Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 14)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
رامین حواس باختہ سی گھر میں داخل ہوئی۔ وہ اب تک صارم کے رویے سے ڈری ہوئی تھی۔
” رامین کب سے کال کر رہی ہوں۔ پک کیوں نہیں کر رہی تھی؟” رانیہ نے دروازہ کھولتے ہی پوچھا۔
” پتا نہیں چلا۔” رامین جیسے خیال سے چونکی۔
” طبیعت ٹھیک ہے؟” رانیہ نے فکرمندی سے پوچھا۔
” ہاں راستے میں ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اس لیے دل گھبرا رہا ہے.” رامین نے پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
” ایکسیڈنٹ؟ تم ٹھیک ہو؟” رانیہ پریشان ہو گئی۔
” ہاں میرا نہیں بائیک کا۔” رامین نے سنبھلتے ہوئے کہا۔
رامین نے موبائل بیگ سے نکالنے کے لیے بیگ میں جیسے ہی ہاتھ ڈالا موبائل نہ پا کر پریشان ہو گئی۔
” موبائل کہاں گیا؟” رامین نے پریشانی سے موبائل دیکھا۔
” بیگ میں ہی ہو گا تم ٹھیک سے دیکھو۔” رانیہ نے فکرمندی سے کہا۔
” تم کب کال کر رہی تھی؟”
رامین نے روتے ہوئے پوچھا۔
” کافی دیر سے.”
مصیبتوں نے ایک بار پھر اس کا دروازہ دیکھ لیا تھا۔ پہلے صارم شاہ کی واپسی اور اب یہ موبائل۔۔ رامین چہرہ ہاتھوں میں گرائے رونے لگی۔
——————-
رانیہ رامین کے آنسو دیکھ کر اس کے نمبر پر مسلسل کالز کر رہی تھی۔ جو ابھی بھی آن تھا لیکن جواب ندارد۔
پچیسویں کال پر صارم عاجز آ گیا۔
” کیا ہے؟”
” کون؟”
” کال تو تم نے کی ہے۔”
” رامین کا نمبر آپ کے پاس کیا کر رہا ہے؟”
” تم کون ہو رانی؟”
” آپ کو میرا نام پتا ہے پھر بھی پوچھ رہے ہیں؟”
” ظاہر ہے بے وقوف نمبر سیو تھا۔”
” رامین سے کہو کل اس کا موبائل اسے مل جائے گا اب دوبارہ تنگ نہ کرنا۔”
” آپ ہیں کون؟”
” رامین جانتی ہے مجھے اس سے پوچھو۔”
” آپ نام بتائیں گے تو پوچھوں گی۔”
صارم نے کھٹاک سے فون بند کر دیا۔
” کسی آدمی کے پاس ہے تمہارا فون۔ کہہ رہا ہے کل دے دے گا بد دماغ کھڑوس۔”
” یہ ہے کون؟”
” کہہ رہا تھا تم جانتی ہو۔”
” رانی نام تو پوچھتی۔”
” اس سڑو نے نہیں بتایا تو کیا کرتی؟”
” مجھے دو میں پوچھوں۔”
” رہنے دو رامین بہت بدلحاظ ہے کہہ رہا تھا اب تنگ مت کرنا۔”
رامین کو کلک کیا۔ اسے اب کچھ کچھ اندازہ ہو رہا تھا۔
——————-
اگلی صبح رامین صارم کے آفس میں موجود تھی۔
” سر یہ۔۔۔ ” رامین سے اس سے آگے کچھ بولا نہیں گیا کیونکہ صارم کے متوقع ری ایکشن کو سوچتے اس کی روح تک کانپ رہی تھی۔
” کیا ہے؟” صارم نے بغیر پکڑے انتہائی کھردرے لہجے میں پوچھا۔
” ریزیگنیشن لیٹر۔” رامین نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔
صارم نے غصے سے وہ لیٹر کھینچ کر اسی لمحے کئی حصوں میں تقسیم کرتے ڈسٹ بن کی نظر کر دیے۔
رامین بےبسی سے دیکھ کر رہ گئی۔
” پہلی بات اس کمپنی کا رول ہے جاب چھوڑنے سے ایک مہینہ پہلے بتانا ہوتا ہے ورنہ پنیلٹی ہوتی ہے۔
دوسرا رامین خالد یہ جاب تمہاری نہیں تمہاری فیملی کی ضرورت ہے کیوں ان کے پیٹوں پر لات مار رہی ہو؟
تیسری بات مائی ہنی وائفی۔۔” صارم اپنی جگہ سے اٹھا اور قدم قدم اس کے قریب آیا۔
رامین نے خوف سے دو قدم پیچھے کو لیے۔
” کل سے یہ تم مجھے کیوں سرپرائزس دے رہی ہو؟ کبھی اپنی موجودگی سے، کبھی ڈیورس کی ڈیمانڈ، کبھی یہ سٹوپڈ سا ریزیگنیشن۔” صارم نے اس کا تمسخر اڑایا۔
” کچھ میری طرف سے بھی تو بنتا ہے۔” صارم نے اس کے بازو کو مروڑ کر اسے دیوار سے دھکا دیا۔
رامین کی چیخ نکلی۔ جو صارم کے مضبوط ہاتھ کے نیچے ہی دب گئی۔
رامین نے اپنا آپ چھڑانا چاہا۔
صارم نے اس کا دوپٹہ پیچھے کھسکا کر اس کے کندھے پر زور سے بائٹ کیا۔
رامین کی سسکی نکلی۔
” یہ تمہاری سزا ہے۔ کیوں میرے قہر کو آواز دیتی ہو؟”
پھر اس کی گردن پر شدت بھرے لمس چھوڑے۔
” یہ اچھی صبح کے آغاز کے لیے۔” صارم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” باقی ایپیسوڈ شام میں۔” صارم اس کے کان کی لو پر جھکا اور مسکراتے ہوئے کہا۔
رامین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔
” اب چلتی نظر آؤ ورنہ کہیں میرا موڈ نہ بدل جائے۔” صارم نے معنی خیزی سے کہا۔
رامین وہاں سے بھاگنے لگی۔
” رکو۔.”
