری آئے گی میں آپ کو دے دوں گی۔” رامین نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے کہا۔
” انکل میں دے دوں گی۔”
” انکل میری بات۔۔۔ “
” انکل۔۔۔ “
دوسری جانب موجود شخص یقیناً بہت بول رہا تھا اور رامین کو بولنے نہیں دے رہا تھا۔ رامین اسی طرح بات کرتی روتے ہوئے باہر نکل گئی۔
فرح بیگم سر جھٹک کر رہ گئیں۔
—————