رامین دروازے کے پاس جا کر پلٹی۔
” صارم پلیز مجھے جانے دو۔”
” مجھے بھی شوق نہیں ہے تمہیں روکنے کا۔ یہ لو اور چلتی نظر آؤ۔” صارم نے حقارت سے کہا۔
رامین شرمندگی سے موبائل اُٹھاتی وہاں سے بھاگ گئی۔
—————-
رامین اپنے کیبن میں آتے ہی اپنی آنکھیں صاف کرنے لگی۔
رامین کا موبائل بجنے لگا۔ اس نے گہری سانس بھرتے کال اٹھائی۔
” کہاں ہو؟ کب سے کال کر رہی ہوں۔” فرح بیگم نے غصیلے لہجے میں کہا۔
” آپ بتائیں کیوں کال کر رہی تھیں؟” رامین نے بجھے دل سے کہا۔
” رابعہ آئی ہوئی ہے آتے ہوئے سموسے اور جلیبیاں لے آنا۔ شام میں اس کے سسرال والے بھی آ رہے ہیں تو ان کے ڈنر کے لیے چاول اور چکن لے آنا رابعہ بریانی کی فرمائش کر رہی ہے اور آئس کریم لے آنا حسن شوق سے کھاتا ہے۔” فرح بیگم نے اسے سب کے شوق کی لمبی لسٹ سنائی۔
” امی اتنا کچھ ابھی سیلری تو آ لینے دیں۔ میں کیسے کروں گی؟” رامین پریشان ہوئی۔
” کیا رامین انہوں نے کہا ہے کھانا کھانے کا تو میں کیا کہہ سکتی تھی؟” رابعہ جو اپنی ماں کے ہاتھ سے فون لے چکی تھی کسی نئی فرمائش کے لیے رامین کی بات سن کر ناراضگی سے کہنے لگی۔
” رابعہ ناراض مت ہو۔ میں کیا کروں ابھی سیلری نہیں ملی اور وہ لوگ ڈنر کی ضد لگا کر بھی بیٹھ گئے۔” رامین نے بھیگی آواز سے کہا۔
” اچھا رامین مجھے پانچ ہزار کی ضرورت ہے۔” رابعہ نے اس کی کسی بات کا اثر لیے بغیر کہا۔
” رابعہ میرے پاس آج بالکل پیسے نہیں ہیں۔ میں تو خود آج آفس پیدل آئی ہوں اور واپس بھی پیدل ہی آؤں گی۔” رامین نے بےبسی سے روتے ہوئے کہا۔
” رامین میں بھی مجبور ہوں۔ پاپا تھے تو مجھے کسی چیز کے لیے ترسنا نہیں پڑتا تھا۔” رابعہ روتے ہوئے کال کاٹ گئی۔
رامین کال کاٹ کر چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رو پڑی۔
وہ صحیح کہہ رہا تھا یہ جاب اس کی نہیں اس کی فیملی کی نیڈ تھی۔ جو سیلری آنے سے پہلے ہی خرچوں کی لمبی لسٹ پکڑ لیتے تھے۔
—————–
صارم جو میٹنگ روم کی طرف جا رہا تھا۔ رامین کی آواز پر رک کر سننے لگا۔ کال کے دوسری طرف کیا کہا جا رہا تھا اسے یہ تو نہیں پتا چلا لیکن رامین کے آنسوؤں سے بھرے جملوں نے اس کے دل پر وار ضرور کیا تھا۔ کال کے اختتام پر رامین کو روتا دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا۔
وہ تیز تیز قدم چلتا وہاں سے نکل گیا۔ اس کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔
——————
